Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
115 - 135
اقول : اس کا مفاد بھی اس قدر کہ حسن اسلام سب محسنات سے ہے اور محسّنات میں سب مستحسنات بھی، نہ کہ ہر غیر مہم سے نہی، ورنہ غیر مہم تو بیکار سے بھی اعم ہے، تو سوا مہمات کے سب زیر نہی آکر مباحات سراسر مرتفع ہوجائیں گے۔ لاجرم امام ابنِ حجر مکی شرح اربعین نووی میں فرماتے ہیں:
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ مما یشبعہ من جوع ویرویہ من عطش ویستر عورتہ ویعف فرجہ ونحوہ ذلک مما یدفع الضرورۃ دون ما فیہ تلذذ واستمتاع واستکثار وسلامتہ فی معادہ ۱؎۔
انسان کے لئے مہم امور وہ ہیں جو اس کی حیات ومعاش کی ضر ورت سے وابستہ ہوں اس قدر خوراک جو اس کی بھوک دورکرکے سیری حاصل کرائے اورپانی اس کی پیاس دور کرکے سیراب کردے اور کپڑا جس سے اس کی ستر پوشی ہو اور وہ جس سے اس کی پارسائی کی حفاظت اورعفت ہو،اوراسی طرح کے امور جن سے اس کی ضرورت دفع ہو، اورجس میں اس کے معاد و آخرت کی سلامتی ہو وہ نہیں جس میں صرف لطف ولذت اندوزی اورکثرت طلبی ہو۔(ت)
 (۱؎ شرح اربعین لامام ابن حجر مکی )
ابن عطیہ مالکی کی شرح اربعین میں ہے:
مالایعنیہ ھو مالا تدعو الحاجۃ الیہ مما لایعود علیہ منہ نفع اخروی، والذی یعنیہ مایدفع الضرورۃ دون مافیہ تلذذ وتنعم وقال الشیخ یوسف بن عمر مالایعنیہ ھو مایخاف فیہ فوات الاجر والذی یعنیہ ھو الذی لایخاف فیہ فوات ذلک۱؎ اھ مختصرا۔
لا یعنی وغیر مہم امور وہ ہیں جن کی کوئی حاجت نہ ہو ، جن سے کوئی اُخروی فائدہ نہ ہو۔ اورمہم امور وہ ہیں جن سے ضرورت دفع ہو نہ وہ جن میں لذت اندوزی وآسائش طلبی ہو۔ اورشیخ یوسف بن عمر نے فرمایا: لایعنی امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔اور یعنی و مہم امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اھ مختصرا۔(ت)
 (۱؎ شرح اربعین للامام ابن عطیۃ مالکی)
علاّمہ احمد بن حجازی کی شرح اربعین میں ہے:
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ وسلامتہ فی معادہ ومما لایعنیہ التوسع فی الدنیا وطلب المناصب والریاسۃ ۲؎ اھ ملخصا۔
انسان کے لئے مہم وہ امور ہیں جو اس کی معاشی زندگی اوراُخروی سلامتی کی ضرورت سے متعلق ہوں اور لایعنی وغیرمہم امور دنیا کی وسعت اورمنصب وریاست کی طلب ہے اھ ملخصاً۔(ت)
 (۲؎ المجالس السنیہ فی الکلام علی اربعین للنوویہ المجلس الثانی عشر الخ دار احیاء الکتب العربیہ مصر     ص۳۶و۳۷)
تیسیر میں ہے :
الذی یعنیہ ما تعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ دون ما زاد وقال الغزالی حدما لایعنی ھوالذی لو ترک لم یفت بہ ثواب ولم ینجزبہ ضرر ۱؎۔
مہم امر وہ ہے جواس کی معاشی زندگی کی ضرورت سے وابستہ ہو وہ نہیں جو زیادہ ہو۔اورامام غزالی نے فرمایا: لایعنی کی تعریف یہ ہے کہ اگراسے ترک کردے تو اس سے کوئی ثواب فوت نہ ہو اور اس سے کوئی ضرر عائد نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من حسن اسلام المرء الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۸۱)
مرقاۃ میں ہے:
حقیقۃ مالا یعنیہ مالا یحتاج الیہ فی ضرورۃ دینہ ودنیاہ ولا ینفعہ فی مرضاۃ مولاہ بان یکون عیشہ بدونہ ممکنا وھو فی استقامۃ حالہ بغیرہ متمکنا قال الغزالی وحد مالا یعنیک ان تتکلم بکل مالو سکت عنہ لم تأثم ولم تتضرر فی حال ولا ماٰل ومثالہ ان تجلس مع قوم فتحکی معھم اسفارک ومارایت فیھا من جبال وانھار وما وقع لک من الوقائع وما استحسنتہ من الاطعمۃ والثیاب وما تعجبت منہ من مشائخ البلاد ووقائعھم فھذہ امور لوسکت عنھا لم تأثم ولم تتضرر واذا بالغت فی الاجتھاد حتی لم یمتزج بحکایتک زیادۃ ولا نقصان ولا تزکیۃ نفس من حیث التفاخر بمشا ھدۃ الاحوال العظیمۃ، ولا اغتیاب لشخص ولا مذمۃ لشیئ مما خلقہ اللّٰہ تعالی فانت مع ذلک کلہ مضیع زمانک ومحاسب علی عمل لسانک اذ تستبدل الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر، لانک لو صرفت زمان الکلام فی الذکر والفکر ربما ینفتح، لکن من نفحات رحمۃ اللّٰہ تعالی ما یعظم جدواہ ولو سبحت اللّٰہ تعالی بنی لک بھا قصر فی الجنۃ ومن قدر علی ان یاخذ کنزا من الکنوز فاخذ بدلہ عـــــــہ مدرۃ لاینتفع بھا کان خاسرا خسرانا مبینا وھذا علی فرض السلامۃ من الوقوع فی کلام المعصیۃ وانی تسلم من الافات التی ذکرناھا ۱؎۔
لا یعنی کی حقیقت یہ ہے کہ دین ودنیاکی ضرورت میں اس سے کام نہ ہو اور رضائے مولا میں وہ نفع بخش نہ ہو اس طرح کہ وہ اس کے بغیر زندگی گزارسکتاہو اور وہ نہ ہو توبھی وہ اپنی حالت درست رکھ سکتا ہو۔امام غزالی نے فرمایا: لایعنی کی حد یہ ہے کہ تم ایسی بات بولو جونہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ حال ومآل میں اس سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بیٹھ کر لوگوں سے تم اپنے سفروں کا قصہ بیان کرو اوریہ کہ میں نے اتنے پہاڑ اتنے دریا دیکھے اوریہ یہ واقعات پیش آئے اتنے عمدہ کھانوں اور کپڑوں سے سابقہ پڑا،اورایسے ایسے مشائخِ بلادسے ملاقات ہوئی ان کے واقعات یہ ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو تم نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے، نہ ان سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اورجب تمہاری پوری کوشش یہ ہوکہ تمہاری حکایت میں نہ کسی کمی بیشی کی آمیزش ہو،نہ ان عظیم احوال کے مشاہدہ پر تفاخر کے اعتبار سے خود ستائی کا شائبہ ہو، نہ کسی انسان کی غیبت ہو، نہ خدائے تعالٰی کی مخلوقات میں سے کسی شئی کی مذمّت ہو توان ساری احتیاطوں کے بعد بھی تم اپنا وقت برباد کرنے والے ہو اور تم سے اپنی زبان کے عمل پر حساب ہوگا اس لئے کہ تم خیر کے عوض اسے لے رہے ہو جو ادنٰی وکمترہے، کیونکہ گفتگو کا یہ وقت اگرتم ذکر وفکر میں صرف کرتے تورحمتِ الہٰی کے فیوض سے تم پر وہ درفیض کشادہ ہوتا جس کا نفع عظیم ہوتا،اگر تم خدائے بزرگ وبرتر کی تسبیح کرتے تواس کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا۔جو ایک خزانہ لے سکتا ہو مگر اسے چھوڑ کر ایک بے کار کا ڈھیلا اٹھالے تو وہ کھلے ہوئے خسارہ اور صریح نقصان کا شکار اور یہ اس مفروضہ پر ہے کہ معصیت کی بات میں پڑنے سے سلامت رہ جاؤ، او ر ان آفتوں سے سلامتی کہاں جو ہم نے ذکرکیں۔(ت)
 (عــہ)وقع فی نسخۃ المرقاۃ المطبوعۃ بمصر بدرۃ بالباء وھو تصحیف اھ منہ (م)

