Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
96 - 123
مسئلہ ۱۰: ۱۰ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک پھڑیا تھی اُس نے اوپر کی جانب سے منہ کیا اور پھوٹی، بہی، بالکل اچھی ہوگئی، مگر اس کا بالائی پوست اور اس کے نیچے خالی جگہ ہنوز باقی ہے۔ زید نہایا غسل کا پانی کہ اوپر سے بہتا آیا اُس خلا میں بھر گیا، بعد نہانے کے زید نے ہاتھ سے دبادیا کہ وہ پانی بہہ کر نکل گیا، اس صورت میں وضو ساقط ہوا یا نہیں ؟اور جس بدن پر وہ پانی گزرا پاک رہا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
الجواب :جب فـــ کہ وہ پانی پھڑیا کا نہیں بلکہ خالص غسل کا ہے پھڑ یا بالکل صاف ہوگئی تھی کہ اُس میں خون پیپ کچھ نہ رہا تھا تو نہ وضو گیا نہ بدن ناپاک ہوا۔
فــــ:مسئلہ پُھڑیا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خلاہے نہانے میں اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکال دیا وضو نہ جائے گا نہ وہ پانی ناپاک ہوا ۔
جواہر الفتاوٰی امام کرمانی باب رابع فتاوائے امام نجم الدین عمر نسفی میں ہے:
جرح لیس فیہ شیئ من قیح اودم اوصدید دخل صاحبہ الحمام فدخل ماء الحمام الجرح فلما خرج من الحمام عصر الجرح فخرج ماء الحمام لاینتقض الوضوء لان الخارج ماء الحمام لاما حصل من الجرح ۱؎۔
ایسا زخم جس میں پیپ ، خون ، صدید کچھ نہیں ، زخم والا حمام گیا حمام کا پانی زخم میں چلا گیا ، جب وہ حمام سے باہر آیا تو زخم نچوڑا جس سے حمام کا پانی نکل گیا تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ جو نکلا وہ حمام کا پانی ہے وہ نہیں جو زخم سے پیدا ہوا ۔ (ت)
(۱؎ جواہر الفتاوی )
اسی طرح خلاصہ میں ہے:
ولفظھا فخرج منہ الماء وسال لاینقض ۲؎۔
اس کے الفاظ یہ ہیں : تو اس سے پانی نکلا اور بہا تو اس سے وضو نہ جائے گا ۔ (ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۷)
وجیز امام کردری میں ہے:
دخل الماء جرحہ ولادم ولا صدید فیہ ثم خرج منہ لاینقض ۳؎۔
زخم میں پانی چلا گیا اور اس میں خون ، صدید کچھ نہ تھا وہ پانی اس سے نکلا تو وضو نہ جائیگا ۔ (ت)
 (۳؎ الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ جکتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲)
خزانۃ المفتین میں ہے:
الماء اذا دخل الجرح ثم خرج لایضر ۴؎ اھ ۔
پانی زخم میں بھر گیا پھر نکلا تو ضرر نہیں اھ(ت)
 (۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۵)
اقول: رمزلہ خ یعنی الخلاصۃ وقد بالغ فــــ فی الاختصار حتی بلغ الاقتصاد فانہ صور المسألۃ بقولہ جرح لیس فیہ شیئ من الدم والقیح ۱؎الخ کما صور مأخذہ فتاوی الامام النسفی والاٰخذ منہ وجیز الکردری ۔
اقول :اس کے لئے خ یعنی خلاصہ کا رمز دیا اور اتنا زیادہ اختصار کر دیا کہ حدِ قصور تک پہنچ گیا اس لئے کہ خلاصہ میں صورتِ مسئلہ اس طرح بیان کی ہے : ایسا زخم ہے جس میں خون ، پیپ کچھ نہیں الخ جیسا کہ اس کے ماخذ فتاوٰی امام نسفی میں بیان کیا ہے اور خلاصہ سے اخذ کرنے والے امام کردری نے وجیز میں بیان کیا ہے ۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۷)
فــــ: تطفل علی خزانۃ المفتین ۔
ولابد منہ لانہ لوفــــ۱کان فیہ ذلک یتنجس الماء بالمجاورۃ فینقض بالمجاوزۃ لان خروج نجس سال ناقض مطلقا وان کان شیئا طاھرا انما اکتسب النجاسۃ فی الباطن بالجوار الا تری انہ اذا شرب فـــ۲الماء ووصل معدتہ ثم خرج بالقیئ من ساعتہ وکان ملأفیہ نقض قال فی الدر وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولو من فـــ۳ صبی ساعۃ ارتضاعہ ھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ذکرہ الحلبی ۲؎ اھ
 (۲؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵ و ۲۶)
اور اسے بیان کرنا بہت ضروری ہے اس لئے کہ اگر زخم میں خون پیپ وغیرہ کچھ رہا ہو تو بعد میں اندر جانے والا پانی اتصال کی وجہ سے نجس ہو جائے گا پھر زخم سے تجاوز کرنے پر وضو توڑ دے گا اس لئے کہ ایسے نجس کا نکلنا جو بہہ جائے مطلقاً ناقضِ وضو ہے اگرچہ وہ پہلے کوئی پاک چیز رہی ہو اندر جا کر صرف اتصال کی وجہ سے نجس ہو گئی ہو دیکھئے جب پانی پیا اور معدہ میں پہنچ گیا پھر فوراً قے کے ساتھ نکل آیا اور قے منہ بھر کر تھی تو وہ ناقضِ وضو ہے ، درمختار میں ہے : اگرچہ اندر ٹھہرا نہ ہو اور وہ نجاستِ غلیظہ ہے اگرچہ بچّے سے دودھ پیتے ہوئے ایسا ہوا ہو یہی صحیح ہے کہ نجاست سے اختلاط ہو گیا اسے حلبی نے ذکر کیا ۔اھ
فــــ۱:مسئلہ پھڑیا میں اگر ابھی خون وغیرہ رطوبت باقی ہے نہانے کا پانی اس میں بھرا اور بہہ کر نکلا وضو جاتا رہے گا کہ وہ پانی نجس ہو گیا ۔

فــــ۲:مسئلہ پانی پیا اور معدے میں اُتر گیا اور معاً قے ہو کر ویسا ہی صاف نتھرا پانی نکل گیا وضو جاتا رہا جب کہ منہ بھر کر ہو اور وہ پانی بھی نا پاک ہے ۔

فـــ ۳:مسئلہ بچے نے دودھ پیا اور معدے تک پہنچا ہی تھا کہ فوراً ڈال دیا وہ دودھ نجس ہے جبکہ منہ بھر ہو روپے بھر جگہ سے زیادہ جس چیز پر لگ جائے گا ناپاک کر دے گا ۔
فان قلت ھنا روایۃ اخری ان قیئ الماء لاینتقض مالم یستحل وقد صحح ایضا قال فی البحر تحت قول المتن وقیئ ملافاہ ولوطعاما اوماء اطلق فی الطعام والماء قال الحسن اذا تناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینقض لانہ طاھر حیث لم یستحل وانما اتصل بہ قلیل القیئ فلا یکون حدثا فلا یکون نجسا وکذا الصبی اذا ارتضع وقاء من ساعتہ وصححہ فی المعراج وغیرہ ومحل الاختلاف اذا وصل الی معدتہ ولم یستقر،امالو قاء قبل فــــ الوصول الیہا وھو فی المریئ فانہ لاینقض اتفاقا کماذکرہ ۱؎ الزاھدی اھ
اگر سوال ہو کہ یہاں ایک روایت اور ہے وہ یہ کہ پانی کی قے ناقضِ وضو نہیں جب تک کہ پانی متغیر نہ ہو ا ہو اس روایت کی تصحیح بھی ہوئی ہے کنز میں ہے : اور وہ قے جو منہ بھر ہو اگرچہ کھانے یا پانی کی ہو اس پر بحر میں کہا :کھانے اور پانی میں حکم مطلق بیان کیا حسن بن زیاد نے کہا جب کھانا کھائے یا پانی پئے پھر فوراً قے کر دے اور وہ ناقض نہیں اس لئے کہ وہ پاک ہے کیوں کہ ابھی وہ متغیر نہ ہوا صرف یہ ہے کہ اس سے تھوڑی سی قے کا اتصال ہوا تو یہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں ، اسی طرح بچہ جب دودھ پئے اور فوراً قے کر دے ، اسے معراج وغیرہ میں صحیح کہا- اور محلِ اختلاف وہ صورت ہے جب معدہ تک پہنچ گیا ہو اور ٹھہرا نہ ہو ، اور اگر معدہ تک پہنچنے سے پہلے قے کر دی جب کہ وہ کھانا پانی گزرنے کی نالی ہی میں تھا تو بالاتفاق ناقضِ وضو نہیں جیسا کہ زاہدی نے ذکر کیا ہے اھ۔
 (۱؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۴)
فــــ: مسئلہ پانی پیا کہ اور ابھی سینے ہی تک پہنچا تھا کہ اُچھو سے نکل گیا وہ ناپاک نہیں ، نہ اس سے وضو جائے ، یونہی دودھ۔
