Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
104 - 135
صورت ثانیہ : یعنی شک میں فقیر نے نہ دیکھا کہ کسی کو شک ہوماسوا ملا علی قاری کے کہ انہوں نے شک کویکسر ساقط اللحاظ کیا اور اس کے اعتبار کو وسوسہ کی طرف منجر مانا، مرقاۃ میں فرمایا:
قلت اما قولہ (ای قول الامام النسفی فی الکافی) لطمانینۃ القلب عند الشک ففیہ ان الشک بعد التثلیث لاوجہ لہ وان وقع بعدہ فلا نھایۃ لہ وھو الوسوسۃ ولھذا اخذ ابن المبارک بظاھرہ فقال لااٰمن اذا زاد علی الثلث انہ یاثم وقال احمد واسحق لایزید یحتاط لدینہ قال ابن حجر ولقد شاھد نامن الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین وھو مع ذلک یعتقد ان حدثہ ھو الیقین قال واما قولہ (ای الامام النسفی) لانہ امر بترک مایریبہ ففیہ ان غسل المرۃ الاخری مما یر یبہ فینبغی ترکہ الی مالایریبہ وھو ماعینہ الشارع لیتخلص عن الریبۃ والوسو سۃ ۱؎ اھ
کافی میں امام نسفی کے قول ''شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادتی ''پر یہ کلام ہے کہ تین بار دھو لینے کے بعد شک کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس کے بعد بھی شک واقع ہوتو اس کی کوئی انتہا نہیں اور یہی وسوسہ ہے ۔ اسی لئے حضرت ابن مبارک نے ظاہر حدیث کواختیار کرکے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تین بار سے زیادہ دھونے کی صور ت میں وہ گناہ گارہو ۔امام احمد واسحاق نے فرمایا : تین پر زیادتی وہی کرے گا جو جنون میں مبتلا ہو اس گمان کی وجہ سے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط سے کا م لے رہا ہے ۔۔۔ابن حجر نے فرمایا : ہم نے ایسے وسوسہ زدہ بھی دیکھے  جو سو بار سے زیادہ ہاتھ دھوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی اس کا حدث یقینا باقی ہے مولانا علی قاری آگے لکھتے ہیں کہ امام نسفی کا یہ فرمانا کہ اسے شک کی حالت چھوڑ دینے کا حکم ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ ایک با ر اور دھونے سے بھی اسے شک ہی رہے گا تو اسے یہی چاہیے کہ اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرے جس سے شک نہ پیدا ہو اور یہ وہی ہے جسے شارحین نے متعین فرمایا ہے تاکہ شک اور وسوسہ سے چھٹکارا پائے اھ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح    کتاب الطہارۃ تحت الحدیث۴۱۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۲۴)
اقول اولافــ۱ : شک کیلئے منشأ صحیح ہوتا ہے مثل سہو وغفلت بخلاف وسوسہ۔ اول بلا شبہ شرعا معتبر اور فقہ میں صدہا مسائل اُس پر متفرع۔ اگر اُسے ساقط اللحاظ کریں تو شک کا باب ہی مرتفع ہوجائے گا اور ایک جمِ غفیر مسائل واحکام سے جن پر اطباق واتفاق ائمہ ہے انکار کرنا ہوگا۔
فـــ ۱تطفل تاسع علی القاری ۔
ثانیا حدیث فــ ۲ دع مایریبک الی مالایریبک کا صریح ارشاد طرح مشکوک واخذ متیقن ہے کہ مشکوک میں ریب ہے اور متیقن بلا ریب نہ یہ کہ شک کا کچھ لحاظ نہ کرو اور امر مشکوک ہی پر قانع رہ کر یہ مالا یریبک نہ ہوا بلکہ یریبک۔
فــ ۲ : تطفل عاشر علیہ ۔
ثالثا صحیح فــ ۳مسلم شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا شک احدکم فی صلاتہ فلا یدرکم صلی ثلثا اواربعا فلیطرح الشک ولیبن علی مااستیقن ثم یسجد سجدتین قبل ان یسلم فان کان یصلی خمسا شفعن لہ صلاتہ وان کان صلی تماما لاربع کانتا ترغیما للشیطٰن ۱؎۔
جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شک پڑے یہ نہ جانے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جتنی بات مشکوک ہے اُسے چھوڑ دے اور جس قدر پر یقین ہے اس پر بنائے کار رکھے (یعنی صورت مذکورہ میں تین ہی رکعتیں سمجھے کہ اس قدر پر یقین ہے اور چوتھی میں شک ہے تو چارنہ سمجھے لہٰذا ایک رکعت اور پڑھ کر) سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے اب اگر واقع میں اس کی پانچ رکعتیں ہوئیں تو یہ دونوں سجدے (گویا ایک رکعت کے قام مقام ہوکر) اس کی نماز کا دوگانہ پُورا کردیں گے (ایک رکعت اکیلی نہ رہے گی جو شرعاً باطل ہے بلکہ ان سجدوں سے مل کر ایک نفل دوگانہ جُدا گانہ ہوجائے گا) اور اگر واقع میں چار ہی ہوئیں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلّت وخواری ہوں گے (کہ اُس نے شک ڈال کر نماز باطل کرنی چاہی تھی اُس کی نہ چلی اور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے نماز پوری کی پوری رہی)

