| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
ولا شک ان مسح الدم من باطن الفرج لفرصۃ لیس الا لازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ولذا عبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم عنہ بالتطھیر فحکم التطہیرلایختص بالماء علا انا علمنا ان نظر الشارع ھھنا الی ازالۃ اثر الدم من الباطن فلاشک ان الماء ابلغ فیہ لاسیما بعد المسح بالخرقۃ کما عرف فی الاستنجاء بالماء بعد المسح بالحجر ولذافــــاتت الروایۃ عن محرر المذھب محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی اغتسال المرأۃ انھا ان لم تدخل اصبعھا فی فرجھا فلیس بتنظیف کما فی ردالمحتار۱؎ عن التاترخانیۃ، وفھم منہ الامر بالوجوب فجعل المختار خلافہ قال الشامی وھو بعید ۲؎ اھ
اور اس میں شک نہیں کہ باطن فرج سے کسی ٹکڑے سے خون پونچھنا نجاست حقیقۃً دور کرنے ہی کے لئے ہے ، اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تطہیر سے تعبیرفرمائی تو حکم تطہیر پانی ہی سے خاص نہیں علاوہ اس کے کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نظرِ شارع یہاں اندر سے خون کا اثر دورکرنے پر ہے تو پانی یقینا اس میں زیادہ کارگر ہو گا ، خصوصاً پارچہ سے پونچھنے کے بعد ، جیسا کہ پتھر سے پونچھنے کے بعد پانی سے استنجاء کے بارے میں معلوم ہے ۔ اسی لئے محررِ مذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے عورت کے غسل کے بارے میں روایت آئی کہ اگر وہ فرج میں انگلی نہ لے جائے تو تنظیف نہ ہو گی ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے نقل ہے اور صاحبِ تاتارخانیہ نے اس سے وجوب سمجھا اور مختار اس کے خلاف کو بتایا ۔ علامہ شامی نے کہا : وجوب کا معنی بعید ہے ا ھ ۔
فــــــ:غسل میں عورت کو مستحب ہے کہ فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھو لے ہاں واجب نہیں بغیر اس کے بھی غسل اتر جائے گا ۔
(۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳) (۲؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳)
قلت فانہ ان اراد الوجوب قال لیس بطہارۃ ولم یقلہ وانما قال لیس بتنظیف وما فی الدر وغیرہ لا تدخل اصبعھا فی قلبھا بہ یفتی۳؎ فمرادہ نفی الوجوب کمافی ردالمحتار۴؎ عن السید الحلبی عن العلامۃ الشرنبلالی لاجرم ان قال فی الفتح تغسل فرجھا الخارج لانہ کالفم ولا یجب ادخالھا الاصبع فی قبلھا وبہ یفتی ۵؎ اھ ونفی الوجوب لاینفی الندب۔ والاخر وھو الا قوی فـــ والاظھر۔
قلت: اس لئے کہ اگر وجوب مراد ہوتا تو یہ کہتے کہ طہارت نہ ہو گی ۔یہ انہوں نے نہ کہا بلکہ صرف یہ کہا کہ تنظیف نہ ہوگی اور درمختار وغیرہ میں جو لکھا ہے کہ:اپنی شرمگاہ میں انگلی نہ لے جائے گی ، اسی پر فتوی ہے اس کا مقصود وجوب کی نفی ہے یعنی اس پر یہ واجب نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار میں سید حلبی سے نقل ہے وہ علامہ شرنبلالی سے ناقل ہیں اسی لئے فتح میں ہے : عورت اپنی فرج خارج کو دھوئے اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے اور اس کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا واجب نہیں اور اسی پر فتوی ہے ا ھ اور وجوب کی نفی سے مندوبیت کی نفی نہیں ہوتی ۔ اور دوسرا قول زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔
(۳؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دھلی ۱ /۲۸) (۴؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳) (۵؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۰)
فــــ: تطفل اخر علی العلماء الستۃ ۔
اقول: اجمعنافــــ۱ ان خروج شیئ الی الشرج لاینقض طھرا مالم یبرز وقد لحقہ حکم التطھیر ندبا فان فــــ۲ السنۃ للمستنجی ان یجلس افرج مایکون ویرخی کی یظھر فیطھر مایبقی کامنا لولا الانفراج والارخاء ۔
اقول :اس پر ہمارا اجماع ہے کہ مخرج کی اندونی سطح تک نجاست کا آ جانا ، ناقضِ طہارت نہیں جب تک کنارے پر ظاہر نہ ہو حالاں کہ ندباً اسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پاخانے سے استنجا کرنے والے کے لئے سنّت یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے پاؤں کشادہ کر کے اور ڈھیلا ہو کر بیٹھے اور ڈھیلا پن نہ ہونے کی صورت میں جو کچھ چھپا رہتا سب ظاہر ہو کر پاک ہو جائے ۔
فــــ۱ـــ: مسئلہ نجاست اگر مخرج کی اندرونی سطح تک آ جائے وضو نہ جائے گا جب تک کنارے پر ظاہر نہ ہو ۔ فـــ۲ـــ: مسئلہ بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زور دے کہ جتنا حصہ مخرج کا ظاہر ہو سکے ظاہر ہو کر سب نجاست دھل جائے ۔
قال فی الحلیۃ اذا کان الاستنجاء بالماء من الغائط فلیجلس کأفرج مایکون مرخیا نفسہ کل الارخاء لیظھر مایدا خلہ من النجاسۃ فیزیلہ وان کان فـــ۳ صائما ترک تکلف الارخاء ۱؎
حلیہ میں ہے : ''جب پاخانہ سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تک ہو سکے کشادہ ہو کر ، اپنے کو پورے طور سے ڈھیلا کر کے بیٹھے تا کہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے ، اگر روزہ دار ہو تو ڈھیلا ہونے کا تکلف ترک کر دے ا ھ ''
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
فــــ۳ :مسئلہ یہ مسنون طریقہ کہ بڑے استنجے میں مذکور ہوا روزہ دار کے لئے نہیں وہ ایسا نہ کرے ۔
وقد بین المقدمتین معافی الدر المختار باوجز لفظ حیث قال فی اٰخر فصل الاستنجاء استنجی فــــ المتوضیئ ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض والا لا ۱؎ اھ
ان دونوں باتوں کو درمختار میں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے کہ فصل استنجاء کے آخر میں کہا :''باوضو نے استنجاء کیا اگر بطور سنت ہو اس طرح کہ ڈھیلا رہے ، تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ا ھ ۔
(۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۷)
فـــ:مسئلہ بڑا استنجاء ڈھیلوں سے کر کے وضو کر لیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجاء اس مسنون طریقہ پر پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر وضو کرے گا جاتا رہے گا اور ویسے ہی کرے گا تو ہمارے نزدیک نہ جائے گا۔