Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
77 - 123
اقول۹۳:لا سیمافــــــ۴ وقد ترک علی مانقل فی النھر من کلام المبسوط لفظۃ وفی الوضوء سنۃ کما تقدم نقلہ عن الحلیۃ عن النھایۃ عن المبسوط فلوکان مرادہ العموم لما ترک مایفیدہ واقتصر علٰی مالا یعطیہ۔
اقول؛  ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مبسوط میں یہ الفاظ بھی تھے کہ ''اور وضو میں سنّت ہے '' جیسا کہ حلیہ کی عبارت میں بواسطہ نہایہ ، مبسوط سے نقل گزری لیکن جیسا کہ نہر نے نقل کیا معراج میں مبسوط کے وہ الفاظ ترک کر دئیے ہیں تو اگر صاحبِ معراج کا مقصود عموم ہوتا تو اس کا افادہ کرنے والے الفاظ وہ ترک کر کے صرف اس قدر پر اکتفا نہ کرتے جو عموم کا معنی نہیں دیتی ۔
فــــ۴: تطفل ۶۲ اٰخر علی البحر بتائید کلام ا النھر۔
وانتصر العلامۃ الشامی للبحر الرائق فی منحۃ الخالق فقال یتعین ان یحمل قول المعراج فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض علی معنی ان اصل الاستنشاق فرض وان یبقی اول کلامہ علی ظاھرہ من غیر تاویل ۱؎ الخ
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں البحر الرائق کی حمایت کی ہے اور لکھا ہے کہ : عبارت معراج : استنشاق جنابت میں فرض ہے '' کو اصل استنشاق فرض ہو نے کے معنی پر محمول کرنا اور اس کی ابتدائی عبارت کو بغیر کسی تاویل کے ظاہر پر باقی رکھنا متعین ہے الخ۔
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۱و۳۲)
اقول۹۴: کیف فــــــ۱ یخالف بین محملیھما مع ان اخرہ علی اولہ دلیل قال'' لما سیأتی قریبا عن غایۃ البیان عن النقض بالوصول الی قصبۃ الانف قول اصحابنا وان اشتراط الوصول الی مالان منہ قول زفر ۲؎ الخ
اقول:  دونوں کے مطلب میں مخالفت کیسے ہو گی جبکہ آخر کلام کو اول کی دلیل بنایا ہے آگے اپنی تائید میں علامہ شامی یہ لکھتے ہیں : اس لئے کہ آگے غایۃ البیان کے حوالے سے آ رہا ہے کہ ناک کے بانسے تک خون پہنچ آنے سے وضو ٹوٹ جانا ہمارے اصحاب کا قول ہے اور نرم حصے تک پہنچنے کی شرط امام زفر کا قول ہے الخ ۔
فـــــ:معروضۃ ۶۳علی العلامۃ الشامی
 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۲)
اقول۹۵: ھذا فـــ۱کان لہ محل لو ان المعراج کان ھو المتفرد بھذا فکان یجب ردکلامہ الی وفاق الجمہورمھما امکن لکن عامۃ الکتب مصرحۃ ھھنا بتقیید النقض بما لان کما ستسمعہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی فجعلھم جمیعا غافلین عما حکی الاتقانی فی غایۃ البیان فی غایۃ البعد غایۃ الامر ان یحمل علی اختلاف الروایات فانی یجب رد مافی المعراج الی مافی الغایۃ۔
اقول:  اس کا موقع تھا اگر تنہا صاحبِ معراج اس خصوص کے قائل ہوتے ، ایسی صورت میں جہاں تک ہو سکے ان کے کلام کو جمہور کی موافقت کی جانب پھیرنا واجب ہوتا لیکن عامہ کتب نے وضو ٹوٹنے کونرم حصے تک پہنچنے سے صراحۃً مقید کیا ہے جیسا کہ ان شاء اللہ آگے ان کی عبارتیں پیش ہوں گی ----تو اتقانی نے غایۃ البیان میں جو حکایت کی ہے اس سے سب ہی کو غافل ٹھہرانا انتہائی بعید ہے ، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلافِ روایات مانا جائے پھر عبارتِ معراج کو عبارتِ غایہ کی جانب پھیرنا کیسے ضروری ہو گا ۔
