(۳) لیس فـــ۲ فی النزول الی ما صلب النقض روایۃ واحدۃ کما اوھم الاتقانی وتبعہ من تبعہ ولا عدم فـــ۳ النقض روایۃ واحدۃ کما زعم النھر بل ھما روایتان والثانی اشھر واظھر۔
(۳) ناک کے سخت حصے کی طرف خون اتر آنے میں صرف یہی ایک روایت نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ علامہ اتقانی نے اپنے کلام سے یہ وہم پیداا کیا اور ان کی اتباع کرنے والوں نے ان کا اتباع کیا اور نہ یہی ایک روایت ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا جیسا کہ صاحبِ نہر کا خیال ہے۔بلکہ یہ دونوں روایتیں ہیں اور ثانی زیادہ مشہور اور ظاہر ہے ۔
فـــ۲:تطفل علی الاتقانی و من تبعہ۔
فـــ۳:تطفل علی النھر الفائق ۔
(۴) لم فـــ۴ تمش المنیۃ ولا الذخیرۃ علی قول زفرکما زعم المحقق فی الحلیۃ بل مشیا علی الروایۃ الشہیرۃ۔
(۴) منیہ اور ذخیرہ امام زفر کے قول پر گامزن نہیں جیسا کہ محقق حلبی کا حلیہ میں خیال ہے بلکہ دونوں روایت مشہورہ پر چلے ہیں ۔
فـــ۴:تطفل علی الحلیۃ۔
(۵) لاداعی لحمل الوجوب علی الثبوت کما ارتکب البحر بل ھو المراد علی اشھر الروایات۔
(۵) وجوب کو ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں جیسا کہ بحر نے اس تاویل کا ارتکاب کیا بلکہ اشہر روایات کے مطابق وجوب ہی مراد ہے ۔
(۶) لامعنی لحمل القصبۃ فی کلام المعراج علی ماصلب کما فھم فی البحر وجزم بہ فی منحۃ الخالق و ردالمحتار بل مرادہ مالان کما افاد فی النھر۔
(۶) کلامِ معراج میں ''بانسے '' کو سخت حصے پر محمول کرنے کا کوئی معنی نہیں جیسا کہ بحر میں سمجھا اور منحۃ الخالق و رد المحتار میں اس پر جزم کیا بلکہ اس سے مراد نرم حصہ ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا ۔
(۷) وقع الخلط بین القولین والمشی علی روایتین مختلفتین فی العنایۃ وشیئ منہ فی الفتح اما النھایۃ فاجبنا عنھا جوابا نفیسا۔
(۷) عنایہ میں دونوں قولوں کے درمیان تخلیط اور دونوں روایتوں پر مشی واقع ہوئی اور اس میں سے کچھ فتح القدیر میں بھی ہے۔ لیکن نہایہ سے متعلق ہم ایک نفیس جواب دے چکے ہیں ۔
(۸) لاوجہ لحمل کلام الحدادی علی ماقال فی البحر بل ھو ماش علی الروایۃ الشہیرۃ کما افصح عنہ فی الجوھرۃ النیرۃ۔
(۸) حدادی کے کلام کو اس پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو بحر میں کہا ،بلکہ وہ روایت مشہورہ پر جاری ہے جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں اسے صاف طور پر کہا ۔
(۹)نفی فـــ۱النقض فیما صلب لیس بمحض المفھوم کما فھم البحر علیہ صرائح نصوص لامردلھا۔
(۹) سخت حصے میں خون اترنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کی نفی محض مفہوم سے ثابت نہیں جیسا کہ بحر نے سمجھا بلکہ اس پر صریح ناقابل تردید نصوص موجود ہیں ۔
فـــ۱: تطفل علی البحر۔
(۱۰) لایجب حمل کلام الہدایۃ علی ما ذکر الاتقانی والعنایۃ بل لہ محمل صحیح علی الروایۃ الشہیرۃ ایضا من دون لزوم العبث والتکرار ذلک من فضل اللّہ علینا والحمد للّٰہ العزیزالغفار۔
(۱۰) ہدایہ کی عبارت کو اتقانی اور عنایہ کے ذکر کردہ معنی پر محمول کرنا لازم نہیں بلکہ روایت مشہورہ پر بھی اس کا ایک صحیح مطلب ہے جس میں نہ عبث لازم آتا ہے نہ تکرار ہوتی ہے ۔یہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور خدائے عزیز و غفار کا شکر ہے ۔
الخامس فـــ۲ سبق الی خاطر بعض المتأخرین من الشراح والمحشین ان المراد بما یلحقہ حکم التطہیر مایؤمر المکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل۔
تنبیہ پنجم :بعض متاخر شارحین و محشین کو یہ خیال ہوا کہ ''جسے حکم تطہیر لاحق ہے '' سے مراد یہ ہے کہ مکلف بالفعل جسے پاک کرنے کا مامور ہے ۔
فـــ۲:تحقیق شریف فی المراد بما یلحقہ حکم التطہیر۔
قلت ای علی فرض وقوع حدث او اصابۃ خبث اذ لولاہ نقض فصد المتوضئ لعدم خروجہ الی ماکان مامورا بتطھیرہ بالفعل، فان جعل مامورا بہ بھذا الفصل کان دورا کما لا یخفی ویتفرع علیہ انہ ان تورم موضع من بدنہ قدر کف مثلا وکان یضرہ اصابۃ الماء فانفجر من اعلاہ وسال علی الورم لاینقض مالم یجاوز موضع الورم لانہ لایؤمر بایقاع تطہیرہ بالفعل لمکان الضرر۔
