Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
109 - 135
تفسیر ابن جریر میں ہے:  عبثا لعبا وباطلا ۱؎
عبث جولعب اورباطل ہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر)    تحت الایۃ۲۳/ ۱۵  دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱۸/ ۷۸)
یہ بارہ تعریفیں فــ۱ ہیں اور بعونہٖ تعالٰی بعد تنقیح سب کا مآل ایک اگرچہ ۹ و ۱۱ کی عبارات میں تقصیر واقع 

ہوئی اس کی تحقیق چند امور سے ظاہر



فاقول وباللّٰہ التوفیق ، اولا :  لعب فــ۲ ولہو وہزل ولغو وباطل وعبث سب کا محصل متقارب ہے کہ بے ثمرہ نامفید ہونے کے گرد دورہ کرتا ہے۔
فــ۱:مصنف کی تحقیق کہ عبث کی بارہ تعریفو ں کا حاصل ایک ہے اوراس کی تعریف جامع مانع کا استخراج 

فــ۲: لعب ولہوو ہزل وباطل وعبث متقارب المعنی ہیں ۔
نہایہ ابن اثیر میں ہے:  یقال لکل من عمل عملا لایجدی علیہ نفعا انما انت لاعب ۲؎
جو شخص کوئی ایساکام کرے جو اسے کو ئی فائدہ نہ دے اس سے کہا جاتا ہے کہ تم بس کھیل کرتے ہو۔ (ت)
( ۲؎ ا لنہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب اللام مع العین دار الکتب العلمیۃ بیروت۴ /۲۱۸)
علامہ خفاجی سے گزرا:  العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ ۳؎
عبث لعب کی طرح ہے جوفائدہ سے خالی ہو ۔(ت)
(۳؎عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۳ /۱۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۱۱ )
تعریفات علامہ شریف میں ہے: اللعب ھو فعل الصبیان یعقب التعب من غیرفائدۃ ۴؎ اھ
لعب و ہ بچوں کا کام ہے جس کے بعد تکان آتی ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔
(۴؎التعریفات للسید الشریف باب اللام انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۸۳)
اقول : وتعقیب التعب خرج نظرا الی الغالب ولیس شرطا لازما کما لایخفی ۔
اقول : بعدمیں تکان ہونے کا ذکر غالب واکثر کے لحاظ سے ہوا یہ لعب کی کوئی لازمی شرط نہیں جیسا کہ واضح ہے۔(ت) 

اصول امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرّہ میں ہے:
اما الھزل فتفسیرہ اللعب وھو ان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وضدہ الجد ۱؎
ھزل کی تفسیر لعب ہے وہ یہ کہ کسی شے سے وہ قصد کیاجائے جس کے لئے اس کی وضع نہ ہوئی اس کی ضد ''جِدّ'' ہے ۔(ت)
 (۱؎ اصول البزدوی    فصل الہزل         نور محمد خانہ تجارت کتب کراچی     ص۳۴۷)
اُس کی شرح کشف الاسرار میں ہے:
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیر بل وضع العقل اوالشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ حقیقۃ کان اومجاز اوالتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیرموضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا،ارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادتہ الحکم اصلا فھو الھزل ولھذا فسرہ الشیخ باللعب اذاللعب مالا یفید فائدۃ اصلا وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان الھزل ما لا یراد بہ معنی۲؎
یہاں وضع سے صرف وضع لغت مراد نہیں۔ بلکہ وضع عقل یا وضع شرعی بھی مراد ہے۔ اس لئے کہ عقلاً کلام کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے معنی کاافادہ کرے خواہ وہ معنی حقیقی ہویا مجازی۔ اورتصرف شرعی کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے حکم کا افادہ کرے۔توجب کلام کامقصد وہ ہو جس کے لئے عقلاً اس کی وضع نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ اور تصرف کا مقصد وہ ہو جس کے لئے شرعاً اس کی وضع نہ ہوئی۔۔۔۔۔وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔۔۔۔۔۔ تو وہ ھزل ہے۔۔۔۔۔اسی لئے شیخ نے ھزل کی تفسیر لعب سے فرمائی اس لئے کہ لعب وہ ہے جوبالکل کوئی فائدہ نہ دے اور یہی اس کا مطلب ہے جو شیخ ابو منصور رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کہ ہزل وہ ہے جس سے کوئی معنی مقصود نہ ہو۔(ت)
 (۲؎ کشف الاسرار    فصل الہزل        دارالکتاب العربی بیروت        ۴ /۳۵۷)
تو تفسیر ۶ و ۱۲ کا حاصل ایک ہے ولہٰذا مصباح میں
عبث من باب تعب لعب وعمل مالافائدۃ فیہ۱ ؎
(عبث باب تعب(سمع) سے ہے اس کا معنی کھیل کیا اور بے فائدہ کام کیا ۔ت)
 (۱؎ مصباح المنیر کتاب العین تحت لفظ عبث منشورات دار الہجرۃ قم ایران     ۲ /۳۸۹ )
اور منتخب میں عبث بفتتحین بازی وبے فائدہ بطور عطفِ تفسیری لکھا۔

ثانیا اقول : جس طرح عاقل سے کوئی فعل اختیاری صادر نہ ہوگا جب تک تصّور بوجہ مَّا وتصدیق بفائدۃ مّا نہ ہو یونہی انسان کے ہوش وحواس جب تک حاضر ہیں بے کسی شغل کے نہیں رہتا خواہ عقلی ہو جیسے کسی قسم کا تصور یا عملی جیسے جوارح سے کوئی حرکت تو کسی قسم کا شغل ہو نفس کیلئے اُس میں اپنی عادت کا حصول اور اپنے مقتضی کا تیسر ہے اور یہ خود اُس کیلئے ایک نوع نفع ہے اگرچہ دین ودنیا میں سوا ایک عادت بے معنے کی تحصیل کے اور کوئی ثمر ونفع اُس پر مترتّب نہ ہو یابایں معنی کوئی فعل اختیاری فاعل کیلئے اصلا فائدہ سے عاری محض نہ ہوگا ہاں یہ ممکن کہ وہ فائدہ قضیہ شرع بلکہ قضیہ عقل سلیم کے نزدیک بھی مثل لافائدہ محض غیر معتد بہا ہو بلکہ ممکن کہ اُس کا مآل ضرربحت ہو جیسے کفار کی عبادات شاقہ
عاملۃ ناصبۃ o تصلٰی نارا حامیۃ o
عمل کریں مشقّت جھیلیں اور نتیجہ یہ کہ بھڑکتی آ گ میں غرق ہوں گے تو ۶ سے مقصود وہی ۷ ہے ۔
ثالثا: یہ بھی ظاہر کہ کوہ کندن وکاہ برآور دن ہر عاقل کے نزدیک حرکتِ عبث ہے تو مقدار فائدہ وفعل میں اگرچہ تساوی درکار نہیں تفاوت فاحش بھی نہ ہونا ضرور ۸ سے یہی مراد اور معتدبہ بنظر فعل ہونے سے یہی ہفتم کا مفاد۔ فائدہ کا فی نفسہا کوئی امر عظیم مہتم بالشان ہونا ہرگز ضرور نہیں بلکہ جیسا کام اُسی کے قابل فائدہ معتد بہا ہے
وھـذا ما کنا اشـرنا الـیہ
 (یہ وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ت)
رابعا :لذتِ لعب شرع کریم وعقل سلیم کے نزدیک فائدہ معتد بہا نہیں جبکہ فـــــــ لہو مباح ہو اور تعب کے بعد اُس سے ترویح قلب مقصود اب نہ وہ عبث رہے گا نہ حقیقۃً لعب اگرچہ صورت لعب ہو ۔
فــــــ : مسئلہ :عبادت ومحنت دینیہ کے بعد دفع کلال وملال وحصول تازگی وراحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے ۔
ولہٰذا حدیث میں ہے حضور سید اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الھوا والعبوا فانی اکرہ ان یری فی دینکم غلظۃ رواہ البیہقی ۱؎۔فی شعب الایمان عن المطلب بن عبداللّٰہ المخزومی رضی اللّٰہ تعالی عنہ۔
لہو ولعب(کھیل کُود) کرو کیوں کہ میں یہ پسند نہیں کرتاکہ لوگ تمہارے دین میں سختی و درشتی دیکھیں۔ اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں مطلب بن عبداللہ مخز ومی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؎ شعب الایمان حدیث ۶۵۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۲۴۷)
امام ابن حجر مکی کف الرعاع پھر سیدی عارف باللہ حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
اللھو المباح ماذون فیہ منہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وانہ فی بعض الاحوال قد لاینافی الکمال وقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الھوا والعبوا دلیل لطلب ترویح النفوس اذا سئمت وجلاھا اذا صدئت باللھو واللعب المباح ۲؎۔
حضور اقدس کی طرف سے مباح لہو کی اجازت ہے او ریہ بعض احوال میں منافی کمال نہیں۔حضور ؐ کا ارشاد ''کھیل کُود کرو'' اس بات کی دلیل ہے کہ جب طبیعت اکتاجائے اورزنگ خوردہ سی ہوجائے تو مباح لہو و لعب کے ذریعہ اسے راحت دینا اوراس کازنگ دُور کرنا مطلوب ہے۔(ت)
 (۲؎ حدیقۃ الندیۃ الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید    نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲ /۴۳۹)

