ولا یبعد ان یحمل علیہ مامر عن الشامی عن السراج عن الینابیع فقولہ السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز ای الذی فارمن قعرھا وسال فی غورھا وعلا علی راسھا ولم یتجاوز الراس لیوافق السراج خلاصۃ نفسہ الناصۃ ان حد التجاوز ان ینحدر عن راس الجرح کما تقدم ولا شک ان محمد اروی عنہ فی ھذہ النقض وان الماخوذ عدمہ فصح کل ماذکر السراج وان علمت علی رأسہ ثم انحدرت فلا شک فی انتقاض الوضوء وان لم یتجاوز سطح الورم لوجود الانحدار من الرأس الذی ھونا قض باجماع ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۔
اور بعید نہیں کہ اسی پر اسے بھی محمول کر لیا جائے جو شامی کے حوالے سے ، سراج پھر ینابیع سے نقل ہوا ، تو ان کی عبارت
'' السائل علی الجراحۃ اذا لم یتجاوز ''
کا معنی یہ کہ جو جراحت کی تہہ سے اُبلا ، اس کی گہرائی میں بہا ، اس کے سرے پر چڑھا اور سر سے آگے نہ بڑھا تاکہ سراج اور خود اسی کے خلاصے میں موافقت ہو جائے جس میں یہ صراحت موجود ہے کہ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سرِ زخم سے ڈھلک آئے جیسا کہ عبارت گزری اور شک نہیں کہ امام محمد سے اس صورت میں ایک روایت وضو ٹوٹنے کی بھی ہے اور مختار نہ ٹوٹنا ہے تو وہ سب درست ہو گیا جو سراج نے ذکر کیا اور اگر خون سرِ زخم کے اوپر جائے پھر ڈھلک آئے تو وضو ٹوٹنے میں مجھے کوئی شک نہیں اگرچہ سطح ورم سے تجاوز نہ کرے کیونکہ سر سے ڈھلکنا پا لیا گیا جو ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک بالاجماع ناقض ہے ۔
واظن فــــ الثانی ایضا کذالک فان الاتصال ان تفرق ولم تبق جلدۃ تسترہ لکن لدقتہ لایظھر غورہ للنظر الابان یفرق الجانبان بعمل الید بالقبض والجبذ مثلا ومثل ھذا لایجعل الباطن ظاھرا کما تقدم فی الفرج والشرح فکان کباطنھما بل باطن صماخ الاذن فی البطون مع عدم غطاء من فوق فما سال فیہ ولم یظھر فانما یسیل فی الباطن وما ظھر فان علاولم ینحدر لم ینقض علی المفتی بہ ولو علا علی سطح الجرح کلہ لعدم تحقق الانحدار وھذا المحمل اقرب من الاول لعبارۃ السراج والینابیع،اما اذا نبع الدم علی رأسہ فقط ثم انحدر منہ سائلا علی سطحہ فلاشک انہ لعدم العرض فی الجراحۃ یاخذ شیا من الجسم الصحیح ایضا من جنبیھا فیتحقق التجاوز الی البدن الصحیح ایضا ولا یبقی محل للامتراء فی انتقاض الطھر۔
میں سمجھتا ہوں دوسری صورت کا حکم بھی اسی طرح ہے اس لئے کہ ملاپ اگرچہ ختم ہو گیا اور اسے چھپانے والی کوئی جلد نہ رہی لیکن باریک ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی نظر پر ظاہر نہیں ہوتی مگر جب کہ دونوں کناروں کو مثلاً ہاتھ سے سمیٹ کر اور کھینچ کر الگ الگ کیا جائے اور ایسی صورت باطن کو ظاہر نہ کر دے گی جیسا کہ فرج اور کنارہ مقام براز سے متعلق گزرا ، تو اس کا باطن ان ہی دونوں کے باطن کی طرح ہے بلکہ اوپر سے کوئی پردہ نہ ہوتے ہوئے چھپا ہوا ہونے میں سوراخ گوش کے باطن کی طرح ہے تو اس میں جو خون بہے اور ظاہر نہ ہو وہ باطن ہی میں بہنے والا ہے اور جو ظاہر ہو اگرچہ اوپر چڑھا اور نیچے نہ اُترا تو قول مفتی بہ پر ناقض نہیں اگرچہ پوری سطحِ زخم کے اوپر چڑھ جائے کیونکہ نیچے ڈھلکنا متحقق نہ ہوا ، سراج اور ینابیع کی عبارت کے لئے یہ محمل پہلے سے زیادہ قریب ہے لیکن جب خون صرف سرِزخم پر اُبل کر آئے پھر اس سے اسکی سطح پر بہتا ہوا ڈھلکے تو جراحت میں عرض نہ ہونے کی وجہ سے بلاشبہہ وہ اس کے دونوں کناروں سے صحت مند جسم کا کچھ حصہ بھی لے لے گا تو بدنِ صحیح تک بھی تجاوز متحقق ہو جائے گا اور طہارت ٹوٹنے میں کوئی جائے شک باقی نہ رہے گی ۔
فـــ:مسئلہ زخم اگر ظاہر جسم ہی پر دور تک پھیلا ہے مگر ایک خط یا ڈورے کی طرح دراز و باریک ہے کہ اس کی اندونی سطح باہر سے نظر نہیں آتی تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا حکم بھی اُسی محض اندرونی زخم کی طرح ہو گا کہ خون اندر دورہ کرے تو مضائقہ نہیں اور اس کے کناروں تک آجائے تو مضائقہ نہیں جب تک ڈھلکے نہیں اور اگر اس کے بالائی کنارے تک اُبل کر بدن کی جلد پر ڈھلکا تو وضو نہ رہے گا اگرچہ زخم کی حد سے آگے نہ بڑھے ۔
