سادسا: غرض وہی فائدہ مقصودہ ہے اور صحیح یہی کہ معتد بہا ہو تو ۳، ۵ بھی اسی معنی کو ادا کررہی ہیں اور غرض میں جبکہ قصد ملحوظ ہے تو تعریف سوم ودہم اوضح واخصر تعریفات ہیں اور یہیں سے واضح ہوا کہ قول سمین وجمل
العبث اللعب وما لا فائدۃ فیہ وکل مالیس فیہ غرض صحیح۲؎
(عبث لعب بے فائدہ جن میں غرض صحیح نہ ہو۔ ت)میں سب عطف تفسیری ہیں۔
(۲؎ الفتوحات الالہیۃ تحت الایہ ۳۲ /۱۱۵ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۶۷)
سابعا: ہم بیان کر آئے کہ فعل اختیاری بے غرض محض صادر نہ ہوگا تو جو بے غرض صحیح ہے ضرور بغرض صحیح ہے تو ۱ ، ۳ کا مفاد واحد ہے اور اس تقدیر پر سفہ کا مصداق افعال جنون ہوں گے۔
ثامنا: فـــــــ شرعی سے اگر مقبول شرع مراد لیں تو وہی حاصل غرض صحیح ہے کہ ہر غرض صحیح کو اگرچہ مطلوب فی الشرع نہ ہو شرع قبول فرماتی ہے جبکہ اپنے اقوی سے معارض نہ ہو اور ہنگام معارضہ عدم قبول قبول فی نفسہ کا منافی نہیں جیسے حدیث آحاد وقیاس کہ بجائے خود حجت شرعیہ ہیں اور معارضہ کتاب کے وقت نا مقبول امام نسفی کا عدم غرض شرعی سے تعریف فرما کر تعلیل کراہت میں
لانہ غیر مفید
(اس لئے کہ یہ غیر مفید ہے۔ ت) فرمانا اس کی طرف مشعر ہوسکتا ہے اس تقدیر پر ۲ اول اور ۴ سوم کی طرف عائد اور ظاہر ہوا کہ بارہ کی بارہ تعریفوں کا حاصل واحد
فــــ : شرع کے دو معنی ہیں ، مقبول فی الشرع و مطلوب فی الشرع۔
اقول: مگر غیر شرعی سے متبادر تر غرض عــہ مطلوب فی الشرع ہے اب یہ تخصیص بحسب مقام ہوگی کہ اُن کا کلام عبث فی الصلاۃ میں ہے تو وہاں غرض مطلوب شرع ہی غرض صحیح ہے نہ غیر۔ آخر نہ دیکھا کہ مٹی سے بچانے فـــ ۱ کیلئے دامن اٹھانا غرض صحیح ہے اور نماز میں مکروہ کہ غرض مطلوب شرعی نہیں اور پیشانی فـــ ۲ سے پسینہ پونچھنا باآنکہ غرض مطلوب فی الشرع نہیں نماز میں بلا کراہت روا جبکہ ایذا دے اور شغل خاطر کا باعث ہو کہ اب اس کا ازالہ غرض مطلوب شرع ہوگیا۔
فــــ ۱: مسئلہ نماز میں مٹی سے بچانے کے لئے دامن اٹھانا مکروہ ہے ۔
فــــ ۲: مسئلہ نماز میں منہ پر پسینہ ایسا آیا کہ ایذا دیتا اور دل بٹتا ہے تو اس کا پونچھنا مکروہ نہیں ورنہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
عـــــــہ : وعن ھذا ما قال فی البحر اختلف فی تفسیر العبث فذکر الکردری انہ فعل فیہ غرض لیس بشرعی والمذکور فی شرح الھدایۃ وغیرھا ان العبث الفعل لغرض غیر صحیح حتی قال فی النھایۃ ما لیس بمفید فھو العبث ۱؎ اھ
یہی منشا ہے اس کا جوبحرمیں فرمایاکہ عبث کی تفسیرمیں اختلاف ہے۔ بدر الدین کردری نے فرمایاوہ ایسا کام ہے جس میں کوئی ایسی غرض ہوجوشرعی نہ ہو۔ اور شرح ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ عبث وہ کام ہے جو غرض غیر صحیح کے سبب ہو،یہاں تک کہ نہایہ میں فرمایا:جو فائدہ مند نہیں وہی عبث ہے اھ۔
(۱؎بحرالرائق کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹)
فاقام الخلاف لاجل التعبیر فی احدھما بشرعی وفی الاخر بصحیح ومال سعدی افندی الی ان المراد بالصحیح ھو الشرعی اذفیہ الکلام فاشار الی نحوما نحونا الیہ ان التخصیص لخصوص المقام و لقد احسن فی البحر اذ جعل ماٰل مافی النھایۃ وغیرھا من الشروح واحد ا ولم یلتفت الی الفرق بین الغرض الغیر الصحیح وعدم الغرض ولکن کان عبارۃ العنایۃ محتملا للفرق بہ ایضا حیث نقل التعریف بما فیہ غرض غیر شرعی وبما لیس فیہ غرض صحیح ثم قال ولا نزاع فی الاصطلاح ۱؎ اھ
