| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
فافاد بالجملۃ الاولی ان غسل داخل الدبر سنۃ و بالاخیرۃ ان النزول الیہ غیرناقض مالم یبرز و لا اعلم فی ھاتین خلافا لاحد من علمائنا فاستقر بحمد اللّٰہ تعالٰی عرش التحقیق علی ماکان علیہ الاکثرون کما ھو القاعدۃ المقررۃ ان الصواب مع الاکثر وقد تبین لک مما تقرر فوائد:
پہلے جملے سے افادہ کیا کہ مقام کے اندرونی کنارے کو دھو لینا سنت ہے اور بعد والے جملے سے یہ بتا دیا کہ وہاں نجاست اُتر آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تک کہ کنارے پر ظاہر نہ ہو ، میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں ہمارے علماء میں سے کسی کا کوئی اختلاف ہے تو بحمدہٖ تعالٰی عرش تحقیق اسی پر مستقر ہوا جس پر اکثر ہیں جیساکہ مقرر قاعدہ ہے کہ درستی و صواب اکثر کے ساتھ ہے تقریر ماسبق سے چند فوائد روشن ہوئے :
(۱) مرادھم بحکم التطھیر ھو الوجوب وکلامھم مناف لزیادۃ الندب کما افاد فی النھر لالما قال بل لما افاض علی المھیمن المتعال۔
(۱) حکم تطہیر سے ان حضرات کی مراد وجوب ہے اور ان کا کلام اضافہ ندب کے منافی ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا اسکی وجہ وہ نہیں جو نہرمیں بیان ہوئی بلکہ وہ جس کا میرے اوپر رب نگہبان و برتر نے فیضان کیا ۔
(۲)لایشترط فی النقض بما من غیر السبیلین الاالخروج بالسیلان علی ظاھر البدن ولو بالقوۃ فلا یستثنی من الظاھر حساالا داخل عـــہ العین لانہ لیس من الظاھر شرعا اصلا ودخل المارن وخرجت القصبۃ وسیا تیک بعض مایتعلق بھذہ الفائدۃ فی التنبیہ الخامس ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبقید القوۃ دخل مااذا افتصد فطار الدم ولم یتلوث رأس الجرح وما اذا ترب اواخذ بخرق اومص فـــ۱ علق اوقراد کبیر من دمہ مالو خرج لسال ولم یبق فـــ۲حاجۃ الی زیادۃ المکان فیما یطھرکما فعل فی الغنیۃ والبحر لادخال صورۃ الفصد فورد علیہ مالو سال الی نھر او وقع علی عذرۃ اوجلد خنزیر الی غیر ذلک وسقطت فـــ۳ المنازعات التی کانت مستمرۃ من زمن الامام صدرالشریعۃ الی عہد السید الشامی فی قولھم سال الی مایطہر،
(۲) غیر سبیلین سے نکلنے والی نجاست سے وضو ٹوٹنے میں صرف خروج کی شرط ہے اس طرح کہ ظاہر بدن پر اس کا سیلان ہو اگرچہ بالقوہ ہو ، تو بدن کے ظاہر حسّی سے صرف اندرونِ چشم کا استثناء ہو گا،کیونکہ یہ ظاہر شرعی تو بالکل ہی نہیں اور ناک کا نرم حصہ ظاہر بدن میں داخل رہا اور سخت حصہ خارج ٹھہرا ، اس فائدہ سے متعلق کچھ باتیں ان شاء اللہ تنبیہ پنجم میں آئیں گی اور بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اُڑا اور سرِزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونک یا بڑی کِلّی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا اور ما یطہر کے تحت بیرونی جگہ کا اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جیسا کہ غنیہ اور بحر میں صورتِ فصد کو داخل کرنے کے لئے اضافہ کیا تھا تو اس پر ان صورتوں سے اعتراض ہوا جن میں خون جا کر کسی دریا میں بہا یا پاخانے پر یا خنزیر کی جلد پر گرایا اور ایسی کسی چیز پر پڑا اور وہ سارے نزاعات ساقط ہو گئے جو امام صدر الشریعہ کے زمانے سے علامہ شامی کے زمانے تک لفظ '' سال الی ما یطہر '' کے تحت چلے آ رہے تھے ۔
عــہ والیہ یشیر کلام الفاضل یوسف چلپی تلمیذ العلامۃ مولی خسرو فی ذخیرۃ العقبی حیث قال الخروج الی مایطھر ھو الانتقال من الباطن الی مایجب تطہیرہ وان یصل الیہ ولم یتلوث ھو بہ،والمقصود من اعتبار قید الی مایطھر الاحتراز عن الخروج الی مایعد من ظاھر البدن حسا ولا یعد منہ شرعا لحکمۃ شرعیۃ کداخل العین لانہ لایجب تطہیرہ فالذی یخرج من بدن الانسان الی باطن العلقۃ والقراد خارج الی مایجب تطہیرہ لا بمعنی انہ لم یبق فی باطنہ الحقیقی الذی ھو تحت الجلدۃ وباطنہ الشرعی الذی ھو داخل العین ۱؎ اھ فالکان فی قولہ اولا کداخل العین کاف الاستقصاء بدلیل اٰخر کلامہ وفیہ من الفوائد ان المراد بالحکم الوجوب ۱۲ منہ۔
اسی کی طرف علامہ مولٰی خسرو کے تلمیذ فاضل یوسف چلپی کی عبارت ذخیرۃ العقبی سے بھی اشارہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : خروج الٰی ما یطہر ''یہ ہے کہ اندر سے ایسی جگہ کی طرف منتقل ہو جس کی تطہیر واجب ہے اگرچہ اس جگہ تک نہ پہنچے اور وہ اس سے آلودہ نہ ہو ''الٰی ما یطہّر ''کی قید کے ذریعہ اس جگہ کی طرف خروج سے احتراز مقصود ہے جو حسّاً ظاہر بدن سے شمار ہو اور کسی شرعی حکمت کی وجہ سے ظاہر بدن سے نہ شمار ہو جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ کیوں کہ اس کی تطہیر واجب نہیں تو بدن انسان سے نکل کر جونک اور کلّی کے پیٹ تک منتقل ہونے والا خون ایسی چیز کی طرف نکلنے والا ہے جس کی تطہیر واجب ہے نہ اس معنی کے لحاظ سے کہ وہ اپنے حقیقی باطن میں نہ رہا جو زیرِ جلد ہے اور نہ شرعی باطن میں رہا جو داخلِ چشم ہے ا ھ تو کاف ان کے پہلے لفظ کداخل العین میں کاف استقصا ہے جس پر دلیل ان کا آخر کلام ہے۔اس کلام سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ حکم سے مراد وجوب ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ نولکشور کانپور انڈیا ۱ /۲۲)
فـــ۱:مسئلہ جونک یا بڑی کِلّی بدن کو لپٹی ، اگر اتنا خون چوس لیا کہ خود نکلتا تو بہہ جاتا تو وضو جاتا رہے گا اور تھوڑا چوسا یا چھوٹی کِلّی تھی تو وضو نہ جائے گا ، یوں ہی کھٹمل یا مچھر کے کاٹے سے وضو نہیں جاتا۔ فـــ۲:تطفل علی الغنیۃ والبحر ۔ فـــ۳:فصل منازعۃ طالت منذ مئین سنۃ۔
وصارت فـــ۱العبارۃ الحسنۃ الصافیۃ الوافیۃ بحمد اللّٰہ تعالٰی ما اقول: ناقضہ من غیر السبیلین کل نجس خرج منہ وفیہ قوۃ سیلانہ علی ماھو ظاھر البدن شرعا۔
اور عمدہ ،بے غبار ، مکمل عبارت بحمدہٖ تعالٰی یہ ہوئی جو میں کہتا ہوں ''ناقض طہارت غیر سبیلین سے ہو وہ نجس ہے جو اس سے نکلے اور اسکے اندر اس پر بہنے کی قوت ہو جو شرعاً ظاہر بدن ہے ۔
فـــ۱:افادۃ المصنف عبارۃ حسنۃ فی بیان الناقض من غیر السبیلین ۔