Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
99 - 123
رسالہ 

نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم(۱۳۲۵)

(قوم کو تنبیہ کہ کس نیند سے وضوء فرض ہوتا ہے )
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
مسئلہ۱۱:        ۱۴ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کس طرح کے سونے سے وضو جاتا ہے اس میں قول مننقح کیا ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے ۔ت)
الجواب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط

الحمدللّٰہ الذی لاتأخذہ سنۃ ولا نوم وافضل الصلاۃ والسلام بعدد اٰنات کل یوم علٰی من لاینام قلبہ فما کان وضوؤہ لینتقض بالنوم وعلی اٰلہ وصحبہ الذین نبھوا فنبّھوا من نوم الغفلۃ غفلۃ القوم۔
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس پر نیند طاری نہیں ہوتی اور افضل درود و سلام ہر روز آنات کی تعداد کے مطابق اس ذات پر جس کا دل نہیں سوتا اور جس کا وضو نیند سے نہیں ٹوٹتا اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بیدار ہوئے اور قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ۔ (ت)
امام المدققین سیدی علاء الدین دمشقی حصکفی وعلامہ جلیل ابو الاخلاص حسن شرنبلالی ومحقق بالغ النظر سیدی ابرہیم حلبی ودیگر اکابر اعلام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے درمختار ونور الایضاح وغنیہ وصغیری وغیرہا میں بعد احاطہ اقوال جو اس باب میں قول منقح فہیم مستفید
من القی السمع وھو شہید
کیلئے افادہ فرمایا اس کا حاصل وعطر محاصل یہ ہے کہ نیندفــــ۱ دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے:
فـــ۱:نیند دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے ان میں سے ایک بھی کم ہو تو وضو نہ جائے گا
اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔  دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایک بھی کم ہے تو نہیں، مثلاً:

(۱)فـــ۲ دونوں سرین زمین پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے کرسی کی نشست اور ریل کی تپائی بھی اس میں داخل ہے۔
فـــ۲:مسئلہ سونے کی دس صورتیں جن سے وضونہیں جاتا۔
اقول:  مگر فـــ۳ یورپین ساخت کی کرسی جس کے وسط میں ایک بڑا سوراخ اسی مہمل غرض سے رکھا جاتا ہے اس سے مستثنٰی ہے اس کی نشست مانع حدث نہیں ہوسکتی۔
فـــ۳مسئلہ: کرسی مونڈھے پرپاؤں لٹکائے بیٹھا تھا ، سوگیا، وضونہ گیا۔ مگر یورپین ساخت کی کرسی جس کی وسط نشست گاہ میں ایک بڑا سوراخ رکھتے ہیں اس پر سونے سے جاتارہے گا
 (۲) دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ ساقوں پر محیط ہیں جسے عربی میں احتبا کہتے ہیں خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر ہوں اگرچہ سر گھٹنوں پر رکھا ہو۔

(۳) دو زانو سیدھا بیٹھا ہو۔    

(۴) چار زانو پالتی مارے ۔

یہ صورتیں خواہ زمین پر ہوں یا تخت یا چارپائی پر یا کشتی یا شقدف یا شبری یا گاڑی کے کھٹولے میں۔

(۵) گھوڑے فــ۱ یا خچر وغیرہ پر زین رکھ کر سوار ہے۔
فــ۱:مسئلہ گھوڑے پر زین ہے اس کی سواری میں سوگیا وضونہ جائے گا اگر چہ ڈھال میں اترتا ہو ۔
 (۶ و ۷) ننگی پیٹھ پر فــ۲سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا یا راستہ ہموار ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب صورتوں میں دونوں سرین جمے رہیں گے لہٰذا وضو نہ جائیگا اگرچہ کتنا ہی غافل ہوجائے اگرچہ سر بھی قدرے جھک گیا ہو نہ اتنا کہ سرین نہ جمے رہیں اگرچہ فــ۳ دیوار وغیرہ کسی چیز پر ایسا تکیہ لگائے ہو کہ وہ شے ہٹالی جائے تو یہ گرپڑے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اصل مذہب وظاہر الروایۃ ومفتی بہ وصحیح ومعتمد ہے اگرچہ ہدایہ وشرح وقایہ میں حالت تکیہ کو ناقض وضو لکھا۔

(۸) کھڑے کھڑے سوگیا فــ۴۔

(۹) رکوع کی صورت پر۔
فــ۲:مسئلہ ننگی پیٹھ پر سوار ہے او رسوگیا تواگر راستہ ہموار یاچڑھائی ہے وضونہ جائے گا اُتارہے تو جاتا رہے گا

