بل اقـول : لک فـــــ ۱ ان تقول ان فی النظر الدقیق لاحکم علی العبث فی نفسہ بالحظر والتحریم اصلا وما کان لانضمام ضمیمۃ ذمیمۃ فانما مرجعہ الیہا دونہ وتحقیق ذلک انا اریناک تظافر الکلمات علی ان مناط العبث علی عدم قصد الفائدۃ بالفعل وھذہ حقیقۃ متحصلۃ بنفسھا ولیس قصد المضر اوعدم قصدہ من مقوماتھا ولا مما یتوقف علیہ وجود ھا کسبب وشرط فیعد من محصلاتھا فاذن لیس قصد مضرٍا لا من مجاوراتھا وما کان لمجاور یکون حکمالہ لالصاحبہ، الا تری البیع یحرم بشرط فاسد وبعد اذان الجمعۃ واذا سئلت عـن حکم البیع قلت مشروع بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ کما ذکرہ فی غایۃ البیان وغیرھا والصلاۃ تکرہ فی ثیاب الحریر للرجل وفی الارض المغصوبۃ ولا یمنعک ذلک بان تقول اذا سئلت عن حکمھا ان الصلاّۃ خیر موضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر کما رواہ ۱؎ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان المصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وبالجملۃ یؤاخذ علی المعصیۃ من حیث قصد الشر لا من حیث عدم قصد الخیر وھی انما کانت عبثا من ھذہ الحیثیۃ لامن تلک فلیس الحظر حکم العبث اصلا۔
بلکہ میں کہتاہوں تم کہہ سکتے ہوکہ بنظرِ دقیق دیکھا جائے توخود عبث پرمنع وتحریم کاحکم بالکل نہیں اور جو حکم منع کسی مذموم ضمیمہ کے شامل ہوجانے کی وجہ سے ہے اس کا مرجع اس ضمیمہ کی طرف ہے عبث کی جانب نہیں۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ہم دکھا چکے کہ کلمات کا اس پر اتفاق ہے کہ عبث کا مدار اس پر ہے کہ بالفعل فائدہ کا قصد نہ ہو۔ اوریہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خود حصول وثبوت رکھتی ہے۔اورمضرکاقصد یاعدمِ قصد اس کا نہ توجز ہے نہ سبب وشرط کی طرح اس پراس کا وجودموقوف ہے کہ اسے اس کا محصّل شمار کیاجائے۔تو کسی مضر کا قصدبس اس کا مجاوِراور اس سے متصل ہی ہوسکتا ہے اورجو حکم کسی مجاوِر ومتصل کے سبب ہو وہ دراصل اسی متصل کا حکم ہے اس کے ساتھ والے کا نہیں۔ ۔۔۔۔۔ دیکھئے کسی شرط فاسد سے بیع حرام ہوتی ہے یوں ہی اذانِ جمعہ کے بعد بیع حرام ہے،اور اگرخود بیع کاحکم پوچھا جائے توجواب ہوگاکہ جائز ،اورکتاب وسنت واجماعِ اُمت سے مشر وع ہے جیسا کہ اسے غایۃ البیان وغیرہامیں ذکرکیا ہے۔ یوں ہی نماز ریشمی کپڑے میں مردکے لئے اورغصب کردہ زمین میں کسی کے لئے بھی مکروہ ہے لیکن اگرخود نماز کا حکم پوچھاجائے توجواب یہی ہوگا نماز ایک وضع شدہ خیر اورنیکی ہے توجس سے ہوسکے کہ اسے زیادہ حاصل کرے تو اُسے چاہئے کہ وہ زیادہ حاصل کرے۔ جیسا کہ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ،مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ الحاصل معصیت پرمواخذہ اس لحاظ سے ہے کہ شرکا قصد ہوا، اس لحاظ سے نہیں کہ خیر کا قصد نہ ہوا، اوروہ عبث اسی حیثیت سے ہے اُس حیثیت سے نہیں توعبث کا حکم ممانعت بالکل نہیں۔(ت)
اس کا حکم وہی ہے جو ابھی غایہ سروجی وبحرالرائق وغنیہ شرنبلالی وردالمحتار سے منقول ہوا کہ خلاف اولٰی ہے اور یہی مفاد درمختار ہے ۔
حیث قال کرہ عبثہ للنھی الالحاجۃ ولا باس بہ خارج الصلاۃ ۲؎ اھ فان لاباس لما ترکہ اولی
(اس کے الفاظ یہ ہیں: اس کا عبث نہی کی وجہ سے مکروہ ہے مگریہ کہ کسی حاجت کی وجہ سے ہواوربیرونِ نمازاس میں حرج نہیں اھ۔ اس لئے کہ لاباس(حرج نہیں) اسی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا ترک اولی ہے۔(ت)
