Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
80 - 123
(۱۶) وقال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر قولہ الی مایطھر احتراز عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف بخلاف مااذا سال الی المارن لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض ۱؎ اھ
 (۱۶) علامہ مولی خسرو نے درر الحکام میں فرمایا : عبارت متن '' الی ما یطہر '' میں اس صورت سے احتراز ہے جب کہ خون ناک کے نرمے سے اوپر تک بہہ آئے بخلاف اس صورت کے کہ جب نرمے تک بہہ آئے اس لئے کہ استنشاق جنابت میں فرض ہے '' ا ھ
(۱؎الدررالحکام شرح غررالاحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
اقول:  والعجب ف من العلامۃ الجلیل ابی الاخلاص حسن بن عمارا لشرنبلا لی حیث حاول فی غنیتہ تحویل ھذا التصریح الی مااختارہ تبعا للفتح والبحر من ان الحکم یعم الندب حیث قال فی مراقیہ ''السیلان فی غیر السبیلین بتجاوز النجاسۃ الی محل یطلب تطہیرہ ولو ندبا فلا ینقض دم سال داخل العین بخلاف ماصلب من الانف ۲؎ اھ
اقول:  علامہ جلیل ابو الاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے حاشیہ غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی تصریح کو فتح اور بحر کی تبعیت میں اپنے اختیار کردہ اس مسلک کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے کہ حکم ، ندب کو بھی شامل ہے کیونکہ انہوں نے مراقی الفلاح میں لکھا ہے : '' سبیلین کے علاوہ میں سیلان کا معنی یوں ثابت ہو گا کہ نجاست ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی تطہیر مطلوب ہوتی ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو آنکھ کے اندر بہنے والا خون ناقض نہیں بخلاف اس کے جو ناک کے سخت حصے میں بہے ا ھ
 (۲؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۸۷)
فــــ: تطفل علی العلا مۃ شرنبلالی
فقال رحمہ اللّٰہ تعالٰی قولہ عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف یعنی اقصاہ لاماقریب من الارنبۃ فان غسلہ مسنون فینتقض الوضوء بسیلان الدم فیہ ۳؎ اھ
تو وہ عبارت درر کے تحت غنیہ میں یوں لکھتے ہیں :'' ان کا قول'' اس صورت سے احتراز ہے جب خون ناک کے نرمہ سے اوپر تک بہہ آئے '' اس سے مراد آخری سرا ہے وہ نہیں جو نرم حصے سے قریب ہے کیونکہ اس کا دھونا مسنون ہے تو اس کے اندر خون بہنے سے وضو ٹوٹ جائیگا '' اھ
 (۳؎ غنیۃ ذوی الاحکام علی ہامش دررالحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)
وانت تعلم ان ھذا تبدیل لاتاویل وبالجملۃ عامۃ الکتب علی ماتری نعم فی الخلاصۃ ان رعف فنزل الدم الی قصبۃ انفہ نقض وضوءہ ۱؎ اھ وفی البزازیۃ نزول الرعاف الی قصبۃ الانف ناقض ۲؎ اھ وظاھرہ کما قدمنا یعم ماصلب لکن البزازیۃ کانھا خلاصۃ الخلاصۃ کما یظھر علی من طالعھما واذا کان فی الخلاصۃ مانقل عنہ فی خزانۃ المفتین علی مافی نسختی ظھر مرادھا لکن لم اجدہ فی نسختی الخلاصۃ وقد وجدت نسخھا مختلفات بنقص و زیادۃ قلیلا وتقدیم وتاخیر کثیر افاللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ناظر پر عیاں ہے کہ یہ تبدیل ہے تاویل نہیں ----- الحاصل عامہ کتب تقیید پر ہیں جیسا کہ سامنے ہے ، ہاں خلاصہ میں یہ لکھا ہے :'' اگر نکسیر  پھوٹی اور خون ناک کے بانسے تک اُتر آیا تو وضو ٹوٹ گیا '' اھ
اور بزازیہ میں ہے : ناک کے بانسے تک نکسیر اتر آنا ناقض وضو ہے ا ھ'' ان عبارتوں کا ظاہر جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا سخت حصے کو بھی شامل ہے لیکن بزازیہ ، خلاصہ کا گویا خلاصہ ہے جیسا کہ دونوں کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے اور جب خلاصہ میں وہ عبارت ہے جو خزانۃ المفتین میں اس سے نقل ہوئی جیسا کہ خزانہ کے میرے نسخہ میں ہے تو خلاصہ کی مراد ظاہر ہے لیکن یہ عبارت خلاصہ کے میرے نسخے میں نہ ملی اور میں نے اس کے نسخے بہت مختلف پائے ہیں جن میں کہیں کہیں کمی بیشی کا فرق ہوتا ہے اور تقدیم و تاخیر کا فرق تو بہت ملتا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۵)

(۲؎الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور۴ /۱۲ )
ولعلک تقول ماالذی تحصل تلک النقول والام اٰل الامر فی اختلاف البحر والنھر وھل ثمہ مایکشف الغمہ۔اقول کان باب التوفیق مفتوحا کما اشرنا الی بعضہ لولا ان مع البحر روایۃ الاتقانی مع تبعیۃ العنایۃ وجزم الحلیۃ وھو مفسر لایقبل التاویل ویقرب منہ نص الفتح بتعمیم الندب ومع النھر مااسلفنا من کثرۃ النصوص فی کلتا المسألتین القصر علی الوجوب والتقیید بالمارن وفیھا سبعۃ نصوص مفسرات اٰبیات عن التاویل کلام الذ خیرۃ والملتقط والخزانۃ عن الخلاصۃ وثالث عبارات الجوھرۃ والبرجندی وجامع الرموز والدررفلا امکان للتطبیق والحمل علی اختلاف الروایۃ ایسر من نسبۃ احد الفریقین الی الخطاء والغلط والغفلۃ والشطط فالذی تحرر عندی ان ھھنا عن ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم روایتین روایۃ النقض بالسیلان فی ماصلب وان لم یصل الی مالان وھی التی عرفناھاباعتماد اتقان الاتقانی وعلیھا یجب تعمیم الحکم الندب وھوالذی اختارہ فی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وتبعھم الطحطاوی و ردالمحتار والاخری عدم النقض الا بالسیلان فیما لان وھی الروایۃ الشہیرۃ الشائعۃ فی الکتب الکثیرۃ وعلیھا یقتصرالحکم علی الوجوب ولایبقی داع اصلا الی تعمیم الندب وھو الذی مشی علیہ الاکثرون فاذن الثانی اکثرو اشھر واظھر وایسر غیر ان مراعاۃ الاول احوط کما قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدر بعد نقل کلامی البحر والنھر ''اقول مافی البحر احوط فتامل ۱؎ اھ وصورۃ السیلان فیما اشتد مع عدم  النزول الی المارن نادرۃ لاعلینا ان نعمل فیھا بالاحوط فلذا جنحت الیہ جنوحا ماتبعا لھؤ لاء المحققین الجلۃ الکرام ۔
شاید آپ کہیں ان نقول کا حاصل اور بحر و نہر کے اختلاف میں انجام کار کیا ہوا ؟ کیا یہاں ایسی کوئی صورت بھی ہے جس سے یہ مشکل حل ہو ؟ اقول تطبیق کا دروازہ تو کھلا ہوا تھا ۔۔۔جیسا کہ ہم نے کچھ تطبیق کا اشارہ بھی کیا ۔۔ اگر بحر کی ہم نوائی میں اتقانی کی روایت نہ ہوتی جب کہ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی ہے اور حلیہ نے اس پر جزم کیا ہے یہ ایسی مفسَّر ہے جس میں تاویل نہیں ہو سکتی۔۔۔ اس سے قریب ندب کو شامل کرنے میں فتح کی تصریح ہے اور نہر کی موافقت میں وجوب پر اکتفا اور نرمہ کی تقیید دونوں ہی مسئلوں میں نصوص کی وہ کثرت ہے جو ہم ہیش کر چکے ، ان میں سات نصوص مفسَّر ناقابل تاویل ہیں عبارات (۱)ذخیرہ ،( ۲)ملتقط ،(۳) خزانۃ المفتین عن الخلاصہ ، (۴)جوہرہ کی تیسری عبارت ، (۵)برجندی ، (۶)جامع الرموز ،(۷) درر کی عبارتیں تو تطبیق کا کوئی امکان نہیں اب ایک فریق کی جانب غلطی و خطا اور زیادتی و غفلت کی نسبت کرنے سے آسان یہ ہے کہ اختلافِ روایت مان لیا جائے تو میرے نزدیک واضح بات یہ ہے کہ یہاں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے دو روایتیں ہیں ایک روایت یہ کہ سخت حصے کے اندر پہنچنے سے وضو ٹوٹ جائیگا اگرچہ نرم حصے تک نہ پہنچے -----یہ وہ روایت ہے جو اتقانی کے اتقان اور پختہ کاری پر اعتماد سے ہمیں معلوم ہوئی ، اس کی بنیاد پر حکم میں ندب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے اسی کو فتح القدیر ، حلیہ ، البحرالرائق اور مراقی الفلاح میں اختیار کیا اور ان ہی کا طحطاوی اور ردالمحتار نے اتباع کیا ، دوسری روایت یہ کہ جب تک نرم حصے میں نہ بہے وضو نہ ٹوٹے گا یہی روایت کثیر کتابوں میں عام اور مشہور ہے اس کی بنیاد پر حکم  وجوب تک محدود رہے گا اور ندب کو شامل کرنے کا بالکل کوئی داعی نہ رہ جائے گا ۔ اسی پر اکثر حضرات چلے ہیں ، ایسی صورت میں ثانی اکثر ، اشہر ، اظہر اور ایسر ہے مگر یہ کہ اول کی رعایت احوط ہے جیسا کہ سیّد طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں بحر و نہر کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا : میں کہتا ہوں جو بحر میں ہے وہ احوط ہے ، تو تامّل کرو اھ اور نرمے تک خون آئے بغیر صرف سخت حصے میں بہے یہ صورت بہت کم پیش آنیوالی ہے اس میں احوط پر عمل کر لینا کچھ ضروری نہیں اسی لئے ان بزرگ محققین کی پیروی میں اس کی جانب میرا کچھ میلان ہوا ۔
 (۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ۱ /۷۷)
Flag Counter