| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
قال العلامۃ الاتقانی قولہ الی مالان من الانف ای الی المارن وما بمعنی الذی ،فان قلت لم قید بھذا القید مع ان الروایۃ مسطورۃ فی الکتب عن اصحابنا ان الدم اذا نزل الی قصبۃ الانف ینقض الوضوء ولاحاجۃ الی ان ینزل الی مالان من الانف فای فائدۃ فی ھذا القید اذن سوی التکرار بلا فائدۃ لان ھذا الحکم قد علم فی اول الفصل من قولہ والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر قلت بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا لان عند زفر لاینتقض الوضوء مالم ینزل الدم الی مالان من الانف لعدم الظہور قبل ذلک اھ (قال فی المنحۃ بعد نقلہ) وھو شاھد قوی علی ماقالہ (ای صاحب البحر)فلا تغتر بتزییف صاحب النھر واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق ۱؎ اھ
علامہ اتقانی لکھتے ہیں : ا ن کی عبارت ''الی ما لان من الانف -------ناک کے اس حصے تک اُتر آئے جو نرم ہے '' اس سے مراد ''مارن '' (نرمہ) ہے. اور ''ما '' بمعنی الذی ہے . اگر اعتراض ہو کہ قید کیوں لگائی جب کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں روایت یوں لکھی ہوئی ہے کہ خون جب ناک کے بانسے تک اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے. اور اس کی ضرورت نہیں کہ ناک کے نرم حصے تک اترے ایسی صورت میں اس قید کا کیا فائدہ ؟. سوا اس کے کہ بے سُود تکرار ہو کیونکہ یہ حکم تو وہیں معلوم ہو گیا جو شروع فصل میں فرمایا :اور خون اور پیپ جب یہ بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے ''----تو میں کہوں گا یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے اس لئے کہ امام زفر کے نزدیک جب تک نرم حصے تک نہ اترے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ اس سے پہلے ظہور ثابت نہیں ہوتا '' ا ھ ، اسے علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کرنے کے بعد فرمایا : یہ صاحبِ بحر کے کلام پر قوی شاہد ہے تو صاحبِ نہر کی تردید سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے اور خدائے تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے ا ھ۔
(۱؎منحۃالخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۲)
وذکر مثل کلامہ الذی نقلنا ھھنا مع قلیل زیادۃ فی رسالۃ الفوائد المخصصۃ واورد خلاصتہ فی ردالمحتار وختمہ بقولہ'' فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد فاغتنم ھذا التحریر المفرد ۱؎ الخ۔
اسی طرح کی بات علامہ شامی نے تھوڑے اضافے کے ساتھ اپنے رسالہ '' الفوائد المخصصہ ''میں بھی ذکر کی ہے------- اس کا خلاصہ ردالمحتار میں بھی لکھا ہے اور اسے اس عبارت پر ختم کیا ہے : ''تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسے سے مراد اس کا سخت حصہ ہے ۔ اس منفرد تحریر کو غنیمت جانو ''۔ الخ
(۱؎رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۱)
اقول ۹۸: فــــ ۱نعم ھو صریح فی ان المراد فی تلک الروایۃ مااشتد اما عبارۃ المعراج التی فیھا کلام البحر والنھر فلا مساغ فیھا للحمل علی مااشتد للزوم الاختلاف بین الدلیل والمدعی کما علمت فالحق ان استناد البحر بھا لیس فی محلہ۔
اقول ہاں یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اس روایت میں سخت حصہ ہی مراد ہے لیکن عبارتِ معراج جس میں بحر و نہر کی گفتگو ہے اسے ''سخت حصے '' پر محمول کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے کہ دلیل اور دعوٰی کے درمیان اختلاف لازم آتا ہے ، جیساکہ معلوم ہو ا تو حق یہی ہے کہ اس سے بحر کا استناد بے جا ہے ۔
فــــ ۱:معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
ثم اقول : ان کان مراد الہدایۃ بالحکم الوجوب کما ھو المتبادر من کلامہ فانہ انما جعلہ واصلا الی مایلحقہ حکم التطھیر بعد نزولہ الی مالان فمعلوم ان المارن داخل من وجہ وخارج من وجہ یلحقہ حکم التطھیر فی الغسل ولا یلحقہ فی الوضوء فالتنصیص علی مثل ھذا لایعد عبثا ولا تکرارا فیسقط سؤال الغایۃ من رأسہ۔
ثم اقول اگر حکم سے ہدایہ کی مراد وجوب ہو جیسا کہ اس کی عبارت سے یہی متبادر ہے---- کیونکہ اس میں خون کو نرم حصے تک پہنچنے کے بعد ہی اس جگہ تک پہنچنے والا قرار دیا ہے جسے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے تو یہ معلوم ہے کہ نرمہ ایک طرح سے داخل ہے اور ایک طرح سے خارج ہے ، غسل میں اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے اور وضو میں لاحق نہیں ہوتا اس لئے ایسی چیز سے متعلق تصریح کر دینے کو بے فائدہ اور تکرار شمار نہ کیا جائے گا تو غایۃ البیان کا اعتراض ہی سرے سے ساقط ہے ۔
فـــ تطفل۶۷ علی العلامۃ الاتقانی
وعلی ف۱ ھذا فالعجب من العلامۃ صاحب العنایۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی حیث صرح ان المراد بالحکم الوجوب ثم تبع الغایۃ فی ایراد ھذا السؤال والجواب وزادان ''قولہ (ای قول الھدایۃ) لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر یعنی بالاتفاق لعدم الظہور قبل ذلک عند زفر ۱؎ اھ واعترضہ العلامۃ سعدی افندی فی حاشیتہ علیھا قائلا'' فیہ بحث ۲؎ اھ ولم یبین وجہہ۔
اس تفصیل کے پیشِ نظر علامہ صاحبِ عنایہ رحمہ اللہ تعالٰی پر تعجب ہے کہ انہوں نے حکم سے وجوب مراد ہونے کی تصریح کی پھر بھی یہ اعتراض و جواب ذکر کرنے میں غایۃ البیان کی پیروی کر لی اور مزید یہ لکھا کہ : عبارت ہدایہ ''لوصولہ الخ ----کیوں کہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے اس سے مراد کہ ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کاحکم بالاتفاق ہے۔ کیونکہ نرم حصے تک پہنچنے سے پہلے امام زفر کے نزدیک ظہور ثابت نہیں ہوتا اھ۔ اس پر علامہ سعدی آفندی نے اپنے حاشیہ عنایہ میں یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ '' اس میں بحث ہے '' اور وجہ بحث بیان نہ کی ۔
ف۱ تطفل ۶۹ علی العنایۃ ۔
(۱؎العنایہ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۴۲) (۲؎ حاشیۃسعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۴۲)
اقول : وجہ ف۲التقریر علی ھذا التقدیران ائمتنا الثلثلۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم یعتبرون السیلان الی مایلحقہ حکم التطھیر ولو ندبا و زفر وان اجتزأ بمجردا لظھورلکن یجب عندہ الوصول الی ماھو ظاھر البدن اذلا ظھور قبل ذلک فما دام الدم فی ما اشتدت من الانف سائلا فیہ غیر واصل الی مالان یتحقق الناقض عند الائمۃ لندب غسلہ فی الغسل والوضوء لاعندالامام زفر لان مااشتد لیس من ظاھر البدن عند احد فلا یتحقق الظہور اما اذا تجاوز حتی وصل الی الحرف الاول مما لان فقد تحقق الناقض علی القولین اما علی قول الائمۃ فظاھر واما علی قول زفر فلظھورہ علی ظاھر البدن فیتحقق الخروج۔
اقول: اس تقدیر پر صورت تقریر یہ ہو گی کہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم اس جگہ بہنے کا اعتبار کرتے ہیں جسے تطہیر کا حکم ہو اگرچہ بطور ندب ہو۔اور امام زفر نے اگرچہ خون بہنے کے بجائے صرف ظاہر ہونے پر اکتفا کیا ہے لیکن ان کے نزدیک ایسی جگہ پہنچنا واجب ہے جو ظاہر بدن ہو کیونکہ ظہور اس سے پہلے ہو گا ہی نہیں تو خون جب تک ناک کے سخت حصے میں بہہ رہا ہے نرم حصے تک پہنچا نہیں ہے اس وقت ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ناقض متحقق ہے اس لئے کہ غسل و وضو میں اس حصے کو دھونا مندوب ہے جبکہ امام زفر کے نزدیک ناقض متحقق نہیں کیونکہ سخت حصہ کسی کے نزدیک ظاہر بدن میں شمار نہیں تو ظہور ثابت نہیں لیکن جب ذرا آگے بڑھ کر نرم حصے کے پہلے کنارے تک پہنچ جائے تو دونوں ہی قول پر ناقض متحقق ہو گیا ۔ قولِ ائمہ پر تو ظاہر ہے اور قول امام زفر پر اس لئے کہ خون ظاہر بدن پر ظاہر ہو گیا تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔
فــــ ۲ تطفل۷۰ علی العلامۃ سعدی آفندی