مرقاۃ مطبوعہ مصر کے نسخہ میں مدرہ کی جگہ باء سے بدرہ چھپا ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب الادب باب حفظ اللسان تحت الحدیث ۴۸۴۰  المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۵۸۵و۵۸۶)
خلاصہ فـــ۱ ان سب نفیس کلاموں کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت کو لایعنی باتیں چھوڑنے کی طرف ارشاد فرماتے ہیں جتنی بات آدمی کے دین میں نافع اور ثواب الٰہی کی باعث ہویا دنیا میں ضرورت کے لائق ہو جیسے بھُوک پیاس کا ازالہ بدن ڈھانکنا پارسائی حاصل کرنا اُسی قدر امر مہم ہے اور اس سے زائد جو کچھ ہو جیسے دنیا کی لذتیں نعمتیں منصب ریاستیں غرض جملہ افعال واقوال واحوال جن کے بغیر زندگانی ممکن ہو اور ان کے ترک میں نہ ثواب کا فوت نہ اب یا آئندہ کسی ضرر کا خوف وہ سب لایعنی وقابلِ ترک مثلاً لوگوں کے سامنے اپنے سفر کی حکایتیں کہ اتنے عــہ ۱ اتنے شہر اور پہاڑ اور دریا دیکھے عــہ ۲؎ یہ یہ معاملے پیش آئے عــہ ۳ فلاں فلاں کھانے اور لباس عمدہ پائے عــہ۴ ایسے ایسے مشایخ سے ملنا ہوا۔ یہ سب باتیں اگر تو نہ بیان کرتا تو نہ گناہ تھا نہ ضررعــہ ۱ ہوتا اور اگر تو کامل کوشش کرے کہ تیرے کلام میں واقعیت سے کچھ کمی عــہ ۲ بیشی نہ ہونے پائے نہ اس تفاخر سے نفس کی تعریف نکلے کہ ہم نے ایسے ایسے عظیم حال دیکھے نہ اُس عــہ۳میں کسی شخص کی غیبت ہو۔نہ اللہ تعالٰی کی پیدا عــہ۴ کی ہوئی کسی چیز کی مذمت ہو تو اتنی احتیاطوں کے بعد بھی اُس کلام کا حاصل یہ ہوگا کہ تُونے اتنی دیر اپنا وقت ضائع کیا اور تیری زبان سے اُس کا حساب ہوگا تو خیر کے عوض ادنی بات اختیار کررہا ہے اس لئے کہ جتنی دیر تُونے یہ باتیں کیں اگر اتنا وقت اللہ عزوجل کی یاد اور اس کی نعمتوں صنعتوں کی فکر میں صرف کرتا تو غالباً رحمتِ الٰہی کے فیوض سے تجھ پر وہ کھُلتا جو بڑا نفع دیتا او ر تسبیح الٰہی کرتا تو تیرے لئے جنت میں عــہ۱ محل چُنا جاتا اور جو ایک خزانہ لے سکتا ہو وہ ایک نکمّا ڈھیلا لینے پر بس کرے تو صریح زیاں کار ہو اور یہ سب بھی اُس تقدیر پر ہے کہ کلامِ معصیت سے بچ جائے اور وہ آفتیں جو ہم نے ذکر کیں اُن سے بچنا کہاں ہوتا ہے۔ ظاہر ہوا کہ لایعنی جملہ مباحات کو شامل ہے نہ کہ مطلقا مکروہ ہو۔
فـــ۱:حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت :لا یعنی باتوں کاموں کے ترک کی ہدایت اور لا یعنی معنی کا بیان ۔

(عــہ۱) اقول مگر جبکہ نیت بیان عجائب وصنعت وحکمت وقدرت ربانی وذکر الٰہی ہو قال تعالٰی
فی الافاق ۲؎ وفی انفسکم افلا تبصرون۳؎ o
۱۲ منہ (م)اللہ تعالٰی نے فرمایا:دنیا بھر میں اور خود تم میں کتنی نشانیاں ہیں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔
 (۲؎القرآن الکریم ۴۱ /۵۳ )  ( ۳؎القرآن الکریم ۵۱ /۲۱)
 (عـــہ۲)اقول؎ مگر جبکہ اُن کے ذکر میں اپنی یا سامعین کی منفعت دینی ہو اور خالص اُسی کا قصد کرے قال اللّٰہ تعالی
وذکرھم بایام اللّٰہ ۴؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ۔ت )۱۲منہ
 (۴؎القرآن الکریم     ۱۴ /۵)
 (عــہ۳) اقول: مگر جبکہ اُس سے مقصود اپنے اوپر احساناتِ الٰہی کا بیان ہو کہ ایسی جگہ ایسی بے سروسامانی میں مجھ سے ناچیز کو اپنے کرم سے ایسا ایسا عطا فرمایا قال تعالٰی
واما بنعمۃ ربک فحدث۵؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچا کرو۔ت )۱۲منہ
 (۵؎القرآن الکریم     ۹۳ /۱۱)
 (عــہ۴) اقول مگر جبکہ علمائے سنّت وصلحائے امت کے فضائل کا نشر اور سامعین کو ان سے استفادہ کی ترغیب مقصود ہو
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ ۶؎
 (صالحین کے ذکر پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ت)
 (۶؎کشف الخفاء    حدیث ۱۷۷۰    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۶۵)
 (عــہ۱) اقول ثواب نہ ملنا بھی ایک نوع ضرر ہے خود امام غزالی سے بحوالہ تیسیر اور کلام ابن عطیہ ومرقاۃ میں گزرا کہ جو کچھ آخرت میں نافع ہو لایعنی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی لیں کہ جس کے ترک میں نہ گناہ اخروی نہ ضرر دنیوی تو تمام مستحبات بھی داخلِ لایعنی ہوجائیں گے اور وہ بداہۃً باطل ہے ۱۲ منہ (م)

