اب وضو دو قسم ہے: واجب ومندوب۔
واجب کا سبب معلوم ہے کہ اُس چیز کا ارادہ جو بغیر اس کے حلال نہ ہو جیسے نماز یا سجدہ یا مصحف کریم کو ہاتھ لگانا۔ اور مندوب فــ۱ کے اسباب کثیر میں ازانجملہ:
(۱) قہقہہ سے ہنسنا (۲) غیبت کرنا
(۳) چغلی کھانا (۴) کسی کو گالی دینا
(۵) کوئی فحش لفظ زبان سے نکالنا (۶) جھوٹی بات صادر ہونا
(۷) حمد ونعت ومنقبت ونصیحت کے علاوہ کوئی دنیوی شعر پڑھنا (۸) غصہ آنا
(۹) غیر عورت کے حُسن پر نظر۔
(۱۰) کسی کافر سے بدن چھو جانا اگرچہ کلمہ پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسا فــ۲ قادیانی عـــہ۱یا چکڑالوی عـــہ۲نیچری عـــہ۳ یا آج کل کے تبرائی رافضی عـــہ۴ یاکذابی عـــہ ۵یا بہائمی عـــہ۶یا شیطانی عـــہ۷ خواتمی عـــہ۸ وہابی جن کے عقائد کفر کا بیان حسام الحرمین میں ہے۔یا اکثر غیرعـــہ۹ مقلد خواہ بظاہر مقلد وہابیہ کہ اُن عقائدار تداد پر مطلع ہو کر اُن کو عالم دین وعمدہ مسلمین کہتے یا اللہ ورسول کےمقابل اللہ ورسول کو گالیاں دینے والوں کی حمایت کرتے ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
فــ ۱: مسئلہ ان بعض اشیاء کا بیان جن کے سبب وضوکی تجدید مطلقا بالا تفاق مستحب ہوتی ہے خوا ہ ابھی اس سے نماز وغیرہ کوئی فعل ادا کیا ہو یا نہیں مجلس بدلی ہو یا نہیں وضو پورا ہوا ہو یا نہیں تجدید ایک با ر ہو یا سو بار ۔
فــ ۲: فائدہ ضروریہ ان دس فرقوں کا بیان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور شرعا مرتد ہیں۔
عـــہ ۱غلام احمد قادیانی کے پیرو جو اپنے آپ کو نبی ورسول کہتا اپنے کلام کو کلامِ الٰہی بتاتا سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتا چارسو انبیا کی پیشگوئی جھوٹی بتاتا خاتم النبیین میں استثنا کی پچّر لگاتا وغیرہ کفریات ملعونہ ۱۲ (م)
عـــہ۲ یہ ایک نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے منکر ہے تمام احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو صراحۃً باطل وناقابل بتاتا اور صرف قرآن عظیم کے اتباع کا ادعا رکھتا ہے اور حقیقۃً خود قرآن عظیم کا منکر ومبطل ہے، ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی جُدا گھڑی ہے جس میں ہر وقت کی صرف دو۲ ہی رکعتیں ہیں ۱۲ ۔
عـــہ۳ یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معانی قطعیہ ضروریہ میں در پردہ تاویل وتحریف وتبدیل کرتا وجودِ ملائکہ وآسمان وجن وشیطان وحشر ابدان وناروجنان ومعجزات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے انہیں ملعون تاویلوں کی آڑ میں انکاررکھتا ہے ۱۲ ۔
عـــہ۴ یہ ملاعنہ صراحۃً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اور مولٰی علی وائمہ اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم کو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ٹھہراتے ہیں ۱۲۔
عـــہ ۵ یہ ملاعنہ طائفہ اللہ تعالٰی کو بالفعل جھوٹا بتاتا اور صاف کہتا ہے کہ وقوع کذب کے معنے درست ہوگئے ۱۲۔
عـــہ۶ یہ گروہ لعین ہر پاگل اور چوپائے کے لئے علم غیب مان کر صاف کہتا ہے کہ جیسا علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تھا ایسا علم تو ہر پاگل اور جانور کو ہوتا ہے ۱۲
عـــہ ۷ اس شیطانی گروہ کے نزدیک ابلیس لعین کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بلکہ بے شمار زیادہ ہے ابلیس کی وسعت علم کو نص قطعی سے ثابت کہتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وسعت علم کو باطل بے ثبوت مانتا ہے اُن کیلئے وسعتِ علم کے ماننے کو خالص شرک بتاتا مگر ابلیس کو وسعتِ علم میں خدا کا شریک جانتا ہے ۱۲ ۔
عـــہ۸یہ شقی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کرتا اور بمعنی آخر النبیین لینے کو خیالِ جہال بتاتا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل موجود مانتا ہے ۱۲
عـــہ۹ یہ بدبخت طائفہ ان ملعون ارتدادوں کو دفع تو کر نہیں سکتا بلکہ خوب جانتا ہے کہ ان سے دفع ارتداد ناممکن ہے مگر ان مرتدوں کو پیشوا اور ممدوح دینی ماننے سے بھی باز نہیں آتا اللہ جل وعلا ورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقابل ان کی حمایت پر تُلا ہوا ہے اللہ ورسول کو گالیاں دینا بہت ہلکا جانتا ہے مگر ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی بیان کرنے کو گالیاں دینا کہتا اور بہت سخت برا مانتا ہے اور ازانجا ف کہ اُن صریح ارتدادوں کی حمایت سے قطعاً عاجز ہے باوصف ہزاروں تقاضوں کے اُن کا نام زبان پر نہیں لاتا اور براہ گریز خدا ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں اُن صریح گالیوں کو بالائے طاق رکھ کر سہل اختلاف مسئلہ عطائے بعض علوم غیبیہ کی طرف بحث کو پھیرنا چاہتا ہے پھر اس میں بھی افترا واختراع سے کام لیتا ہے اور اصل مقصود صرف اتنا کہ وہ قہر عظیم والی دشنام ہائے خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھُول میں پڑ جائیں اور بات این وآں کی طرف منتقل ہو اس چالاکی کا موجد امر تسر کے پرچہ "اہلحدیث" کا ایڈیٹر ہے دیکھو چابک لیث اور ظفر الدین الطیب اور کین کش پنجہ پیچ وغیرہا، یہ چالاک پرچہ۲۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۶ھ میں حسام الحرمین کا ذکر منہ پر لایا مگر یوں کہ براہ عیاری اُس کے تمام مقاصد سے دامن بچا کر دو بالائی باتوں امکانِ کذب وعلم غیب کو اس کا مبنائے بحث ٹھہرایا پھر اُن میں بھی امکانِ کذب کو الگ چھوڑ کر صرف علم غیب میں اپنی بعض فاحشہ جہالتیں دکھائیں جن کا ردبا رہا ہو چکا اسی پرچہ کے رد میں چابک لیث براہل حُدیث دومجلد میں ہے پھر ۳۰ جولائی ۲۰ اگست ۹ ء کے پرچوں میں وہی انداز کہ اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں گالیاں شیر مادر۔ قاہر مناظروں کے جواب سے گنگ وکر۔ اور اغوائے عوام کو مناظرہ کا نام زبان پر، اس کے رد میں ظفر الدین الطیب چھاپ کر بھیج دیا انتالیس رات بعد پرچہ ۲۹ رمضان میں اُس کے دیکھنے کا اقرار تو کیا مگر چال وہی کہ اُس کے تمام اعتراضات سے ایک کا بھی جواب نہ دیا اور ایک بالائی لطیفہ تردید کے متعلق لکھا تھا صرف اُس کے ذکر پر اکتفا کیا کہ میری ارد ودانی پر بھی اعتراض ہے۔ اے سبحٰن اللہ اور وہ جو آپ کے دعوٰی ایمان پر قاہر اعتراض ہیں وہ کیا ہوئے وہ جو ثابت کیا تھا کہ تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جتنا افترا اُٹھایا اور اُس پر تمہاری حدیث دانی سے بارہ۱۲ سوال تھے وہ کدھر گئے۔
ف: ایڈیٹر الحدیث امر تسر کی باربار گریز فرار پر فرار اور عوام کے بہکانے کو نام مناظرہ کی عیارانہ پکار۔
خیر اس کے جواب میں رسالہ کین کش پنجہ پیچ برایڈیٹر اے ایچ رجسٹری شدہ بھیجا آج پچپن دن ہوئے اُس کا بھی ذکر غائب، مگر بکمال حیا بعد کے بعض پرچوں میں وہی رٹ موجود، خدا جانے ان صاحبوں کے نزدیک مناظرہ کس شے کا نام ہے، ان سے سیکھ کر یہی چال ایک گمنام صاحب چاند پوری دیوبند دربھنگی چلے۔ دشنامی اکابر جن کے رد میں پینتیس سال سے بکثرت رسائل آستانہ علیہ رضویہ سے شائع ہورہے ہیں اور ان کو خود اقرار ہے کہ آج تک ایک پرچہ کا جواب نہ دے سکے بلکہ بڑے بڑوں نے مناظرہ سے عجز کا صاف صاف اقرار کیا بلکہ لکھ دیا (دیکھو رسالہ دفع زیغ ورسالہ بطش غیب) اب اُن کی حمایت میں جمے ہوئے مناظرے یوں ہی چھوڑ کر یہ دربھنگی صاحب سوال علی السوال لے کر چلے اور ایک بے معنی رسالہ بنام اسکات المعتدی چھاپا اور بعنایت الٰہی خود بھی اس رسالے میں صاف اقرار کردیا کہ اُن کے تمام اکابر آج تک لاجواب ہیں۔ یہ رسالہ یہاں ۹ شعبان کو پہنچا اور ۲۰ شعبان کو اس کا رد ظفر الدین الطیب چھپا ہوا تیار تھا کہ اُسی دن جلسہ مدرسہ اہلسنت میں شائع کردیا اور ۲۱ شعبان کو ان کے سرآمد کے پاس رجسٹری شدہ اور اتباع کے یہاں نام بنام بھیج دیا۔ ساٹھ رات کے بعد دربھنگی صاحب بولے تو یہ بولے کہ رسالہ کسی کو بھیجا ہی نہیں اور ایک خط اُسی چالاکی پر مشتمل بھیجا کہ صرف دو مسئلہ امکانِ کذب وعلمِ غیب میں اختلاف ہے وبس یعنی وہ شدید شدید گالیاں کہ اُن کے اکابر نے اللہ ورسول جل وعلاوصلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ لکھ کر چھاپیں اصلا کوئی قابل پروابات نہیں۔ اس خط کے جواب میں معاً دو رسالے تصنیف ہو کر رجسٹری شدہ اُن کے پاس روانہ ہوئے، اول بارش سنگی، دوسرا پیکان جانگداز برجان مکذّبان بے نیاز، اس دوسرے میں گریز والے صاحبوں کی وہ ہوس بھی پوری کردی یعنی مسئلہ امکان کذب وعلم غیب ہی میں مناظرہ تازہ کردیا۔ رجسٹری رسید طلب تھی ڈاک کی رسید تو آئی مگر آج پچاس دن ہوئے وہ بھی سو رہے حالانکہ اُن کو صرف دس دن کی مہلت تھی۔ مسلمانو! للہ انصاف، یہ ان مدعیانِ دین ودیانت کی حالت ہے منہ بھر بھر کر اللہ ورسول کو سخت سخت گالیاں دیں پھر جب مسلمان اس پر مؤاخذہ کریں جواب نہ دیں، سوالات جائیں جواب غائب، رسائل جائیں جواب غائب، رجسٹریاں جائیں جواب غائب۔ مناظرہ سے اپنا عجز صاف صاف لکھ دیں کہہ دیں اپنے اکابر کا لاجواب رہنا قبول کریں چھاپ دیں اور پھر عوام کے بہکانے کو مناظرہ مناظرہ کی پکار۔ اُس پکار پر جو گرفت ہو اس کے جواب سے پھر فرار اور وہی پکار اس حیا کی کوئی حد ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: اذالم تستحی فاصنع ماشئت جب تجھے حیا نہ ہو تو جو چاہے کر۔
ع بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن
(بیحیا ہو جاپھر جو چاہے کر )
ہاں ہاں اے اللہ ورسول (جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم) کو گالیاں دینے والو! کیا مسلمان اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے معاذ اللہ ایسے بے علاقہ ہوگئے کہ تم اُنہیں گالیاں لکھ لکھ کر چھاپو اور وہ بے پروائی کرکے ٹال دیں۔ نہیں نہیں ضرور تمہیں دو باتوں سے ایک ماننی ہوگی، یا تو خدا توفیق دے اُن گالیوں سے صراحۃً توبہ کرو جس طرح اُن کی اشاعت کی اُن سے صاف صاف اپنی توبہ اور اپنے حکم دشنام کا اعتراف چھاپو یا اُن تمام رسائل وکُتب کا جواب دو، جواب دو، جواب دو۔ اس کے سوا تمہارے حیلے حوالے ٹالے بالے ہرگز نہ سُنے جائیں گے،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲؎۔
ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم ۱۲ عبدہ محمد ظفر الدین قادری غفرلہ۔
یا عـــہ۰ ۱ جھو ٹے متصوف کہ حلول واتحاد کے قائل یا شریعت مطہرہ کے صراحۃً منکر ومبطل ہیں ان میں دسوں طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہِ کبیرہ ہے اگر بلا قصد بھی ان کے بدن سے بدن چھُو جائے تو وضو کا اعادہ مستحب ہے۔
عـــہ۰ ۱ ان تمام مرتد طوائف کارد کافی وشافی کتاب مستطاب المعتمد المستند وکتاب لاجواب حسام الحرمین وکتاب کامل النصاب تمہید ایمان بآیات قرآن وظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب وغیرہا میں ملاحظہ ہو، سوا فرقہ چکڑالو یہ کہ تالیف المعتمد المستند تک اس کا کوئی تذکرہ ان بلاد میں نہ آیا تھا یہ کتابیں بریلی مطبع اہلسنت وجماعت کے پتے سے مولوی حکیم حسین رضا خان صاحب سلمہ سے مل سکتی ہیں۔المعتمد المستند عربی زبان میں ۲۳۲ صفحہ میں ہے قیمت (عہ)________ تمہید ایمان بآیات قرآن میں صرف آیاتِ قرآنیہ سے بتایا ہے کہ ایمان کے یہ معنی ہیں اللہ ورسول( جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) کی تعظیم ومحبت ایسی ہوتو مسلمان ہے اللہ ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کو گالیاں دینا کفر ہے۔ ایسوں کے کفر میں جو خود یہ لوگ اور آج کل کے بعض آزاد خیال والے حیلے حوالے نکالتے ہیں نہایت سلیس ومہذب بیان میں قرآن مجید سے ان کا جواب ہے، یہ وہ کتاب ہے جس کا دیکھنا ہر مسلمان کو نہایت ضروری ہے ۔حسام الحرمین میں اکابر علمائے حرمین شریفین کی مُہری تصدیقات وفتاوٰی ہیں جن میں اُن دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اُس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے دونوں کا مجموعہ ۱۵ جز ہے ۔ہدیہ ۱۰۔ اور یکم محرم ۱۳۲۸ھ سے ۱۲ربیع الاول تک آٹھ ہی آنے (۸۔)ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب۔ اُن دشنامیوں کے فرار اور عیاریوں کے اظہار میں۔ حجم سواد وجزقیمت (۱۔) مسلمان اپنا دینی فائدہ حاصل کریں وباللہ التوفیق ۱۲ سید عبدالرحمن عفا عنہ ۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ۔ م
فـــ:ان نفیس اسلامی کتابوں کے نام جن سے ایمان تازہ ہو اور مرتدوں کی چالاکیوں کا حال کھلے ۔
(۱۱) ناخن سے کُہنی تک اپنے ہاتھ کا کوئی حصّہ اگرچہ کھُجانے میں اگرچہ بھُولے سے بلا حائل اپنے ذَکر کو لگ جانا۔
(۱۲) ہتھیلی یا کسی اُنگلی کا پیٹ اپنے یا پرائے ستر غلیظ یعنی ذَکر یا فرج یا دُبر کو بے حائل چھُو جانا اگرچہ وہ دوسرا آدمی کتنا ہی چھوٹا بچّہ یا مردہ ہو۔
(۱۳) نامحرم عورت کے کسی حصہ جلد سے اپنا کوئی حصہ جلد بے حائل چھُو جانا اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ عورت مُردہ یا بڑھیا ہو اگرچہ نہ قصد ہو نہ شہوت چاہے لذت نہ پائے جبکہ وہ عورت بہت صغیرہ چار پانچ برس کی بچّی نہ ہو۔
