Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
81 - 123
اقول۱۰۴: والثانی و ان ظھر وجہہ فان الخروج الی ظاھر البدن شرط بالاتفاق قال صدرالشریعۃ المعتبر الخروج الی ما ھو ظاھر شرعا ۲؎ اھ وما صلب من الانف داخل فی الداخل خارج عن الخارج بالاتفاق ولذا لم یجب تطہیرہ فی الغسل ایضا فالاول ایضالہ وجہ وذلک انا لما رأینا الشرع ندب الی غسلہ فی الغسل والوضوء علمنا ان لہ وجہا الی الظاھر والالم یندب غسلہ کسائر الداخلات فاذا وجد السیلان فیہ اوجبنا الوضوء للاحتیاط نظر الی ذلک الوجہ ھذا ماظھر لی۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
اقول:  ثانی کی وجہ تو ظاہر ہے ----کیونکہ ظاہر بدن کی طرف نکلنا بالاتفاق شرط ہے --- صدر الشریعہ فرماتے ہیں : معتبر اس حصہ بدن کی طرف نکلنا ہے جو شرع میں ظاہر قرار دیا گیا ہے اھ ----- اور ناک کا سخت حصہ بالاتفاق داخلِ بدن میں داخل اور خارجِ بدن سے خارج ہے اسی لئے غسل میں بھی اسے پاک کرنا واجب نہیں ------مگر اول کی بھی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ جب ہم نے دیکھا کہ شریعت نے غسل اور وضو میں اس کا دھونا مندوب رکھا ہے اور اس کی دعوت و ترغیب دی ہے تو اس سے ہمیں علم ہوا کہ اس کا ایک رُخ ظاہر کی جانب بھی ہے ورنہ اس کا دھونا مندوب نہ ہوتا ، جیسے دیگر داخلی حصوں کا حال ہے۔ تو جب اس سخت حصے میں سیلان پایا جائے تو اسی پر نظر کرتے ہوئے احتیاطاً ہم نے وضو واجب کہا یہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
(۲؎شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ کون المسائل الی ما یطہرنا قضا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۱ )
وبالجملۃ انا العبد الضعیف اجدنی امیل الی القول الثانی من حیث الدرایۃ وشھرۃ الروایۃ معالکن لاجل الاحتیاط وتلک الروایۃ الھائلۃ القائلۃ ان الوجوب ثمہ باتفاق ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم احببت میلاما الی الاول وعلی توفیق اللّٰہ المعول۔
الحاصل میں بندہ ضعیف اپنے کو درایت اور شہرت روایت دونوں کی وجہ سے قول ثانی کی طرف مائل پاتا ہوں لیکن احتیاط کی وجہ سے اور اس عظیم روایت کی وجہ سے ، جس میں یہ ہے کہ یہاں وجوب پر ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اتفاق ہے میں نے اول کی طرف مائل ہونا پسند کیا اور خدا ہی کی توفیق پر بھروسہ ہے ۔
ثم اقول۱۰۵: ظھرلی الاٰن بتوفیق المنان علی تعمیم الحکم للندب نقضان احدھما ف۱ تظافر نصوص المذھب ان نزول ف۲ شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط مالم یجاوزہ الی الفرج الخارج مع ان الفرج ف الداخل قد لحقہ حکم التطھیر ندبا،
ثم اقول : ندب کے حکم کو عام کرنے پر خدا کی توفیق سے مجھ پر ابھی دو نقض منکشف ہوئے :
نقضِ اوّل : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اُتر آئے توناقضِ طہارت نہیں جب تک اس سے بڑھ کر فرج خارج تک نہ آ جائے حالانکہ فرج داخل کو بطور ندب تطہیر کا حکم ہوتا ہے ۔
ف۱ :تطفل ۷۲ علی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وط وش۔ 

ف۲ : مسئلہ فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے جب تک اس کے منہ سے متجاوزکر کے فرج خارج میں نہ آئے گی غسل یا وضو کچھ واجب نہ ہوگا ۔

ف: مسئلہ زن حائضہ کو مستحب ہے کہ بعد فراغ حیض جب غسل کرے ایک پرانے کپڑے سے فرج داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کرلے۔
وذلک حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا فی الصحیحین وغیرھما ان امرأۃ من الانصار سألت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن غسلھا من المحیض فامرھا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کیف تغتسل ثم قال خذی فرصۃ من مسک فتطھری بھا ۱؎ (وھو بفتح المیم ای من ادیم ورجحوہ علی روایۃ الکسر وفی روایات فرصۃ ممسکۃ ای خرقۃ خلقۃ قد امسکت کثیرا قال الامام التور پشتی ھذا القول امتن واحسن واشبہ بصورۃ الحال ولو کان المعنی علی انھا مطیبۃ لقال فتطیبی ولانہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم امرھا بذلک لازالۃ الدم عند التطھیر ولو کان لازالۃ الرائحۃ لامربھا بعد ازالۃ الدم وتمامہ فی المرقاۃ۱؎ لمولانا علی القاری) ۔
اس بارے میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں آئی ہے کہ انصارکی ایک عورت نے اپنے غسل حیض کے متعلق نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سوال کیا تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ کس طرح غسل کرے ، پھر فرمایا : خذی فرصۃ من مسک فتطہری بہا ( مَسْک میم کے زبر کے ساتھ یعنی صا ف کیا ہوا چمڑا ، حضرات علماء نے زیر والی روایت میں فرصۃ ممسکۃ ہے یعنی کوئی پرانا ٹکڑا جو زیادہ دنوں تک روکا گیا ہو امام تورپشتی نے فرمایا : یہ قول زیادہ مضبوط ، بہتر اور صورتِ حال سے زیادہ مناسب ہے اگر یہ معنی ہو کہ وہ ٹکڑا خوشبو آلود ہو تو فرماتے فتطیبی اس کے ذریعہ خوشبو مل لو ، دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم پاک کرنے کے وقت خون دور کرنے کے لئے دیا ، اگر یہ حکم بُو دور کرنے کے لئے ہوتا تو خون صاف کر لینے کے بعد اسے کرنے کا حکم دیتے پوری بات مولانا علی قاری کی مرقاۃ میں ہے )۔
 (۱؎صحیح البخاری کتاب الحیض باب دلک المرأۃ نفسہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۵)

(صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال المغتسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۵۰)

(مشکوۃ المصابیح باب الغسل الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸) 

(۱؎مرقاۃ المفاتیح بحوالہ التورپشتی تحت الحدیث۴۳۷ المکتبۃ الحنفیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)

(کتاب المیسرشرح مصابیح السنۃ تحت حدیث ۲۸۱ مکتبہ نزارمصطفی ٰالباز مکۃ المکرمہ۱ /۱۵۲)
فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم تطھری بھا قالت کیف اتطھر بھا فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم سبحان اللہ تطہری بہا ، قالت ام المؤمنین فاجتذبتھا الیّ فقلت تتبغی بھا اثرالدم ۲؎ اھ ای اجعلیھا فی الفرج وحیث اصابہ الدم للتنظیف ۳؎
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :چمڑے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو ، عرض کیا : کیسے پاکی حاصل کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ، اس سے پاکی حاصل کرو ۔ امّ المومنین فرماتی ہیں :میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا اس کے ذریعہ خون کے نشان تلاش کرو ا ھ یعنی اندون فرج اور دوسری جگہ جہاں خون لگ گیا ہو اس سے صاف کرو ،
 (۲؎صیح البخاری          کتاب الحیض باب دلک المرأۃ نفسہا الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵)

(صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال للغسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۰)

(مشکوۃ المصابیح باب الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸ )

(۳؎مرقاۃ المفاتیح باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۲)
فقد امر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم المرأۃ تغتسل من محیضہا ان تطہر داخل فرجھا وتزیل عنہ الدم بفرصۃ ومعلوم ان حکم التطھیر یعم التطھیر من النجاسۃ الحقیقیۃ کالحکمیۃ وقد مرالتنصیص بہ فی قول الفتح فیما لان من الانف انہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض ۱؎ اھ وفی الغنیۃ او  فی ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ۲؎ اھ۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض سے غسل کرنے والی عورت کو یہ حکم دیا کہ داخل فرج کو پاک کرو اور کسی ٹکڑے کے ذریعہ اس سے خون دور کرے اس سے معلوم ہوا کہ تطہیر کا حکم ، نجاستِ حکمیہ کی طرح نجاستِ حقیقیہ سے تطہیر کو بھی شامل ہے، اس سے متعلق فتح کی صراحت بھی گزر چکی اس میں ناک کے نرمہ سے متعلق ہے کہ اسے جنابت میں اور نجاست سے دھونا واجب ہے تو اس میں خون  اتر  آنا  ناقض  وضو ہے اھ ۔ غنیہ میں ہے : یانجاست حقیقیہ کے ازالہ میں ( حکمِ تطہیر ہو) اھ ۔
 (۱؎فتح القدیرکتاب الطہارۃ المکتبۃالنوریۃ الرضویۃبسکھر۱ /۳۴)

(۲؎غنیہ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی النواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۱)
فی البحر مرادھم ان یتجاوز الی موضع تجب طھارتہ اوتندب من بدن وثوب ومکان ۳؎ اھ
البحر الرائق میں ہے ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی پاکی واجب یا مندوب ہے وہ جگہ بدن کی ہو یا کپڑے کی یا خارجی جگہ ا ھ۔
(۳؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۱ /۳۱)
Flag Counter