Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
105 - 135
سابعا وھوفــ۲ الحل  :
صورتیں تین ہیں :

اول  : یہ کہ متوضی جانتا ہے کہ میں نے تین بار دھو لیا ،ہر بار بالاستیعاب ،پھر اُس کا دل مطمئن نہ ہو اور چوتھی بار اور بہانا چاہے۔

دوم : یاد نہیں کہ تین بار پانی ڈالا یا دو بار۔

سوم  : تثلیث تو معلوم ہے مگر ہر بار استیعاب میں شک ہے۔
فــ۲ :تطفل الخامس عشر علیہ۔
ملّا علی صورت اولٰی سمجھے ہیں جب تو فرماتے ہیں کہ تین پورے ہونے کے بعد شک کے کیا معنے۔ اپنا شک چھوڑے اور جو عدد شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مقرر فرمایا اُس پر قانع رہے۔ اس صورت پر اُن کا انکار بیشک صحیح ہے مگر یہ ہرگز مرادِ علماء نہیں، اُن کا کلام صورت شک میں ہے اور یہ صورت صورت علم ہے اور وسوسہ مردود دونا معتبر ہے۔ شک کی صورت دو۲ صورت اخیر ہیں وہی مرادِ ائمہ ہیں اور ان پر قاری کا کوئی اعتراض وارد نہیں ان میں طمانینت قلب ضرور مطلوبِ شرع ہے جن میں سے امہات المومنین کا پانچ بارپانی ڈالنا صورت اخیرہ ہے وباللہ التوفیق۔



بالجملہ : جس مسئلہ پر ہمارے علماء کے کلمات متظافر ہوں اپنے فہم سے اُس پر اعتراض آسان نہیں معترضین ہی کی لغزش نظر ثابت ہوتی ہے اگرچہ غنیہ وبحر وقاری جیسے ماہرین ہوں   والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
تنبیہ۷ :
 الحمدللہ کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور اسراف کے معنے وصور نے بھی بروجہ کامل انکشاف پایا اب بتوفیق اللہ تعالٰی تحقیق حکم کی طرف باگ پھیریں۔

اقول انصافاً چاروں قول میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے مطروح وناقابل التفات سمجھئے۔

قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں ،بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے
قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوٰی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے تو گویا اُسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماعِ علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔
قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا اُس کی تحقیق سُن چکے اور یہ کہ وہی مختار درمختار(۱) ونہر الفائق(۲) ومفاد(۳) منتقی وجواہر(۴) الفتاوٰی وتبیین(۵) الحقائق ہے نیز زبدہ(۶) وحجہ(۷) سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے ،جامع الرموز میں ہے:
تکرہ الزیادۃ عی الثلث کما فی الزبدۃ ۱؎۔
تین مرتبہ سے زیادہ مکروہ ہے جیسا کہ زبدہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎جامع الرموز کتاب الطہارۃ سنن الوضوء مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ /۳۵ )
ط    علی المراقی میں ہے:
فی فتاوی الحجۃ یکرہ صب الماء فی الوضوء زیادۃ علی العدد المسنون والقدر المعھود لماورد فی الخبر شرار امتی الذین یسرفون فی صب الماء ۲؎۔
فتاوی الحجہ میں ہے وضو میں تعدا د مسنون اور مقدا معہود سے زیادہ پانی بہا نا مکروہ ہے اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں
 ( ۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃفصل فی المکروہات دار الکتب ا لعلمیہ بیروت ص ۸۰)
بلکہ علامہ طحطاوی نے اُس پر اتفاق بتایا
قول دُر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع۳؎
 (ماء جاری میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی ضائع نہیں جاتا (ت)
 (۳؎الدرا لمختار     کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲)
پر لکھتے ہیں:
ای لانہ یعود الیہ ثانیا فلواخرج الماء خارجہ یکرہ اتفاقا ۱؎ اھ ومن الظاھر ان ھذہ الکراھۃ مذکورۃ فی مقابلۃ الجائز فتکون تحریمیۃ۔
یعنی اس لئے کہ پانی اس میں دوبارہ لوٹ جائیگا اگر پانی نکال کر اس کے باہر گرائے تو بالاتفاق مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ جائز کے مقابلہ میں مذکور ہے تو تحریمی ہوگا(ت)
 ( ۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)
اور ہماری تقریرات سابقہ سے اس کے دلائل کی قوت ظاہر ہاں قول اول بعض شافعیہ سے منقول تھا مگر علامہ محقق ابراہیم حلبی نے کتب مذہب سے غنیہ میں اُس پر جزم فرمایا کما سمعت پھر علامہ ابراہیم حلبی وعلامہ سید احمد مصری نے حواشی دُر میں اُسی پر اعتماد کیا اور اُس کے خلاف کو ضعیف بتایا درمختار میں قول مذکور جواہر نقل فرمایا:
الاسراف فی الماء الجاری جائز ۲؎۔
بہتے پانی میں اسراف جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الطہارت    سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲)
علّامہ طحطاوی اُس پر فرماتے ہیں:
ضعیف بل ھو مکروہ سواء کان فی وسط الماء اوفی ضفتہ حیث کان لغیر حاجۃ ۳؎ اھ حلبی
یہ قول ضعیف ہے بلکہ آب رواں میں بھی اسراف مکروہ ہے چاہے بیچ نہر میں ہو یا کنارے ہو اس لئے کہ بلاضرورت ہے اھ حلبی (ت)
 ( ۳؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)
نیز دونوں حاشیوں میں ہے:
من المعلوم ان الاسراف مکروہ تحریما لاتنزیھا ۴؎۔
معلوم ہے کہ اسراف مکروہ تنزیہی نہیں تحریمی ہے ۔ (ت)
 ( ۴؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)
بلکہ شرح شرعۃ الاسلام میں ہے:
ھو حرام وان کان فی شط النھر ۵؎
اسراف حرام ہے اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔( ت) اور اُس کے ساتھ نص فــ۱ حدیث ہے۔
فــ۱ وضو میں ممانعت اسراف کی حدیثیں ۔
( ۵؎شرعۃ الاسلام شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۱)
حدیث۱: عــہ امام احمد بن حنبل وابن ماجہ وابو یعلی اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مربسعد وھو یتوضأ فقال ماھذا السرف فقال افی الوضوء اسراف قال نعم وان کنت علی نھر جار ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ پر گزرے وہ وضو کررہے تھے ارشاد فرمایا: یہ اسراف کیسا؟ عرض کی: کیا وضو میں اسراف ہے؟ فرمایا: ہاں اگرچہ تم نہر رواں پر ہو۔ (ت)
عــہ :فتاوی حجہ سے ایک حدیث ابھی گزری کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میری امت کے بد لوگ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں۔
( ۱؎ مسند احمد بن حنبل      عن عبد اللہ بن عمر و     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۲۱

سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴)
Flag Counter