اقول اولا : ارتفاع فــــ۳ الاماکن لا یبلغ بحیث یراھا القاصد من ای مکان بعید قصد ۔
اقول اولا : جگہوں کی انچائی اس حد تک نہیں ہوتی کہ عازم سفر جس دورجگہ سے بھی چاہے دیکھ لے۔
فـــــــــ۳:معروضۃ سادسۃ علیہ و علی الفاضل الیمنی ۔
وثــانیا : ھوفـــ۴منزع ثالث وکلامنا فی کلامی والانوار،بالجملۃ ھو وجہ زیف ولا اعلم لہ سندا من السلف ولقد احسن النیسابوری اذا سقطہ من تلخیص الکبیر ۔
ثانیا : یہ ایک تیسرا رُخ ہوا۔ اورہماری گفتگو کلام بیضاوی سے متعلق ہے۔الحاصل یہ ایک کمزوروجہ ہے اورسلف سے اس کی کوئی سند میرے علم میں نہیں۔اورنیشاپوری نے بہت اچھا کیا کہ تفسیر کبیر کی تلخیص سے اسے ساقط کردیا۔
ف۴:معروضۃ سابعۃ علیھما۔
اقول : وتعبیری ف۱اذ قلت یبنون من دون حاجۃ ایضا احسن من تعبیر الکبیر ومن تبعہ کما تری۔
اقول میری یہ تعبیر کہ ''بے حاجت بھی بناتے تھے'' تفسیرکبیراوراس کے متبعین کی تعبیرسے بہتر ہے جیسا کہ پیشِ نظر ہے۔(ت)
ف۱:علی الامام الرازی والبیضاوی وابی سعود۔
امام مجاہد و سعید بن جبیر نے فرمایا : جگہ جگہ کبوتروں کی کابکیں بناتے ہیں ۔
رواہ عن الاول ابن جریر۱؎ فی (ایۃ) وھو والفریابی وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ و عبد بن حمید واباالمنذر وابی حاتم فی ( مصانع۲؎) وعزاہ للثانی فی المعالم ۳؎
اسے امام مجاہد سے ابن جریر نے''آیہ '' کے معنی میں روایت کیا او رابن جریر،فریابی، سعیدبن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید،ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ان سے''مصانع'' کے معنی میں روایت کیا۔ اورمعالم التنزیل میں اسے حضرت سعیدبن جبیر کے حوالے سے بیان کیا۔(ت)
(۱؎ جامع البیان( تفسیر الطبری) تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۹ / ۱۱۰)
(۲؎ الدرالمنثور بحوالہ الفریابی تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۶ / ۲۸۲)
(۳؎ معالم التنزیل ( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۶)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی دوم ہوگا یعنی لغو و لہو۔ بعض نے کہا ہر جگہ اونچے اونچے محل تکبر وتفاخر کے لئے بناتے ۔
ذکرہ الکبیر ومن بعدہ وللفریابی وابناء حمید وجریر والمنذر وابی حاتم عن مجاھد وتتخذون مصانع قال قصورا مشیدۃ وبنیانا مخلدا ۱؎ ولابن جریر عنہ قال ایۃ بنیان ۲؎۔
اسے تفسیر کبیر میں ذکرکیا اوراس کے بعدکے مفسرین نے بھی۔اورفریابی،ابن حمید،ابن المنذر،ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کی ''وتتخذون مصانع'' انہوں نے کہا مضبوط محل اوردوامی عمارت۔اور ابن جریر نے ان سے روایت کیا کہ آیۃ یعنی عمارت۔(ت)
(۱؎ الدرالمنثور بحوالہ الفریابی وغیرہ تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۲۸۲
۲؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۰)
ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہوا جو راستے سیدنا ہُود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جاتے ان پر محل بنائے تھے کہ اُن میں بیٹھ کر خدمتِ رسالت میں حاضر ہونے والوں سے تمسخر کرتے
اور رغائب الفرقان (نیشاپوری) میں اس کا ذکر کیا گیا۔ ت) یا سرِراہ بناتے ہر راہ گیر سے ہنستے
ذکرہ البغوی والبیضاوی۴؎ وابو السعود واقتصر علیہ الجلال۵؎ ملتزما الاقتصار علی اصح الاقوال
