Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
103 - 135
میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے:
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ تعالٰی یقول وجہ من نقض الطہارۃ بالقہقہۃ اونوم الممکن فــ ۱ مقعدۃ اومس فــ ۲الابط الذی فیہ صنان اومس فــ ۳ ابرص اوجذم اوکافر اوصلیب فــ ۴او غیر ذلک مماوردت فیہ الاخبار الاخذ بالاحتیاط قال وجمیع النواقض متولدۃ من الاکل ولیس لنا ناقض من غیر الاکل ابدا فلولا الاکل والشرب مااشتھینا لمس النساء ولا تکلمنا بغیبۃ ولا نمیمۃ اھ بالا لتقاط ۲؎۔
میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے، اسی طرح وہ نیند جس میں مقعد زمین سے لگی ہو، بغل کو کھجانا جس میں بدبو ہو، برص والے کو یا جذامی کو یا کافر کو چھُونے سے یا صلیب کو چھونے سے، اس کے علاوہ اور دوسری اشیاء جن کے بارے میں احادیث وارد ہیں، احتیاط کے طور پر۔ فرمایا تمام نواقض وضو کھانے سے پیدا ہونے والے ہیں،اور ہمارے لئے غیر اکل سے کوئی ناقض نہیں اگر کھانا پینا نہ ہوتا توعورتوں کے چھونے کی ہم میں شہوت بھی نہ ہوتی نہ ہی غیبت وچغلی ہماری زبان پر آتی اھ بالالتقاط۔ (ت)
 (۱؎ میزان الشریعۃ الکبری     با ب اسباب الحد ث         دارا لکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۱۴۵ )
فــ ۱ مسئلہ سوتے میں دونوں سرین زمین پر جمے ہوں تو وضو نہیں جاتا مگر اعادہ وضو مستحب جب بھی ہے۔ 

فــ ۲: مسئلہ بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔

فــ ۳مسئلہ جزامی یا برص والے سے مس کرنے میں بھی تجدید وضو  مستحب ہے۔ 

فــ ۴: مسئلہ صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے ۔
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی میں ہے:
لاینقض بالکذب والشتم والغیبۃ والنمیمۃ ویستحب فی الکل للخلاف ۲؎
جھُوٹ، گالی دینے ، غیبت، چغلی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور مستحب ان سب میں ہے کیوں کہ محل اختلاف ہے ۔(ت)
 (۲؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۲۹)
فتح العین بشرح قرۃ العین للعلامۃ زین الشافعی تلمیذ ابن حجر المکی میں ہے:
یندب الوضوء من لمس یھودی ونظر بشھوۃ ولوالی محرم وتلفظ بمعصیۃ وغضب ۱؎۔
یہودی کو چھو جانے ، شہوت سے نظر کرنے اگرچہ محرم ہی کی طرف ہو ۔۔ معصیت کی بات زبان پر لانے اور غصہ سے وضو مستحب ہے ۔
 (۱؎ فتح المعین شرح قرۃ العین بیان نواقض الوضو ء عامر الاسلام پور پریس کیبرص ص ۲۴و۲۵ )
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے:
اتفقوا علی ان من مس فرجہ بعضو غیریدہ لاینتقض وضوؤہ واختلفوا فیمن مس ذکرہ بیدہ فقال ابو حنیفۃ لامطلقا والشافعی ینتقض بالمس بباطن کفہ دون ظاھرہ من غیر حائل بشھوۃ اوبغیرھا والمشہور عند احمد انہ ینتقض بباطن کفہ وبظاھرہ ۲؎۔
اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنی شرمگاہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور عضو سے چھودے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا، اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے اپنا ذَکر اپنے ہاتھ سے چھو دیا امام ابو حنیفہ نے فرمایا : مطلقا نہ ٹوٹے گا، اور امام شافعی نے فرمایا پشت دست سے چھو دے تو نہ ٹوٹے گا اور اگر ہتھیلی کے پیٹ سے بغیر کسی حائل کے شہوت کے ساتھ یا بلا شہوت چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔(ت) اور امام احمد کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ ہتھیلی کے باطن وظاہر کسی طرف سے بھی چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔(ت)