(۲؎ الدر المختار کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتباہی دہلی ۱ / ۹۱)
اور یہی وہ ہے جو قول سوم میں ارشاد ہوا کہ پانی میں اسراف نہ کرنا آداب سے ہے۔
اما ما فی الحلیۃ فی مسألۃ فرقعۃ الاصابع فــــ ۱ھل یکرہ خارج الصّلاۃ فی النوازل یکرہ والظاھران المراد کراھۃ تنزیہ حیث لایکون لغرض صحیح اما لغرض صحیح ولو اراحۃ الاصابع فلا ۱؎ اھ
مگر حلیہ میں انگلیاں چٹخانے کے مسئلہ میں ہے: کیا یہ بیرونِ نماز بھی مکروہ ہے؟ نوازل میں ہے کہ مکروہ ہے۔ اورظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہ مراد ہے جبکہ اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔اوراگرکسی غرض صحیح کے تحت ہو اگرچہ انگلیوں کو راحت دینا ہی مقصودہوتوکراہت نہیں اھ۔
فــ ۱: مسئلہ نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے یوں ہی اگر نماز کے انتظار میں بیٹھنا ہے یا نماز کے لئے جارہا ہے ۔ اور ان کے سوا اگر حاجت ہو مثلا انگلیوں میں بخارات کے سبب کسل پیدا ہو تو خالص اباحت ہے اور بے حاجت خلاف اولی و ترک ادب ہے ۔
(۱؎ حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی )
وفی فــــ ۲ تشبیکھا بعد ذکر النھی عنہ فی الصلاۃ وفی السعی الیھا ولمنتظرھا کمثلھم فی الفرقعۃ مانصہ فیبقی فیما وراء ھذہ الاحوال حیث لایکون عبثا علی الاباحۃ من غیر کراھۃ وان کان علی سبیل العبث یکرہ تنزیھا ۲؎ اھ
اور ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے سے متعلق، نمازمیں، اورنمازکے لئے جانے اور نمازکے انتظار کی حالتوں میں انگلیاں چٹخانے کی طرح نہی کاذکرکرنے کے بعد حلیہ میں لکھا ہے: ان کے علاوہ احوال میں جہاں کہ عبث نہ ہو بغیر کسی کراہت کے اباحت پرحکم رہے گا اور اگر بطورِ عبث ہو تومکروہ تنزیہی ہوگااھ۔
ف۲: مسئلہ یہی سب احکام اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کے ہیں .
(۲؎ حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی )
وتبعہ فیہما ش والبحر فی الاولی و زاد انہ لما لم یکن فیھا خارجہا نھی لم تکن تحریمیۃ کما اسلفناہ قریبا ۳؎ اھ
ان دونوں مسئلوں میں شامی نے حلیہ کا اتباع کیا ہے اوربحرنے پہلے مسئلہ میں اتباع کیا ہے اور مزیدیہ لکھا:چوں کہ انگلیاں چٹخانے سے متعلق بیرونِ نماز ممانعت نہیں اس لئے وہاں یہ مکروہ تحریمی نہیں جیساکہ کچھ پہلے اسے ہم بیان کرچکے اھ۔
(۳؎ بحرالرائق مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۰)
یرید ماقدم انہ ان لم یکن الدلیل نھیا بل کان مفیدا للترک الغیر الجازم فھی تنزیھیۃ ۱؎ اھ
پہلے یہ بتایا ہے کہ اگردلیل مخالفت نہ کرتی ہوبلکہ غیر جزمی طورپرترک کاافادہ کررہی ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی اھ
(۱؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۲۹)
وعقب الثانیۃ بقولہ وقد قدمناہ عن الھدایۃ ان العبث خارج الصلوٰۃ حرام وحملناہ علی کراھۃ التحریم فینبغی انیکون العبث خارجہا لغیر حاجۃ کذلک ۲؎ اھ
او ربحر نے مسئلہ دوم کے بعد یہ لکھا کہ : ہم ہدایہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ بیرونِ نماز عبث حرام ہے اور اسے ہم نے کراہت تحریم پر محمول کیا تو بیرونِ نماز بے حاجت عبث کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے اھ۔
ف : تطفل علی البحر ۔
(۲؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۰،۲۱)