(ذکر کیا بغوی اور بیضاوی اور ابو السعود نے اختصار کیا جلال نے اختصار اقوالِ اصح میں لازم ہے۔ ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی اول ہوگا یعنی قصد شر و ارادہ ضرر۔ بالجملہ دونوں معنے کا پتا قرآنِ عظیم سے چلتا ہے اگرچہ متعارف غالب میں اُس کا استعمال معنی دوم ہی پر ہے بیہودہ وبے معنے کام ہی کو عبث کہتے ہیں نہ کہ معاصی وظلم وغصب وزنا وربا وغیرہا کو۔
اذا تقرر ھذا فـاقـول ظھر ان لاعتب علی الامام الجلیل صاحب الھدایۃ رحمہ اللّٰہ تعالی اذ یقول ان العبث خارج الصلاۃ حرام فما ظنک فی الصلوۃ ۶؎ اھ
جب یہ طے ہوگیا تومیں کہتاہوں واضح ہوگیا کہ امام جلیل صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ تعالٰی پرکوئی عتاب نہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ:عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اھ۔
(۶؎ الھدایہ کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ مایقرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۹ ،۰ ۱۲)
وقد اقرہ فی العنایۃ والفتح وتبعہ فی الدرر والغنیۃ ولفظ مولٰی خسرو انہ خارج الصلاۃ منھی عنہ فما ظنک فیھا ۱؎ ھ
اسے عنایہ وفتح القدیر میں برقرار رکھااور درروغنیہ میں اس کا اتباع کیا۔مولٰی خسرو کے الفاظ یہ ہیں: وہ بیرونِ نماز منہی عنہ ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہاراکیاخیال ہے اھ
(۱؎ الدرر ا لحکام شرح غرر الاحکام کتاب الصلوۃ مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷)
فان قلت اطلقوا وانما ھو حکم القسم الاول۔ قلت اصل الکلام فی الصلاۃ وکل عبث فیہا من القسم الاول فتعین مرادا وکان اللام للعھد فحصل التفصی عما او رد فــــ السروجی فی الغایۃ وتبعہ فی البحر والشرنبلالی فی الغنیۃ وش ان العبث خارجہا بثوبہ اوبدنہ خلاف الاولی ولا یحرم قال والحدیث (ای ان اللّٰہ کرہ لکم ثلثا العبث فی الصلاۃ والرفث فی الصیام والضحک فی المقابر رواہ القضاعی۳؎ عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا) قید بکونہ فی الصلاۃ ۱؎ اھ
اگر کہئے ان حضرات نے مطلق رکھاہے اور یہ قسم اول کا حکم ہے میں کہوں گااصل کلام نماز سے متعلق ہے اورنمازمیں ہرعبث قسم اول سے ہے تو اسی کا مراد ہونا متعین ہے اور''العبث'' میں لام عہد کا ہے تو اس اعتراض سے چھٹکاراہوگیا جو سروجی نے غایہ میں وارد کیا اور صاحبِ بحر نے بحر میں اورشرنبلالی نے غنیہ میں اورشامی نے اس کی پیروی کی۔(اعتراض یہ ہے)کہ بیرونِ نماز اپنے کپڑے یابدن سے عبث(کھیل کرنا) خلافِ اولٰی ہے، حرام نہیں۔ اور کہا کہ:یہ حدیث''بیشک اللہ نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائیں: نماز میں عبث ،روزے میں بے ہودگی، قبرستانوں میں ہنسنا۔ قضاعی نے یحیٰی بن ابی کثیر سے مرسلاً روایت کی''۔اس میں عبث کے ساتھ اندورنِ نماز ہونے کی قید لگی ہوئی ہے اھ۔(ت)
فــــــ: تظفل علی السروجی والبحر والشرنبلالی و ش۔۔
(۳؎ البحرالرائق بحوالہ القضاعی فی مسند الشہاب کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
۱؎ البحرالرائق بحوالہ الغایہ للسروجی کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام علی ہامش درر الحکام باب مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)
ظاہر ہے کہ معنی اول پر عبث ممنوع وناجائز ہوگا نہ دوم پر ، اور یہاں ہمارا کلام قسم دوم میں ہے یعنی جہاں نہ قصدِ معصیت نہ پانی کی اضاعت۔