اقول : عبدالملک بن جریج تابعی نے کہ عبث کو باطل سے تفسیر کیا اسی معنے کی طرف مشیر ہے:
فان الشیئ اذا خلا عن الثمرۃ بطل
(کیونکہ شے کا جب کوئی ثمرہ نہ ہو تو وہ باطل ہے۔ ت)
تفسیر ابن جریر میں اُن سے مروی:
عبثا قال باطلا ۶؎(عَبث کے معنی میں کہا باطل ۔ ت)
( ۶؎ جامع البیان( تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ /۵۱۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۸ /۷۹)
(۷) جس میں فائدہ معتد بہانہ ہو۔
تاج العروس میں ہے:
قیل العبث مالافائدۃ فیہ یعتد بھا ۱؎
کہا گیا عَبث ایساکام ہے جس میں کوئی قابل لحاظ فائدہ نہ ہو۔( ت)
(۱؎ تاج العروس باب الثا ء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۳۲)
اقول : اسی طرف کلام علّامہ ابو السعود ناظر کہ ارشاد العقل میں فرمایا:
عبثا بغیر حکمۃ بالغۃ۲؎ اھ فافھم
عبث جس میں کوئی حکمت بالغہ نہ ہو اھ تو اسے سمجھو ۔ (ت)
(۲؎ ارشاد العقل السلیم تحت الآیۃ ۲۳ /۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ /۱۵۳)
(۸) اُس کام کے قابل فائدہ نہ ہو یعنی اُس میں جتنی محنت ہو نفع اس سے کم ہو۔
اقول : اسے ہفتم سے عموم وخصوص من وجہ ہے کہ اگر کام نہایت سہل ہوا جس میں کوئی محنت معتد بہا نہیں
تو فائدہ غیر معتمد بہا اُس کے قابل ہوگا اس تقدیرپر ہفتم صادق ہوگا نہ ہشتم اور اگر فائدہ فی نفسہا معتد بہا ہے مگر اُس کام کے لائق نہیں تو ہشتم صادق ہوگا نہ ہفتم۔
علّامہ شہاب کی عنایۃ القاضی میں ہے:
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ مطلقا او عن الفائدۃ المعتد بھا اوعما یقاوم الفعل کما ذکرہ الاصولیون ۳؎۔
عبث لعب کی طرح کام ہے جس میں مطلقا کوئی فائدہ نہ ہویا قابل لحاظ فائدہ نہ ہو یا اس فعل کے مقابل فائدہ نہ ہو جیسا کہ اہل اصول نے ذکر کیا۔ (ت)
(۴؎ عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الایۃ ۲۳ /۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ /۶۱۱)
اقول : مقابلہ مشعر مغایرت ہے یوں یہ قول اضعف الاقوال ہوگا کہ خاص مشقت طلب کاموں سے خاص رہے گا ہاں اگر معتدبہ سے معتدبہ بنظر فعل مراد لیں تو ہفتم وہشتم ایک ہوجائیں گے اور اعتراض نہ رہے گا اور کہہ سکتے ہیں کہ تغییر تعبیر مجوز مقابلہ ہے۔
(۹) وہ کام جس کا فائدہ معلوم نہ ہو۔
اقول اولا مراد عدم علم فاعل ہے تو حکیم کے دقیق کام جن کا فائدہ عام لوگوں کی فہم سے ورا ہو عبث نہیں ہوسکتے۔
ثانیا حکمت وغایت میں فرق ہے احکام تعبدیہ غیر معقولۃ المعنی کی حکمت ہمیں معلوم نہیں فائدہ معلوم ہے کہ الاسلام گردن نہادن۔
ثالثا : عدم علم مستلزم عدم نہیں تو یہ تفسیر اُن تینوں سے اعم ہے۔تعریفات السید میں ہے:
العبث ارتکاب امر غیر معلوم الفائدۃ ۱؎
عبث ایسے امر کا ارتکاب جس کا فائدہ معلوم نہ ہو ۔ (ت)
( ۱؎ التعریفات للسید الشریف باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۶۳)
اقول : مگر فــ۱ علم بے قصد کیا مفید بلکہ اس کی شناعت اور مزید تو یہ حد جامع نہیں۔
فــ۱: تطفل اٰ خر علیہ ۔