فـاقول دعوی کراھۃ التنزیہ مبتنیہ علی عدم الفرق بین خلاف الاولی وکراھۃ التنزیہ وزعم ان ترک کل مستحب مکروہ کما قدمنا فی التنبیہ الثالث عن الحلیۃ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ خلاف الاولی والظاھر انہما متساویان وعن البحر ان التنزیہ فی رتبۃ المندوب وعن ش ان ترک المندوب مکروہ تنزیھا وقد علمت ما ھوالتحقیق وباللّٰہ التوفیق۔
اس پرمیں کہتاہوں کراہت تنزیہ کا دعوٰی، خلاف اولٰی اورکراہت تنزیہ کے درمیان عدمِ فرق پر اور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر مستحب کاترک مکروہ ہے جیسا کہ تنبیہ سوم میں حلیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ: مکروہِ تنـزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ اوربحر سے نقل کیا کہ کراہت تنزیہ کا مرتبہ مندوب کے مقابل ہے اورشامی سے نقل کیاکہ ترکِ مندوب مکروہ تنزیہی ہے۔اور وہاں واضح ہوچکا کہ تحقیق کیاہے،اور توفیق خدا ہی سے ہے۔
اما ما عقب بہ الثانیۃ فاقول اولا اعجب واغرب مع انہ اسلف الاٰن ان لیس خارجہا نھی فلا تحریمیۃ وثانیا فــــ ۱ حققنا ان کلام الہدایۃ فی القسم الاول من العبث فاجراؤہ فی الثانی غیر سدید۔
اب رہا وہ جو بحر نے مسئلہ دوم کے بعد لکھا تو میں کہتاہوں اولاً : بہت زیادہ عجیب وغریب ہے باوجودیکہ ابھی انہوں نے پہلے بتایاکہ بیرونِ نماز نہی نہیں تومکروہ تحریمی نہیں ثانیا ہم تحقیق کرچکے کہ ہدایہ کا کلام عبث کی قسم اول سے متعلق ہے تواسے قسم دوم میں جاری کرنا درست نہیں۔(ت)
ف : تطفل اخر علیہ ۔
ہم اوپر بیان کر آئے کہ کراہت تنزیہی کیلئے بھی نہی ودلیل خاص کی حاجت ہے اور مطلقا کوئی فعل کبھی کسی فائدہ غیر معتد بہا کیلئے کرنے سے شرع میں کون سی نہی مصروف ہے کہ کراہت تنزیہ ہو ہاں خلافِ اولٰی ہونا ظاہر کہ ہر وقت اولی یہی ہے کہ انسان فائدہ معتد بہا کی طرف متوجہ ہو۔ رہی حدیث صحیح
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ رواہ الترمذی ۱؎ وابن ماجۃ والبیہقی فی الشعب عن ابی ھریرۃ والحاکم فی الکنی عن ابی بکرالصدیق وفی تاریخہ عن علی المرتضی واحمد والطبرانی فی الکبیر عن سید ابن السید الحسین بن علی والشیرازی فی الالقاب عن ابی ذر والطبرانی فی الصغیر عن زید بن ثابت وابن عساکر عن الحارث بن ھشام رضی اللّٰہ تعالی عنھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حسنہ النووی وصححہ ابن عبد البر والھیثمی۔
انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے یہ بات کہ غیر مہم کام میں مشغول نہ ہولایعنی بات ترک کرے
(اس کو ترمذی وابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت ابو ھریرہ سے ،اورحاکم نے کُنٰی میں حضرت ابو بکر صدیق سے اور اپنی تاریخ میں حضرت علی مرتضٰی سے ،اور امام احمد نے اور معجم کبیرمیں طبرانی نے سید ابن سید حضرت حسین بن علی سے، اورشیرازی نے القاب میں حضرت ابو ذر سے ،اورمعجم صغیر میں طبرانی نے حضرت زید بن ثابت سے ،اورابن عساکرنے حضرت حارث بن ہشام سے ، ان حضرات رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ امام نووی نے اسے حسن اور ابن عبدالبروھیثمی نے صحیح کہا۔(ت)
(۱؎ سنن الترمذی کتاب الزہد حدیث ۲۳۲۴ دارالفکر بیروت ۴ /۱۴۲
سنن الترمذی کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۹۵
مجمع الزوائد کتاب الادب باب من حسن اسلام المرء الخ دارالکتب بیروت ۸ /۱۸ )