Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
107 - 135
فاقول وباللہ فــ التوفیق وبہ الاصول الی ذری التحقیق :
(تحقیق کی انتہاء تک پہنچنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ت) تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہواً ہوگا یا بحال شک یا دیدہ ودانستہ۔
اول یہ کہ تین بار استیعاباً دھو لیا اور یاد رہا کہ دو ہی بار دھویا ہے۔اور دوم یہ کہ مثلاً دو یا تین میں شبہ ہوگیا، یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں۔
لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم رفع عن امتی الخطأ والنسیان ۱؎
اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشادہے میری اُمّت سے خطاء ونسیان اٹھا لیا گیا ہے ۔ (ت)
 (۴؎ الجامع الصغیر حدیث ۴۴۶۱ دار الکتب العلمیہ بیروت        ۲ /۲۷۳

کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۸۲

کشف الخفاء حدیث ۱۳۰۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۶۰)
وقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک ۲؎۔
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شک پیدا کرے اسے چھوڑ وہ لو جس میں شک نہ ہو ۔
 (۲؎الجامع الصغیر حدیث ۴۲۱۱تا ۴۲۱۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۵۶و۲۵۷)
اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کیلئے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کیلئے یا محض بلا وجہ، برتقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہوسکتا نہ اُس سے منع کی کوئی وجہ ،عام ازینکہ وہ غرض غرض مطلوب شرعی ہو جیسے منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج، یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت۔ تواب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوالِ اربعہ میں زیر بحث ہیں تحقیق معنی اسراف میں ہمارا بیان یاد کیجئے یہ وہی دو قطب ہیں جن پر اُس کا فلک دورہ کرتا ہے اور یہ بھی اُسی تقریر پر نظر ڈالے سے واضح ہوگا کہ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد وناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع وناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔
قول اوّل کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنّت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایک چُلّو بلکہ ایک بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اُس نیت میں ہے ،گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو، اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں، اگر ہوا مثلاً زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف وناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب وصحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز وروا ہے۔ باقی رہی ایک شکل کہ زیادت ہو تو بلاوجہ مگر پانی ضائع نہ ہو۔ مثلاً بلا وجہ چوتھی بار پانی اس طرح ڈالے کہ نہر میں گرے یا کسی پیڑ کے تھالے میں جسے پانی کی حاجت ہے یا کسی برتن میں جس کا پانی اسپ وگاؤ وغیرہ جانوروں کو پلایا جائے گا یا گارا بنانے کیلئے تغار میں پڑے گا یا زمین ہی پرگرا مگر موسم گرما ہے چھڑکاؤ کی حاجت ہے یا ہوا سے ریتا اڑتا ہے اس کے دبانے کی ضرورت ہے اور انہیں کے مثل اور اغراض صحیحہ جن کے سبب پانی ضائع نہ جائے۔ یہ غرضیں اگرچہ صحیح وروا ہیں، جن کی سبب اضاعت نہ ہوگی مگر اعضا پر یہ پانی مثلاً چوتھی بار ڈالنا محض بے وجہ ہی رہا کہ یہ غرضیں تو برتن میں ڈالنا یا زمین پر بہانا چاہتی ہیں عضو پر ڈال کر گرانے کو ان میں کیا دخل تھا لاجرم وہ عبث محض رہا مگر پانی ضائع نہ ہوگیا تو اسراف کی کوئی صورت متحقق نہ ہوئی اور اس کے ممنوع وناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہی قول دوم وسوم کا محمل ہے اور قطعا مقبول وبے خلل ہے بلکہ اتفاق واطباق کا محمل ہے۔ اب نہ باقی رہی مگر ان دونوں قولوں پر نظر وہ ایک مقدمہ کی تقدیم چاہتی ہے۔
فاقول وباللہ التوفیق
فائدہ تحقیق فــ معنی وحکمِ عبث میں تتبع کلمات علماء  سے اس کی تعریف وجوہِ عدیدہ پر ملے گی۔ فــ : عبث کسے کہتے ہیں اور اس کا حکم کیا ہے۔ 

(۱) جس فعل میں غرض غیر صحیح ہو وہ عبث ہے اور اصلا غرض نہ ہو تو سفہ۔ یہ تفسیر امام بدرالدین کردری کی ہے امام نسفی نے مستصفی پھر علامہ حلبی نے غنیہ میں اسی طرح اُن سے نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر اور علامہ طرابلسی نے برہان شرح مواہب الرحمن اور دیگر شراح نے شروح ہدایہ وغیرہا میں اسی کو اختیار فرمایا غنیہ حلبیہ میں ہے:
فی المستصفی قال الامام بدر الدین یعنی الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض غیر صحیح والسفہ مالاغرض فیہ اصلا ۱؎۔
مستصفی میں ہے کہ امام بدرالدین عینی کردری نے فرمایا:فرماتے ہیں عبث وہ فعل ہے جس میں کوئی غرض غیر صحیح ہو، اور سَفہ وہ ہے جس میں بالکل کوئی غرض نہ ہو ۔( ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹)
غنیہ شرنبلالیہ میں ہے:
فی البرھان ھو فعل لغرض غیر صحیح ۱؎۔
برہا ن میں ہے وہ ایسا کا م ہے جو غرض غیر صحیح کے لئے ہو۔(ت)
 ( ۱؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام باب ما یفسدالصلٰوۃ الخ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷)
فتح میں ہے:
العبث الفعل لغرض غیر صحیح ۲؎۔
عبث غرض غیر صحیح کے لئے کوئی کام کر نا ہے ۔ ت
 (۲؎فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶ )
 (۲) جس میں غرض غیر شرعی ہو۔

