Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
98 - 123
قولہ و فیہ ما ذکرنا ای ان ما فی المجتبی وغیرہ یقتضی طہارتہ ۱؎ ۔
قولہ اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا یعنی یہ کہ جو مجتبی وغیرہ میں ہے وہ اس کی طہارت کا مقتضی ہے ۔
 (۱؎ حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ   باب الانجاس     قلمی     ص ۳۵)
اقول:  و فیہ ما ذکرنا اھ ما کتبت ثمہ۔
اقول:  اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ وہ حاشیہ ختم جو میں نے وہاں لکھا ۔
وقد نقل فی رد المحتار قبیل الصلٰوۃ عبارۃ الفتح ھذا الی قول التجنیس و ھو الصحیح و اقرہ علیہ فکتبت علیہ اقول قدم فـــ الشارح العلامۃ فی النواقض تصحیح کونہ نجسا مغلظا و قدم المحشی ثمہ انہ حیث صحح القولان فلا یعدل عن ظاھر الروایۃ ولذا جزم بہ الشارح اھ فکان علیہ ان لا یقر علی خلافہ ھھنا۲؎ و لکن الانسان للنسیان و حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل۔
اور ردالمحتار میں کتاب الصلوۃ سے ذرا پہلے فتح القدیر کی یہ عبارت تجنیس کے قول '' و ھو الصحیح ''تک نقل کرکے برقرار رکھی تو اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول اس سے پہلے نواقضِ وضو میں شارح علامہ اس کے نجاست غلیظہ ہونے کی تصحیح ذکر کرچکے ہیں اور وہاں حضرت محشی نے بھی یہ لکھا ہے کہ : جب دونوں قول تصحیح یافتہ ہیں تو ظاہر الروایہ سے عدول نہ کیا جائے گااھ اسی لئے شارح نے اس پر جزم فرمایا اھ تو ان پر لازم تھا کہ یہاں اس کے خلاف برقرار نہ رکھیں لیکن انسان نسیان کی وجہ سے ہے
وحسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل۔
 (۲؎ جد الممتار علی ردالمحتار     کتاب الطہارۃ    فصل فی استنجاء     مکتب المجمع الاسلامی مبارکپور     ۱ /۱۸۶)
فـــ:معروضۃ علی العلامۃ ش۔
ولنرجع الی اول المسئلۃ الحکم الذی قررناہ بنصوص فتاوی النسفی و جواھر الفتاوی و الخلاصۃ و البزازیۃ و الخزانۃ یترا ای خلافہ من الغنیۃ اذ قال ( نفطۃ قشرت فسال منہا ماء ) خالص اجتذب من الخارج والتامت علیہ ( او دم او صدید ان سال عن رأس الجرح نقض و ان لم یسل لا ۱؎۔)
اب ہم اول مسئلہ کی طرف رجوع کریں ، فتاوی نسفی ، جواہر الفتاوی ، خلاصہ ، بزازیہ اور خزانہ کی تصریحات سے ہم نے جس حکم کی تقریر کی ، غنیہ سے اس کے خلاف کا خیال ہوتا ہے ، اس کی عبارت یہ ہے : ( کسی آبلے کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی بہا ) خالص پانی جو خارج سے جذب ہوا اور آبلہ اسے لے کر بند ہو گیا( یا خون یا صدید بہا ، اگر سرِ زخم سے بہہ گیا تو وضو جاتا رہا ، نہ بہا تو نہیں )
 (۱؎ غنیۃ المستملی نواقض الوضوء     سہیل اکیڈیمی لاہور     ص ۱۳۱ )
اقول :اصل فــــ المسألۃ فی الجامع الصغیر کما تقدم والظاھر المتبادر منہ ماء النفطۃ وھو الدم الذی نضج فرق فاشبہ الماء ھکذا فھمہ العامۃ قال الامام فقیہ النفس فی شرحہ تحت ھٰذہ المسألۃ قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع لایکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطہارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء واذا کان دما کان نجسانا قضا للوضوء ۲؎ اھ
