Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
75 - 123
وقال السید برھان الدین ابرھیم بن ابی بکر بن محمد بن الحسین الاخلاطی الحسینی فی جواھرۃ ''خروج الدم الی وسط الاذن بحیث یجب ایصال الماء الیہ فی الاغتسال ناقض الوضوء ۱؎ اھ
(۹) سیّد برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر محمد بن حسین اخلاطی حسینی جواہر میں لکھتے ہیں :''کان کے وسط میں جس جگہ تک غسل کے اندر پانی پہنچانا واجب ہوتا ہے وہاں تک خون نکل آنا ناقضِ وضو ہے ا ھ ۔
 ( ۱؎جو ا ہر الا خلاطی،تاب الطہارۃ فصل فی نو اقض الوضوء قلمی ص۶)
وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ قولہ الی مایطھر ای الی موضع یجب تطہیرہ فی الغسل ۲؎ اھ
 (۱۰) علامہ عبد العلی برجندی شرح نقایہ میں فرماتے ہیں : ''قولہ الی ما یطہر----- یعنی ایسی جگہ جس کی تطہیر غسل میں واجب ہے ''۔ ا ھ
 (۲؎شرح النقایۃ للبرجندی     کتاب الطہارۃ     مطبع عالی نولکشور    ۱ /۲۱)
وقال الامام شیخ الاسلام بکر خواھر زادہ فی مبسوطہ علی مانقلہ عنہ فی الفتح والبحر وغیرھما تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوز الورم لانہ لایجب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الٰی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۳؎ اھ
 (۱۱) امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ اپنی مبسوط میں رقم فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے فتح ، بحر وغیرہما میں نقل کیا ہے ''سرِ زخم ورم کر گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوا تو جب تک ورم سے وہ تجاوز نہ کرے ناقض نہیں تو ایسی جگہ تجاوز نہ پایا گیا جسے تطہیر کا حکم لاحق ہو '' ا ھ
(۳؎فتح القدیر     کتاب الطہارۃ     المکتبۃ النوریۃ الرضویہ     بسکھر ۱ /۳۴)
وقال المولی حسام الدین السغناقی فی النہایۃ اول شروح الہدایۃ علی مااثرعنہ فی الحلیۃ فی شرح قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ ۴؎ اھ
 (۱۲) حسام الدین سغناقی ہدایہ کی سب سے پہلی شرح نہایہ میں جیسا کہ اس سے حلیہ میں نقل کیا ہے عبارت متن '' الی موضع یلحقہ حکم التطہیر '' کی شرح میں لکھتے ہیں :''مراد یہ ہے کہ اس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں '' اھ
 (۴؎ النہایہ )
وھذا ھو المستفاد من معراج الدرایۃ شرح الھدایۃ ومن الملتقط ومن الدرر ومن غیرھا وسترد علیک نقولھا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
 (۱۳) جیسا کہ معراج الدرایہ شرح ہدایہ (۱۴) ملتقط (۱۵) درر اور ان کے علاوہ کتابوں سے مستفاد ہے سب کی عبارتیں ان شاء اللہ تعالٰی آگے نقل ہوں گی ۔
وبہ جزم العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر الفائق
 (۱۶) اسی پر علامہ عمر بن نجیم نے النہر الفائق میں جزم کیا ۔
وقال العلامۃ السید ابو السعود الازھری فی فتح اللّٰہ المعین نقلا عن ابیہ السید علی الحسینی ان المراد بحکم التطھیر وجوبہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح ۱؎ اھ
(۱۷) اور علامہ سید ابو السعود ازہری نے فتح اللہ المعین میں ۱۸اپنے والد سید علی حسینی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :''حکم تطہیر سے مراد اس کا وضو وغسل میں واجب ہونا ہے اگرچہ مسح ہی کے ذریعے''۔
 (۱؎فتح اللہ المعین     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۴۱)
فھذا ما ارتکز فی اذھان العامۃ جیلا فجیلا غیران المحقق علی الاطلاق الامام الہام کمال الدین محمد بن الھمام زادالندب ایضا حیث یقول لو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاٰخر منھا لاینتقض لانہ لایلحقہ حکم وجوب التطہیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینتقض ۲؎اھ
یہی بات عامہ علماء کے ذہن میں نسل در نسل ثبت رہی مگر محقق علی الاطلاق ا مام ہمام کمال الدین محمد بن الہمام نے مندوب ہونے کا بھی اضافہ کیا ، وہ لکھتے ہیں : ''اگر آنکھ کے اندر کسی زخم سے خون نکل کر آنکھ ہی کی دوسری جانب بہا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا ندب کا حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس صورت کے جب خون سر سے ناک کے نرم حصے میں اتر آئے کیوں کہ اسے جنابت میں اور کوئی نجاست لگنے سے دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقضِ وضو ہو گا ا ھ ''
 (۲؎فتح القدیر کتاب الطہارۃ ،فصل فی نواقض الوضوء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۴)
وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ قائلا بعد نقلہ مایاتی عن الاتقانی فعلی ھذا المرادان یتجاوز الی موضع یجب طہارتہ او تندب کما اشرنا الیہ اٰنفا ۱؎ اھ
اور ان کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ان کا اتباع کیا اور اتقانی کے حوالے سے آنے والی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا : ''تو اس بنا پر مراد یہ ہو گی کہ ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی طہارت واجب یا مندوب ہوتی ہے جیسا کہ اس کی جانب ہم نے اشارہ کیا '' ا ھ
 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
قلت۸۶: والاشارہ فی قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیرای شرع فی حقہ الحکم الذی ھو التطہیر اھ فان المشروع یعم المندوب۔۲؎
قلت اشارہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر کے تحت ان کی اس عبارت میں ہے یعنی اس کے حق میں مشروع ہے وہ حکم جو تطہیر ہے ا ھ'' اس لئے کہ مشروع ، مندوب کو بھی شامل ہے ۔
 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اقول: و ربما یترشح ھذا التعمیم من النہایۃ ایضاً فانہ مع تصریحہ بان المراد الوجوب کما تقدم فرع علیہ بقولہ حتی '' لوسال الدم الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض وفی الوضوء سنۃ وکذلک فی المبسوط ۳؎ اھ'' فان الاستنان لو لم یکف لکان ذکرہ عبثا الاان یقال المراد انہ وان لم یکن فی الوضوء الا سنۃ لکنہ فی الغسل فرض فتحقق التجاوز الی مایجب تطھیرہ فی الجملۃ فتکون زیادۃ ھذہ الجملۃ تحقیقا لقولہ فی ماسبق فی الجملۃ وھذا ھوالذی یتعین حمل کلامہ علیہ کیلا یخالف اٰخرہ اولہ۔
اقول:  یہ تعمیم نہایہ سے بھی کچھ مترشح ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے وجوب مراد ہونے کی تصریح مذکور کے باوجود اس پر تفریع میں یہ لکھا ہے : '' یہاں تک کہ خون اگر ناک کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ استنشاق جنابت میں فرض اور وضو میں سنت ہے ---- ایسا ہی مبسوط میں ہے'' ا ھ ۔ اس لئے کہ سنت ہونا اگر کافی نہ ہوتا تواس کا تذکرہ عبث ہوتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وضو میں اگرچہ صرف سنّت ہے لیکن غسل میں فرض ہے تو ایسی جگہ تجاوز متحقق ہو گیا جس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہے تو اس جملے ( وضو میں سنت ہے )کا اضافہ دراصل اس لفظ ''فی الجملۃ '' کی تحقیق قرار پائے گا جو پہلے ان کی عبارت میں آ گیا ہے ------ اسی معنی پر ان کے کلام کو محمول کرنا متعین ہے تا کہ اس کا آخری حصہ ابتدائی حصے کے مخالف نہ ہو ۔
(۳؎النہایہ )
Flag Counter