اقول : اتمام تقریب یہ کہ حدیث نے نہر جاری میں بھی اسراف ثابت فرمایا اور اسراف شرع میں مذموم ہی ہو کر آیا ہے۔ آیہ کریمہ
لاتسرفوا انہ لایحب المسرفین۲؎
(اور اسراف نہ کرو اللہ مسرفین کو محبوب نہیں رکھتا۔ ت) مطلق ہے تو یہ اسراف بھی مذموم وممنوع ہی ہوگا بلکہ خود اسراف فی الوضوء میں بھی صیغہ نہی وارد اور نہی حقیقۃً مفید تحریم۔
حدیث۲: سنن ابن ماجہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
رأی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم رجلا یتوضأ فقال لاتسرف لاتسرف ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا اسراف نہ کر اسراف نہ کر۔
( ۲؎ القرآن الکریم ۶ /۱۴۱ و۷ /۳۱)
(۳؎ سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
حدیث۳ :سعید بن منصور سنن اور حاکم کُنٰی اور ابن عساکر تاریخ میں ابن شہاب زہری سے مرسلا راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا !
یاعبداللّٰہ لاتسرف ۵؎
(اللہ کے بندے اسراف نہ کر۔ ت) انہوں نے عرض کی:
یانبی اللّٰہ وفی الوضوء اسراف قال نعم (زاد الاخیران) وفی کل شیئ اسراف ۱؎
یا رسول اللہ! کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ فرمایا :ہاں اور ہر شے میں اسراف کودخل ہے۔
(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ابو عیسٰی الدمشقی ۹۰۸۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷۱ /۹۴
کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی و ابن عساکر عن الزہری مرسلا حدیث ۲۶۲۶۱ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۲۷)
حدیث۴: مرسل یحیٰی بن ابی عمرو کہ بیان معانی اسراف میں گزری :
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف ۲؎
وضو میں اسراف ہے اور ہر شے میں اسراف ہے۔
(۲؎کنز العمال بحوالہ یحیی بن ابی عمر الشیبانی حدیث ۲۶۲۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۲۵ )
حدیث۵: ترمذی وابن ماجہ وحاکم حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان للوضوء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء ۳؎۔
بے شک وضو کیلئے ایک شیطان ہے جس کانام وَلَہان ہے تو پانی کے وسواس سے بچو۔
(۳؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الاسراف حدیث ۵۷ دار الفکر بیروت۱ /۱۲۲
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارت باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۴)
حدیث۶: مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وصحیح ابن حبان ومستدرک حاکم میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بیشک عنقریب اس اُمت میں وہ لوگ ہوں گے کہ طہارت ودعاء میں حد سے بڑھیں گے۔
(۴؎ سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب الاسراف فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۳
مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد و ابی داؤدوابن ماجہ کتاب الطہارت با ب سنن الوضو قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۷ )
اور اللہ عزوجل فرماتا ہے:
ومن یتعد حدوداللّٰہ فقد ظلم نفسہ ۵؎۔
جو اللہ تعالٰی کی باندھی حدوں سے بڑھے بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
(۵؎ القرآن الکریم ۶۵ /۱)
حدیث۷: ابو نعیم حلیہ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
لاخیر فی صب الماء الکثیر فی الوضوء وانہ من الشیطان ۱؎۔
وضو میں بہت سا پانی بھپکانے میں کچھ خیر نہیں اور وہ شیطان کی طرف سے ہے۔
( ۱؎ کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن انس حدیث ۲۶۲۶۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ /۳۲۷)
نفی خیر اپنے فــ۱ معنی لغوی پر اگرچہ مباح سے بھی ممکن کہ جب طرفین برابر ہیں تو کسی میں نہ خیر نہ شرو لہٰذا علامہ عمر نے نہرالفائق میں مسئلہ فــ۲ کراہت کلام بعد طلوع فجر تا طلوع شمس وبعد نماز فــ۳ عشا میں فرمایا:
مراد وہ کلام ہے جو خیر نہ ہو اور خیر کا تحقق اسی کلام میں ہوگا جو عبادت ہو اس لئے کہ مباح میں'' کوئی خیر نہیں'' جیسے اس میں '' کوئی گناہ نہیں تو مباح کلام بھی ان اوقات میں مکروہ ہوگا اسے سید ابو السعود نے فتح اللہ المعین میں نہر سے نقل کیا(ت)
فــ۱: تحقیق مفاد لا خیر فیہ ۔
فــ۲ مسئلہ طلوع صبح صادق سے طلوع شمس تک دنیاوی کلام مطلقا مکروہ ہے ۔
فــ۳ مسئلہ نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیاوی باتوں میں اشتغال مکروہ ہے۔
(النہر الفائق کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۹
فتح المعین کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۴۷)
اقول مگر نظرِ دقیق لیس بخیر اور لاخیر فیہ میں فرق کرتی ہے مباح ضرور، نہ خیر نہ شر ،مگر اُس کے فعل پر مواخذہ نہیں ،اور مؤاخذہ نہ ہونا خود خیر کثیر ونفع عظیم ہے تو لاخیر فیہ وہیں اطلاق ہوگا جہاں شر حاصل ہو۔
صاحب النہر نے یہ تو ٹھیک فرمایا کہ مراد مالیس بخیر (وہ جو خیر نہیں ) اور اس میں ان سے تسامح ہوا کہ المباح لا خیر فیہ (مباح میں کوئی خیر نہیں ) صحیح تعبیر یہ تھی کہ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر مباح اچھا نہیں جیسے کہ وہ برا بھی نہیں ۔(ت)
فــ۴: تطفل علی النہر ومن تبعہ ۔
ولہٰذا جبکہ ہدایہ میں فرمایا:
لاخیر فی السلم فی اللحم ۱؎
(گوشت میں بیع سلم بہتر نہیں۔ ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
ھذہ العبارۃ تاکید فی نفی الجواز ۲؎
( یہ عبارت نفی جواز کی تاکید کرتی ہے۔ ت)
( ۱؎الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ۳ /۹۵)
( ۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۱۵)
اقول رب عزوجل فرماتا ہے:
لاخیر فی کثیر من نجوٰھم الا من امر بصدقۃ اومعروف اواصلاح بین الناس ۳؎۔
ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات ،اچھی با ت ،یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم۴ / ۱۱۴)
ہر معروف کو استثنا فرمالیا اور ہر طاعت معروف ہے تو باقی نہ رہے مگر مباح یا معاصی تو اگر لاخیر فیہ مباح کو بھی شامل ہوتا فی کثیر نہ فرماتے بلکہ
فی شی من نجوٰھم
لاجرم وہ معصیت کے ساتھ خاص ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
حدیث۸ :حدیث صحیح جس کی طرف بارہا اشارہ گزرا احمد وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داؤد ونسائی وابن ماجہ وطحاوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ایک اعرابی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر وضو کو پوچھا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں وضو کر کے دکھایا جس میں ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا:
ھکذا الوضوء فمن زاد علی ھذا اونقص فقد اساء وظلم اوظلم واساء ۴؎ ھذا لفظ د وقد اوردہ مطولا مع ذکر صفۃ الوضو۔
اسی طرح ہے وضو تو جس نے اس پر بڑھایاگھٹایا تویقینااس نے برا کیااور ظلم کیا۔۔یا (فرمایا ) ظلم کیا اور برا کیا ۔۔یہ ابوداؤ د کے الفاظ ہیں اور انہوں نے یہ حدیث طریقہ وضو کے بیان کے ساتھ طویل ذکر کی ہے ۔
( ۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء ثلثا آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۱۸)
ومثلہ لفظ الامام الطحاوی ومقتصرا علی قولہ اساء وظلم من دون شک۱؎
اسی کے مثل امام طحاوی کے بھی الفاظ ہیں اور ان کی راویت میں بغیر شک صرف اتنا ہے کہ اس '' اس نے برا کیا اور ظلم کیا ''
ولفظ س وق فمن زاد علی ھذا فقد اساء وتعدی وظلم ۲؎
اور نسائی و ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : تو جس نے اس پر زیادتی کی بہ تحقیق اس نے بر اکیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔
ولفظ سعید وابی بکر فمن زاد اونقص فقد تعدی وظلم ۳؎۔
سعید بن منصور اور ابوبکر بن شیبہ کے الفاظ یہ ہیں جس نے زیادتی یا کمی کی تو یقینا وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔۔ (ت)
( ۱؎شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ با ب فرض الرجلین فی وضوء الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲)
(۲؎سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی قصد الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴)
( ۳؎المصنف ابن ابی شیبۃ کتاب النہارۃ باب الوضوء کم ہو مرۃ حدیث ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۷)
(ان تمام روایات کا حاصل یہ ہوا کہ ) وضو اس طرح ہے جس نے اس پر بڑھایا یا گھٹایا اُس نے بُرا کیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا۔ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور مذہب اول وچہارم کی مؤید بالجملہ ان میں کوئی مذہب مطر ودو مطروح نہیں لہٰذا راہ یہ ہے کہ بتوفیق الٰہی جانبِ توفیق چلئے۔