 (۲؎ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ         باب اسبا ب الوضوء         دولۃ قطرص ۱۳)
میزان میں ہے:
وجہ من نقض الطہارۃ بلمس الذکر بظھر الکف اوبالید الی المر فق فھو الاحتیاط لکون الید تطلق علی ذلک کما فی حدیث اذا افضی احدکم بیدہ الی فرجہ ولیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضأ ۳؎۔
ہتھیلی کی پشت سے یا کہنی تک ہاتھ کے کسی حصے سے وضو ٹوٹنے کی وجہ احتیاط کو بتایا گیا ہے اس لئے کہ ہاتھ کا اطلاق اس پر ہو تا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :جب تم میں کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تک پہنچادے اور دونوں میں کوئی پردہ اور حائل نہ رہ جائے تو وہ وضو کرے ۔(ت)
 (۳؎ میزان الشعریعۃ     باب اسباب الحدث    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۱۴۲)
انوار ائمہ شافعیہ میں ہے:
اسباب الحدث اربعۃ الرابع مس فرج ادمی بالراحۃ اوبطن اصبع قبلا کان اودبرا ناسیا اوعامدا من ذکر اوانثی صغیر اوکبیرحی اومیت من نفسہ اوغیرہ ولومس برؤس الاصابع اوبما بینھا مما لایلی بطن الکف اوبحروف الکفین اومس انثییہ اوالیتیہ اوعجانہ اوعانتہ لم ینتقض۔۱؎
حدث کے چار اسباب ہیں چوتھا کسی انسان کی شرمگاہ کا مس ہوجانا ہتھیلی سے یا انگلی کے پیٹ سے ، آگے کی شرمگاہ ہو یا پیچھے کی ، بھول کر ہو یا قصدا مرد کی ہو یا عورت کی ، چھوٹا ہو یا بڑا ، زندہ یا مردہ اپنی شرمگاہ ہویا دوسرے کی اور اگر انگلیوں کے سروں سے مس ہو جائے یا انگلیوں کے ان درمیانی حصوں سے جو بطن کف سے ملے ہوئے نہیں ہیں ،یا ہتھیلیوں کے کناروں سے مس ہو یا انثیین کو یا سرینوں کو یا خصیتین اور دبرکے درمیان کے حصے کو یا پیڑو کو چھو دے تو وضو نہ ٹوٹے گا (ت)
 (۱؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۳۱)
اُسی میں ہے:
الثالث لمس بشرۃ المرأۃ الکبیرۃ الاجنبیۃ بلا حائل فان لمس شعرا اوسنا اوظفرا اوبالشعر اوالسن اوالظفر اوصغیرۃ لاتشتھی اومحرما بنسب اورضاع اومصاھرۃ اوکبیرۃ اجنبیۃ مع حائل وان رق ولو بشھوۃ لم ینتقض ولو لمس امراتہ اوامتہ اومیتۃ اوعجوزۃ فانیۃ اوبلا شھوۃ اوبلا قصد انتقض واذا کانت المرأۃ فوق سبع سنین فلا شک فی انتقاض الوضوء بلمسھا واما اذا کانت دون ست سنین فاصحابنا خرجوا علی قولین المذھب انہ لاینتقض۱؎
تیسرا اجنبی قابل شہوت عورت کی جلد کا بغیر حائل چھو جانا اگر بال یا دانت یا ناخن کو مس یا بال یا دانت یا ناخن سے مس کیا یا عورت اتنی چھوٹی ہے کہ قابل شہوت نہیں ، یا نسب یا رضاعت یا مصاہرت کسی سبب سے وہ محرم ہے یا بڑی اجنبیہ ہے مگر کوئی حا ئل درمیان ہے اگرچہ باریک ہوا گرچہ شہوت کے ساتھ ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اور اگر اپنی بیوی یا باندی یا مری ہوئی یا فانیہ بڑھیا کو مس کیا تو وضو ٹوٹ جا ئے گا اور جب سات سال سے زیادہ کی ہو تو اس کے چھونے سے وضوٹوٹنے میں کوئی شک نہیں اور اگر چھ سال سے کم کی ہو تو یہاں ہمارے اصحاب کے دو قول ہیں مذہب یہ ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا
 (۱؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۳۱)
عشماویہ اور اس کی شرح جواہر زکیۃ العلامۃ احمد المالکی میں ہے:
 (و) ینتقض الوضوء( بلمس) اجنبیۃ یلتذ بمثلھا عادۃ ولو ظفرھا اوشعرھا اوفوق حائل خفیف قیل والکثیف (وان لم یقصد اللذۃ ولم یجدھا فلا وضوء علیہ ۲؎
ایسی اجنبیہ جوعادتا قابل لذت ہے اس کے چھو جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ اس کے ناخن یا بال ہی کو چھوئے یا خفیف حائل کے اوپر سے چھوئے ایک قول ہے کہ دبیز کے اوپر سے بھی اور اگر لذت کا قصد نہیں نہ لذت پائی تو اس پر وضو نہیں ۔(ت)
 (۲؎ا لجواہر الزکیۃ شرح مقدمۃ العشماویۃ )
حاشیہ علامہ سِفطی میں ہے:
قولہ لمس اجنبیۃ ھذا ضعیف والمعتمد ان وجود اللذۃ بالمحرم ناقض ولا فرق بین المحرم وغیرھا الافی القصد وحدہ بدون وجدان ففی الاجنبیۃ ناقض وفی المحرم غیر ناقض قولہ عادۃ ای عادۃ الناس لاالملتذ وحدہ فخرج بہ صغیرۃ لاتشتھی کبنت خمس وعجوز مسنۃ انقطع منھا ارب الرجال بالکلیۃ قولہ والکثیف قال الشیخ حاشیۃ ابی الحسن المعتمد ان الاقسام ثلثۃ خفیف جد اوکثیف لاجد اکالقباء وجدا کالطراحۃ فالاولان حکمھا النقض علی الراجح واما الاخیر فالنقض فی القصد دون الوجدان ۱؎۔
ان کا قول ''اجنبیہ کو مس کرنا '' یہ ضعیف ہے، معتمد یہ ہے کہ محرم سے لذت پائی گئی تو یہ بھی ناقض ہے اور محرم و نا محرم میں فرق یہ ہے کہ قصد لذت نہ ملے تو اجنبیہ میں ناقض ہے اور محرم میں ناقض نہیں ان کا قول ''عادۃ'' یعنی لوگوں کی عادت کے لحاظ سے ،صرف لذت پانے والے کی عاد ت مراد نہیں تو اس قید سے وہ صغیرہ خارج ہو گئی جو قابل شہوت نہیں جیسے پا نچ سال کی بچی اور وہ سن رسیدہ بڑھیا جس سے مردوں کی خواہش با لکل منقطع ہو چکی۔۔ قولہ ''دبیز سے بھی ''شیخ نے حاشیہ ابو الحسن میں لکھا ہے کہ معتمد یہ ہے کہ تین قسمیں ہیں : (۱)بہت خفیف (۲) دبیز جو بہت زیادہ دبیز نہ ہو جیسے قبا (۳)اور بہت دبیز جیسے لحاف، تو پہلے دونوں کا حکم بر قول راجح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اخیر میں یہ حکم ہے کہ قصد ہو تو وضو ٹوٹ جائے گاا ور اتفاقا لذت مل جانے سے نہ ٹوٹے گا ۔(ت)
 (۱؎ حاشیہ علامہ سفطی مقدمۃ العشماویۃ)
مستحب وضو اور بھی ہیں مگر یہاں وہی اکثر ذکر کئے جن کا وضو میں وقوع عادۃً بعید نہ ہو۔ ولہٰذا کفار کی وہ قسمیں بیان کرنی ہوئیں جو بغلط مدعی اسلام ہیں کہ ان میں بہتیرے نماز پڑھتے، وضو کرتے، مسجدوں میں آتے ہیں تو وضو کرتے ہیں ان سے بدن چھُوجانا بعید نہیں۔ یوں ہی کبھی وضو کرتے میں پانی کم ہوجاتا اور آدمی اپنی کنیز یا خادمہ یا زوجہ وغیرہا سے مانگتا اور لینے میں ہاتھ سے ہاتھ لگ جاتا ہے وغیرہ ذلک۔ کامل احتیاط والے کو ان مسائل پر اطلاع نہایت مناسب ہے۔ اب بے فصل نماز وغیرہ عبادات مقصودہ یابے تبدل مجلس اعادہ وضو کی کراہت اگر ہوگی بھی تو وہاں کہ اعادہ کیلئے کوئی سبب خاص نہ ہو ورنہ بعد وجود سبب وہ بے وجہ نہیں کہ اسراف ہو۔ اور اگر مواضع خلاف میں نزاع عود بھی کرے کہ رعایت خلاف وہیں مستحب ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے
کما فی ردالمحتار وغیرہ
تو پہلی نو دس صورتیں کہ گویا حدث معنوی ونجاست باطنی مانی گئیں اثباتے وضو میں اُن کا وقوع کیا نادر ہے اور شک فــ نہیں کہ دربارہ نقض ونقض وضو بعض وضو کا حکم ایک ہی ہے جس طرح وضوئے کامل پر کوئی ناقض طاری ہونے سے پورا وضو جاتا رہتا ہے اور خلال وضو میں اس کے وقوع سے جتنا وضو ہوچکا ہے اتنا ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ اشیا جن سے طہارت ناقص وبے نور ہوجاتی ہے جب کامل وضو پر واقع ہوں تو پورے وضو کا اعادہ مستحب ہوگا اور اثنائے وضو میں ہوں تو جتنا کر چکا ہے اُس قدر کا۔ اور بہرحال یہ وضوئے آخر یا وضو علی الوضو سے خارج نہ ہوگا کہ وضوئے اول متنقض نہ ہوا۔ اس تقریر پر نہ صرف یہی وجہ اخیر بلکہ تینوں وجہیں مندفع ہوگئیں وللہ الحمد۔
فــ : جن باتوں سے اعادہ وضو مستحب ہے جب وہ وضو کرتے میں واقع ہوں تو مستحب ہے کہ پھر سے وضو کرے۔
Flag Counter