Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
112 - 135
اقــول  : وانمافـــ قید بقولہ مطلقا لان الثوب ان کان مما یفسدہ التراب کأن یکون من لاحریر المخلوط للرجل اوالخالص للمرأۃ وکان فی التراب نداوۃ فلولم یغسل بقی متلوثا ولو غسل فسد فحینئذا فان الضرورات تبیح المحظورات ۔واللّٰہ تعالی اعلم ۔
اقول :  اعتراض کے الفاظ میں انہوں نے ''مطلقاً'' کی قید اس لئے رکھی ہے کہ اگرکپڑا ایسا ہو جوکہ مٹی سے خراب ہوجائے مثلاً مرد کا کپڑا مخلوط ریشم کا یاعورت کاخالص ریشم کا ہو اورمٹی میں نمی ہو اب اگر اسے دھوتا نہیں تو کپڑا خاک آلود رہ جاتا ہے اوردھوتا ہے تو خراب ہوتا ہے ایسی صورت میں مٹی سے بچانا ممنوع نہ ہونا چاہئے کیوں کہ ضرورتوں کے پاس ممنوعات مباح ہوجاتے ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
فـــــ : مسئلہ اگر کپڑا بیش قیمت ہے جیسے ریشمیں تانے کا مرد کے لئے یا خالص ریشمی عورت کے لئے اور نماز خالی زمین پر پڑھ رہا ہے اور مٹی گیلی ہے کہ کپڑا نہ بچائے تو کیچڑ سے خراب ہوگا اور دھونے سے بگڑ جائے گا تو ایسی حالت مٰیں بچانے کی اجازت ہونی چاہیئے واللہ تعالی اعلم۔
ولکن الشان ان لیس لفظ التراب لافی الخلاصۃ ولا فی النھایۃ فنص نسختے الخلاصۃ ولا یعبث بشیئ من جسدہ وثیابہ والحاصل ان کل عمل ھو مفید لاباس بہ للمصلی وقد صح عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انہ سلت العرق عن جبینہ وکان اذا قام من سجودہ فنفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ وما لیس بمفید یکرہ کاللعب ونحوہ ۱؎ اھ
لیکن معاملہ یہ ہے کہ لفظ''تراب(مٹی)'' نہ خلاصہ میں ہے نہ نہایہ میں ہے۔ میرے نسخہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے :''اوراپنے جسم یا کپڑے کے کسی حصے سے کھیل نہ کرے۔ اورحاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو مصلی کے لئے اس میں حرج نہیں،نبی سے بطریق صحیح ثابت ہے کہ جبین مبارک سے  پسینہ صاف کیا اورجب سجدہ سے اٹھتے تو اپنا کپڑا دائیں بائیں جھٹک دیتے۔ اورجو مفید نہیں وہ مکروہ ہے جیسے لعب اوراس کے مثل اھ۔
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۷)
ونص النھایۃ علی مانقل فی البحر مثل مااثرتہ عن العنایۃ بمعناہ وقد صرح فیہ بالمراد اذقال کیلا تبقی صورۃ ولا توجہ علیہ لشیئ من الایرادات بیدان الامام الحلبی ثقۃ حجۃ امین فی النقل فالظاھر انہ وقع ھکذا فی نسختیہ الخلاصۃ والنھایۃ ولکن العجب فــــ من البحر نقل عبارۃ النھایۃ مصرحۃ بالصواب ثم عقبہا بالاعتراضات الواردۃ علی لفظ من التراب واقرھا کانہ لیس عنہا جواب۔
اور نہایہ کی عبارت جیسے بحرمیں نقل کی ہے بالمعنی اسی کی طرح ہے جو میں نے عنایہ سے نقل کی اوراس میں مراد کی تصریح کردی ہے کیوں کہ اس میں کہاہے:''تاکہ صورت نہ باقی رہے''اوراس عبارت پر ان تینوں اعتراضوں میں سے ایک بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ مگر امام حلبی نقل میں ثقہ،حجت،امین ہیں توظاہر یہ ہے کہ ان کے خلاصہ اورنہایہ کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے نقل کی۔لیکن تعجب بحر پر ہے کہ انہوں نے نہایہ کی عبارت تو صاف صحیح کی تصریح کے ساتھ نقل کی (وہ جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا) پھر بھی اس کے بعد لفظ''تراب'' سے متعلق وارد ہونے والے اعتراضات نقل کرکے انہیں برقرار رکھا گویا ان کا کوئی جواب نہیں۔
فـــــ : تظفل علی البحر ۔
یہ نہایت فـــــ کلام ہے تحقیق معنی عبث میں، اب تنقیح حکم کی طرف چلئے وباللہ التوفیق ۔اقول بیان سابق سے واضح ہوکہ عبث کا مناط فعل میں فائدہ معتدبہا مقصود نہ ہونے پر ہے اور وہ اپنے عموم سے قصد مضر وارادہ شرکو بھی شامل تو بظاہر مثل اسراف اُس کی بھی دو۲ صورتیں ایک فعل بقصد شنیع دوسری یہ کہ نہ کوئی بُری نیت ہو نہ اچھی۔ رب عزوجل نے فرمایا:
اَفحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لاترجعون ۱؎o
کیا اس گمان میں ہو کہ ہم نے تمہیں عبث بنایا اور تم ہماری طرف نہ پلٹوگے۔
فـــــ :حکم عبث کی تنقیح ۔
 (۱؎ القرآن    ۲۳ /۱۱۵)
علماء نے اس آیہ کریمہ میں عبث کو معنی دوم پر لیا یعنی کیا ہم نے تم کو بیکار بنایا تمہاری آفر ینش میں کوئی حکمت نہ تھی یوں ہی بے معنی پیدا ہوئے بیہودہ مرجاؤ گے نہ حساب نہ کتاب نہ عذاب نہ ثواب، جیسے وہ خبیث کہا کرتے تھے:
ان ھی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیی وما نحن بمبعوثین ۱؎۔
یہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی ،ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اورمرنے کے بعددوبارہ ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔(ت)
اِس پر رَد کو  یہ آیت اُتری۔
کما تقدم بعض نقولہ وزعم العلامۃ الخفاجی بعدما ذکر فی العبث ثلث عبارات تقدمت والظاھر ان المراد (ای فی ھذہ الکریمۃ) الاول ۲؎ اھ
جیسا کہ اس کی کچھ نقلیں گزرچکیں۔اور علامہ خفاجی نے عبث سے متعلق وہ تین عبارتیں ذکرکیں جوگذر چکیں پھر یہ کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں مراد پہلا معنٰی ہے۔اھ۔
 (۱ ؎ القرآن    ۲۳ /۳۷)

(۲؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الایہ ۲۳ /۱۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۶۱۱)
اقول اوّلا علمت فـــــ ۱ ان الکل واحد وثــانــیا ان فـــــ۲ ابقینا التغایر فالظاھر الاخیران لان فی الھمزۃ انکار ما حسبوہ لایجاب ما سلبوہ ولیس المراد اثبات فائدۃ ما ولو غیر معتمدبھا ولھذا قال فی الارشاد بغیر حکمۃ بالغۃ ۳؎ واطلق الجلال لان حکم اللّٰہ تعالی کلھا بالغۃ علی ان الحکمۃ نفسہا یستحیل ان لایعتد بھا۔
اقول اولاً یہ واضح ہوچکا کہ سب تعریفیں ایک ہی ہیں۔ثانیاً اگرہم تغایر باقی رکھیں توظاہر آخری دوتعریفیں ہیں۔اس لئے کہ ہمزہ میں ان کے گمان کا انکار ہے تاکہ اس کا اثبات ہوجس کی انہوں نے نفی کی۔اور مراد یہ نہیں کہ کسی بھی فائدہ کا اثبات ہو جائے اگرچہ قابل لحاظ وشمار نہ ہو۔ اوراس لئے ارشاد میں فرمایا: بغیر حکمت بالغہ کے۔ اور جلال نے مطلق رکھا، کیوں کہ اللہ تعالٰی کا ہر حکم بالغ ہے علاوہ ازیں بذاتِ خود حکمت ناممکن ہے کہ غیر معتد بہا ہو۔(ت)
ف ۱: معروضۃ علی العلامۃ الخفاجی ف ۲: معروضۃ اخری علیہ ۔
 (۳؎ الارشاد العقل السلیم تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳ )
اور سیدنا ہُود علٰی نبینا الکریم وعلیہ الصّلوٰۃ والتسلیم نے اپنی قوم عاد سے فرمایا:
