Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
76 - 123
اقول ۸۸ :فـــــ وکذلک لظاہر کلام المحقق حیث اطلق تجاذب فی الاول والاٰخر فانہ عمم الندب ثم ذکر النزول الی مالان وعللہ بوجوب غسلہ فی الغسل ومعلوم ان المفہوم معتبر فی کلمات العلماء ولو کان الحکم عندہ کذلک فی النزول الی مااشتد کان الظاھر ان یذکرہ ویعللہ بندب غسلہ فی الغسل والوضوء کی یکون مثالا لما زاد من الندب ولایوھم خلاف المرام ھلکنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یر بُدّا من اتباع العامۃ فانھم انما صورو المسألۃ ھکذا کما ستعرفہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔
اقول:  اسی طرح محقق علی الاطلاق کے بھی ظاہر کلام کے اندر اول تا آخر کے درمیان کش مکش پائی جاتی ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے حکم کو ندب کے لئے بھی عام کر دیا پھر ناک کے نرم حصے تک خون اتر آنے کا ذکر کیا اور غسل میں اس کا دھونا واجب ہونے سے علت بیان کی اور معلوم ہے کہ کلماتِ علماء میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اگر ان کے نزدیک ناک کے سخت حصے تک اتر آنے کا حکم ایسا ہی ہوتا تو ظاہر یہ تھا کہ اسے ذکر کرتے اور غسل اور وضو میں اسے دھونے کے مندوب ہونے سے اس کی تعلیل فرماتے تاکہ جو لفظ ''ندب '' انہوں نے بڑھایا اس کی ایک مثال ہو جاتی اور خلاف مقصود کا وہم نہ پیدا ہوتا لیکن حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی نے عامّہ علماء کے اتباع سے کوئی مفر نہ دیکھا کیونکہ انہوں نے مسئلہ کی صورت اسی طرح رکھی ہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالٰی معلوم ہو گا ۔
فـــــ: تطفل۵۷ علی الفتح ۔
ثم لم ارمن تبعہ بعدہ غیر تلمیذہ حتی اتی المحقق البحر فشید ارکانہ فی بحرہ قائلا انما فسرنا الحکم بالاعم من الواجب والمندوب لان مااشتد من الانف لاتجب طہارتہ اصلا بل تندب لما ان المبالغۃ فی الاستنشاق لغیر الصائم مسنونۃ وقد صرح فی معراج الدرایۃ وغیرہ بانہ اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف نقض وفی البدائع اذا نزل الدم الی صماخ الاذن یکون حدثا وفی الصحاح صماخ الاذن خرقہا ولیس ذلک الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ فقول بعضھم المراد ان یصل الی موضع تجب طہارتہ محمول علی ان المراد بالوجوب الثبوت وقول الحدادی اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف لاینقض محمول علی انہ لم یصل الی ما یسن ایصال الماء الیہ فی الاستنشاق توفیقا بین العبارات وقول من قال اذا نزل الدم الی مالان من الانف نقض لایقتضی عدم النقض اذا وصل الی مااشتد منہ الا بالمفہوم والصریح بخلافہ وقد اوضحہ فی غایۃ البیان والعنایۃ والمراد بالوصول المذکور سیلانہ ۱؎ اھ
پھر ان کے بعد ان کی تبعیت کرنے والا ان کے تلمیذ صاحبِ حلیہ کے سوا کسی کو میں نے نہ دیکھا یہاں تک کہ محقق صاحبِ بحر آئے تو انہوں نے البحر الرائق میں اس کے ستون مضبوط کئے اور فرمایا : ''ہم نے حکم کی تفسیر اس سے کی جو واجب اور مندوب دونوں کو عام ہے اس لئے کہ ناک سے سخت حصے کی طہارت بالکل (یعنی وضو اور غسل کسی میں بھی ) واجب نہیں بلکہ مندوب ہے اس لئے کہ غیر روزہ دار کے لئے اشتنشاق میں مبالغہ (یعنی نرم حصے سے بڑھا کر سخت تک پانی چڑھا دینا ) مندوب ہے---- اور معراج الدرایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ خون جب ناک کے بانسے تک اُتر آئے تو ناقضِ وضو ہے اور بدائع میں ہے : خون جب صماخِ گوش ( کان کے سوراخ ) تک اُتر آئے تو حدث ثابت ہو جائے گا ، صحاح میں صماخِ اذن کا معنی کان کا شگاف لکھا ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ اس کی تطہیر غسل وغیرہ میں مندوب ہے تو بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ '' مراد ایسی جگہ پہنچنا ہے جس کی طہارت واجب ہے '' ----- اس پر محمول ہو گا کہ واجب ہونے کا مطلب ثابت ہونا ہے اور حدادی کی عبارت :
''اذا نزل الدم الی قصبۃالانف لا ینقض
 (خون جب ناک کے بانسے تک اتر آئے تو ناقض نہیں ) ''اس پر محمول ہو گی کہ اس جگہ تک نہ پہنچے جہاں استنشاق میں پانی پہنچانا مسنون ہے تاکہ عبارتوں میں تطبیق ہو جائے اور بعض حضرات کے کلام میں آیا ہے کہ ''جب خون ناک کے نرم حصے تک اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے '' اس کا تقاضا یہ نہیں کہ جب سخت حصے تک پہنچے تو ناقضِ وضو نہیں مگر یہ کہ اس کا مفہوم لیا جائے حالاں کہ صریح اس کے برخلاف ہے اور غایۃ البیان و عنایہ میں سے واضح طور پر لکھا ہے اور وصول (پہنچنا ) جو مذکور ہوا اس سے مراد سیلان (بہنا ) ہے ا ھ ۔
 (۱؎البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۱۔۳۲)
اقول:  فــــ تاویلہ کلام الحدادی فی السراج الوھاج کانہ یرید بہ ان ''الی'' فی کلامہ لاخراج الغایۃ ای نزل الدم من الراس وانتھی الی مبدء مااشتد من الانف من دون ان ینزل منہ شیئ فیہ ،وھذا کان محتملا لولا ان الحدادی صرح فی مختصر سراجہ ان المراد بالحکم الوجوب وفرع علیہ تقیید الانتقاض بالنزول الی مالان کما تقدم وسیأتی عنھا ماھو انص واجلی وردہ اخوہ وتلمیذہ العلامۃ عمر فی النھر الفائق بقولہ'' وھذا وھم وانی یستدل بما فی المعراج وقد علل المسألۃ بما یمنع ھذا الاستخراج فقال مالفظہ لونزل الدم الی قصبۃ الانف انتقض بخلاف البول اذا نزل الی قصبۃ الذکر ولم یظھر فانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطھیر وفی الانف وصل فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض کذا فی المبسوط اھ وقد افصح ھذا التعلیل عن کون المراد بالقصبۃ مالان منھا لانہ الذی یجب غسلہ فی الجنابۃ ولذا قال الشارح (ای شارح الکنز یرید الامام الزیلعی) لو نزل الدم من الانف انتقض وضوؤہ اذا وصل الی مالان منہ لانہ یجب تطھیرہ وحمل الوجوب فی کلامہ عن الثبوت مما لاداعی الیہ وعلی ھذا فیجب ان یراد بالصماخ الخرق الذی یجب ایصال الماء الیہ فی الجنابۃ وبھذا ظھر ان کلامھم مناف لتلک الزیادۃ اھ ۱؎ کلام النھر۔
اقول:  حدادی کی عبارتِ سراج وہاج کی جو تاویل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ بحر یہ مراد لے رہے ہیں کہ عبارت سراج میں لفظ '' الی '' غایت کو خارج کرنے کے لئے ہے یعنی خون سر سے اُترے اور ناک کے سخت حصے کے شروع تک پہنچے خود اس حصے میں ذرا بھی نہ اُترے ، یہ احتمال تو تھا اگر حدادی نے اپنی مختصر سراج میں یہ تصریح نہ کر دی ہوتی کہ حکم سے وجوب مراد ہے اور اس پر تفریع کرتے ہوئے وضو ٹوٹنے کو خون کے نرم حصے تک اُتر آنے سے مقید نہ کیا ہوتا جیسا کہ گزرا اور آگے ان کی اس سے بھی زیادہ صریح اور روشن و واضح عبارت آ رہی