ایک جلسہ فــ۱ میں وضو کی تکرار مکروہ ہے۔ سراج وہاج میں اسے اسراف کہا تو قبل تبدل مجلس وضو علی الوضوء کی نیت کیونکر کرسکتا ہے۔ یہ شبہہ بحرالرائق کا ہے کہ اسی عبارت خلاصہ پر وارد فرمایا۔
فــ۱ :مسئلہ بعض نے فرمایا ایک جلسہ میں دوبار وضومکروہ ہے۔ بعض نے فرمایا دوبارتک مستحب اس سے زائدمکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ احادیث وکلمات ائمہ مطلق ہیں اور تحدیدوں کا ثبوت ظاہر نہیں ۔
اقول :
جس مسئلہ پر عبارت فــ۲ سراج سے اعتراض فرمایا وہ خود سراج کا بھی مسئلہ ہے۔
ہندیہ میں ہے :
لوزاد علی الثلث لطمانینۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ ھکذا فی النھایۃ والسراج الوھاج ۱؎۔
شک ہونے کے وقت اطمینانِ قلب کیلئے یا دوسرے وضو کی نیت سے دھویا تو کوئی حرج نہیں ایساہی نہایہ اور سراج وہاج میں ہے ۔(ت)
فـــ۲ :تطفل علی البحر۔
( ۱؎الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۱ /۷ )
کیا کلام سراج خود اپنے مناقض ہے اور اگر ہے تو اُن کا وہ کلام احق بالقبول ہوگا جو عامہ اکابر فحول کے موافق ہے یاوہ کہ اُن سب کے اور خود اپنے بھی مخالف ہے۔ لاجرم صاحب بحر کے برادر وتلمیذ نے نہرالفائق میں ظاہر کردیا کہ سراج نے ایک مجلس میں چند بار وضو کو مکروہ کہا ہے دوبار میں حرج نہیں تو اعتراض نہ رہا۔ سراج وہاج کی عبارت یہ ہے:
لو تکرر الوضوء فی مجلس واحد مرارا لم یستحب بل یکرہ لما فیہ من الاسراف ۲؎ اھ وھذا ھو ماخذ ماقدمنا عن المولی النابلسی رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
اگر وضو ایک مجلس میں چند بار مکرر ہو تو مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں اسراف ہے اھ یہی اس کلام کا ماخذ ہے جو ہم نے علامہ نابلسی رحمہ اللہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
( ۲ ؎ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۱)
اقول وباللہ التوفیق فــ ۱:
وضوئے جدید میں کوئی غرض صحیح مقبول شرع ہے یا نہیں ،اور اگر نہیں تو واجب کہ مطلقا تجدید مکروہ وممنوع ہو اگرچہ ایک ہی بار اگرچہ مجلس بدل کر اگرچہ ایک نماز پڑھ کرکہ بیکار بہانا ہی اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے ، اور اگر غرض صحیح ہے مثلاً زیادت نظافت تو وہ غرض زیادت قبول کرتی ہے یا نہیں، اگر نہیں تو ایک ہی بار کی اجازت چاہئے اگرچہ مجلس بدل جائے کہ تبدیل مجلس نامتزاید نہ کردے گا وہ کونسی غرض شرعی ہے کہ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے تو قابل زیادت نہیں اور وہاں سے اُٹھ کر ایک قدم ہٹ کر بیٹھ جائے تو از سرنو زیادت پائے، اور اگر ہاں تو کیا وجہ ہے کہ مجلس میں دوبارہ تکرار کی اجازت نہ ہو بالجملہ جگہ بدلنے کو اسباب میں کوئی دخل نظر نہیں آتا تو قدم قدم ہٹ کر سوبار تکرار کی اجازت اور بے ہٹے ایک بار سے زیادہ کی ممانعت کوئی وجہ نہیں رکھتی۔ احادیث بے شک مطلق ہیں اور ہمارے ائمہ کا متفق علیہ مسئلہ بھی یقینا مطلق اور ایک اور متعدد کا تفرقہ ناموجَّہ
واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
فــ :تطفل علی سراج الوہاج والنہر والبحر ۔
واشار فی الدر الی الجواب بوجہ اخر فقال لعل کراھۃ تکرارہ فی مجلس تنزیہیۃ ۱؎ اھ ای فلا یخالف قولھم لو زاد بنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لان الکلمۃ غالب استعمالھا فی کراھۃ التنزیہ۔
در مختار میں ایک دوسرے طریقے پر جواب کی طرف اشارہ کیا اس کے الفاظ یہ ہیں شاید ایک مجلس کے اندر تکرار وضو کی کراہت تنزیہی ہو اھ مطلب یہ ہے کہ یہ مان لینے سے ان کے اس قول کی مخالفت نہ ہوگی کہ '' اگر وضو کی نیت سے زیادتی کی تو کوئی حرج نہیں( فلا بأس بہ ) اس لئے کہ یہ کلمہ زیادہ تر کراہت تنزیہیہ میں استعمال ہوتا ہے
( ۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲)
اقول : ویبتنی علی مااختارہ ان الاسراف مکروہ تحریما لان المستثنی اذا ثبت فیہ کراھۃ التنزیہ فلولم تکن فی المستثنی منہ الاھی لم یصح الثنیا ۔
اقول :
اس جواب کی بنیاد اس پر ہے جو صاحب در مختار نے اختیار کیا کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مستثنٰی میں جب کراہت تنزیہیہ ثابت ہوئی تو اگرمستثنی منہ میں بھی یہی کراہت رہی ہو تو استثنا ء درست نہ ہو ا۔
فان قلت معھا مسألۃ الزیادۃ للطمانینۃ عند الشک وقد حکموا علیہما بحکم واحد وھو لاباس بہ وھذہ الزیادۃ مطلوبۃ قطعا لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک ۱؎ فکیف یحمل علی کراھۃ التنزیہ۔
اگر یہ سوال ہو کہ اس کے ساتھ بوقت شک اطمینان کے لئے زیادتی کا مسئلہ بھی توہے اوردونوں پر ایک ہی حکم لگایا گیا ہے کہ لا بأس بہ (اس میں حرج نہیں )حالانکہ کہ یہ زیادتی تو قطعا مطلوب ہے اس لئے کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے شک کی حالت چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شک سے خالی ہو تو اسے کراہت تنزیہ پر کیسے محمول کریں گے ۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب التفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۵)
قلت المعنی لایمنع شرعا فیشمل المکروہ تنزیھا والمستحب ھذا وردہ فی ردالمحتار اخذا من ط بانھم عللوہ بانہ نور علی نور قال وفیہ اشارۃ الی ان ذالک مندوب فکلمۃفــ لاباس وان کان الغالب استعمالہا فیما ترکہ اولی لکنھا قد تستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد ۱؎ اھ
قلت میں کہوں گا(لابأس بہ) کامعنی یہ ہوگا کہ شرعاً ممنوع نہیں تویہ مکروہ تنزیہی اورمستحب دونوں کوشامل ہوگا یہ بات توہوگئی مگر ردالمحتار میں طحطاوی سے اخذ کرتے ہوئے درمختار کے جواب کی یہ تردید کی ہے کہ علماء نے اس کی علّت یہ بتائی ہے کہ وہ نور علٰی نو ر ہے۔ فرمایا: اس تعلیل میں اس کا اشارہ ہے کہ وہ مندوب ہے تولفظ ''لاباس'' اگرچہ زیادہ تر اس میں استعمال ہوتا ہے جس کاترک اولٰی ہے لیکن بعض اوقات مندوب میں بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ البحرالرائق کے بیان جنائز وجہاد میں ہے اھ۔(ت)
ف: کلمۃ لا بأس لما ترکوہ اولٰی وقد تستعمل فی المندوب ۔
(۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۱)
اقول : الندب ف۱ لاینافی ف۲ فی الکراھۃ فلا یبعد ان یکون مندوبا فی نفسہ لما فیہ من الفضیلۃ لکن ترکہ فی مجلس واحد اولی قال فی الحلیۃ النفل لاینافی عدم الاولویۃ ۱؎ اھ ذکرہ فی صفۃالصّلوٰۃ مسألۃ القراء ۃ فی الاٰخریین وقال السید ط فی حواشی المراقی الکراھۃ لاتنافی الثواب افادہ العلامۃ نوح۲؎ اھ قالہ فی فصل الاحق بالامامۃ مسألۃ الاقتداء بالمخالف۔ نعم یرد علیہ ماذکرنا ان لااثر للمجلس فیما ھنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول :
ندب کراہت کے منافی نہیں توبعید نہیں کہ بربنائے فضیلت فی نفسہ مندوب ہولیکن ایک مجلس میں اس کاترک اولٰی ہو۔ حلیہ میں لکھا ہے کہ نفل خلافِ اولٰی ہونے کے منافی نہیں اھ
اسے صفۃ الصلوٰۃ کے تحت بعد والی دونوں رکعتوں میں قرأت کے مسئلہ میں ذکرکیاہے اور سید طحطاوی نے حواشی مراقی میں لکھا ہے کہ کراہت ثواب کے منافی نہیں علامہ نوح نے اس کا افادہ کیااھ۔ یہ انہوں نے فصل احق بالامامۃ میں اقتدائے مخالف کے مسئلہ میں ذکرکیاہے۔ہاں اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جوہم نے بیان کیاکہ'' جگہ بدلنے کو اس باب میں کوئی دخل نہیں''۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔(ت)
فـــ۱معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
فـــ۲ الندب لا ینافی الکراھۃ۔
( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوٰۃ فصل فی بیان الاحق بالامامۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴ )