Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
111 - 135
ردالمحتار میں ہے:
فلیس نفضہ للتراب فلا یرد ما فی البحر عن الحلیۃ انہ اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب لایکون نفضہ من التراب عملا مفیدا ۳؎ اھ
تواسے جھٹکنا مٹی کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے وہ اعتراض واردنہ ہوگا جوبحرمیں حلیہ سے منقول ہے کہ جب خاک آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھالینامکروہ ہے تو مٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا اھ۔
 (۳؎ رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰)
ورأیتنی کتبت علیہ اقول الذی فـــ ۱ فی الحلیۃ ھکذاثم فی الخلاصۃ والنھایۃ وحاصلہ فـــ ۲ ان کل عمل مفید للمصلی فلا باس بفعلہ کسلت العرق عن جبینہ ونفض ثوبہ من التراب ومالیس بمفید یکرہ للمصلی الاشتغال بہ اھ
اس عبارت پر میراحاشیہ یہ ہے: اقول حلیہ کی عبارت اس طرح ہے: پھرخلاصہ اورنہایہ میں ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مصلی کے لئے مفیدہواس کے کرنے میں حرج نہیں جیسے پیشانی سے پسینہ پونچھنا، اورمٹی سے کپڑا جھاڑنا۔اورجومفید نہیں ہے اس میں مشغول ہونا مصلی کے لئے مکروہ ہے اھ۔
فـــــ ۱: مسئلہ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔

فـــــ ۲: مسئلہ : نمازی کو ہر وہ عمل کہ نماز میں مفید ہو جائز و غیر مکروہ اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ نماز کی طرف عائد نہ ہو کم از کم مکروہ و خلاف اولی ہے ۔
واعترض علیہ بثلثۃ وجوہ۱؎ فقال قلت لکن اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب کما تقدم وانہ قد فـــ وقع الخلاف فی انہ یکرہ مسح التراب عن جبھتہ فی الصلاۃ کما سنذکرہ وانہ قد وقع فـــ الندب الی تتریب الوجہ فی السجود فضلا عن الثوب فکون نفض الثوب من التراب عملا مفیدا وانہ لاباس بہ مطلقا فیہ نظر ظاھر۲؎ اھ وانت تعلم ان اعتراضہ علی مانقل عن الخلاصۃ والنھایۃ صحیح الی الغایۃ للتصریح فیہ ان النفض من التراب۔
حلبی نے اس عبارت پرتین طرح اعتراض کیا،وہ لکھتے ہیں:میں کہوں گا (۱)جب خاک آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھانا مکروہ ہے تومٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا (۲)اوراس بارے میں اختلاف ہے کہ نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنامکروہ ہے یا نہیں جیسا کہ آگے اسے ہم ذکرکریں گے۔(۳) اور کپڑا تو درکنار چہرے کوسجدے میں مٹی کا پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے اور یہ کہ تو یہ بات عیاں طور پر محلِ نظر ہے کہ مٹی سے کپڑے کو جھاڑنا کوئی مفید عمل ہے اور اس میں'' مطلقاً'' کوئی حرج نہیں ہے اھ۔  ناظر کومعلوم ہے کہ حلبی نے خلاصہ ونہایہ سے جس طرح عبارت نقل کی ہے اس پر ان کا اعتراض بالکل درست اوربجا ہے کیوں کہ اس عبارت میں مٹی سے جھاڑنے کی صراحت موجود ہے۔
فـــــ۱: سجدہ میں ماتھے پر لگی ہوئی مٹی اگر ایذاء دے مثلا اس میں باریک کنکریاں ہوں یا کثیر ہوں کہ آنکھوں پلکوں پر چھڑتی ہے جب تو مطلقا اسے پونچھنے میں حرج نہیں اور نہ اخیر التحیات کے ختم سے پہلے مکروہ ہے اور اس کے بعد سلام سے پہلے حرج نہیں اور سلام کے بعد اسے صاف کردینا تو مستحب ہے بلکہ اگر ریا کا خیال ہو کہ لوگ ٹیکا دیکھ کر نمازی سمجھیں جب تو اس کا باقی رکھنا حرام ہوگا۔ 

فـــــ۲مسئلہ مستحب ہے کہ سجدہ میں سر خاک پر بلا حائل ہو ۔
 (۱؎ جدالمحتار علی رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ الخ المجمع الاسلامی مبارکپور ، ہند ۱ /۳۰۵    

