Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
89 - 123
وثالثا: مع قطع فــــ ۱النظر عن کل ذلک ھذا یشبہ فرض محال فقد قدمنا عن الفتح والبحر والغنیۃ ان التطہیر یعم الطہارۃ من الخبث ومعلوم انہ یکون بکل مائع طاھر قالع ولا یشترط فیہ شدۃ الاسالۃ بل تکفی الازالۃ ولو بثلٰث خرق مبلولۃ وفی الدر ''تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا۱؎ اھ ولا اعلم ورما یضرہ المسح بخرقۃ بلت بعرق یناسبہ بل ربما ینفع فلعلہ فرض لا یقع۔
ثالثاً :ان سب سے قطع نظر یہ گویا فرض محال ہے اس لئے کہ ہم فتح القدیر ، البحر الرائق اور قنیہ(غنیہ) کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں کہ تطہیر نجاست حقیقیہ سے طہارت کو بھی شامل ہے اور معلوم ہے کہ یہ تطہیر ہر بہنے ، پاک اور زائل کرنیوالی چیز ہو جاتی ہے اور اس میں تیزی سے بہانا شرط نہیں بلکہ زائل کرنا کافی ہے اگرچہ تین بھگوئے ہوئے پارچوں ہی سے ہو جائے ۔ درمختار میں ہے : ''انگلی اور سر پستان جو نجس ہے اسے کسی وجہ سے تین بار چاٹ لینے پر طہارت ہو جاتی ہے اھ'' میں نہیں جانتا کہ ایسا کوئی ورم ہو گا جسے اس کے مناسب عرق سے بھگوئے ہوئے پارچے سے پونچھنا ضرر دیتا ہو بلکہ ایسا تو نفع بخش ہی ہو گا تو شاید یہ ایسا مفروضہ ہے جو وقوع میں آنے والا نہیں ۔
فــــ۱:تطفل رابع علی الحلیۃ والارکان ۔
 (۱؎ الدر المختار باب الانجاس مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۳)
و رابعا: ان لزم صلوحہ لطلب ایقاع التطھیر بالفعل فاذا فـــــ۲ کان بالانسان والعیاذ باللّٰہ مایضرہ اصابۃ الماء فی شیئ من بدنہ فھذا ان افتصد لایکون حدثا وان اصابتہ شجۃ فی رأسہ فسال الدم من قرنہ الی قدمہ فھو علی وضوئہ ولم یتنجس بھٰذہ الدماء الفوارۃ بدنہ ولا ثیابہ بل لواخذ غیرہ تلک الدماء ولطخ بھا ثوبہ کان صیغا طیبا طاھرا لان مالیس یحدث لیس بنجس ولو کان المرض باحد شقیہ فان خرج من الشق السلیم دم قدر رأس ذباب بطل وضوؤہ وان افتصد من الشق الماؤف وخرج الدم ارطالا لم یضر وھو طاھر مع انہ ھو الدم المسفوح وھذا کلہ غیر معقول ولا منقول ولا متجہ ولا مقبول فلامریۃ عندی ان المراد کل ماھو ظاھر البدن شرعا وان تأخر طلب ایقاع تطھیرہ بالفعل الی زوال عذر ۔
رابعاً :اگر یہ ضروری ہے کہ اس قابل ہو کہ بالفعل تطہیر کو عمل میں لانے کا مطالبہ ہو تو جب انسان کو ، پناہ بخدا ایسی کوئی بیماری ہو جس کی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے میں پانی لگنا مضر ہو ، یہ شخص اگر فصد لگوائے تو حدث نہ ہو اور اگر اس کے سر میں چوٹ لگ جائے جس سے خون اس کے سر سے پاؤں تک بہے جب بھی وہ باوضو رہے ۔اور اس جوش مارتے ہوئے خون سے نہ اس کا بدن نجس ہو نہ کپڑا بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی اسے لے کر اپنے کپڑے میں لگا لے تو اچھا خاصا پاک و پاکیزہ رنگ ہو ، اس لئے کہ جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ،اگر اس کی دوجانبوں میں سے ایک میں بیماری ہو ایسی صورت میں تندرست جانب میں مکھی کے سر برابر خون نکل آئے تو اس کا وضو باطل ہو جائے اور ماؤف جانب اگر فصد لگوائے اور کئی رطل خون نکل آئے تو کچھ نہ بگڑے وہ پاک ہی رہے جب کہ یہ بہتا ہوا خون ہے ، یہ سب نہ معقول ہے نہ منقول ، نہ باوجہ نہ مقبول ، تو میرے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں کہ مراد یہ ہے کہ ہر وہ جو شرعاً ظاہر بدن ہو اگرچہ بالفعل زوال عذر تک اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہو ،
فـــــ۲ :تطفل خامس علی الحلیۃ و ابن ملک و من معھما۔
و رحم اللّٰہ العلامۃ ابن کمال باشا حیث قال فی الایضاح سال الی مایطھر ای الی موضع یجب ان یطھر بالغسل او مسح عند عدم عذر شرعی لابد من ھذا التعمیم حتی ینتظم الموضع الذی سقط عنہ حکم التطہیر بعذر ۱؎ اھ
خدا کی رحمت ہو علامہ ابن کمال پاشا پر وہ ایضاح میں فرماتے ہیں :
'' سال الی ما یطہر ''
یعنی ایسی جگہ بہے جسے دھونا یا مسح کرنا عذرشرعی نہ ہونے کے وقت واجب ہو ، یہ تعمیم ضروری ہے تاکہ حکم اس جگہ کو بھی شامل رہے جس سے کسی عذر کی وجہ سے حکمِ تطہیر ساقط ہو گیا ہے اھ