یہ اس مطلب کا خاص جزئیہ خود حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادِ مقدس سے ہے۔
فــ ۳: تطفل الحادی عشر علیہ ۔
 (۱؎ صحیح مسلم کتاب المساجد فصل من شک فی صلوٰۃ فلم یدرکم صلی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۱۱)
رابعا فــ ۱ مسند احمد میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من صلی صلاۃ یشک فی النقصان فلیصل حتی یشک فی الزیادۃ ۱؎۔
جسے نماز میں کامل وناقص کا شک ہو وہ اتنی پڑھے کہ کامل وزائد میں شک ہوجائے۔
فــ۱ تطفل الثانی عشر علیہ ۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۱۹۵)
مثلاً تین اور چار میں شُبہ تھا تو یہ تمامی ونقصان میں شک ہے اسے حکم ہے کہ ایک رکعت اور پڑھے اب چار اور پانچ میں شُبہ ہوجائے گا کہ تمامی وزیادت میں شک ہے۔ یہ حدیث سے تو اُس مطلب کی دوسری تصریح ہے ہی مگر دکھانا یہ ہے کہ اس کی شرح میں خود ملّا علی قاری فرماتے ہیں:
لیبن علی الاقل المتیقن فان زیادۃ الطاعۃ خیر من نقصانھا ۲؎۔
یعنی کم پر بنا رکھے جتنی یقینا ادا کی ہیں کہ اگر واقع میں کامل ہوچکی تھیں اور ایک رکعت بڑھ گئی تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایک رکعت کم رہ جائے طاعت کی افزونی اس کی کمی سے افضل ہے۔

معلوم نہیں یہ حکم وضو میں کیوں نہ جاری فرمایا حالانکہ اس کی بیشی نماز میں رکعت بڑھا دینے کے برابر نہیں ہوسکتی۔
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الصلوٰۃ باب السہو حدیث ۱۰۲۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۰۸)
خامسا وہ جوفــ۲ فرمایا تثلیث کے بعد شک کی کوئی وجہ نہیں اس سے مراد علم الٰہی میں تثلیث ہولینا ہے یا علم متوضی میں۔ برتقدیر ثانی بیشک شک کی کوئی وجہ نہیں مگر وہ ہرگز مراد نہیں کہ کلام شک میں ہے نہ علم میں۔ اور برتقدیر اول علم الٰہی شک عبد کا کیا منافی۔ بندہ اُس پر مکلّف ہے جو اس کے علم میں ہے نہ اس پر جو علم الٰہی میں ہے جس کے علم کی طرف اسے کوئی سبیل نہیں۔
فــ ۲ تطفل الثالث عشر علیہ ۔
سادسا فــ ۳ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غسل میں سرِ انور پر تین بار پانی ڈالتے اور اسی کا حکم مردوں عورتوں سب کو فرمایا خاص عورتوں کے باب میں بھی یہی حکم بالتصریح ارشاد ہوا۔
فــ ۳ تطفل الرابع عشر علیہ ۔
صحیح مسلم وسنن اربعہ میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سرگندھواتی ہوں کیا نہاتے میں کھول دیا کروں؟ فرمایا:
انما یکفیک ان تحثی علی رأسک ثلث حثیات ۱؎۔
سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو یہی کافی ہے۔
 (۱؂صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۰

سنن ترمذی     ابواب الطہارۃ باب ھل تنقض المرأۃ شعرہا عندالغسل حدیث ۱۰۵ دارلفکر بیروت ۱ /۱۶۰

سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃباب ما جاء فی غسل النساء من الجنابۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۴۵

سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۳ )
آخر امر چہارم میں حدیث ابی داؤد ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزری کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اما المراۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا۲؎۔
عورت کو کچھ ضرور نہیں کہ اپنا گُندھا سر کھولے،بس تین لَپ پانی ڈال لے۔
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طریقہ غسل میں روایت فرماتی ہیں:
ثم یصب علی رأسہ ثلث غرفات بیدیہ ۳؎۔ رؤیاہ عنہا رضی اللہ تعالی عنہا۔
پھر سر مبارک پر تین لپ ڈالتے تھے ۔
 (۲؎سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴ )

(۳؎ صحیح البخاری کتاب الغسل باب الوضوء  قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۳۹ )
اور خود اپنا فرماتی ہیں:
لقد کنت اغتسل انا ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد وما ازید علی ان افرغ علی رأسی ثلث افراغات رواہ احمد ومسلم ۴؎۔
میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے نہایا کرتے اور میں اپنے سر پر تین ہی بار پانی ڈالتی یعنی جعد مبارک نہ کھولتیں۔ اسے احمد ومسلم نے روایت کیا ت)
 (صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۰

مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۴۳)
بااینہمہ ف۱ یہی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:
کان رسول اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ وضؤہ للصلاۃ ثم یفیض علی رأسہ ثلث مرار ونحن نفیض علی رؤسنا خمسا من اجل للضفر ۱؎۔ رواہ ابو داؤد۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نماز کا سا وضو کرکے سرِ اقدس پر تین بار پانی بہاتے تھے اور ہم بیبیاں سر گُندھے ہونے کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ بار پانی بہاتی ہیں۔(اس کو ابو داؤد نے روایت کیا )

اب کون کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ امہات المومنین کا یہ فعل وسوسہ تھا حاشا بلکہ وہی اطمینان قلب جسے علماء کرام یہاں فرمارہے ہیں۔
فــ۱ مسئلہ عورت کے بال گندھے ہوں اور تین بار سر پر پانی بہانے سے تثلیث میں شبہ رہے تو پانچ بار بہا سکتی ہے
 (۱؎سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲)
Flag Counter