تنبیہ ہفتم : قول علماء :''ما لیس بحدث لیس بنجس جو حدث نہیں وہ نجس نہیں '' ایک نفیس نفع بخش قاعدہ ہے جس کا افادہ قاضی شرق و غرب سیدنا ابو یوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اور متون مذہب وغیرہ میں یہ اسی طرح مذکور ہے شارحین نے اس کے عکس کی نفی کا اضافہ کیا اور فرمایا کہ اس کا عکس نہ ہو گا ، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث نہ ہو گا جیسا کہ درایہ وغیرہ میں ہے ۔
فـــ۲ـــ: تحقیق قولہم ما لیس بحدث لیس بنجس قضیۃ و عکسا ۔
قال العلامۃ الشامی یرید بہ العکس المستوی لانہ جعل الجزء الاول ثانیا والثانی اولا مع بقاء الصدق والکیف بحالھما وعزاہ۱؎ للشیخ اسمٰعیل والد سیدی عبدالغنی النابلسی رحمہم اللّٰہ تعالٰی۔
علامہ شامی نے کہا کہ اس سے عکس مستوی مراد ہے کیونکہ وہ جز اول کو ثانی اور ثانی کو اول کر دینے کا نام ہے اس طرح کہ صدق اور کیف اپنی حالت پر باقی رہیں اور اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی کے والد شیخ اسمٰعیل رحمہم اللہ تعالٰی کی طرف منسوب کیا ۔
(۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵)
اقول: ھذہ فـــ۱ــ زلۃ واضحۃ فانھم لوارادوا بہ العکس المنطقی لکان نفیہ نفی الاصل لان العکس من اللوازم ولم فــ۲ــ یلتفت رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی قول نفسہ مع بقاء الصدق فاذا کان الصدق باقیا فکیف یصح بل الحق انھم انما یریدون فی امثال المقام نفی العکس العرفی وھو عکس الموجبۃ الکلیۃ کنفسھا تقول کل حلال طاھر ولا عکس ای لیس کل طاھر حلالا وھذا معہود متعارف فی الکتب العقلیۃ ایضا تراھم یقولون ارتفاع العام یستلزم ارتفاع الخاص ولاعکس ونفی اللازم یستلزم نفی الملزوم ولاعکس الی غیر ذلک وھذا اظہر من ان یظھر ثم اختلف نظر الفاضلین البر جندی والشیخ اسمٰعیل فی کیف ھذہ القضیۃ فجعلھا البرجندی موجبۃ وشارح الدر ر سالبۃ۔
اقول : یہ کھلی ہوئی لغزش ہے اس لئے کہ اگر عکس منطقی مراد ہوتا تو اس کی نفی سے اصل ہی کی نفی ہو جاتی اس لئے کہ عکس لازم قضیہ ہوتا ہے (اگر کوئی قضیہ ہے تو اس کا عکس بھی ضرور ہو گا ) انہوں نے خود اپنے قول ''مع بقاء الصدق ،ا س طرح کہ صدق باقی رہے '' کی طرف التفات نہ کیا جب صدق باقی رہے گا تو اس کی نفی کیسے صحیح ہو گی ؟ بلکہ حق یہ ہے کہ اس طرح کے مقامات میں عکس عرفی کی نفی مراد لیتے ہیں وہ یہ کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ ہو آپ کہتے ہیں کل حلال طاہر و لا عکس ، ای لیس کل طاہر حلالا ہر حلال پاک ہے اور اس کا عکس نہیں یعنی ہر پاک حلال نہیں ، یہ کتب عقلیہ میں بھی معہود و متعارف ہے ، آپ دیکھیں گے کہ وہ کہتے ہیں کہ ارتفاعِ عام ارتفاعِ خاص کو مستلزم ہے (عام یہ ہو گا تو خاص بھی نہ ہو گا ) اور اس کا عکس نہیں ، نفی لازم نفی ملزوم کو مستلزم ہے اور اس کا عکس نہیں ، اس کی بہت ساری مثالیں ہیں اور یہ اتنا ظاہر ہے کہ محتاج اظہار نہیں پھر فاضل برجندی اور شیخ اسمٰعیل کے درمیان اس قضیہ کی کیفیت ( ایجاب و سلب ) میں اختلافِ نظر ہوا ، برجندی نے اسے موجبہ قرار دیا اور شارح درر نے سالبہ ٹھہرایا ۔
فــــ۱ــ: تطفل علی الشیخ اسمٰعیل النابلسی و العلامۃ ش ۔
فــــ۲ــ: تطفل اٰخر علیہما ۔
فـــ۳ــ: الفرق بین العکس المنطقی و العرفی و ان العرفی معروف حتی فی الکتب العقلیۃ والمنطقیۃ ۔