(۱۰) وہ کام جس سے فائدہ مقصود نہ ہوا قول یہ نہم سے بھی اعم کہ عدم علم عدم قصد کو مستلزم ولا عکس تاج العروس میں ہے:
وقیل ما لایقصد بہ فائدۃ ۲؎ اھ
اور کہا گیا وہ جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔ اھ
(۲؎ تاج العروس باب الثاء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۳۲)
اقول : یہ فــ۳ اپنے اس ارسال پر بدیہی البطلان ہے نہ ہر بے لذت کام عبث جیسے دوائے تلخ پینا، نہ ہر لذت والا لعب جیسے درود شریف ونعت مقدس کا ورد۔ تو بعض تعریفات مذکورہ سے اُسے مقید کرنا لازم مثلاً یہ کہ جس فعل میں غرض صحیح نہ ہو۔
فــ۳ تطفل علی الجوھرۃ ۔
(۱۲) عبث ولعب ایک شے ہیں۔ یہ تفسیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے، اورکثرت اقوال بھی اسی طرف ہے۔ ابن جریر اُس جناب مشرف بہ تشریف
اللھم علمہ الکتاب سے راوی تعبثون تلعبون ۴؎
تم عبث کرتے ہو یعنی کھیل کود کرتے ہو ۔ (ت)
(۴؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر) تحت الایۃ ۲۶ /۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹ /۱۱۱)
بعینہٖ اسی طرح اُن کے تلمیذ ضحاک سے روایت کیا۔ نہایہ اثیریہ ومختار الصحاح میں ہے:
العبث اللعب ۱؎
عبث لعب ہے۔ (ت) اسی طرح سمین وجمل میں ہے وسیاتی مصباح المنیر وقاموس میں ہے:
عبث کفرح لعب ۲؎
(عبث فرِ ح کی طرح ہے(یعنی باب سمع سے ہے )کھیل کا نام ہے۔(ت) تاج العروس میں ہے:
عابث لاعب بمالا یعینہ ولیس من بالہ۳؎
(عابث ایسا کھیل کرنے والا جو بے معنی اور جس سے اسے کام نہیں ۔ (ت)
(۱؎النہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب العین مع الباء دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ /۱۵۴
مختار الصحاح باب العین موسسۃ علوم القرآن بیروت ص۴۰۷)
۲؎القاموس المحیط باب الثاء فصل العین مصطفی البابی مصر ۱ /۱۷۶
(۳؎ تاج العروس باب الثاء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۳۲)
صراح میں ہے:
عبث بازی ۴؎
(عبث ایک کھیل ہے ۔ت) درر شرح غرر میں ہے:
عبثہ ای لعبہ ۵؎
(عبث یعنی لعب۔ ت) مفرداتِ راغب میں ہے:
العبث ان یخلط بعملہ لعبا ۶؎ الخ
عبث یہ ہے کہ اپنے کام میں کوئی کھیل ملا لے ۔ ت)
(۴؎صراح باب الثاء فصل العین مطبع مجیدی کانپور ۱ /۷۵)
(۵؎االدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الصلوٰۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷ )
(۶؎المفردات باب العین مع الباء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲)
اقول : وانما صار عبثا لما خلط لالذاتہ فالعبث حقیقۃ ماخلط لاما خلط بہ ۔
اقو ل وہ کام عبث اسی کھیل کی وجہ سے ہوا جو اس میں ملا دیا خود عبث نہ ہوا تو عبث حقیقتا وہ ہے جس کو ملا یا گیاوہ نہیں جس میں ملایا گیا۔(ت) طحطاوی علی الدر میں ہے:
العبث اللعب وقیل مالا لذۃ فیہ واللعب مافیہ لذۃ ۷؎
عبث کھیل کو کہتے ہیں او ر کہاگیاوہ جس میں کوئی لذت نہ ہو اور لعب وہ جس میں کوئی لذت ہو ۔( ت)
(۷؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ /۲۷۰)