Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
85 - 123
اقول اولاً :اگر اس کلام میں اس طرف اشارہ ہے تو قہستانی کی طرف اس کی اسناد خوراک کی تلاش میں بہت دور نکل جانے کی طرح ہے اس لئے کہ یہ جزیہ بحر ، فتح ، مبسوط وغیرہا معتمداتِ جلیلہ میں مذکور ہے ۔اور فتح کی یہ عبارت ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہ شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے : سرِ زخم پر ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی تو جب تک ورم سے تجاوز نہ کرے ناقض نہیں الخ۔
 (۱؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ،فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر،۱ /۳۴)
فــــ:تطفل علی السید ابی السعود ۔
وثانیا : لااشارۃ فـــ۱ فانھم انما فرضوا تو رم رأس الجرح فالتجاوز عنہ یکون بالانحدار وھو شرط النقض علی الصحیح المفتی بہ ولیس فی کلامھم ذکر ورم بسیط وسیع ینفجر رأسہ فیسیل علی سطحہ ولا یجاوزہ الی الموضع الصحیح نعم انا اسعف فـــ۲ بذکرما وقفت علیہ من کلام من یذھب اویمیل الیہ ثم اذکر مایفتح المولی سبحٰنہ من لدیہ قال الامام الحلبی فی الحلیۃ ''اذا انحدر الخارج عن رأس الجرح لکنہ لم یجاوز المحل المتو رم وانما انحدر الی بعض ذلک المحل ومسحہ ایضا اما اذاکان لایضرہ احدھما فینبغی انہ ینقض لانہ یلحقہ حکم التطہیر اذ المسح تطہیر لہ شرعا کالغسل فلیتنبہ لذلک ۱؎ اھ
ثانیاً :اس میں کوئی اشارہ نہیں اس لئے ان حضرات نے سرِ زخم کا ورم کرنا فرض کیا ہے اس سے (خون کا ) تجاوز ڈھلکنے سے ہو گا ۔اور یہ صحیح مفتٰی بہ قول پر وضو ٹوٹنے کی شرط ہے ، ان کے کلام میں ایسے ورم کا ذکر ہی نہیں جو پھیلا ہوا کشادہ ہو جس کاسرا پھٹ جائے پھر خون یا پیپ اس کی سطح پر بہے اور اس سے تجاوز کر کے صحت والی جگہ نہ آئے ہاں میں ان حضرات کا ذکر کروں گا جن کے بارے میں مجھے علم ہوا کہ یہ ان کا مذہب ہے یا اس طرف ان کا میلان ہے

اس کے بعد وہ ذکر کروں گا جو اپنی طرف سے مولٰی تعالٰی منکشف فرمائے گا ، امام حلبی حلیہ میں لکھتے ہیں : سرِ زخم سے نکلنے والا ( خون یا پیپ ) ڈھلک آئے لیکن ورم کی ہوئی جگہ سے تجاوز نہ کرے بس اسی جگہ کے کسی حصے تک ڈھلک کر آیا ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا جبکہ اس شخص کو اس جگہ کا دھونا اور مسح کرنا ضرر دیتا ہو اور اگر دھونے یا مسح کرنے میں ضرر نہ ہو تو اسے ناقض ہونا چاہئے اس لئے کہ اسے حکم تطہیر لاحق ہے کیونکہ مسح بھی دھونے کی طرح شرعاً اس کی تطہیر ہے تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اھ۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی۔)
ف۱:تطفل اٰخر علیہ۔