اتبنون بکل ریع ایۃ تعبثونo وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون ۱؎o
کیا ہر بلندی پرایک نشان بناتے ہوعبث کرتے یا عبث کے لئے اور کارخانے بناتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۲۶ /۱۲۸ و ۱۲۹)
اس آیہ کریمہ میں بعض نے کہا راستوں میں مسافروں کیلئے بے حاجت بھی جگہ جگہ علامتیں قائم کرتے تھے۔
ذکرہ فی الکبیر وتبعہ البیضاوی وابو السعود والجمل قال فی الانوار (ایۃ) علما لمارۃ (تعبثون) ببنائھا اذکانوا یھتدون بالنجوم فی اسفارھم فلا یحتاجون الیھا ۲؎ اھ
اسے تفسیر کبیر میں ذکر کیا اور بیضاوی، ابو السعود اورجمل نے اس کا اتباع کیا۔ انوار التنزیل بیضاوی میں ہے (نشان )گذرنے ولوں کے لئے علامت (عبث کرتے ہو) اسے بنا کر۔اس لئے کہ وہ اپنے سفروں میں ستاروں سے راہ معلوم کرتے تھے تو انہیں نشانات کی حاجت نہ تھی اھ۔
 (۲؎ انوار التنزیل ( تفسیر بیضاوی) تحت الایہ    ۲۶ /۱۲۸و ۱۲۹ دارالفکر بیروت     ۴ /۲۴۷ )
فاورد ان لانجوم بالنھار وقد یحدث باللیل من الغیوم ما یسترالنجوم واجاب فی العنایۃ بانھم لایحتاجون الیھا غالبا اذ ا مرالغیم نادر لاسیما فی دیار العرب ۳؎ اھ
اس پراعتراض ہواکہ دن میں ستارے نہیں ہوتے اور رات کو بھی کبھی اتنی بدلی ہوجاتی ہے کہ ستارے چھُپ جاتے ہیں۔ عنایۃ القاضی میں علامہ خفاجی نے اس کا یہ جواب دیاکہ زیادہ ترانہیں اس کی حاجت نہ تھی اس لئے کہ بدلی ہونا نادرہے خصوصاً دیارِ عرب میں۔اھ۔
 (۳؎ عنایۃ القاضی علی التفسیر البیضاوی تحت الایہ     ۶ /۱۲۸و ۱۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت     ۴ /۲۴۷ )
اقـول اولالم ف یجب عن النھار و انمابہ اکثر الاسفار ۔
اقول اولا دن والی صورت سے اعتراض کا جواب نہ دیا جب کہ زیادہ تر سفر دن ہی میں ہوتے ہیں۔
ف:معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
وثـانـیا ان سلم فــــ۱الندور فعمل مایحتاج الیہ ولو احیانا لایعد عبثا قال مع انہ لو احتیج الیھا لم یحتج الی ان یجعل فی کل ریع فان کثرتھا عبث ۱؎ اھ۔
ثانیا اگر بدلی کا نادراً ہی ہونا تسلیم کرلیاجائے توبھی ایسی چیز بنانا جس کی ضرورت پڑتی ہو اگرچہ کبھی کبھی پڑتی ہو،عبث شمار نہ ہوگا۔آگے فرماتے ہیں: باوجود یکہ اگر اس کی ضرورت ہو تو بھی اس کی ضرورت نہیں کہ ہر بلندی پر بنائیں اس لئے کہ ان نشانات کی کثرت بلا شبہہ عبث ہے اھ۔
فــــــــــ۱:معروضۃ رابعۃ علیہ۔
 (۱؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی     تحت الآیۃ ۲۶ /۱۲۸و۱۲۹    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۷ /۱۹۹)
اقول ھذا فـــ۲منزع اخر فلا یرفع الایراد عن القاضی قال وقال الفاضل الیمنی ان اما کنہا المرتفعۃ تغنی عنھا فھی عبث۲؎ اھ۔
اقول یہ ایک دوسرا رخ ہے اس سے قاضی کا اعتراض نہیں اٹھتا۔۔۔۔ آگے لکھتے ہیں: فاضل یمنی نے کہا: ان بلند جگہوں سے ان نشانات کا مقصد یونہی پورا ہوجاتاتھا تویہ عبث ٹھہرے اھ۔
فــــــــ۲:معروضۃ خامسۃ علیہ۔
 (۲؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی     تحت الآیۃ ۲۶ /۱۲۸و۱۲۹    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۷ /۱۹۹)
Flag Counter