قلت : ان کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اس وقت کوئی حدث واقع ہو یا کوئی نجاست لگ جائے تو اسے بروقت اس کو پاک کرنے کا حکم ہو اس لئے کہ اگر یہ نہ مانیں تو باوضو شخص کا فصد لگوانا ناقضِ وضو نہ ہو کیوں کہ ایسی جگہ کی طرف خون کا نکلنا نہ ہوا جسے پاک کرنے کا بالفعل اسے حکم رہا ہو ، اگر اسی فصد کے سبب اسے مامور مانیں تو دور لازم آئے گا جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔اسی خیال پر یہ بات متفرع ہوتی ہے کہ اگر اس کے بدن کی کسی جگہ مثلاً ہتھیلی برابر ورم ہو اور اس پر پانی لگنا ضرر رساں ہو وہ ورم اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم پر بہا تو وہ ناقضِ وضو نہ ہو جب تک کہ جائے ورم سے تجاوز نہ کر جائے کیونکہ ضرر کی وجہ سے بروقت اسے اس جگہ کو پاک کرنے کا حکم نہیں ہے
فی فتح اللّٰہ المعین عن حاشیۃ العلامۃ نوح افندی ''قال بعض الفضلاء فی شرح الوقایۃ یعنی ابن ملک یفھم من قولہ سال الی مایطھر انہ اذاکان لہ جراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوز الی موضع یجب غسلہ لاینقض الوضوء کذا فی المشکلات ۱؎ اھ
فتح اللہ المعین میں حاشیہ علامہ نوح آفندی کے حوالے سے نقل ہے :'' بعض فضلا یعنی ابن ملک نے عبارۃ شرح وقایہ سے متعلق کہا لفظ
'' سال الی ما یطہر ''
اس جگہ کی طرف بہے جسے پاک کیا جاتا ہے '' سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کسی کو پھیلی ہوئی جراحت ہے جس کا دھونا مضر ہے خون نکلا اور جراحت کے اوپر بہا ، کسی ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہے تو وضو نہ ٹوٹے گا ، ایسا ہی مشکلات میں ہے ا ھ ۔
(۱؎ فتح المعین کتاب الطہارۃ ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،۱ /۴۱)
والیہ یشیر کلامہ ابیہ السید علی حیث قال السید الازھری''المراد بحکم التطہیر وجو بہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح لینتظم مااذا کانت الجراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوزھا الی موضع یجب غسلہ فانہ ینقض لانہ سال الی موضع یلحقہ حکم التطہیر بالمسح علیہ للعذر کذا بخط شیخنا وانظرحکم مالوضرہ المسح ایضا الخ۲؎ ثم نقل عن العلامۃ نوح افندی رد ما مرعن المشکلات بما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی ثم قال ''وکلام القہستانی یشیر الی ما فی المشکلات ونصہ نزل الدم من الانف فسد مالان منہ ولم ینزل منہ شیئ اوتورم رأس الجرح فظھر بہ قیح اونحوہ ولم یتجاوز الورم لم ینقض۳؎ الخ
اسی کی طرف ان کے والد سید علی کے کلام سے بھی اشارہ ہو رہا ہے ، سید ازہری فرماتے ہیں : حکمِ تطہیر سے مراد وجوب تطہیر وضو و غسل ہیں ، اگرچہ مسح ہی کے ذریعہ ہو تاکہ اسے بھی شامل ہو جب جراحت پھیلی ہوئی ہو اس کے دھونے میں ضرر ہو اگر خون نکل کر جراحت پر بہا اور ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہو تو یہ ناقض ہے کیونکہ یہ ایسی جگہ بہا جسے عذر کے باعث مسح کے ذریعہ پاک کرنے کا حکم لاحق ہے ایسا ہی ہمارے شیخ کی تحریر میں مرقوم ہے اس صورت کا حکم قابلِ غور ہے جس میں مسح بھی ضرر دیتا ہو الخ۔ پھر علامہ نوح آفندی سے مشکلات کے سابقہ مضمون کی تردید نقل کی ، یہ آگے ان شاء اللہ تعالٰی آئے گی پھر کہا : قہستانی کا کلام بھی مضمونِ مشکلات کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ : ناک سے خون اُترا تو اس کے نرم حصے کو بند کر دیا اور اس سے کچھ نیچے نہ آیا ، یا سرِ زخم میں ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی اور ورم سے آگے نہ بڑھی تو ناقض نہیں الخ۔
(۲؎ فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۴۱)
(۳؎ فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۴۱ و ۴۲)
اقول اولا فــ ان کان فی ھذا الکلام اشارۃ الی ذلک فاسنادہ للقہستانی من ابعاد النجعۃ فان الفرع مذکور فی البحر والفتح والمبسوط وغیرھا من جلۃ المعتمد ات وقد قدمنا کلام الفتح ان فی مبسوط شیخ الاسلام تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ ولا ینقض مالم یجاوز الورم ۱؎ الخ