فاقول اولا: لایذھبن عنک ان المعنی فـــ۲ المؤثرفـــ۳ عندنا فی الحدث ھو خروج النجس من باطن البدن الی ظاھرہ لایحتاج معہ الی شیئ اٰخر غیران الخروج لایتحقق فی غیر السبیلین الا بالانتقال لان تحت کل جلدۃ دما و ھو مادام فی مکانہ لایعطی لہ حکم النجاسۃ۔
فاقول اولاً: یہ بات ذہن سے نہ نکلے کہ ہمارے نزدیک حدث میں مؤثر معنی شے نجس کا باطن بدن سے ظاہر بدن کی طرف نکلنا ہے۔ مگر یہ ہے کہ غیر سبیلین میں نکلنا بغیر منتقلی کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے خون ہے اور وہ جب تک اپنی جگہ رہے اسے نجاست کا حکم نہ دیا جائے گا ۔
فـــ۲:تطفل علی الحلیۃ و بحر العلوم فی مسئلۃ الورم ۔
فـــ۳ :تحقیق المعنی المؤثر فی الحدث و وجہ اشتراط السیلان فی الخارج من غیر السبیلین ۔
قال الامام برھان الملۃ والدین فی الھدایۃ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ غیر ان الخروج انما یتحقق بالسیلان الی موضع یلحقہ حکم التطہیر لان بزوال القشرۃ تظھرالنجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ بخلاف السبیلین لان ذلک الموضع لیس بموضع النجاسۃ فیستدل بالظھور علی الانتقال والخروج ۱؎ اھ
(۱) امام برہان الملۃ والدین ہدایہ میں فرماتے ہیں : خروج نجاست ، زوال طہارت میں مؤثر ہے مگر یہ کہ خروج ایسی جگہ جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے بہنے ہی سے متحقق ہوتا ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ ظاہر ہو جاتی ہے تو وہ بادی ( ظاہر ہونے والی ) ہو گی خارج نہ ہو گی ، سبیلین کا حال اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست کی جگہ نہیں تو ظاہر ہونے سے ہی منتقل اور خارج ہونے پر استدلال ہو گا اھ۔
ومثلہ فی المستخلص نقلا عنہا وقال الامام فقیہ النفس فی شرح الجامع الصغیر الحدث للخارج النجس والخروج انما یتحقق بالسیلان ۲؎ الخ
(۲) اسی کی مثل اس سے نقل کرتے ہوئے مستخلص میں ہے ۔ (۳) امام فقیہ النفس شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : حدث ، خارج نجس کا نام ہے اور خروج سیلان ہی سے متحقق ہوتا ہے۔ الخ۔
(۲؎ شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان )
وقال الامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ''خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ شرعا وھذا القدر فی الاصل معقول ای عُقل فی الاصل وھو الخارج من السبیلین ان زوال الطھارۃ عندہ انما ھو بسبب انہ نجس خارج من البدن اذلم یظھر لکونہ من خصوص السبیلین تاثیر، وقد وجد فی الخارج من غیرھما فیتعدی الحکم الیہ فالاصل الخارج من السبیلین وحکمہ زوال طھارۃ یوجبھا الوضوء وعلتہ خروج النجاسۃ من البدن والفرع الخارج النجس من غیرھما وفیہ المناط فیتعدی الیہ زوال الطھارۃ ۱؎ اھ
(۴) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : خروج نجاست شرعاً زوال طہارت میں مؤثر ہے ، اتنی مقدار اصل میں معقول ہے یعنی اصل جو خارج سبیلین ہے اس سے متعلق یہ بات عقل سے سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پائے جانے کے وقت زوال طہارت اسی سبب سے ہے کہ وہ بدن سے نکلنے والی ایک نجاست ہے کیونکہ خاص سبیلین سے خارج ہونے کا کوئی اثر کہیں ظاہر نہ ہوا اور یہ سبب غیر سبیل سے نکلنے والی چیز میں بھی موجود ہے تو حکم وہاں بھی پہنچے گا ، تو اصل خارج سبیلین ہے ، حکم اس طہارت کا ختم ہو جانا جو وضو سے ثابت ہوتی ہے علت ، نجاست کا بدن سے نکلنا ، فرع ، غیرسبیلین سے نکلنے والی نجس چیز اور اس پر مدار ہے تو زوال طہارت یہاں بھی متعدی ہو جائے گا اھ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۹)