فـــ۳:مسئلہ اگر دیوار وغیرہ سے تکیہ لگائے ہے اور اتنا غافل سوگیا کہ وہ شے ہٹالی جائے تو گر پڑیگا فتوی اس پر ہے کہ یوں بھی وضو نہ جائے گا جب کہ دونوں سرین خوب جمے ہوں۔

فــ۴:مسئلہ قیام قعود رکوع سجود نماز کی کیسی ہی حالت پر سوجائے اگر چہ غیر نمازمیں اس ہیات پر ہو وضونہ جائے گا مگر قعود میں وہی شرط ہے کہ دونوں سر ین جمے ہوں اور سجود کی شکل وہ ہو جو مردوں کے لئے سنت ہے کہ بازو پہلوؤں سے جداہوں اور پیٹ رانوں سے الگ ۔
(۱۰) سجدہ مسنونہ مرداں کی شکل پر کہ پیٹ رانوں اور رانیں ساقوں اور کلائیاں زمین سے جدا ہوں اگرچہ یہ قیام وہیأت رکوع وسجود غیر نماز میں ہو اگرچہ سجدہ کی اصلاًنیت بھی نہ ہو ظاہر ہے کہ یہ تینوں صورتیں غافل ہوکر سونے کی مانع ہیں تو ان میں بھی وضو نہ جائے گا۔

(۱۱) اکڑوں بیٹھے سویا فــ۵ ۔
فــ۵:مسئلہ: سونے کی دس صورتیں ہیں جن سے وضو جاتارہتا ہے
 (۱۲، ۱۳، ۱۴) چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر۔

(۱۵) ایک کہنی پر تکیہ لگا کر۔

(۱۶) بیٹھ کر سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایک یا دونوں سرین اُٹھے ہوئے ہیں۔

(۱۷) ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال میں اتر رہا ہے۔

اقول:  فقیرفــ۱ گمان کرتا ہے کہ کاٹھی بھی ننگی پیٹھ کے مثل ہے اور وہ یورپین وضع کی کاٹھیاں جن کے وسط میں اسی لئے خلا رکھتے ہیں مانع حدث نہیں ہوسکتیں اگرچہ راہ ہموار ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
فـــ۱:مسئلہ ظاہراکاٹھی کاحکم بھی ننگی پیٹھ کی طرح ہے اوریورپین ساخت کی کاٹھی جس کے بیچ میں سوراخ ہوتاہے اس پر سونے سے مطلقاوضوجاتارہے گا۔
 (۱۸) دوزانو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا ہے کہ دونوں سرین جمے نہ رہے ہوں۔

(۱۹) اسی طرح اگر چار زانو ہے اور سر رانوں یا ساقوں پر ہے۔

(۲۰) سجدہ غیرفــ۲ مسنونہ کی طور پر جس طرح عورتیں گٹھری بن کر سجدہ کرتی ہیں اگرچہ خود نماز یا اور کسی سجدہ مشروعہ یعنی سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر میں ہو ان دس صورتوں میں دونوں شرطیں جمع ہونے کے سبب وضو جاتا رہے گا اور جب اصل مناط بتا دیا گیا تو زیادہ تفصیل صور کی حاجت نہیں ان دونوں شرطوں کو غور کرلیں جہاں مجتمع ہیں وضو نہ عــــہ رہے گا ورنہ ہے البتہ فتاوی امام قاضی خان میں فرمایا کہ تنورفــ۳کے کنارے اُس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سونے سے بھی وضو جاتا رہتا ہے کہ اُس کی گرمی سے مفاصل ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ ۱؎
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الطہارۃ، فصل فی النوم     نولکشور لکھنؤ        ۱ /۲۰)
فــ۲مسئلہ: خاص نماز کے سجدے میں بھی اگر اس پر سویا کہ کلائیاں زمین پر بچھی ہیں پیٹ رانوں سے لگائے پنڈلیاں زمین سے ملی ہیں جیسے عورتوں کا سجدہ ہوتا ہے تو وضو جاتارہے گا اسے یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ عورت سجدے میں سوئے وضوساقط اور مرد سوئے توباقی۔

فــ۳:مسئلہ: گر م تنور کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سوگیا تو مناسب ہے کہ وضو کرلے۔

عــہ: یہ بیس صورتیں کلمات علماء میں منصوص ہیں جو باقی صورت اور کوئی پائی جائے اُس کیلئے ضابطہ بتایا گیا ہے اگر اُس کا حکم کتابوں سے نہ ملے تو اس ضابطہ سے نکال لیں یا اختلاف پائیں تو جو قول اس ضابطہ کے مطابق ہو اُس پر عمل کریں کما سیاتی التصریح بہ عن الغنیۃ ان شاء اللّٰہ تعالٰی (جیسا کہ اس کی تصریح بحوالہ غنیہ آگے آرہی ہے)۱۲ منہ (م)
Flag Counter