فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق فان مراد زفر بالوصول مجرد الظھور وبما یلحقہ حکم التطھیر ظاھر البدن ومراد الائمۃ بالوصول السیلان وبما یلحقہ التطھیر ماشرع تطھیرہ ولو ندبا فاذا وصل الی ھنا حصل الوصول بالمعنیین الی مایطھر علی القولین وھذا تقریر صاف واف لابحث فیہ ولا غبار علیہ۔
اب کلامِ عنایہ میں جو آیا کہ فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق اس کا مطلب واضح ہے اس لئے کہ پہنچنے سے امام زفر کی مراد محض ظاہر ہونا ہے اور ''جسے حکم تطہیر لاحق ہے '' سے ان کی مراد ظاہر بدن ہے۔ اور پہنچنے سے ائمہ کی مراد بہنا ہے اور "جسے حکم تطہیر لاحق '' سے ان کی مراد وہ جس کی تطہیر مشروع ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو خون جب نرم حصے تک پہنچ گیا تو دونوں قول کے مطابق جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس تک پہنچنے کا دونوں معنی حاصل ہو گیا یہ---- صافی وافی تقریر ہے جس میں نہ کوئی بحث ہے اور نہ اس پر کوئی غبار ہے ۔
بقی الفحص عن الروایۃ اقول لانمتری ان صاحب الغایۃ ثقۃ الی الغایۃ وقد اعتمد کلامہ فی العنایۃ وجزم بہ فی الحلیۃ حتی حکم باعتمادہ علی صاحب المنیۃ وعلی من ھو اجل واکبر اعنی الامام برھان الدین محمود صاحب الذخیرۃ انھما مشیا ھھنا علی قول زفر۔ لکن الذی رأیتہ فیما بیدی من الکتب ھو المشی علی التقیید والحکم علیھم جمیعا انھم اغفلوا المذھب ومشوا علی قول زفرفی غایۃ الاشکال۔
اب رہی روایت کی تفتیش اقول ہم اس میں شک نہیں رکھتے کہ صاحب غایہ نہایت درجہ ثقہ ہیں ، ان کے کلام پر صاحبِ عنایہ نے اعتماد کیا اور اس پر صاحبِ حلیہ نے جزم کیا یہاں تک کہ ان پر اعتماد کر کے صاحبِ منیہ اور ان سے بھی برتر بزرگ امام برہان الدین محمود صاحبِ ذخیرہ کے خلاف فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں حضرات یہاں امام زفر کے قول پر چلے گئے ہیں ۔لیکن مجھے جو کتابیں دستیاب ہیں ان میں میں نے تقیید ہی پر مشی پائی اور سب کے خلاف یہ فیصلہ کرنا کہ یہ حضرات مذہب کو براہِ غفلت چھوڑ کر امام زفر کے قول پر چلے گئے ، انتہائی مشکل امر ہے ۔
وقد اسمعناک نصوص المنیۃ ۱والجوھرۃ۲ والتبیین۳ ومعراج الدرایۃ بل والفتح۵ والعنایۃ۶ والنھایہ۷ وفی الجوھرۃ ایضاً لو سال الدم الی مالان من الانف والانف مسدودۃ نقض اھ۱؎ وفیھا ایضا احترز بقولہ حکم التطھیر عن داخل العین وباطن الجرح وقصبۃ الانف ۲؎ اھ
ہم (۱) منیہ (۲) جوہرہ (۳) تبیین (۴) معراج الدرایہ (۵) بلکہ فتح القدیر (۶) عنایہ (۷) اور نہایہ کی عبارتیں پیش کر چکے ہیں اور جوہرہ میں دو یہ عبارتیں اور ہیں ۔ :(ا) اگر ناک بند ہے اور خون ناک کے نرم حصے تک بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا ۔ (ب) حکمِ تطہیر کہہ کر آنکھ کے اندونی حصے ، زخم کے اندونی حصے اور ناک کے بانسے سے احتراز کیا ہے ا ھ ۔
وفی خزانۃ المفتین۸ للامام السمعانی رامزا علی مافی نسختی خ للخلاصۃ اذا دخل اصبعہ فی انفہ فدمیت اصبعہ ان نزل الدم من قصبۃ الانف نقض وانکان من داخل الانف لا ۳؎ اھ
(۸) امام سمعانی کی خزانۃ المفتین میں جیسا کہ میرے نسخے میں ہے خلاصہ کے حوالہ کے لئے خ کا رمز دے کر نقل کیا ہے ''ناک میں انگلی ڈالی ، انگلی خون آلود ہو گئی ، اگر خون ناک کے بانسے سے اترا ہے توناقض اور اگر داخلی حصے سے اُترا ہے تو نہیں ''ا ھ
(۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۴)
(۹) اور اسی میں نوازل کے لئے ن کا رمز لگا کر نقل کیا ہے '' جب نرم حصے تک اتر آئے تو ناقض ہے '' ا ھ
(۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۴)
وفی جامع ۱۰الرموز اذ انزل الدم الی الانف فسد مالان منہ حتی لاینزل فانہ لاینقض ۲؎ اھ