ف۲:مسئلہ ورم زیادہ جگہ میں پھیلا ہے اور اسے مسح بھی نقصان کرتا ہے اور وہ اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم، ورم پر بہاصحیح بدن کی طرف نہ بڑھا ، تو بعض کتب میں فرمایا وضو نہ گیا اور مصنف کی تحقیق کہ جاتا رہے گا اور اگر اس ورم کو غسل یا مسح کرسکتے ہوں تو بالاتفاق ناقض وضو ہوگا۔
وفی الفوائد المخصصۃ للعلامۃ الشامی عن المقاصد الممحصۃ فی بیان کی الحمصۃ لسیدی عبدالغنی انہ قال'' بعد نقلہ حد السیلان ومافیہ من الخلاف فالمفہوم من ھذہ العبارات ان الدم والقیح والصدید اذا علا علی الجرح ولم یسل عنہ الی موضع صحیح من البدن لاینقض الوضوء سواء کان الجرح کبیرا او صغیرا ۲؎
علامہ شامی کی فوائد مخصصہ میں سیدی عبدالغنی کی مقاصد ممحصہ کے حوالے سے آبلوں کے بیان میں ہے کہ انہوں نے سیلان کی تعریف اور اختلاف نقل کرنے کے بعد فرمایا : ان عبارتوں سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ خون ، پیپ پانی جب سر زخم پر چڑھے اور اس سے ہٹ کر بدن کی کسی صحتمند جگہ نہ بہے تو وضو نہ ٹوٹے گا ، خواہ زخم بڑا ہو یا چھوٹا۔
 (۲؎ الفوائدالمخصصہ ،رسالہ من رسائل ابن عابدین     سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ /۶۳ )
 (ثم قال بعد کلام) ویؤید ھذا ما فی خزانۃ الروایات فی الجراحۃ البسیطۃ اذا خرج الدم من جانب وتجاوز الی جانب اٰخر لکن لم یصل الی موضع صحیح فانہ لاینقض الوضوء لانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۱؎ اھ
 ( پھر کچھ عبارت کے بعد لکھا ) اس کی تائید پھیلی ہوئی جراحت سے متعلق خزانۃ الروایات کی اس عبارت سے ہوتی ہے : جب خون ایک جانب سے نکلے اور دوسری جانب تجاوز کرے لیکن کسی تندرست جگہ نہ پہنچے تو وہ ناقض وضو نہیں ، اس لئے کہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے حکم تطہیر لاحق ہو اھ ۔
 (۱؎ الفوائد المخصصۃ،رسالہ من رسائل ابن عابدین ،سہیل اکیڈمی لاہور  ، ۱ /۶۴)
وفی الارکان الاربعۃ للمولٰی ملک العلماء بحرالعلوم عبدالعلی اللکنوی اذا خرج القیح من رأس الجرح ولم یتجاوز ورم الجرح لاینتقض الطھارۃ ولایکون نجسا ۲؎ اھ
ملک العلماء بحر العلوم مولٰنا عبد العلی لکھنوی کی ارکان اربعہ میں ہے :''جب سر زخم سے پیپ نکلے اور زخم کے ورم سے تجاوز نہ کرے تو طہارت نہ توڑیگا اور نہ نجس ہو گا ۔'' اھ
 (۲؎ رسائل الارکان کتاب الطہارۃ   نواقض الوضوء     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶)
وفی ردالمحتار عن السراج عن الینا بیع الدم السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز قال بعضھم ھو طاھر حتی لوصلی رجل بجنبہ واصابہ منہ اکثر من قدر الدرھم جازت صلاتہ وبھذا اخذ الکرخی وھو الاظھر وقال بعضھم ھو نجس وھو قول محمد ۳؎ اھ قال الشامی ومقتضاہ انہ غیر ناقض لانہ بقی طاھرا بعد الاصابۃ وان المعتبر خروجہ الی محل یلحقہ حکم التطہیر من بدن صاحبہ فلیتامل ۴؎ اھ
ردالمحتار میں سراج وہاج سے اس میں ینابیع سے نقل ہے : جراحت پر بہنے والا خون جب اس سے تجاوز نہ کرے تو بعض نے کہا وہ پاک ہے یہاں تک کہ اگر اس کے پہلو میں کوئی نماز پڑھ رہا ہے اسے درہم بھر سے زیادہ وہ خون لگ گیا تو اس کی نماز ہو گئی ، اسی کو امام کرخی نے اختیار کیا اور یہی امام محمد کا قول ہے اھ ، علامہ شامی کہتے ہیں : اس کا مقتضا یہ ہے کہ وہ ناقض بھی نہ ہو اس لئے کہ وہ لگنے کے بعد بھی طاہر رہا اور یہ کہ اعتبار اس کا ہے کہ صاحبِ زخم کے بدن سے ایسی جگہ کی طرف نکلے جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے تو اس پر تامل کیا جائے اھ۔
 (۳؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ    مطلب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۲)

(۴؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ     مطلب نواقض الوضوء         دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۹۲)
وانا اقول:  وباللّٰہ التوفیق وبہ استھدی سواء الطریق ھھنا مسئلتان :
وانا اقول  : ( اور میں کہتا ہوں )اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی سے راہِ راست کی ہدایت طلب کرتا ہوں ، یہاں دو مسئلے ہیں :
مسئلۃ الورم الغیر المنفجر الامن اعلاہ کما وصفنا ۔
 (۱) مسئلہ ورم ایسا ورم جو اپنے اوپری حصے سے ہی پھوٹا ہو ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔
ومسئلۃ الجرح اعنی تفرق الاتصال کما یحصل بالسلاح والانفجار وقد خلطھما فـــ۱ السید ابو السعود کما رأیت وسیظھر الفرق بعون رب البیت ۔
 (۲) مسئلہ زخم ، یعنی اتصال ختم ہو کر جدائی پڑ جانا جیسے ہتھیار سے اور پھٹنے سے ہوتا ہے ۔ دونوں مسئلوں میں سید ابو السعود نے خلط کر دیا جیسا کہ آپ نے دیکھا ، دونوں میں فرق بعونہٖ تعالٰی جلد ہی ظاہر ہو گا ۔
فــــ۱:تطفل ثالث علی السید الازھری ۔
اما الاولی: ففی غایۃ الاشکال ولا تحضرنی الاٰن مصرحۃ کذلک الامن الحلیۃ والارکان الاربعۃ وکذا ماتبتنی علیہ من ارادۃ مایکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل وھذا ربما یشم من غیرھما ایضا کابن ملک وخزانۃ الروایات و ردالمحتار۔
پہلا مسئلہ:  ورم انتہائی مشکل ہے اور اس تصریح کے ساتھ بروقت مجھے صرف حلیہ اور ارکانِ اربعہ سے مستحضر ہے یوں ہی وہ جس پر اس مسئلے کی بنیاد رکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بر وقت اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مکلّف ہو اور اس کی کچھ بو ان دونوں کے علاوہ ابن ملک ، خزانۃ الروایات اور ردالمحتار سے بھی آتی ہے ۔
Flag Counter