(عــہ۲) اقول یعنی وہ کمی جس سے معنی کلام بدل جائیں جیسے کسی ضروری استثناء کا ترک ورنہ جبکہ ترک کل میں گناہ نہیں ترک بعض میں کیوں ہونے لگا ۱۲ منہ (م)

(عــہ۳) اقول مگر جبکہ جس کی برائی بیان کی وہ گمراہ بد مذہب ہوکہ ان کی شناعت سے مسلمانوں کو مطلع کرنا واجبات دینیہ سے ہے حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۱؎ کیا فاجر کی برائی بیان کرنے سے پرہیز رکھتے ہو، لوگ اُسے کب پہچانیں گے فاجر میں جو شناعتیں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے پرہیز کریں رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والامام الترمذی ا لحکیم فی النوادر والحاکم۔ فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن والخطیب فی التاریخ عن معویۃ بن حیدۃ القشیری والخطیب فی رواۃ مالک عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ (م)
 (۱؎نوادرالاصول     الاصل السادس والستون والمائۃ فی ذکرالفاجر    دارصادربیروت    ۱ /۴۵۶

السنن الکبری     کتا ب الشہادات باب الرجل من اہل الفقہ الخ     دارصادربیروت    ۱۰ /۲۱۰

المعجم الکبیر        حدیث ۱۰۱۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۹ /۴۱۸

اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الخطیب وغیر ہ     کتاب آفات اللسان     دارالفکربیروت    ۷ /۵۵۶)
 (عــہ۴)اقول مگر جبکہ اس میں مصلحت دینیہ ہو اورمعاذ اللہ اعتراض کے پہلو سے پاک ہو جیسے کچھ لوگ کسی طرف عازمِ سفر ہیں ان کو بتانا کہ فلاں راستہ بہت خراب ہے اس سے نہ جانا یا کوئی کسی عورت سے نکاح چاہتا ہے اسے اس کی صورت نسب وغیرہ وغیرہ میں عیوب معلوم ہیں ان کو خالص خیر خواہی کی نیت سے بیان کرنا لحدیث ان فی اعین الانصار شیئا رواہ مسلم ۲؎عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
 (۲؎صحیح مسلم     کتاب النکاح باب ندب من اراد نکاح امرأۃالخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۵۶)
 (عــہ۱) اقول ہر بار تسبیح الٰہی کرنے پر جنت میں ایک پیڑ بویا جاتا ہے احادیث ۲؎کثیرہ میں ہے:

من احادیث ابن مسعود وابن عمرو وجابر وابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم اما بناء القصر فاللّٰہ تعالی اعلم۔ (م)
 (سنن الترمذی     کتاب الدعوات     حدیث ۳۴۷۵و۳۴۷۶    دارالفکربیروت    ۵ /۱۸۶و۱۸۷)
ہاں مثلاً چار بار پانی ڈالنے کی عادت کرلے تو غالباً اس پر باعث نہ ہوگا مگر وسوسہ اور کم از کم اتنا ضرور ہوگا کہ دیکھنے والے اسے موسوس جانیں گے اور بلا ضرورت شرعیہ محل تہمت میں پڑنا ضرور مکروہ ہے۔
فیذکرعنہ عــہ۲صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التھم ۱؎ وفی الباب عن عــہ۱امیر المؤمنین الفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
کہ حضور اکر م سے مذکورہے کہ جو خدا اور روزِ آخر پر ایمان رکھتا ہووہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ ٹھہرے اوراس باب میں امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔(ت)
 (عــہ۲)اوردہ فی الکشاف من اخرسورۃ الاحزاب والعلامۃ الشرنبلالی قبیل سجود السھو من مراقی الفلاح۔ (م)

کشاف میں سورہ احزاب کے آخر میں اور علامہ شرنبلالی نے سجدہ کے بیان میں مراقی الفلاح میں لکھا ہے۔ (ت)
 (۱؎الکشاف     تحت الآیۃ ۳۳ /۵۶    دارالکتاب العربی     ۳ /۵۵۸

کشف الخفا    حدیث ۸۸    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۷

مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب ادراک الفریضہ     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۴۸۸ )
 (عــہ۱) رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال من اقام نفسہ مقام التہمۃ فلا یلومن اساء الظن بہ ۱؎ ۱۲ منہ 

خرائطی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکارم الاخلاق میں امیر المومنین عمر فاروق سے روایت کیا ہے کہ جس نے تہمت کی جگہ اپنے آپ کو پہنچایا تو بدگمانی کرنے والے کو ملامت نہ کرو۔ (ت)
 (کشف الخفاء    بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق تحت الحدیث ۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۷)
Flag Counter