(۵) اسی کے مثل البحر الرائق میں بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے :'' نقض خروج سے ہوتا ہے اور اس کی حقیقت باطن سے ظاہر کی طرف نکلنا ہے ، یہ بات سبیلین کے اندر ظہور سے متحقق ہوتی ہے ۔اور غیر سبیلین میں ایسی جگہ بہنے سے جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ نظر آتی ہے تو وہ ظاہر کہلائے گی خارج نہ ہو گی ، اھ۔
(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ /۳۹)
(۳؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۸ و ۳۹)
(۶ تا ۹) فتح القدیر، حلیہ ، غنیہ ، بحر ، طحطاوی ، اور شامی میں ہے : سنّت اور قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلیں یہی افادہ کرتی ہیں کہ وضو ٹوٹنا خارج نجس سے وابستہ رہے گا اھ۔
(۴؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ /۳۳)
(غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۱)
وفی الغنیۃ اذا زالت بشرۃ کانت الرطوبۃ بادیۃ لامنتقلۃ ولا تکون منتقلۃ الا بالتجاوز والسیلان ۱؎ اھ
غنیہ میں ہے : جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت نمایاں ہو گی وہ منتقل ہونے والی نہ ہو گی ، منتقل تو تجاوز اور سیلان ہی سے ہو گی اھ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۱)
وفی تبیین الامام الزیلعی ''الخروج انما یتحقق بوصولہ الی ما ذکرنا لان ماتحت الجلدۃ مملوء دما فبا لظھور لایکون خارجا بل بادیا وھو فی موضعہ ۲؎ اھ
(۱۰) امام زیلعی کی تبیین الحقائق میں ہے :خروج اس جگہ پہنچنے ہی سے متحقق ہو گا جو ہم نے بیان کی اس لئے کہ زیر جلد حصہ ، خون سے بھرا ہوا ہے تو صرف ظہور سے وہ خارج ہو گا بلکہ اپنی جگہ رہتے ہوئے دکھا ئی دینے والا ہوگا اھ
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۸)
وفی المحیط ثم الدرر ''حد الخروج الانتقال من الباطن الی الظاھر و ذلک یعرف بالسیلان من موضعہ ۳؎ اھ ''
(۱۱ ، ۱۲ ) محیط پھر درر میں ہے : خروج کی تعریف ، باطن سے ظاہر کی طرف منتقل ہونا اور اس کی شناخت اپنی جگہ سے بہہ جانے سے ہو گی اھ۔
(۳؎ درر الحکام بحوالہ المحیط کتاب الطہارت میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
وفی شرح الوقایۃ للامام صدر الشریعۃ المعتبر الخروج الی ماھو ظاھر البدن شرعا ۴؎ اھ
(۱۳) امام صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : اعتبار اس جگہ نکلنے کا ہے جو شرعاً ظاہر بدن ہے اھ۔
(۴؎ شرح الوقایۃ کون السائل الٰی ما یطہر ناقصا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۱)
وقال الامام النسفی فی متن الکنز ینقضہ خروج نجس منہ ۵؎ اھ
(۱۴) امام نسفی ، متن کنزالدقائق میں فرماتے ہیں : ینقضہ خروج نجس منہ اھ اس سے کسی نجس کا نکلنا وضو توڑ دے گا ۔
واستحسنہ فی جامع الرموز فقال حق العبارۃ ناقضہ خروج النجس ۱؎ اھ
(۱۵) جامع الرموز میں اسے پسند کیا اور کہا حق عبارت یہ ہے : ناقضہ خروج النجس ، ناقضِ وضو نجس کا نکلنا ہے اھ۔
(۱؎ جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدِ قاموس ایران ۱ /۳۴)
وقال السید جلا ل الدین فی الکفایہ ''لایتحقق الخروج الا بالسیلان لان تحت کل جلدۃ رطوبۃ فاذا زالت کانت بادیۃ لاخارجۃ کالبیت اذا انھدم کان الساکن ظاھرا لا منتقلا عن موضعہ ۲؎ اھ
(۱۶) سید جلال الدین کرلانی کفایہ میں فرماتے ہیں : ''خروج بغیر بہنے کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے رطوبت ہے جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت ظاہر ہو گی خارج نہ ہو گی جیسے گھر گر جائے تو اندر رہنے والا ظاہر ہو گا اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو گا '' اھ۔
(۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۸)