فی شرح النقایۃ مالیس بحدث لیس بنجس ای کل مالیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین وغیرھما لیس بنجس ھذہ الکلیۃ السالبۃ الطرفین تنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ولا یستلزم ذلک ان یکون کل حدث نجسا وھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ وسلمت عن توھم الدور۱؎ اھ مختصرا۔
شرح نقایہ میں ہے :
ما لیس بحدث لیس بنجس ، ای کل ما لیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین و غیرہما لیس بنجس
یعنی سبیلین اور غیر سبیلین سے نکلنے والی چیزوں میں سے ہر وہ جو حدث نہیں وہ نجس نہیں ، اس سالبہ الطرفین کلیہ کا عکس نقیض یہ ہو گا ۔ کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ۔ مذکورہ اشیاء سے ہر نجس حدث ہے اور یہ اس کو مستلزم نہیں کہ ہر حدث نجس ہو اور یہ کلیہ اگر قے کے مباحث کے متعلق کر دیا جاتا تو اس کی ایک صورت ہوتی اور دور کے وہم سے سلامت رہتا اھ مختصراً۔
(۱؎ شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۳)
اقول: ویرد علیہ اولا ان الاشیاء المذکورۃ اعنی الخارجۃ من بدن المکلف انما اریدت بما وھی من الموضوع دون المحمول فمن ان یاتی ھذا التقیید فی موضوع العکس وبدونہ یبقی کاذبا فیکذب الاصل۔
اقول: اس پر چند اعتراضات وارد ہوں گے اولاً اشیائے مذکورہ یعنی
خارجہ من البدن المکلف ، ''ما ''
سے مراد لی گئیں اور ما موضوع کا جز ہے محمول کا نہیں تو یہ قید عکس کے موضوع میں کہاں سے آ جائے گا ؟ اور اگر یہ قید نہ ہو تو عکس کاذب ہو جائے گا تو اصل بھی کاذب ہو جائے گی ۔
وثانیا : لیس موضوع الاصل لیس بحدث بل ماوالمراد بھا شیئ مخصوص وھو الخارج من بدن المکلف فانما یؤخذ نقیضہ بایراد السلب علی مالا بحذفہ من متعلق الموضوع وانتظر ماسنلقی من التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق۔
ثانیاً : اصل کا موضوع ''لیس بحدث ''نہیں بلکہ '' ما '' ہے اور اس سے مراد ایک مخصوص چیز ہے یہ وہ ہے جو مکلف کے بدن سے نکلنے والی ہو تو اس کی نقیض '' ما '' ہی پر سلب کر لی جائے گی ، نہ یوں کہ '' ما '' کو متعلق موضوع سے حذف کر دیا جائے اور اس کا انتظار کیجئے جو تحقیق ہم پیش کر رہے ہیں اور خدائے برتر مالکِ توفیق ہے ۔
وثالثا: تحررفـــ۱ــ مما تقرران السلب لیس جزء الموضوع فکیف تکون سالبۃ الطرفین
ثالثاً : تقریر سابق سے واضح ہوا کہ سلب جزء موضوع نہیں تو یہ سالبۃ الطرفین کیسے ہو گا ؟
فــ۱ــ: تطفل علی العلامۃ البرجندی ۔
وقال فی ردالمحتار ماذکرہ المصنف قضیۃ سالبۃ کلیۃ لامہملۃ لان ماللعموم وکل مادل فــ۲ــ علیہ فھو سورا لکلیۃ کما فی المطول وغیرہ فتنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس حدث لانہ جعل نقیض الثانی اولا ونقیض الاول ثانیا مع بقاء الکیف والصدق بحالہ وتمامہ فی شرح الشیخ اسمٰعیل ۱؎ اھ۔
علامہ شامی نے ردالمحتار میں کہا : مصنف نے جو ذکر کیا قضیہ سالبہ کلیہ ہے ، مہملہ نہیں ، اس لئے کہ '' ما '' عموم کے لئے ہے اور جو بھی عموم پر دلالت کرے وہ کلیہ کا سور ہو جائے گا جیسا کہ مطوّل وغیرہ میں ہے تو اس کا عکس نقیض یہ ہو گا کل نجس حدث ہر نجس حدث ہے اس لئے کہ عکس نقیض کی تعریف یہ ہے : نقیض ثانی کو اول اور نقیض اول کو ثانی کرنا ، اس طرح کہ صدق اور کیف اپنے حال پر باقی ہو اس کی تکمیل شیخ اسمٰعیل کی شرح میں ہے اھ۔
فـــ۲ــ: کل ما دل علی العموم کما و من فہو سور الکلیۃ ۔
(۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ نواقضِ وضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵ )