(۳؎ العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳)
(۴؎ العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳)
وقد صرح المولی بحرالعلوم نفسہ فی ذلک الکتاب انہ ثبت ان علۃ انتقاض الطھارۃ خروج النجاسۃ فکلما خرج من النجاسۃ ینقض الطہارۃ ۱؎ اھ
(۱۸) خود مولانا بحر العلوم نے اسی کتاب میں صراحت کی ہے کہ ثابت ہو گیا کہ طہارت ٹوٹنے کی علّت خروجِ نجاست ہے تو جو نجاست بھی خارج ہو گی ناقض طہارت ہو گی اھ۔
(۱؎ رسائل الارکان کتاب الطہارۃ بیان نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶ )
ومن نظر الی تظافر ھذہ النصوص ایقن ان خروج النجس الی ظاھر البدن اذا تحقق لایتوقف بعدہ ثبوت الحدث وان تحققہ فی غیر السبیلین یحصل بانتقال ماعن موضعہ لایشترط فیہ ان یکون ذراعا اوشبرا مثلا،ولذلک لما ظھر لمحمد فیما روی عنہ ان بالعلو علی راس الجرح یحصل انتقال الدم من مکانہ حکم بالنقض من دون توقیف علی انحدار ایضا فضلا عن اشتراط امتداد مسافۃ واصحابنا جعلوا رأس الجرح من مکانہ فما دام علیہ ولم یجاوزہ لم ینتقل من مکانہ وان انتقل من تحت۔
جو ان نصوص کی کثرت اور باہمی موافقت دیکھے گا اس بات کا یقین کرے گا کہ ظاہر بدن کی طرف نجس چیز کا خروج جب متحقق ہو جائے تو اس کے بعد حدث کا ثبوت کسی اور بات پر موقوف نہیں رہتا اور یہ بھی یقین کرے گا کہ غیر سبیلین میں خروج کا تحقق اپنی جگہ سے کچھ ہٹ جانے سے ہو جاتا ہے اس میں یہ شرط نہیں کہ ایک ہاتھ یا ایک بالشت ہو مثلاً اسی لئے جیسا کہ روایت ہے جب امام محمد پر ظاہر ہوا کہ سر زخم پر چڑھنے سے خون کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا حاصل ہو جاتا ہے تو انہوں نے وضو ٹوٹنے کا حکم کر دیا ،نیچے ڈھلکنے پر بھی موقوف نہ رکھا ، کسی مسافت میں پھیلنے کی شرط لگانا تو دور کی بات ہے اور ہمارے اصحاب نے سر زخم کو اس کی جگہ قرار دیا ہے جب تک خون اس پر رہے اور تجاوز نہ کرے تو وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اگرچہ نیچے سے اوپر گیا ہے ۔
قال فی الدرر عن المحیط بعد ما قدمنا وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن رأس الجرح ھکذا فسر ابو یوسف لانہ مالم ینحدر عن رأس الجرح لم ینتقل عن مکانہ فان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ ۱؎ اھ۔
درر میں محیط کے حوالہ سے سابقاً نقل کردہ عبارت کے بعد ہے: اور سیلان کی حد یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلک آئے ، امام ابو یوسف نے اسی طرح تفسیر فرمائی ۔اس لئے کہ جب تک سر زخم سے نہ اترے وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اس لئے کہ خون کے مقابل زخم کا بالائی حصہ خون ہی کی جگہ ہے اھ۔
(۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء،میر محمد کتب خانہ کراچی،۱ /۱۳)
فالورم المنبسط المنفجر من اعلاہ اذا انحدر القیح من راسہ تحقق الخروج والانتقال والسیلان قطعا لامحل فیہ لارتیاب فما ھی الا عبارۃ عن معنی واحد ولن یسبقن الی وھم احد ان الورم ان استوعب ید انسان من کتفہ الی رسغہ فانفجر من اعلی الکتف وجعل الدم یثج ثجا حتی ملأ الکتف ثم العضد ثم المرفق ثم الساعد لم یکن کل ھذا خروجا حتی یتجاوز الی الکف۔
تو پھیلا ہوا ورم جو اوپر سے پھوٹ جائے جب پیپ اس کے سر سے نیچے اُتر آئے تو خروج ، انتقال اور سیلان قطعاً متحقق ہو گیا جس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ یہ سب ایک ہی معنی سے عبارت ہیں اور ہرگز کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ ورم اگر کسی انسان کے ہاتھ میں شانے سے گِٹّے تک کے حصے کو گھیر لے پھر شانے کے اوپر سے پھوٹے اور خون تیزی سے بہنے لگے یہاں تک کہ شانہ بھر جائے پھر بازو پھر کہنی پھر کلائی بھی بھر جائے ان سب کے باوجود خروج ثابت نہ ہو گا یہاں تک کہ خون تجاوز کر کے ہتھیلی پر آ جائے ۔
وعدم لحوق فــــ حکم التطہیر عند العذر ظاھر المنع بل قد لحق وتاخر طلب ایقاعہ بالفعل حتی یزول ولذا اذا زال ظھر فکان من باب الوجوب لانعقاد السبب وتأخر وجوب الاداء بخلاف داخل العین فانہ من باطن البدن شرعا فی باب التطھیر من کل وجہ لم یلحقہ قط حکم التطھیر ولن یلحقہ ابدا ما بقی فکیف یقاس علیہ ماکان ظاھر البدن قطعاحسا وشرعا ثم اعتری معتر اخر عنہ حکم اداء التطھیر موقتالوقت البرء ام کیف یجعل العارض کاللازم والحادث عن قریب الزائل عما قلیل کاللازب المستمر۔
عذر کے وقت حکمِ تطہیر لاحق نہیں اس پر منع ظاہر ہے۔ یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حکم لاحق ہے مگر عذر ختم ہونے تک بالفعل اسے عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہے ۔اسی لئے جب عذر ختم ہوجائے تو حکم ظاہر ہوتا ہے تو یہ اس باب سے ہوا کہ سبب متحقق ہونے کی وجہ سے وجوب ثابت ہے اور وجوب ادا مؤخر ہے اور داخل چشم کا معاملہ ایسا نہیں اس لئے کہ باب تطہیر میں وہ ہر طرح شرعاً باطن بدن سے شمار ہے اسے کسی وقت نہ حکمِ تطہیر لاحق ہوا اور نہ ہرگزکبھی لاحق ہو گا جب تک کہ وہ باقی ہے پھر اس پر اس کا قیاس کیسے ہو سکتا ہے جو حِسّاً اور شرعاً قطعی طورپر ظاہر بدن ہے پھر اس پر کوئی عارض در پیش ہوا جس نے اچھے ہونے تک کے لئے عارضی طور پر تطہیر کو عمل میں لانے کا حکم مؤخر کر دیا یا عارض کو لازم کی طرح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور جلد ہی رونما ہونے والے کچھ دیر بعد زائل ہونے والے کو ہمیشہ لگے رہنے والے کی طرح کیسے کہا جا سکتا ہے !
فـــ:تطفل اٰخر علی الحلیۃ و ابن مالک فی اٰخرین۔