Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
74 - 123
الرابع ف انما المنقول عن ائمۃ المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فی النجس الخارج من غیر السبیلین شرط السیلان لیس الا وفیہ خلاف زفر، وخلاف بینھم ان السیلان مجرد العلو اومع الانحدار کما سمعت کل ذلک علی ھذا کانت کلما تھم حتی جاء الامام ابو الحسین احمد بن محمد القدوری رحمہ اللّٰہ تعالٰی فزاد فی الکتاب قید التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ثم تظافرت عامۃ الکتب علی اتباعہ متونا وشروحا وفتاوٰی ۔
تنبیہ چہارم ائمہ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے سبیلین ( پیشاب ، پاخانہ کے راستوں ) کے علاوہ سے نکلنے والی نجس چیز کے بارے میں صرف سیلان ( بہنے ) کی شرط منقول ہے اور اس میں صرف امام زفر کا اختلاف ہے اور ان کے درمیان ایک اختلاف یہ ہے کہ سیلان صرف  چڑھنے کا نام ہے یا چڑھنے اور ڈھلکنے دونوں کے مجموعے کا ---- جیسا کہ یہ سب آپ سُن چکے ---- فقہاء کے کلمات اسی حد تک تھے یہاں تک کہ امام ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آئے تو انہوں نے اپنی کتاب میں ایک قید یہ بڑھائی کہ خون ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے ( وضو یا غسل میں ) پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے پھر متون ، شروح اور فتاوٰی کی تقریباً ساری ہی کتابیں ان کے اتباع میں ہم نوا ہو گئیں ۔
فــــ:مسلہ تحقیق شریف ان النقض بالخروج الی مایجب تطہیرہ لامایندب خلافا للفتح والحلیۃ والبحر و الشرنبلالی والطحطاوی والشامی۔
قال فی المنیۃ تفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذا علاعن رأس الجرح ولم ینحدر لایکون سائلا وقال بعضھم اذا خرج وتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فھو سیلان یعنی اذا خرج الدم من راسہ الی انفہ اواذنہ ان سال الی موضع یجب تطھیرہ عند الاغتسال ینتقض والافلا ۱؎ اھ
منیہ میں ہے :سیلان کی تفسیر یہ ہے کہ خون سرِ زخم سے ڈھلک آئے اور سرِ زخم سے اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو سائل ( بہنے والا ) نہ ہو گا اور بعض نے کہا جب نکل کر ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے تو یہ سیلان ہے ----یعنی جب خون (مثلاً) اس کے سر سے ناک یا کان کی طرف نکلے اگر وہ ایسی جگہ بہہ جائے جس کو غسل کے وقت پاک کرنا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں ا ھ ۔
(۱؎ منیۃ المصلی ،کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء ،مکتبہ قادریہ لاہور،ص۹۰)
قال المولی الحلبی فی شرحہ الحلیۃ ھذا البعض ھو الشیخ ابو الحسین القدوری ومن حذا حذوہ ۲؎ اھ
شیخ حلبی نے اس کی شرح حلیہ میں فرمایا : یہ بعض  شیخ ابو الحسین قدوری اور ان کے متبع حضرات ہیں ا ھ ۔
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ثم الذی کانت تتوار دعلیہ کلماتھم من بعد ان ا لمراد بحکم التطھیر ھو الوجوب ولو فی الغسل کما افصح عنہ فی المنیۃ وقال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی شرحھا الغنیۃ (الی موضع یلحقہ حکم التطہیر) ای یجب تطہیرہ فی الجملۃ فی الوضوء اوالغسل او ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ۱؎ اھ
پھر اس کے بعد سبھی حضرات کے کلمات کا اس پر توارد تھا کہ حکمِ تطہیر سے مراد وجوب ہے اگرچہ غسل ہی میں ہو ، (۱) جیسا کہ منیہ میں اسے صاف طور پر کہا ، 

(۲) علامہ ابراہیم حلبی نے اس کی شرح منیہ میں لکھا : ( ایسی جگہ جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے ) یعنی فی الجملہ وضو یا غسل میں اسے پاک کرنا یا نجاست حقیقیہ ( اس پر لگ جائے تو اس ) کا دور کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    کتاب الطہارۃ     فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۱۳۱ )
وقال الحدادی فی الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری قولہ یلحقہ حکم التطہیر یعنی یجب تطہیرہ فی الحدث اوالجنابۃ حتی لوسال الدم الی مالان من الانف نقض الوضوء ۲؎ اھ
 (۳) اور حدادی نے مختصر قدوری کی شرح جوہرہ نیرہ میں لکھا : عبارت متن : ''یلحقہ حکم التطہیر '' ( اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ''یعنی اسے حدث یا جنابت میں پاک کرنا واجب ہوتا ہے یہاں تک کہ خون اگر ناک کے نرم حصے تک بہہ آیا تو وضوٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
(۲؎ الجوہرۃ النیرۃ     کتاب الطہارۃ    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱ /۹)
وقال الامام صدر الشریعۃ فی شرح الوقایۃ (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب تطھیرہ فی الجملۃ اما فی الوضوء او فی الغسل ۳؎ اھ
(۴) امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاک کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے پاک کرنا فی الجملہ وضو یا غسل میں واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
 (۳؎ شرح الوقای، کتاب الطہارۃ ،  نواقض الوضوء ،مکتبہ امدادیہ ملتان ،۱ /۷۰)
وقال سلطان الوزراء العلامۃ ابن کمال باشا فی ایضاح الاصلاح (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب ان یطھر فی الوضوء او فی الغسل بالغسل او بالمسح ۱؎ اھ
(۵) سلطان الوزراء علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح الاصلاح میں لکھا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاک کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے وضو یا غسل میں دھونے یا مسح کرنے کے ذریعہ پاک کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
 ( ۱؎ فتح المعین بحوالہ ابن کمال باشا    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۴۰)
وقال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الھدایۃ ''قولہ یلحقہ التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ حتی لو سال الدم من الرأس الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ  فرض ۲؎ اھ
 (۶) علامہ اکمل الدین بابرتی نے عنایۃ شرح ہدایہ میں فرمایا : عبارت متن : ''اسے تطہیر لاحق ہوتی ہے '' مراد یہ ہے کہ اسے پاک کرنا فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں۔۔ یہاں تک کہ اگر خون سر سے ناک کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ جنابت میں استنشاق ( ناک میں پانی چڑھانا ) فرض ہے ا ھ ۔
 ( ۲؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳و۳۴)
وقال الامام فخرالدین الزیلعی فی تبیین الحقائق ''غیر السبیلین اذا خرج منھا شیئ و وصل الی موضع یجب تطہیرہ فی الجنابۃ ونحوہ ینقض الوضوء ۳؎ اھ
(۷) امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا : ''جب غیر سبیلین سے کوئی نجس چیز نکلے اور ایسی جگہ پہنچ جائے جس کی تطہیر جنابت وغیرہ میں واجب ہوتی ہے تو وضو ٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
 (۳؎ تبیین الحقائق     کتاب الطہارۃ    دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۷)
وقال الامام السید جلال الدین الکرلانی فی الکفایۃ اذا کان فی عینہ قرحۃ ووصل الدم منھاا لی جانب اٰخر من عینہ فلاینقض وضوئہ لانہ لم یصل الی موضع یجب غسلہ ۴؎ اھ
(۸) امام جلال الدین کرلانی کفایہ میں رقم طراز ہیں :''اگر آنکھ میں پھنسی ہو اور خون اس سے نکل کر آنکھ ہی کی جانب دوسری طرف پہنچ جائے تو وضو نہ ٹوٹے گا کیوں کہ وہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے دھونا واجب ہو ا ھ۔
 (۴؎ الکفایہ شرح الہدایہ کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر    ۱ /۳۴)
Flag Counter