(کف الرعاع الباب الثانی القسم الاول دارالکتب العلمیہ بیروت      ص ۲۵۲)
تو ۱۱ بھی ان تفا سیر سے جدا نہیں نہ لعب میں بوجہ لذت فائدہ معتد بہا ہوا نہ عبث سے بسبب عدم لذت فائدہ نامعتبرہ منتفی۔
خامسا: بلا شبہ فاعل سے دفع عبث کیلئے صرف فعل فی نفسہ مفید ہونا کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ یہ بھی اُس سے فائدہ معتدبہا بمعنی مذکور کا قصد کرے ورنہ اس نے اگر کسی قصد فضول وبیمعنے سے کیا تو اس پر الزام عبث ضرور لازم
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۳؎
 (کیوں کہ اعمال کا مدارنیت پر ہے اورہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
 (۳؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدو الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲)
اور قصد کیلئے علم درکار کہ مجہول کا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ زید سرِراہ بیٹھا تھا ایک کھاتا پیتا ناشناسا گھوڑے پرسوار جارہا تھا اس نے ہزار روپے اٹھا کر اُسے دے دیے کہ نہ صدقہ نہ صلہ رحم نہ محتاج کی اعانت نہ دوست کی امداد کوئی نیت صالحہ نہ تھی نہ ریایا نام وغیرہ کسی مقصد بد کا محل تھا تو اُسے ضرور حرکت عبث کہیں گے اگرچہ واقع میں وہ اس کا کوئی ذی رحم ہو جسے یہ نہ پہچانتا تھا مقاصد شرعیہ پر نظر کرنے سے یہ حکم خوب منجلی ہوتا ہے رب فـــــــ عزوجل فرماتا ہے:
وما اٰتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللّٰہ وما اٰتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللّٰہ فاولٰئک ھم المضعفون ۱؎ o
جو فزونی تم دو کہ لوگوں کے مال میں زیادت ہووہ خدا کے نزدیک نہ بڑھے گی اورجو صدقہ دوخدا کی رضا چاہتے تو انہیں لوگوں کے دُونے ہیں۔
فـــــ : مسئلہ صلہ رحم اور اپنے اقرباء کی مواسات عمدہ حسنات سے ہے مگر اگر نیت لوجہ اللہ نہ ہو بلکہ خون کی شرکت اور طبعی محبت کا تقاضا ہو تو اس سے عنداللہ کچھ فائدہ نہیں ۔
 (۱؎ القرآن الکریم         ۳۰ /۳۹)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے آیہ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
الم تر الی الرجل یقول للرجل لامولنک فیعطیہ فھذا لایربو عنداللّٰہ لانہ یعطیہ لغیر اللّٰہ لیثری مالہ ۲؎۔
کیا تونے نہ دیکھاکہ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے میں تجھے مالدارکردوں گا، پھر اسے دیتا ہے تو یہ دینا خداکے یہاں نہ بڑھے گا کہ اس نے غیر خدا کے لئے صرف اس نیت سے دیا کہ اس کا مال بڑھادوں۔
 (۲؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) عن ابن عباس تحت الایہ ۳۰ /۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲۱ /۵۵ )
امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں:
کان ھذا فی الجاھلیۃ یعطی احدھم ذا القرابۃ المال یکثربہ مالہ ۳؎۔
یہ زمانہ جاہلیت میں تھا اپنے عزیز کا مال بڑھانے کو اسے مال دیا کرتے۔
 (۳؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) بحوالہ ابراہیم نخعی تحت الایہ ۳۰ /۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲۱ /۵۵ )
رواھما ابن جریر
ان دونوں کو ابن جریر نے روایت کیا دیکھو فعل فی نفسہ مثمر ثمرہ شرعیہ ہونے کا صالح فائدہ شرعیہ یعنی صلہ رحم و مواسات پر مشتمل تھا مگرجبکہ اُس نے اُس کا قصد نہ کیا بے ثمر رہا تو حاصل یہ ٹھہرا کہ دفع عبث کو فائدہ معتد بہا بنظر فعل معلومہ مقصودہ للفاعل درکار ہے تو ان تفاسیر کا وہی مآل ہوا جو ۹ و ۱۰ میں ملحوظ تھا
مفرداتِ راغب میں ہے:
لعب فلان اذا کان فعلہ غیر قاصد بہ مقصدا صحیحا ۱؎
لعب فلاں اس وقت بولتے ہیں جب ایسا کام کرے جس سے وہ کوئی صحیح مقصدنہ رکھتا ہو۔(ت)
 (۱؎ المفردات فی غرائب القرۤن تحت لفظ لعب الام مع العین     نور محمد کارخانہ کراچی     ص ۴۶۶)
Flag Counter