(۱۴) اگر اُس چھُو جانے سے لذت آئی تو نامحرم کی بھی قید نہیں نہ جِلد کی خصوصیت نہ بے حائل کی ضرورت مثلاً رقیق یامتوسط حائل کے اوپر سے اپنی بہن یا بیٹی کے بال سے مس ہوجانے پر اتفاقا لذت کا آجانا جبکہ عورت قابلِ لذت ہو اور حائل بہت بھاری مثل رضائی وغیرہ کے نہ ہو۔
(۱۵) نامحرم عورت قابلِ لذت کو بقصدِ شہوت چھُوجانا اگرچہ حائل کتنا ہی بھاری ہو اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ لذت نہ پائے مثلاً لحاف کے اوپر سے اُس کے بالوں پر ہاتھ رکھنا، اور ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں اور ایک اصل کُلی یہ ہے کہ جس بات سے کسی اور امام مجتہد کے مذہب میں وضو جاتا رہتا ہے اُس کے وقوع سے ہمارے مذہب میں اعادہ وضو مستحب ہے
درمختار میں ہے:
الوضوء مندوب فی نیف وثلثین موضعا ذکرتھا فی الخزائن منھا بعد کذب وغیبۃ وقہقہۃ و شعر واکل جزور وبعد کل خطیئۃ وللخروج من خلاف العلماء ۱؎ اھ
وضوتیس۳۰ سے زیادہ مقامات میں مستحب ہے، ان سب کا ذکر میں نے خزائن میں کیا ہے۔ اُن میں سے چند یہ ہیں جھُوٹ، غیبت، قہقہہ، شعر ، اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد اور ہر گناہ کے بعد اور اختلافِ علماء سے نکلنے کیلئے اھ۔ (ت)
( ۱؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۷و۱۸ )
اقول والحقت النمیمۃ لانھا کالغیبۃ اواشد ثم رأیتھا فی میزان الامام الشعرانی وغیرہ والحقت الفحش لانہ اخنأمن الشعر وربما یدخل فی قولہ خطیئۃ والشتم لانہ اخبث واخنع ثم رأیت التصریح بہ فی انوار الشافعیۃ۔
اقول میں نے چغلی کو بھی شامل کیا اس لئے کہ وہ غیبت ہی کی طرح ہے یا اس سے بھی سخت پھر میں نے میزان امام شعرانی وغیرہ میں اس کا ذکر دیکھا اور فحش کو میں نے شامل کیا اس لئے کہ وہ شعر سے زیادہ برا ہے اور یہ در مختار کے لفظ ہر گناہ کے تحت آسکتا ہے ۔ اور گالی دینے کواس لئے کہ یہ اور بد تر اور فحش تر ہے پھر انوار شافعیہ میں میں نے اس کی تصریح دیکھی۔ ( ت)
ردّالمحتار میں ہے:
منھا لغضب ونظر لمحاسن امرأۃ وبعد کذب وغیبۃ لانھما من نجاسات فــ المعنویۃ ولذا یخرج من الکاذب نتن یتبا عدمنہ الملک الحافظ کما ورد فی الحدیث وکذا اخبر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن ریح منتنۃ بانھا ریح الذین یغتابون الناس والمؤمنین ولالف ذالک منا وامتلاء انوفنا منہا لا تطہر لنا کا لساکن فی محلہ الدباغین وقہقہۃ لانہالما کانت فی الصلٰوۃ جنایۃ تنقض الوضوء اوجبت نقصان الطہارۃ خارجا فکان الوضوء منہا مستحباکما ذکرہ سیدی عبد الغنی النابلسی فی نہایۃ المراد علٰی ھدیۃ ابن العمادو شعر ای قبیح للخروج من خلاف العلماء کمس ذکرہ وامرأۃ اھ۱؎
ان اسباب میں چند یہ ہیں غصہ آنا ، کسی عورت کے حسن پر نظر ، اور جھوٹ اور غیبت کے بعد، اس لئے کہ یہ دونوں معنوی نجاستیں ہیں، اس لئے جھُوٹ بولنے والے سے ایسی بد بو اٹھتی ہے جس سے محافظ فرشتہ دُور ہٹ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، اسی طرح حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بد بو سے متعلق بتایا کہ یہ ان کی بد بو ہے جولوگوں کی اور مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں چونکہ ہمیں ان سے الفت ہوگئی ہے اور ہماری ناکیں ان سے بھری ہوئی ہیں اس لئے یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلے میں رہنے والوں کا حال ہوتا ہے اور قہقہہ اس لئے کہ جب اندرون نماز ایساجرم ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بیرون نماز اس سے وضو میں نقص آجا ئے گا اس لئے اس سے وضو مستحب ہواجیسا کہ سیدی عبد الغنی نابلسی نے
''نہایۃ المراد علی ہدیۃ ابن ا لعماد
میں ذکر کیا ہے ۔ اور شعر یعنی برا شعر ،اپنے ذکر یا کسی عورت کا چھو جانا اھ ملتقطا(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۶۱ )
فـــ: جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست ہیں ولہٰذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ حفاظت کے فرشتے اُس وقت اُس کے پاس سے دُور ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے اور اسی طرح ایک بدبو کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ یہ اُن کے منہ کی سٹراند ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبُو محسوس نہیں ہوتی اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اُس سے مالوف ہوگئے ہماری ناکیں اُس سے بھری ہوئی ہیں جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلہ میں جو رہتا ہے اُس کی بدبُو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اُس سے ناک نہ رکھی جائے انتہی
مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترک کریں کیا معاذ اللہ منہ سے پاخانہ نکلنا کسی کو پسند ہوگا باطن کی ناک کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاند ہو۔ رہیں وہ حدیثیں جن کی طرف علامہ شامی نے اشارہ کیا۔ جامع ترمذی بسند حسن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کذب العبد کذبۃ تباعد الملک عنہ مسیرۃ میل من نتن ماجاء بہ ۱؎رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء ۲؎عنہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔
جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اُس کی بدبو کے باعث فرشتہ ایک میل مسافت تک اُس سے دُور ہوجاتا ہے۔ کتاب الصمت میں ابن ابی الدنیا اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)
(۱؎ سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ حدیث۱۹۷۹ دار الفکر بیروت ۳ /۳۹۲)
( ۲؎حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبد العزیز بن ابی رواد ۴۰۰حدیث ۱۱۹۱۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۸ /۲۱۴)
امام احمد بسند صحیح جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے کہ ایک بدبو اُٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جانتے ہو کہ یہ بدبو کیا ہے،یہ ان کی بدبو ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں،(اس کو ابن الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں روایت کیا ہے، اللہ ان سے راضی ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
(۲؎مسند احمد بن حمبل عن جابر بن عبداللہ المکتب ا لاسلامی بیروت۳ /۳۵۱ )