Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
88 - 123
وثانیا:  انمافــــ المنقول عن ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم شیئان اما النقض بمجرد العلو علی رأس الجرح وان لم ینحدر کما روی عن محمد والیہ مال الامام محمد بن عبداللّٰہ وعلیہ مشی فی مجموع النوازل والفتاوی النسفیۃ وجعلہ فی الوجیز اقیس وفی الدرایۃ اصح ۔
ثانیاً:  ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول دو ہی چیزیں ہیں : 

(۱) یا تو محض سر زخم پر چڑھ جانے سے وضو ٹوٹ جانا اگرچہ نیچے نہ اُترے جیسا کہ یہ امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے ، اسی کی طرف امام محمد بن عبداللہ مائل ہوئے ، اسی پر مجموع النوازل اور فتاوٰی نسفیہ میں چلے ہیں ، اسی کو وجیز میں زیادہ قرین قیاس اور درایہ میں اصح کہا ہے ۔
فــــ:تطفل ثالث علیھم۔
واما بالانحدار عن رأس الجرح وھو المعتمد وعلیہ الفتوی ولم ینقل عن احد منھم قط ان الا نحدار عن الرأس ایضالا یکفی للنقض مالم یجاوز سطح ورم الجرح کلہ قدر ذراع کان او اکثر۔
 (۲)یا سر زخم سے نیچے اُتر آنے پر وضو ٹوٹنے کا حکم ہے یہی معتمد ہے اور اسی پر فتوی ہے اور ان حضرات میں کسی سے یہ کبھی بھی منقول نہیں کہ وضو ٹوٹنے کے لئے سر زخم سے نیچے اتر آنا بھی کافی نہیں جب تک کہ ورم زخم کی پوری سطح سے تجاوز نہ کر جائے وہ ایک ہاتھ ہو یا زیادہ۔
بل قد نطقت کتب المذھب قاطبۃ بان مجرد الا نحدار عن الرأس کاف فی النقض۔
بلکہ تمام تر کتبِ مذہب ناطق ہیں کہ سر زخم سے محض ڈھلک آنا وضو ٹوٹنے کے لئے کافی ہے ۔
وھذا محرر المذھب محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قائلا فی جامعہ الصغیر''محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی جعنھم فی نفطۃ قشرت فسال منھا ماء اودم اوغیرہ عن رأس الجرح نقض الوضوء وان لم یسل لم ینقض ۱؎ اھ''۔
 (۱) یہ ہیں محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ جو جامع صغیر میں فرماتے ہیں :محمد راوی یعقوب سے وہ ابو حنیفہ سے رضی اللہ تعالٰی عنہم اس آبلہ کے بارے میں جس کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی یا خون یا اور کچھ سرِ زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نہ بہا تو نہ ٹوٹے گا اھ۔
 (۱؎ الجامع الصغیر للامام محمد ،کتاب الطہارۃ   باب ما ینقض الوضوء ...الخ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ص ۷ )
قال الامام الاجل قاضی خان فی شرحہ والسیلان ان ینحدر عن رأس الجرح وعن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا انتفخ علی رأس الجرح وصار اکثر من رأس الجرح انتقض والصحیح ماقلنا ۲؎ اھ
 (۲) امام اجل قاضی خان اس کی شرح میں فرماتے ہیں :بہنا یہ ہے کہ سرِ زخم سے ڈھلک آئے اور امام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ جب سرِ زخم پھول جائے اور سرِ زخم سے زیادہ ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائیگا ۔اور صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا اھ۔
 (۲؎ شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان۔ )
وفی محیط الامام السرخسی ثم النھر ثم الہندیۃ حدالسیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح ؎۳؎ اھ
 (۳ تا ۵) امام سرخسی کی محیط پھر نہر پھر ہندیہ میں ہے : بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلک آئے اھ۔
 (۳؎ الفتاوی الہندیۃ     الفصل الخامس       نورانی کتب خانہ پشاور      ۱ /۱۰)
وفی جواھر الفتاوی للامام الکرمانی فی الباب الثانی المعقود لفتاوی الامام جمال الدین البزدوی اما التی تخرج من غیر السبیلین ان جوقفت ولم تتعدد عن رأس الجرح فطاھرۃ ۱؎ اھ۔
(۶ و ۷) امام کرمانی کی جواہر الفتاوٰی کے باب دوم میں ہے جو امام جمال الدین بزدوی کے فتاوٰی کے لئے خاص کیا گیا ہے :''وہ جو غیر سبیلین سے نکلے اگر ٹھہر جائے اور سرِ زخم سے تجاوز نہ کرے تو پاک ہے ''اھ۔
 (۱؎ جواہر الفتاوی کتاب الطہارۃ،الباب الثانی،(قلمی فوٹو کاپی )،ص ۶ )
ثم اطال فی بیان حکمۃ فــــــ الفرق بین الخارج والبادی ملخصہ ان البادی الکائن تحت الجلدۃ ھو الذی انتقل عن طبیعۃ الدم الی طبیعۃ اللحم وانتھی نضجہ غیرانہ لم ینجمد بخلاف السائل۔
پھر خارج اور ظاہر کے درمیان فرق کی حکمت تفصیل سے بیان کی ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر جلد پایا جانے والا ظاہر وہی ہے جو خون کی طبیعت سے گوشت کی طبیعت کی طرف منتقل ہو گیا اور جس کے پکنے کا عمل پورا ہو گیا ہے مگر وہ ابھی منجمد نہیں ہوا اور سائل ایسا نہیں ہوتا ۔
فـــ:حکمۃ الفرق بین السائل و البادی۔
وفی شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی ثم ایضاح الاصلاح لابن کمال باشا قال اصحابنا اذا خرج وسال عن رأس الجرح نقض الوضوء وقال زفر ینقضہ سال اولم یسل وقال الشافعی لاینقضہ سال اولم یسل ۲؎ اھ
 ( ۸ و ۹) امام اسبیجابی کی شرح طحاوی پھر ابن کمال پاشا کی ایضاح الاصلاح میں ہے :ہمارے اصحاب نے فرمایا :جب خون نکلے اور سرِ زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور امام زفر فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جائے گا بہے نہ بہے اور امام شافعی فرماتے ہیں نہیں ٹوٹے گا بہے یا نہ بہے اھ۔
 (۲؎ ایضاح الاصلاح )
وفی الخلاصۃ ان خرج من قرح بہ دم او صدید اوقیح فسال عن رأس الجرح نقض عندنا۳؎ اھ
 (۱۰) خلاصہ میں ہے : اگر پھوڑے سے خون ، پیپ یا پانی نکل کر سر زخم سے بہہ جائے تو ہمارے نزدیک ناقض ہے اھ۔
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ ،الفصل الثالث     المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ   ۱ /۱۵)
وفی المنیۃ ان سال عن رأس الجرح ینتقض وان لم یسل لا ینتقض وتفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح۴؎ اھ
 (۱۱) منیہ میں ہے : اگرسرِ زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے اور نہ بہے تو ناقض نہیں اور بہنے کی تفسیر یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلک آئے اھ۔
 (۴؎ منیۃ المصلی     کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء     مکتبہ قادریہ لاہور ص ۹۰ )
وفی صدر الشریعۃ ''اذا سال عن رأس الجرح علم انہ دم انتقل من العروق فی ھذہ الساعۃ وھو الدم النجس اما اذا لم یسل علم انہ دم العضو ۱؎ اھ''یشیر الی الحکمۃ التی ذکرھا الامام جمال الدین۔
 (۱۲) صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے :جب سرِ زخم سے بہہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسا خون ہے جو اسی وقت رگوں سے منتقل ہوا اور وہ ناپاک خون ہے لیکن جب نہ بہے تو معلوم ہو گا کہ وہ عضو کا خون ہے اھ اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے جو امام جلال الدین (جمال الدین)نے بیان کی ۔
(۱؎ شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ ،نجاسۃ الدم المسفوح... الخ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۵)
وفی جواھر الاخلاطی ان سال عن رأس الجرح نقض والا لا والسیلان الانحدار عن رأس الجرح ۲؎ اھ
 (۱۳) جواہر الاخلاطی میں ہے : اگر سرِ زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ اور بہنا سرِ زخم سے نیچے اتر آنا ہے اھ۔
 (۲؎ جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ ،نواقض الوضوء     (قلمی ) ص ۷ )
وقال صاحب السراج نفسہ فی الجوھرۃ النیرۃ حد التجاوز ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذاعلا ولم ینحدر لاینقض۳؎ اھ
 (۱۴) خود صاحبِ سراج وہاج ، جوہرہ نیرہ میں لکھتے ہیں :''تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے نیچے اتر آئے لیکن اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو ناقض نہیں اھ۔
(۳؎ الجوہرۃ النیرۃ     کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۸)
وھذاھو الموافق لما تقدم ان المعنی الخروج وظھورہ بالانتقال فاذن لااری ھذٰا القیل الا مستحدثا بعد ائمتنا علی خلاف مایعطیہ کلامھم جمیعا وعلی خلاف اطلاقات المتون وعامۃ الکتب المعتمدۃ وعلی خلاف ما ھو قضیۃ جمیع الادلۃ الموردۃ من السنۃ والقیاس کماعلمت۔
اور یہی اس کے مطابق ہے جو گزرا کہ مقصود خروج ہے اور اس کا ظہور انتقال سے ہوتا ہے تو ان سب کی روشنی میں ،میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قول ( پھیلے ہوئے پورے ورم کی حد پار کرنا ضروری ہے ) ہمارے ائمہ کے بعد پیدا ہوا ہے جو ان سب حضرات کے مضمون کلام کے برخلاف ہے ، متون اور عامہ کتب معتمدہ کے اطلاعات کے خلاف ہے اور سنت و قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلوں کے تقاضے کے خلاف ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا ۔
Flag Counter