 (۱؎ فتح المعین  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ /۴۱)
وتبعہ السید العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح والعلامۃ الفھامۃ نوح افندی لما نقل مانقل عن المشکلات عقبہ بقولہ لکن قال بعض المحققین یرید ابن کمال فنقل کلامہ ثم قال وھذا مخالف لما فی المشکلات ولعل الحق ھذا ۱؎ اھ
ان کی پیروی علامہ سید طحطاوی نے بھی حاشیہ مراقی الفلاح میں کی اور علامہ فہامہ نوح آفندی نے جب منقولہ عبارتِ مشکلات نقل کی تو اس کے بعد یہ بھی فرمایا : لیکن بعض محققین ، مراد ابن کمال پاشا نے فرمایا، پھر ان کی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ اس کے برخلاف ہے جو مشکلات میں ہے اور امید ہے کہ حق یہی ہے اھ۔
(۱؎ فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۴۱)
اقول : اولا بل لک فـــ۱ان تقول فرق بین السقوط والتأخر کما علمت بل ان سقط لعذر فحقیقۃ عـــہ السقوط تعقب الثبوت فذلک یقرر اللحوق ویؤکدہ کما لایخفی۔
اقول: اولاً بلکہ آپ کو یہ فرمانا چاہئے کہ ساقط ہونے اور مؤخر میں فرق ہے جیسا کہ معلوم ہوا ،بلکہ اگر عذر کی وجہ سے ساقط ہوا تو سقوط کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد ثبوت ہو تو یہ حکم طہارت لاحق ہونے کو اور ثابت و مؤکد کرتا ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔
فــــ۱ :تطفل علی العلامۃ ابن کمال باشا۔

عـــہ:ای حقیقتہ الرفع وان اطلق علی الدفع ۱۲منہ ۔

عـــہ:ـ یعنی اس کی حقیقت حکم کااُٹھا لینا ہے اگرچہ دفع کرنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۱۲ منہ (ت)
وثانیا: لعبارۃ فـــ۲ المشکلات وجہۃ تنجیھا عن المشکلات فانھا فی الجرح وسیاتی بالشرح فلاتتعین للمخالفۃ۔
ثانیاً:  عبارتِ مشکلات کی ایک صورت ہے جو اسے مشکلات سے نجات دینے والی ہے کیونکہ وہ زخم سے متعلق ہے اور زخم کی تفصیل آگے آرہی ہے تو اس میں مخالفت متعین نہیں ۔
فــــ۲ :تطفل علی العلامۃ نوح افندی ۔
ھذا مایتعلق بمسئلۃ الورم وما بنیت علیہ واما مسألۃ الجرح فاقول یظھر للعبد الضعیف واللّٰہ تعالٰی اعلم ان فــــ۱الجرح المنبسط لہ ثلث صور:
یہ مسئلہ ورم سے متعلق ہے اور وہ جس پر میں نے بنیاد رکھی تھی ۔اب رہا مسئلہ زخم فاقول بندہ ضعیف کو یہ سمجھ میں آتا ہے اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے کہ پھیلے ہوئے زخم کی تین صورتیں ہیں :
فـــ۱:تحقیق المصنف فی اقسام الجرح المنبسط و احکامھا۔
الاولی :  ان یکون انبساطہ فی الباطن فقد تفجر رأسہ وعلی سائرہ جلدۃ ولو متورمۃ ۔
پہلی صورت یہ کہ اس کا پھیلاؤ صرف اندر ہے اس کا سر اپھٹا ہوا ہے اور باقی زخم پر جلد ہے اگرچہ ورم زدہ ہے ۔
والثانیۃ:  بسیط منبسط علی ظاھر البدن لکنہ دقیق لاعرض لہ فلا یظھر للنظر الا کخط اوخیط۔
دوسری صورت یہ کہ زخم ظاہر بدن پر بسیط اور پھیلا ہوا ہے لیکن پتلا سا ہے جس میں چوڑائی نہیں ، نگاہ کو کسی خط یا دھاگے سا معلوم ہوتا ہے ۔
والثالثۃ:  بسیط عریض ظاھر غورہ مرئی قعرہ ۔
تیسری صورت یہ کہ بسیط و عریض ہے جس کا عُمق ظاہر ہے گہرائی نظر آ رہی ہے ۔
فباطن فـــ۲ الاول باطن قطعا حسا وشرعا فان اختلف الدماء فی باطنہ لم یضر وکان کنزول البول الی قصبۃ الذکر وھذا ماقدمنا علی الدر المختار من قولہ والا لاکمالو سال فی باطن عین او جرح اوذکر ولم یخرج ۱؎ اھ
تو پہلے زخم کا باطنی حصہ قطعاً باطن ہے حسّاً بھی شرعاً بھی ، تو اگر اس کے باطن میں خون آتے جاتے ہوں تو کوئی ضرر نہ ہو گا اور یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ذَکر کی نالی میں پیشاب اُتر آنا ، اسی کو ہم نے پہلے درمختار کے حوالے سے بیان کیا کہ :''ورنہ نہیں جیسے وہ جو آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندرونی حصے میں بہے اور باہر نہ آئے ''اھ۔
فــــ۲ــ: مسئلہ : زخم اگر جسم کے اندر دور تک پھیلا ہو صرف منہ ظاہر ہے تو اس کے گہراؤ میں خون وغیرہ بہتے رہیں کچھ حرج نہیں جب منہ پر آکر ڈھلکے گا وضو جاتا رہے گا اگرچہ زخم کی سطح سے آگے نہ بڑھے ۔
 (۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵)
Flag Counter