اس مسئلہ کی اصل جامع صغیر میں ہے جیسا کہ گزرا اور اس سے ظاہر متبادر آبلہ کا پانی ہے اور یہ وہ خون ہے جو پک کر رقیق ہو گیا تو پانی جیسا بن گیا۔ عامہ مصنفین نے اسے اچھی طرح سمجھا ، امام فقیہ النفس اپنی شرح میں اس مسئلہ کے تحت لکھتے ہیں : حسن بن زیاد نے فرمایا : پانی پسینہ اور آنسو کی طرح نجس نہیں اور اس کا نکلنا طہارت جانے کا موجب نہیں اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا۔ اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا نہ پکا تو اس کا رنگ پانی جیسا ہو جاتا ہے اور جب وہ خون ہے تو نجس ، ناقضِ وضو ہو گا ۔ اھ
 (۲؎ شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان )
فـــــ:تطفل علی الغنیۃ۔
وقال فی الحلیۃ تحت عبارۃ المنیۃ المذکورۃ قال فخر الاسلام وغیرہ قد تکون النفطۃ اصلہادما ثم ینضج فیصیر قیحا ثم یزداد طبخا فیصیر صدیدا ثم قد یصیر ماء وقد یکون فی الابتداء ماء ۳؎ اھ
حلیہ میں منیہ کی عبارت کے تحت لکھا : فخر الاسلام وغیرہ نے فرمایا : آبلہ کبھی اصل میں خون ہوتا ہے پھر پک کر پیپ ہو جاتا ہے ، پھر مزید پک کر صدید بن جاتا ہے پھر کبھی پانی ہوجاتا ہے ، اور کبھی شروع ہی میں پانی ہوتا ہے اھ ۔
 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی ۔)
وفی البحرالرائق وعن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ توسعۃ لمن بہ جرب اوجدری کذافی المعراج ۱؎ اھ وفی منحۃ الخالق قال فی الجمہرۃ تنفطت ید الرجل اذا رق جلدھا من العمل وصار فیھا کالماء والکف نفیطۃ ومنفوطۃ کذا فی غایۃ البیان وقال ایضا بعدہ ھذا ای النقض اذا کانت النفطۃ اصلہا دما وقد تکون من الابتداء ماء ۲؎ اھ ثم اقول بعد تسلیمہ یجب حملہ علی مااذا کان فی النفطۃ من دم اوقیح ماینجس لاماء والا فالحجۃ ماقدمنا من النصوص واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
البحر الرائق میں ہے : حسن سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقضِ وضو نہیں ، امام حلوانی نے فرمایا : اس میں خارش یا چیچک والوں کے لئے وسعت ہے ایسا ہی معراج میں ہے اھ منحۃ الخالق میں ہے : جمہرہ میں کہا : بولا جاتا ہے تَنَفَّطَتْ یَدُ الرَّجُل ، جب آدمی کے ہاتھ کی جلدکام کی وجہ سے پتلی ہو جائے اور اس میں پانی جیسی چیز پیدا ہو جائے اور بولتے ہیں :
الکف نفیطۃ و منفوطۃ
 ( ہتھیلی آبلہ دار ہو گئی ) ایسا ہی غایۃ البیان میں ہے ۔ آگے لکھا : وضو ٹوٹنا ا س وقت ہے جب آبلہ کی اصل خون ہو اور کبھی شروع ہی سے پانی ہوتا ہے اھ ثم اقول اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب آبلہ میں اتنا خون یا پیپ ہو جو پانی کو ناپاک کر دے ورنہ حجّت وہ نصوص ہیں جو پہلے ہم رقم کر چکے واللہ تعالٰی اعلم ۔ (ت)
 (۱؎ البحر الرائق     کتاب الطہارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۳۲)

(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۳۲)
Flag Counter