۲ ؎ البحرالرائق بحوالہ الحلبی کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹)
عــــہ ذکـر فیہ معترکا ولم یتخلص من کلامہ کبیر شیئ اقول والاوفق الالصق باصول المذھب ان لو اٰذاہ وشغل قلبہ کأن کان فیہ صغار حصی اوکان کثیرا یتناثر علی عیونہ وجفونہ مسح مطلقا ولو فی وسط الصلوٰۃ والاکرہ فی خلال الصلوۃ ولو فی التشہد الاخیر امابعدہ وقبل السلام فقد نصوا ان لاباس بہ بلا خلاف وبعد السلام یستحب المسح دفعا للاذٰی وکراھۃ للمثلۃ ففی الخانیۃ لاباس بان یمسح جبھتہ من التراب والحشیش بعد الفراغ من الصلوٰۃ وقبلہ اذا کان یضر ذالک و یشغلہ عن الصلوۃ وان کان ذالک یکرہ فی وسط الصلوٰۃ ولا یکرہ قبل التشہد والسلام ۱؎ اھ وفی الحلیۃ وفی التحفۃ فی ظاھر الروایۃ یکرہ فی وسطھا ولا باس بہ اذا قعد قدر التشہد ۱؎
اس میں معرکہ آرائی کی جگہ بتائی ہے اور ان کے کلام سے کوئی بڑی بات حاصل نہیں ہوتی۔ اقول اصولِ مذہب سے زیادہ مطابق اور ہم آہنگ یہ ہے کہ مٹی سے اگر اسے تکلیف ہو اور اس کا دل بٹے مثلاً یہ کہ اس پر کنکریوں کے ریزے ہوں یا مٹی اتنی زیادہ ہوکہ آنکھوں اورپلکوں پرجھڑکرگرتی ہو تو اسے صاف کردے۔ مطلقاً۔اگرچہ درمیانِ نماز میں ہو۔ ورنہ درمیانِ نماز صاف کرنامکروہ ہے اگرچہ تشہد اخیر میں ہو،اور اس کے بعد، سلام سے قبل صاف کرنے سے متعلق علماء کی بلا اختلاف تصریح ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔اور بعدسلام صاف کرنادفع اذٰی اورکراہت مثلہ کے پیش نظر مستحب ہے۔ خانیہ میں ہے: اس میں حرج نہیں کہ پیشانی سے مٹی اورتنکا نماز سے فارغ ہونے کے بعدصاف کردے اوراس سے پہلے بھی جب کہ اس سے اسے ضررہو اور نماز سے اس کا دل بٹتاہو۔اور اگر اس سے ضرر نہ ہو تودرمیانِ نماز مکروہ ہے اورتشہد وسلام سے پہلے مکروہ نہیں۔اھ۔
 (۱؎ فتوی قاضی خان کتاب الصلوۃ باب الحدث الصلوۃ الخ نولکشور لکھنو     ص ۱ / ۵۷)
ونص علی انہ الصحیح ونص رضی الدین فی المحیط علی انہ الاصح الخ وفیھا نصوا علی انہ لاباس بان یمسح بعد مافرغ من صلوتہ قبل ان یسلم ۲؎ قال فی البدائع بلا خلاف لانہ لوقطع الصلوٰۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ فلأن لایکرہ ادخال فعل قلیل اولی ۳؎ الخ وفیھا عن الذخیرۃ اذمسح جبھۃ بعد السلام یستحب لہ ذلک لانہ خرج من الصلوٰۃ وفیہ ازالۃ الاذی عن نفسہ ۴؎ الخ
حلیہ میں ہے : تحفہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں یہ درمیان نماز مکروہ ہے اور جب بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اوراس پر نص فرمایا کہ یہی صحیح ہے اورمحیط میں رضی الدین نے یہ تصریح فرمائی کہ یہ اصح ہے الخ۔ 

اورحلیہ میں یہ بھی ہے: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔بدائع میں فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں تو فعل قلیل اختلاف نہیں کیوں کہ اس حالت میں اس کا نماز قطع کردینا مکروہ نہیں توفعل قلیل داخل کردینا بدرجہ اولٰی مکروہ نہ ہوگا۔ 

اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے: بعد سلام اپنی پیشانی صاف کرے تویہ اس کے لئے مستحب ہے اس لئے کہ وہ نماز سے باہر آچکا ہے اوراس میں اپنے سے گندگی(اذی) دور کرنا بھی ہے الخ۔
 (۱؎ تحفۃ الفقہاء کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا دارالفکر بیروت ص ۷۲)

 (۳؎ بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۲۰ و ۲۱۹) 

(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول ولو ابقاہ معاذ اللّٰہ ریاء الناس حرم قطعا کما لایخفی ورأیتنی کتبت علی قول البدائع لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ مانصہ۔

اقول اور اگر معاذاللہ  ریا کاری کے لئے اسے باقی رکھے تو قطعاً حرام ہے جیسا کہ واضح ہے۔ اور بدائع کی عبارت''اس حالت میں اس کانماز قطع کردینا مکروہ نہیں'' پرمیں نے اپنا تحریر کردہ یہ حاشیہ دیکھا: 

اقــول کیف لایکرہ مع ان الواجب علیہ الانھاء بالسلام لاالقطع بعمل غیرہ فان اراد بالقطع الانھاء منعنا القیاس لانہ مامور بہ کیف یقاس علیہ مالیس مطلوبا وھو مالم ینھھا لایقع مایقع الا فی خلالھا الا تری الی الاثنا عشریۃ قال فی الھدایۃ علی تخریج البردعی ان الخروج عن الصلوٰۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فاعتراض ھذہ العوارض عندہ فی ھذہ الحالۃ کاعتراضھا فی خلال الصلوۃ اھ وفی الفتح ناقلا عن الکرخی انما تبطل عندہ فیھا لانہ فی اثنائہا کیف وقد بقی علیہ واجب وھو السلام وھو اٰخرھا داخلا فیھا اھ فاتفق التخریجان ان ماقبل السلام داخل فی خلال الصلوۃ فلم لایکرہ مایکون فیہ مما لیس من افعال الصلوۃ ولا مفیدا محتاجا الیہ فتدبر اذلابحث مع الاطباق لاسیما من مثلی والاتباع للمنقول وان لم یظھر للعقول واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ۔ (م)
اقول کیوں مکروہ نہیں جب کہ اس پرواجب یہ ہے کہ سلام پرنماز پوری کرے نہ یہ کہ سلام کے علاوہ کسی عمل سے نماز قطع کردے۔ تواگر قطع سے ان کی مراد نماز پوری کرنا ہے تو قیاس درست نہیں کیوں کہ سلام پرنماز پوری کرنے کا تواسے حکم ہے اس پراس عمل کاقیاس کیسے ہوسکتا ہے جو مطلوب نہیں اورجب تک وہ نماز سلام سے پوری نہ کرے جو عمل بھی ہوگا درمیانِ نماز ہی ہوگا کیاوہ مشہور بارہ مسائل پیشِ نظر نہیں۔ ہدایہ میں فرمایا: امام بردعی کی تخریج پریہ ہے کہ نماز سے مصلی کا اپنے عمل کے ذریعہ باہر آنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک فرض ہے۔ تو ان کے نزدیک اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے نماز کے درمیان پیش آنا اھ۔اور فتح القدیر میں امام کرخی سے نقل ہے: امام صاحب کے نزدیک ان عوارض کی صورتوں میں نماز اسی لئے باطل ہوتی ہے کہ وہ ابھی اثنائے نماز میں ہے کیوں نہ ہو جب کہ ابھی اس کے ذمہ ایک واجب باقی ہے وہ ہے سلام، یہ نماز کا آخری عمل ہے اورنماز میں داخل ہے اھ۔تو امام بردعی وامام کرخی دونوں حضرات کی تخریجیں اس پر متفق ہیں کہ ماقبل سلام، درمیان نماز داخل ہے تواس حالت میں واقع ہونے والا وہ کام مکروہ کیوں نہ ہوگا جو نہ افعالِ نماز سے ہے نہ مفید ہے نہ اس کی حاجت ہے تو تدبر کرو۔ اس لئے کہ اتفاق موجود ہوتے ہوئے بحث کی خصوصاً مجھ جیسے سے۔گنجائش نہیں۔ اتباع منقول کا ہوگا اگرچہ اس کی وجہ معقول ظاہر نہ ہو ۔ واللہ تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ ۔(ت)
Flag Counter