وقال المحقق فی الفتح تحت قول الھدایۃ ان قاء بلغما فغیرناقض وقال ابو یوسف ناقض لانہ نجس بالمجاورۃ ولھما انہ لزج لاتتخللہ النجاسۃ وما یتصل بہ قلیل والقلیل فی القیئ غیر ناقض مانصہ ''وعلی ھذا یظھر ماء فی المجتبی عن الحسن لوتناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینتقض لانہ طاھر ۱؎ الی اٰخر مامر عن البحر الی مسئلۃ ارتضاع الصبی قال المحقق قیل ھو المختار وما فی القنیۃ لو قاء فــــ۱ دودا کثیرا اوحیۃ ملأت فاہ لاینقض۲؎ اھ''وقال المحقق ایضا فی باب الانجاس مرارۃ فــــ ۲ کل شیئ کبولہ واجترارہ فــــ۳ کسرقنیہ قال فی التجنیس لانہ و اراہ جوفہ الاتری ان مایواری جوف الانسان بان کان ماء ثم قاء فحکمہ حکم بولہ انتھی۔
ہدایہ کی عبارت ہے :'' اگر بلغم کی قے کی تو وہ ناقض نہیں اور امام ابو یوسف نے فرمایا ناقض ہے اس لئے کہ اتصال کی وجہ سے وہ نجس ہے اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وہ لیس دار ہے جس میں نجاست سرایت نہیں کر پاتی اور جو کچھ اس سے لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے اور قے میں قلیل غیر ناقض ہے '' اس کے تحت فتح القدیر میں حضرت محقق یہ لکھتے ہیں : اور اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں حسن سے منقول ہے کہ اگر کھانا کھایا یا پانی پیا پھر فوراً قے کر دی تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ وہ پاک ہے ( اس عبارت کے آخر تک جو بحرکے حوالے سے بچے کے دودھ پینے کے مسئلے تک گزری ) حضرت محقق نے فرمایا:وہی مختار ہے۔ اور وہ بھی ظاہر ہے جو قنیہ میں ہے کہ اگر بہت کیڑوں یا سانپوں سے منہ بھری قے کی تو ناقض نہیں اھ اور حضرت محقق ہی نے باب الانجاس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر جاندار کا پِتّہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے اور اس کی جگالی اس کے گوبر ، مینگنی کے حکم میں ہے تجنیس میں کہا اس لئے کہ اسے اس کے جوف نے چھپا رکھا ہے ، دیکھو جسے انسان کے جوف نے چھپا لیا ہو مثلاً پانی تھا پھر اس کی قے کی تو اس کا حکم اس کے پیشاب کا ہے انتہی ۔
 (۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ /۴۱) 

(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ /۴۱)
فـــــ۱: مسئلہ اگر معاذ اللہ کیڑے قے ہو گئے یا سانپ ، وضو نہ جائے گا اگرچہ منہ بھرکر ہو ۔

فــــ۲ :مسئلہ ہر جاندار کا پِتّہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے مثلاً آدمی کے پت نجاست غلیظہ ہیں گھوڑے گائے کے نجاست خفیفہ ۔

فــــ۳ : مسئلہ ہر جانور کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے مثلاً اونٹ ، گائے ، بھینس ، بکری کی نجاست خفیفہ اور جلالہ کی غلیظہ ۔
Flag Counter