اقول یہ اول سے اعم ہے کہ ہر غرض غیر صحیح غیر شرعی ہے اور ضرور نہیں کہ ہر غرض غیر شرعی غیر صحیح ہو جیسے ٹھنڈ کیلئے زیادہ پانی ڈالنا کہ غرض صحیح ہے مگر شرعی نہیں۔ علّامہ اکمل اور اُن کی تبعیت سے حلیہ وبحر نے امام بدرالدین سے اسی طرح نقل کیا عنایہ میں ہے:
قال بدرالدین الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض لکنہ لیس بشرعی والسفہ مالا غرض فیہ اصلا ۳؎۔
بدرالدین کردری نے فرمایا : عبث وہ کام ہے جس میں کوئی غرض تو ہولیکن شرعی نہ ہو اور سَفہ وہ ہے جس میں کوئی غرض ہی نہ ہو۔( ت)
 (۳العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶)
 (۳) جس میں غرض صحیح نہ ہو۔

اقول : یہ ان دونوں سے اعم ہے کہ اصلا عدم غرض کو بھی شامل اور ثانی سے اخص بھی کہ غرض غیر شرعی صحیح کو بھی شامل یہ تفسیر امام حمید الدین کی ہے عنایہ میں بعد عبارت مذکور ہے :
وقال حمید الدین العبث کل عمل لیس فیہ غرض صحیح ۴؎
امام حمید الدین نے فرمایا:عبث ہر وہ کام ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
 (۴؎العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶)
مفردات راغب میں ہے:
یقال لما لیس لہ غرض صحیح عبث۔۵؎
عبث اسے کہا جاتا ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو ۔( ت)
تفسیر رغائب الفرقان میں ہے:
ھو الفعل الذی لاغایۃ لہ صحیحۃ ۱؎
عبث ایسا کام ہے جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو۔ (ت)
 (۵؎ المفردات امام راغب    باب العین مع الباء         نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۲۲)

(۱؎ غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایۃ ۲۳ /۱۱۵    مصطفی البابی مصر        ۱۸ /۴۲)
 (۴) غرض شرعی نہ ہو۔

اقول یہ اول ثانی ثالث سب سے اعم مطلقا ہے کہ انتفائے غرض صحیح انتفائے غرض شرعی کو مستلزم ہے اور عکس نہیں اور انتفائے غرض شرعی انتفائے مطلق غرض سے بھی حاصل امام نسفی اپنی وافی کی شرح کافی میں فرماتے ہیں:
العبث مالا غرض فیہ شرعا فانما کرہ لانہ غیر مفید ۲؎
عبث بلا ضرورت شرعی مکروہ ہے اس لئے کہ یہ بے فائدہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ الکافی شرح الوافی )
 (۵) جس میں فاعل کیلئے کوئی غرض صحیح نہ ہو۔

اقول یہ ۱ و ۳ سے اعم عـــہ مطلقا ہے کہ ممکن کہ فعل غرض صحیح رکھتا ہو اور فاعل بے غرض یا غرض صحیح کیلئے کرے اور ۲ و ۴ سے اعم من وجہ کہ غرض فاسد میں تینوں صادق اور غرض صحیح غیر شرعی مقصود فاعل ہے تو وہ دو صادق خامس منتفی اور غرض شرعی میں مقصود فاعل ہے تو بالعکس۔
عــہ: اور اگر قصد غلط بھی ملحوظ کر لیجئے کہ جس فعل کی غرض فاسد ہے یہ جہلا اس سے غرض صحیح کا قصد کرے تو ان دو سے بھی عام من وجہ ہوگا ۱۲منہ ۔
تعریفات السید میں ہے:
وقیل مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ ۳؎ اھ
اور کہا گیا کہ عبث وہ کام ہے جس میں کرنے والے کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ (ت)
 (۳؎ التعریفات للسید الشریف باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص ۶۳)
اقول : اشارفــ الی ضعفہ وسیاتیک ان شاء اللّٰہ تعالٰی انہ الحق۔
اقول  : حضرت سید نے اس کے ضعیف ہونے کا اشارہ دیا اور اِن شاء اللہ تعالٰی آگے بیان ہوگا کہ یہی تعریف حق ہے ۔ (ت)
فــ: تطفل علی العلامۃ الشریف ۔
Flag Counter