Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
91 - 123
السادس:  تقدم ان الدم فی مجلس یجمع وھی الروایۃ الدوارۃ فی الکتب اجمع لکن قال فـــــ الامام الاجل برھان الملۃ والدین صاحب الہدایۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی کتابہ مختارات النوازل فی فصل النجاسۃ الدم اذا خرج من القروح قلیلا قلیلا غیر سائل فذاک لیس بمانع وان کثر وقیل لوکان بحال لوترکہ لسال یمنع ۱؎ اھ
تنبیہ ششم : گزر چکا کہ ایک مجلس میں تھوڑا تھوڑا چند بار آنے والا خون جمع کیا جائے گا یہی وہ روایت ہے جو تمام کتابوں میں متداول ہے لیکن امام اجل برہان الملۃ و الدین صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ تعالی نے مختارات النوازل فصل النجاسۃ میں لکھا ہے :''پھوڑے سے خون جب تھوڑا تھوڑا نکلے ، بہنے والا نہ ہو تو وہ مانع نہیں اگرچہ زیادہ ہو جائے اورکہا گیا کہ اگر اس کی یہ حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیا جاتا تو بہتا تو وہ مانع ہے ''اھ
 (۱؎ الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۶۳)
فـــــ: مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے ایک کتاب میں فرمایا کہ خون جو تھوڑا تھوڑا نکلے کہ کسی دفعہ کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہ ہو اگرچہ جمع کرنے سے کتنا ہی ہو جائے اصلاً ناقضِ وضو نہیں اگرچہ ایک ہی مجلس میں نکلے یہ قول خلاف مشہور و مخالف جمہور ہے بے ضرورت اس پر عمل جائز نہیں ، ہاں جو ایسے زخم یا آبلوں میں مبتلا ہو جس سے اکثر خون یا ریم قلیل نکلتا رہتا ہے کہ ایک بار کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر جلسہ واحدہ کا جمع کئے سے ہو جاتا ہے اور بار بار وضو اور کپڑوں کی تطہیر موجب ضیق کثیر ہے کہ معذوری کی حد تک نہ پہنچا اس کے لئے اس پر عمل میں بہت آسانی ہے ۔
ثم اعاد المسألۃ فی نواقض الوضوء فقال ولو خرج منہ شیئ قلیل ومسحہ بخرقۃ حتی لوترک یسیل لاینقض وقیل ۲؎ الخ۔
پھر ناقضِ وضو میں یہ مسئلہ دوبارہ لائے تو کہا :''اگر اس سے کچھ تھوڑا نکلے اور اسے کسی کپڑے سے پونچھ دے یہاں تک کہ اگر چھوڑ دیتا تو بہتا تو ایسا خون ناقض نہیں اور کہا گیا الخ۔''
 (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹)
فھذا صریح فی ترجیح عدم الجمع مطلقا لکنہ متوغل فی الغرابۃ حتی قال العلامۃ الشامی لم ارمن سبقہ الیہ ولامن تابعہ علیہ بعد المراجعۃ الکثیرۃ فھو قول شاذ قال ولکن صاحب فــــ الھدایۃ امام جلیل من اعظم مشائخ المذھب من طبقۃ اصحاب التخریج والتصحیح فیجوز للمعذ ورتقلیدہ فی ھذا القول عند الضرورۃ فان فیہ توسعۃ عظیمۃ لاھل الاعذار قال وقد کنت ابتلیت مدۃ بکی الحمصۃ ولم اجد ماتصح بہ صلاتی علی مذھبنا بلامشقۃ الا علی ھذا القول فاضطررت الی تقلیدہ ثم لماعافانی اللّٰہ تعالٰی منہ اعدت صلاۃ تلک المدۃ وللّٰہ تعالٰی الحمد ۱؎ اھ ھذا کلامہ فی شرح منظومتہ فی رسم المفتی۲؎
تو یہ نہ جمع کئے جانے کے حکم کی مطلقاً ترجیح میں تصریح ہے لیکن یہ قول انتہائی غرابت رکھتا ہے یہاں تک کہ علامہ شامی نے فرمایا کہ بہت مراجعت اور جستجو کے باوجود مجھے کوئی ایسا نظر نہ آیا جس نے ان سے پہلے یہ قول کیا ہو اور نہ ان کے بعد کوئی ملا جس نے اس قول میں ان کی متابعت کی ہو تو وہ ایک شاذ قول ہے (آگے فرمایا ) لیکن صاحبِ ہدایہ عظیم تر مشائخ مذہب میں سے امام جلیل ، اصحابِ تخریج و تصحیح کے طبقہ سے ہیں تو وقتِ ضرورت معذور کے لئے اس قول میں ان کی تقلید روا ہے اس لئے کہ عذر والوں کے لئے اس میں بڑی وسعت ہے ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں : میں ایک مدت تک آبلوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایسی صورت نہ پاتا تھا جس میں ہمارے مذہب کے مطابق میری نماز بلامشقت درست ہو سکے ، سوا اس قول کے تو مجبوراً میں نے اس کی تقلید کی پھر جب اللہ تعالٰی نے مجھے اس سے عافیت بخشی تو اس مدت کی نمازوں کا میں نے اعادہ کیا ۔۔۔۔۔۔وللہ تعالٰی الحمد اھ یہ علامہ شامی کا وہ کلام ہے جو رسم المفتی میں اپنے منظومہ کی شرح میں انہوں نے لکھا ہے
فــــ: صاحب الہدایۃ امام جلیل من ائمۃ التخریج وا لترجیح یجوز تقلیدہ ۔
(۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹) 

(۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹و ۵۰)
وقال فی الفوائد المخصصۃ صاحب الہدایۃ من اجل اصحاب الترجیح فیجوز للمبتلی تقلیدہ لان فیما ذکرناہ مشقۃ عظیمۃ فجزاہ اللّٰہ تعالٰی خیر الجزاء حیث اختار التوسیع والتسہیل الذی بنیت علیہ ھذہ الشریعۃ الغراء السہلۃ السمحۃ ۱؎ اھ
اور فوائد مخصصہ میں لکھتے ہیں : صاحبِ ہدایہ بزرگ تر اصحابِ ترجیح سے ہیں تو مبتلا کے لئے ان کی تقلید جائز ہے اس لئے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس میں بڑی مشقت ہے تو خدائے تعالٰی انہیں جزائے خیر بخشے کہ وہ توسیع و تسہیل اختیار کی جس پر اس روشن ، سہل ، آسان شریعت کی بنیاد رکھی گئی ۔اھ
 (۱؎ الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۶۳)
اقول : جوزالامام الکبیر العلم الشہیر الخصاف تزویج الوکیل مؤکلتہ بغیبتھا من دون تسمیتھا قال فـــ۱ــ الامام شمس الائمۃ السرخسی الخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ فقال فی البحر فـــ۲ــ المختار فی المذھب خلاف ما قالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا۲؎ اھ
اقول:  امام کبیر ، علم شہیر خصاف نے جائز قرار دیا ہے کہ وکیل اپنی مؤکلہ کا نکاح اس کی غیر موجودگی میں اس کا نام لئے بغیر کر دے ، امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : خصاف علم میں بزرگ تھے ، ان کی اقتداء ہو سکتی ہے اس پر بحر میں فرمایا : مذہب مختار اس کے برخلاف ہے جو خصاف نے فرمایا اگرچہ خصاف بزرگ ہیں اھ۔
فــــ۱ــ: الخصاف کبیر فی العلم یجوز اقتداؤہ ۔

فــــ۲ــ: العلم بما ھو المختار فی المذھب و ان کان قائل خلافہ اما ما کبیرا۔
 (۲؎ البحر الرائق کتاب النکاح فصل لابن العم ان یزوج الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۳۷)
وفی الدرعن تصحیح القدوری الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع ۳؎ اھ
اور درمختار میں تصحیح قدوری کے حوالے سے ہے قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے اھ۔
 (۳؎ الدر المختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵)
وفی عدۃ ردفـــ۳ــ المحتار التقلید وان جاز بشرطہ فھو للعامل لنفسہ لاللمفتی لغیرہ فلا یفتی بغیر الراجح فی مذھبہ ۱؎ اھ۔
ردالمحتار کے باب العدۃ میں ہے : تقلید اگرچہ جائز ہے مگر اس کے لئے جو خود عمل کرنے والا ہے اس کے لئے نہیں جو دوسرے کو فتوی دینے والا ہے وہ اس پر فتوی نہ دے گا جو اس کے مذہب میں غیر راجح ہو اھ۔
 (۱؎ رد المحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲)
نعم للمبتلی فیہ مافیہ من ترفیہ وھو ایسرفـــ۱ــ لہ من تقلید الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فان النجاۃ من التلفیق شأو سحیق وباللّٰہ التوفیق۔
ہاں اس میں مبتلا کے لئے راحت و آسانی ہے اور یہ اس کے لئے امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تقلید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ تلفیق سے نجات حاصل کرنا دور کی راہ ہے ، وباللہ التوفیق ۔
فــــ۳ـــ: تقلید الغیر عند الضرورۃ و ان جاز بشروطہ فلعمل نفسہ اما الافتاء فلایکون الا فی الراجح فی المذھب۔

فـــ۱ــ: عند الضرورۃ تقلید قیل فی المذھب احسن من تقلید مذھب الغیر ۔
Flag Counter