ہے ، صاحبِ بحر کی تردید میں ان کے برادر اور تلمیذ علامہ عمر نے النہر الفائق میں یہ لکھا ہے : یہ وہم ہے اور معراج کی عبارت سے استدلال کیسا ، جبکہ اس میں مسئلہ کی تعلیل ان الفاظ سے بیان ہوئی ہے جو یہ مطلب لینے سے مانع ہیں ، ان کے الفاظ یہ ہیں : خون اگر ناک کے بانسے تک اُتر آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا برخلاف اس صورت کے جب پیشاب ذکر کی نالی تک اُتر آئے اور ظاہر نہ ہو ، اس لئے کہ یہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے تطہیر کا حکم ہے اور ناک میں ایسی جگہ پہنچ گیا اس لئے کہ جنابت میں استنشاق فرض ہے ، ایسا ہی مبسوط میں ہے ا ھ۔ اس تعلیل نے تو صاف بتا دیا کہ بانسے سے مراد اس کا نرم حصہ ہے اس لئے کہ یہی وہ ہے جسے جنابت میں دھونا فرض ہے ، اسی لئے شارح فرماتے ہیں (یعنی کنز الدقائق کے شارح مراد ہیں امام زیلعی ) : اگر خون ناک سے اترا تو وضو ٹوٹ جائے گا جب اس کے نرم حصے تک پہنچ گیا ہو اس لئے کہ اس کی تطہیر واجب ہے اور ان کے کلام میں لفظ وجوب کو معنی ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں ،اس بنا پر ضروری ہے کہ صماخ سے وہ شگاف مراد ہو جہاں جنابت میں پانی پہنچانا واجب ہے ، اسی سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کی عبارتیں اس اضافے (ندب ) کے منافی ہیں ا ھ نہر کی عبارت ختم ۔
 (۱؎ النہر الفائق     کتاب الطہارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۵۲)
فـــــ:تطفل ۵۸ علی البحر۔
اقول:  کفی بابداء فـــ۱ التوفیق بین کلماتھم داعیا الیہ ان امکن وکلام المعراج فــــــــ ۲ان لم یثبت الزیادۃ فلا ینفیھا وکلام الشارح فـــــــــــــــ۳ انما ینا فی بلحاظ مفھوم المخالفۃ وقد اجاب عنہ البحر بان المفہوم لایعارض الصریح فیجب عندہ ان یراد المفہوم غیر مراد کی لاتتعارض کلمات الاسیاد۔
اقول:  داعی ہونے کے لئے ان حضرات کی عبارتوں میں بشرطِ امکان تطبیق پیدا کرنے کا مقصد کافی ہے۔اور معراج کی عبارت اگر اس اضافے کو ثابت نہیں کرتی تو اس کی تردید بھی نہیں کرتی اور شارح (امام زیلعی ) کے کلام میں مفہومِ مخالفت کا لحاظ کیا جائے جب ہی وہ اس کے منافی ہو گا ۔ صاحبِ بحر اس کا جواب دے چکے ہیں کہ مفہوم ، صریح کے معارض و مقابل نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک ضروری ہے کہ مفہوم مراد نہ ہو تا کہ ان حضرات کے کلام میں تعارض نہ ہو سکے ۔
فــــ۱:تطفل۹ ۵ علی النھر  فــــ۲:تطفل ۶۰ اٰخر علیہ فــــ۳:تطفل ۶۱ ثالث علیہ
نعم فی الاستناد بالمعراج منع ظاھر فان ظاھر قولہ نزل الی قصبۃ الانف وان کان مفید التعمیم مااشتد وما لان فان بالنزول الی مااشتد یتحقق النزول الی القصبۃ قطعا وان لم یصل الی المارن لکن یکدرہ تعلیلہ اٰخرا بافتراض الاستنشاق کما ذکرہ فی النھر۔
ہاں معراج سے استناد پر کھلا ہوا منع وارد ہوتا ہے ، اس لئے کہ ان کا ظاہر کلام ''ناک کے بانسے تک اُترے '' اگرچہ سخت و نرم دونوں حصوں کی تعمیم کا افادہ کر رہا ہے کیونکہ سخت حصے میں اُترنے سے بھی بانسے میں اترنا قطعاً متحقق ہو جاتا ہے اگرچہ نرم حصے تک نہ پہنچے لیکن یہ تعمیم مکدّر اور نامعقول ہو جاتی ہے جب آخر میں وہ اس کی علّت استنشاق کی فرضیت سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ نہر میں ذکر کیا ۔
Flag Counter