توصاحبِ بحرنے ایک میں ''شرعی'' سے تعبیر اوردوسری میں''صحیح''سے تعبیر کی وجہ سے اختلاف قرار دیااورسعدی آفندی کا میلان اس طرف ہے کہ صحیح سے مراد وہی شرعی ہے اس لئے کہ کلام اسی سے متعلق ہے۔ توجس ر وش پرہم چلے اسی کی جانب انہوں نے اشارہ کردیاکہ یہ تخصیص خصوصیت مقام کے پیشِ نظر ہے۔ اوربحرمیں یہ بہت خوب کیا کہ نہایہ اوراس کے علاوہ شروح کی تعبیرات کا مآل ایک ٹھہرایا اور''غرض غیرصحیح'' و''عدم غرض''کے فرق پر التفات نہ کیا۔مگر عنایہ کی عبارت اس تفریق کابھی احتمال رکھتی تھی کیوں کہ اس میں دونوں تعریفیں نقل کیں:''وہ جس میں غرض غیر شرعی ہواوروہ جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو''۔پھرکہا کہ : اصطلاح میں کوئی نزاع نہیں اھ۔
(۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶)
فلہذا اجاب عنہ سعدی افندی بان النفی فی التعارف الثانی داخل علی القید ۲؎ اھ
اسی لئے سعدی آفندی نے اس کا جواب دیا کہ دوسری تعریف میں نفی قید پر داخل ہے اھ۔
(۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶)
اقول : وھو مشکل بظاھرہ فان النفی اذا استولی علی مقید بقید صدق بانتفاء ایھما کان وانما یتم بالتحقیق الذی القینا علیک ان لا وقوع للفعل الاختیاری من دون غرض اصلا اھ منہ عفی منہ۔ (م)
اقول : اور وہ بظاہر مشکل ہے اس لئے کہ نفی جب کسی ایسی چیز پر وارد ہوتی ہے جو کسی قیدسے مقید ہے تو مقید اورقید کسی کے بھی انتفا سے نفی کا صدق ہوجاتا ہے۔ اب دونوں کے مآل میں وحدت کی بات اسی وقت تام ہوسکتی ہے جب وہ تحقیق لی جائے جو ہم نے پیش کی کہ فعل اختیار ی کا وقوع بغیر کسی غرض کے ہوتا ہی نہیں(تومالیس فیہ غرض صحیح کا مآل یہی ہوگاکہ اس کی کوئی غرض تو ضرور ہے مگرغرض صحیح ہے اوریہ صورت کہ سرے سے صحیح غیر صحیح کوئی غرض ہی نہ ہو، واقع میں اس کا وجود نہ ہوگا ۱۲م)۱۲منہ۔(ت)
عنایہ ونہایہ وبحر وغیرہا میں ہے:
کل عمل یفید المصلی لاباس بہ لما روی انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ لیلۃ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یؤذیہ فکان مفید اواذا قام فـــ من سجودہ فی الصیف نفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ کیلا تبقی صورۃ ۱؎۔
جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایک رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارک سے پسینہ پونچھ دیا، اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹک دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔(ت)
فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹک دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔
(۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلوۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )
البحرالرائق بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹
رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)
حاشیہ سعدی افندی میں ہے:
یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۲؎۔
یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔(ت)
(۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )
جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایک رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارک سے پسینہ پونچھ دیا، اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹک دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔(ت)
فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹک دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔
(۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلوۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )
البحرالرائق بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹
رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)
حاشیہ سعدی افندی میں ہے:
یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۲؎۔
یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔(ت)
(۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )