Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۲(کتاب الطہارۃ)
101 - 135
وجہ سوم :
 یہ سب کچھ سہی پھر تجدید وضو تو بعد تکمیل وضوئے اول ہو اثنائے وضو میں تجدید کیسی۔ یہ اعتراض علامہ علی قاری کا ہے کہ مرقاۃ موضع مذکور میں اصل مسئلہ دائرہ یعنی بہ نیت وضو علی الوضو تین بار سے زیادہ اعضا ء دھونے پر ایراد کیا۔
والی ھذا اشارط اذقال علی قول الدر لقصد الوضوء علی الوضوء ظاھرہ ان نیۃ وضوء اخر متحققۃ فی الغرفۃ الرابعۃ اوالخامسۃ ولا کراھۃ والحدیث یدل علی غیر ھذا ۱؎ اھ
اور اسی اعتراض کی طرف سید طحاوی نے اشارہ کیا،اس طرح کہ درمختار کی عبارت لقصد الوضوء علی الوضوء پر لکھا:اس کا ظاہر یہ ہے کہ چوتھے یا پانچویں چلّومیں دوسرے وضو کی نیت متحقق ہوجاتی اور کوئی کراہت نہیں ---------مگر حدیث کچھ اور بتارہی ہے اھ۔
قلت وکانہ الی ھذا نظر العلامۃ فـــ البحر فزاد علی خلاف سائر المعتمدات قید الفراغ من الاول وعزاہ لاکثر شروح الھدایۃ مع عدمہ فیھا ظنا منہ رحمہ اللّٰہ تعالی انہ ھو المحمل المتعین لکلامھم فقال وعلی الاقوال کلھا لوزاد لطمانینۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء اخر بعد الفراغ من الاول فلا باس بہ لانہ نور علی نور وکذا ان نقص لحاجۃ لاباس بہ کذا فی المبسوط واکثر شروح الھدایۃ ۲؎ اھ
قلت شاید علامہ بحر نے اسی طرف نظر کرتے ہوئے تمام کتب معتمدہ کے برخلاف''وضوئے اول سے فارغ ہونے'' کی قید کا اضافہ کردیااوراسے اکثر شروحِ ہدایہ کی جانب منسوب کیا، جبکہ ان میں یہ بات نہیں ۔ صاحبِ بحر رحمہ اللہ تعالٰی کا خیال ہے کہ ان شارحین کے کلام کا یہی مطلب متعین ہے۔ بحر کے الفاظ یہ ہیں:اورتمام اقوال پر اگر شک کی حالت میں اطمینا ن قلب کے لئے زیادہ کیا یا'' پہلے وضو سے فارغ ہونے کے بعد'' دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیاتو کوئی حرج نہیں اس لئے یہ نور علٰی نور ہے۔ یوں ہی اگر کسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں، ایساہی مبسوط اور اکثر شروحِ ہدایہ میں ہے اھ۔
( ۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ      المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ         ۱ /۷۲)

(۲؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۳)
ثم بعد ھذا الحمل البعید من کلامھم کل البعد تکلم فیہ باتحاد المجلس کما تقدم قال الا ان یحمل علی ما اذا اختلف المجلس وھو بعید کمالا یخفی ۳؎ اھ
پھر ان حضرات کے کلام سے یہ بالکل ہی بعید مطلب لینے کے بعداس پراتحادمجلس سے کلام کیاجوگزرا، آگے فرمایا: مگر یہ کہ مجلس بدل جانے کی صورت پرمحمول ہو، اور وہ بعید ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ۔
 (۳؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۳)
اقول رحمک ف۱ اللّٰہ ورحمنا بک اولیس ماحملتم علیہ بعیدا فاین الزیادۃ علی الثلث فی الغسلات من التجدید بعد انھا الوضوء الاول۔
اقول آپ پرخدا کی رحمت ہواورآپ کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔کیاآپ نے جو مطلب لیاوہ بعید نہیں؟ کہاں دورانِ وضو کسی عضو کوتین بارسے زیادہ دھونا اورکہاں پہلا وضو پورا کرنے کے بعد تازہ وضو کرنا(ان کے کلام میں وہ تھا اورآپ نے اس کامعنٰی یہ لیا دونوں میں کیا نسبت؟)

یہ اعتراض ضرور محتاج توجہ ہے۔
فــ ۱: تطفل رابع علیہ ۔
وانا اقول وباللّٰہ استعین فــ
۲ (میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی کی مدد کے ساتھ۔ت) شے کے فــ۳ اسباب وشروط ہوں یا احکام وآثار اُس کا ذکر اگرچہ مطلق ہو اُن سب کی طرف اشعار کہ مسبب ومشروط کا وجود بے سبب وشرط نہ ہوگا۔
ان عقلیا فعقلیا اوشرعیا فشرعیا کصلاۃ الظہر قبل الزوال او بدون نیۃ ۔
اگر وہ امر عقلی ہے تو اس کا وجود عقلی اور اگرشرعی ہے تووجودشرعی بے سبب وشرط نہ ہوگا جیسے قبل زوال یابے نیت، نماز ظہر کا وجود شرعی نہیں ہوسکتا(اول فقدان سبب کی مثال ہے دوم فقدان شرط کی ۱۲م)۔
نہ شے اپنے احکام وآثار سے خالی ہوگی کہ یہ دونوں فریق دو طرف تقدم وتاخر ذاتی میں لوازم وجود شے ہیں
والشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ
 (اگر کچھ ثابت ہوگا تو تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوگا۔ ت) تبیین الحقائق مسئلہ ذکاۃ الجنین میں ہے:
ای اذبحوہ وکلوہ وھذا مثل مایروی انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذن فی اکل لحم الخیل ای اذا اذبح لان الشیئ اذا عرف شروطہ وذکر مطلقا ینصرف الیھا کقولہ تعالٰی اقم الصلاۃ ای بشروطھا ۱؎۔
یعنی اسے ذبح کرلوتب کھاؤ اور یہ اسی کے مثل ہے جو مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی یعنی جب ذبح کرلئے جائیں۔اس لئے کہ کسی شے کی شرطیں جب معروف ہوں اور ا س کومطلقاً ذکرکردیاجائے تواس کا ان شرطوں کے ساتھ ہونا ہی مراد ہوگا جیسے باری تعالٰی کا ارشاد ہے نماز قائم کر، یعنی اس کی شرطوں کے ساتھ۔(ت)
 ( ۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الذبائح     دار الکتب العلمیۃ بیروت     ۶ /۴۶۵)
Flag Counter