فــــ۱: معروضۃ ۶۴ اخری علی العلامۃ ش۔
ثم۹۶: علی فــــــــ۲ ھذا ایضا انما کان السبیل ان یحمل کلامہ اولا واٰخرا علی بیان مااذا نزل الی مالان والسکوت عما نزل الی مااشتد کما اختارہ البحرلا ان یجعل اٰخر کلامہ مخالفا لاولہ مع کونھما مطلبا ودلیلا قال۔'' وان قول من قال اذا وصل الی مالان منہ لبیان الاتفاق وکانّ صاحب النھر لم یطلع علی ذلک حتی قال ماقال ۱؎ اھ
پھر اس بنیاد پر بھی راہ یہی تھی کہ کلامِ معراج اوّل و آخر دونوں جگہ نرم حصہ تک خون اترنے سے متعلق حکم کے بیان اور سخت حصے تک اترنے سے متعلق سکوت پر محمول کیا جائے جیسا کہ بحر نے اختیار کیا ، نہ یہ کہ آخر کلام کو اول کے خلاف بنایا جائے باوجودیکہ ایک مدعا ہے دوسرا دلیل ۔علامہ شامی آگے فرماتے ہیں :اور جس نے یہ لکھا ہے کہ ''جب خون نرم حصے تک پہنچ جائے '' اس کا مقصد ایسی صورت رکھنا ہے جس پر امام زفر کا بھی اتفاق ہو--------شاید صاحبِ نہر اس (تصریح غایۃ البیان ) سے آگاہ نہ ہوئے اور وہ سب کہہ گئے ا ھ ۔
فـــ۲: معروضۃ ۶۵ ثالثۃ علیہ۔
 ( ۱؎منحۃالخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۲)
اقول۹۷: ھذا انما یتمشی فی عبارۃ الھدایۃ وفیھا کلام الاتقانی دون سائر العبارات المتظافرۃ الافی بعضھا بتعسف شدید ھذا۔
اقول : یہ توجیہ صرف ہدایہ کی عبارت میں چل سکتی ہے اسی کے بارے میں اتقانی کی گفتگو بھی ہے ، دوسری بہت ساری عبارتوں میں یہ توجیہ نہیں ہو سکتی ہاں بعض میں شدید تکلف کے بعد ممکن ہے ۔ یہ بحث تمام ہوئی ۔
ولنأت علی ماذکر الاتقانی فاعلم ان الامام برھان الدین قال فی الھدایۃ فی صدر الفصل المعانی النا قضۃ للوضوء کل مایخرج من السبیلین والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۲؎۔ثم ذکر مسائل القیئ الی ان ذکرقیئ الدم ثم قال ولو نزل من الرأس الٰی مالان من الانف نقض بالاتفاق لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فیتحقق الخروج ۳؎ اھ
اب ہم اس پر آتے ہیں جو اتقانی نے ذکر کیا ۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ امام برہان الدین نے فصل نواقض وضو کے شروع میں فرمایا : ہر وہ چیز جو سبیلین سے خارج ہو----- اور خون اور پیپ جب یہ دونوں ، بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے '' ----پھر قے کے مسائل بیان کئے یہاں تک کہ خون کی قے کا ذکر کیا ، پھر فرمایا :'' اور اگر سر سے ناک کے اس حصے تک اُتر آئے جو نرم ہے تو بالاتفاق ناقضِ وضو ہے کیونکہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔ '' ا ھ ۔
فــــ:معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
 (۲؎ الہدایہ     کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء     المکتبۃ العربیۃ کراچی         ۱ /۸)

(۳؎ الہدایہ    کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء     المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱ /۱۰)
Flag Counter