واما الثالث : فـــ فمجال نظر فان الغور الذی ظھر کان من باطن البدن قطعا واذا ظھر ظھر ولم یتناولہ حکم التطھیر بعد فعسی ان یکون باقیا علی حکمہ الاصلی حتی یبرء فینزل علیہ حکم التطہیر ویلتحق بالظاھر شرعا ایضاکما التحق حسا وحینئذ یکون سیلان الدم فیہ سیلانا فی الباطن ویؤیدہ ماتقدم عن الدرر عن المحیط ان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ فقضیتہ ان لونبع الدم فیہ حتی یوازی حرفہ من کل جانب لم یضرلانہ علولا انحدار فیلزمہ ان لو نبع فی اعلاہ ثم انحدر فیہ ولم یجاوزہ لم ینقض لانہ منتقل فی مکانہ لاعن مکانہ ۱؎
لیکن تیسری صورت تو وہ جو لان گاہِ نظر ہے اس لئے کہ گہرائی جو ظاہر ہو گئی ہے یہ قطعاً پہلے باطن بدن میں شامل تھی اور جب ظاہر ہوئی تو اس حالت میں ظاہر ہوئی کہ ابھی اسے حکمِ تطہیر شامل نہیں تو شاید یہ اپنے اصلی حکم پر ( باطن بدن ہونے پر) باقی رہے ، یہاں تک کہ زخم اچھا ہو جائے تو اس پر حکمِ تطہیر وارد ہو اور یہ ظاہر شرعی میں شامل ہو جائے جیسے بروقت ظاہر حسّی میں شامل ہے ایسی صورت میں اس کے اندر خون بہنا باطن میں بہنا ہے اس کی تائید اس کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ درر محیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون اُبل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں ، اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں اُبلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلک آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں ۔
(۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ،نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
فــ:مسئلہ کُھلا ہوا چوڑا گھاؤ جس کی اندرونی سطح باہر سے دکھائی دے ظاہر یہ ہے کہ جب تک اچھا نہ ہو باطن بدن کے حکم میں ہے ، اگر اس کے اندر خون وغیرہ اُبلے کہ اس کے کناروں تک آ جائے اسکے صرف بالائی حصے پر اُبل کر اس کے اندر اندر بہے باہر نہ نکلے تو وضو نہ جائے گا ، نہ وہ خون ناپاک ہو کہ ہنوز اپنے مقام ہی میں دورہ کر رہا ہے ۔
وکانّ ھذا ھو ملحظ مافی المشکلات وخزانۃ الروایات ولا ینافیہ مافی النھر والسراج وط علی المراقی ان فائدۃ ذکرالحکم دفع ورود داخل العین وباطن الجرح اذ حقیقۃ التطہیر فیہما ممکنۃ وانما الساقط حکمہ۱؎ اھ۔
گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر ، سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں :اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے کہ حقیقتِ تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکمِ تطہیر ساقط ہے اھ ۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء ،دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۸۶)
فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا وھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض وافہم بعض ۔
یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اُسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا ۔
وبالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال وما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات وخزانۃ الروایات او النھر والینابیع وطحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا۔
مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابنِ کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تک کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر ، ینابیع ، طحطاوی علی مراقی الفلاح اور ردالمحتار سے بھی ۔
فھذا مایترا ای لی ویحتاج الٰی زیادۃ تحریر فمن ظفر بہ من کلمات العلماء فلیسعفنا بالاطلاع علیہ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا ولا حول ولا قوۃ الاّ باللّٰہ العلی العظیم۔
یہ وہ ہے جو مجھے سمجھ میں آیا ہے اور اس میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے جسے کلمات علماء سے دستیاب ہو وہ ہمیں مطلع کر کے حاجت روائی کرے ، شاید ا س کے بعد خدا کوئی اور امر ظاہر فرمائے اور طاقت و قوت نہیں مگر برتری و عظمت والے خدا ہی سے ۔