(۱۰) اور جامع الرموز میں ہے :''خون ناک کی طرف اترا تو نرم حصے کو کسی چیز سے بند کر دیا تاکہ اس میں نہ اتر آئے تو ایسی صورت میں وضو نہ ٹوٹے گا ا ھ ''
(۲؎ جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ /۳۴ )
وقال الامام الاجل محمود فی الذخیرۃ علی مانقل عنھا فی الحلیۃ وعن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ ادخل اصبعہ فی انفہ فلما اخرجہ رأی علی انملتہ دما فمسح ثم قام فصلی وتاویلہ عندنا اذا بالغ حتی جاوز مالان من انفہ الی ماصلب وکان الدم فیما صلب من انفہ وکان قلیلا بحیث لوترکہ لاینزل الی موضع اللین فمثلہ لیس بناقض ۳؎اھ
(۱۱) امام محمود ذخیرہ میں فرماتے ہیں جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا ہے :''حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ناک میں انگلی ڈال کر نکالی تو پَورے پر خون نظر آیا اسے پونچھ دیا پھر اٹھ کر نماز ادا کی ، ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انگلی ناک کے اندر داخل کرنے میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ نرم حصے میں خون تھا اور اتنا قلیل تھا کہ چھوڑ دینے پر نرم حصے تک نہ اُترتا تو ایسی صورت میں وہ خون ناقض نہیں '' ا ھ
(۳؎الذخیرۃ )
وکذلک صرح بہ الامام الشہید ناصر الدین محمدبن یوسف الحسینی فی الملتقط قال فی الہندیۃ لونزل الدم من الرأس الی موضع یلحقہ حکم التطھیر من الانف والاذنین نقض الوضوء کذا فی المحیط والموضع الذی یلحقہ حکم التطہیر من الانف مالان منہ کذافی الملتقط ۱؎ اھ
(۱۲) اسی طرح امام شہید ناصر الدین محمد بن یوسف حسینی نے ملتقط میں اس کی صراحت فرمائی ۔
(۱۳) ہندیہ میں ہے '' اگر خون سر سے ناک یا کانوں کی ایسی جگہ تک اُتر آیا جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وضو ٹوٹ گیا ۔ ایسا ہی محیط میں ہے، اور ناک کی وہ جگہ جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے اس کا نرم حصہ ہے۔، ایسا ہی ملتقط میں ہے ا ھ ۔
(۱؎ الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۱)
وقال الامام الاجل فقیہ النفس فی الخانیۃ لو نزل الدم من الرأس الی مالان من الانف ولم یظھر علی الارنبۃ نقض الوضوء ۲؎اھ
(۱۴) امام جلیل فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں : خون اگر سر سے ناک کے نرم حصے تک اتر آیا اور بانسے کے اوپر نہ ہوا تو وضو ٹوٹ گیا اھ
(۲؎ فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیما ینقض الوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۸ )
(۱۵)وقال البرجندی مستشکلا عبارۃ النقایۃ سال الی مایطھر مانصہ یخدشہ انہ اذا خرج الدم من اقصی الانف وسال حتی بلغ مالان منہ ولم یسل علیہ ینبغی علی ھذا ان یکون ناقضا لانہ خرج الی مایطھر وسال ولیس کذلک الا ان یقال المراد من النجس النجس بالفعل ومثل ھذا الدم لیس بنجس بالفعل اویقال المراد انہ سال بعد الخروج الی مایطھر علی ماھو المتبادر من العبارۃ ۳؎ اھ
(۱۵) برجندی نے عبارت نقایہ '' سال الی ما یطہر ، ایسی جگہ بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے '' پر اشکا ل پیش کرتے ہوئے کہا : یہ اس بات سے مخدوش ہو رہی ہے کہ جب خون ناک کے آخری سرے سے نکلا اور بہہ کر نرم حصے تک پہنچا اور اس پر نہ بہا تو اس بنیاد پر چاہئے کہ وہ ناقض ہو اس لئے کہ وہ ایسی جگہ کی طرف نکلا اور بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے حالاں کہ وہ ناقض نہیں ہے مگر یہ کہا جائے کہ نجس سے مرادنجس بالفعل ہے اورایسا خون بالفعل نجس نہیں یا یہ کہا جائے کہ وہ نکلنے کے بعد ایسی جگہ کی طرف بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے جیسا کہ عبارت سے متبادر ہے ا ھ ۔
(۳؎شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۲۱)