Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
73 - 123
فان قیل قدیدوم السبب ھھنا شھورا ودھورا فکیف یجمع الاخر الی الاول۔ فان قیل
 ( اگر یہ جواب دیا جائے کہ ) یہاں ( مسئلہ خون میں ) سبب ( زخم ، پھوڑا وغیرہ ) کبھی مہینوں اور زمانوں تک لگاتار ر ہ جاتا ہے تو آخر کو اول کے ساتھ کیسے یکجا کیا جائیگا ؟
قلت ھذا اعتراف بان اتحاد السبب لایقوم باقتضائہ حکم الجمع فلم یکن فیہ دفع الایراد بل تسلیمہ ۔
قلت( میں کہوں گا )یہ تو اس بات کا اعتراف ہے کہ سبب کا ایک ہونا اس قابل نہیں کہ حکمِ جمع کا مقتضی ہو تو یہ میرے اعتراض کا جواب نہ ہوا بلکہ اس میں تو اسے تسلیم کر لیا گیا ۔
لکنی اقول:  یتخالج فـــ صدری مایدفع ھذا والا یراد جمیعا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔
اقول:  ( میں کہتا ہوں ) میرے دل میں ایک بات گردش کر رہی ہے جو اس جواب اور اس اعتراض دونوں ہی کو رفع کر دینے والی ہے ان شاء اللہ تعالٰی۔
فـــ:تطفل ۵۶ علی الحلیۃ ومعروضۃ علی ش۔
وھوانالافـــ نسلم ھھنا اتحاد السبب بل الروح اذا احست بالم تتوجہ لدفاعہ فتتبعھا الریح والدم فلاجتما عھا یحدث الورم وتزداد الحرارۃ فیثقل اجتماع الدم ھھنا غیران الطبیعۃ تضن بالدم الصالح ان تدفعہ ولذلک اذا فصد المریض یتقدم الدم الفاسد خروجا وعن ھذا کانت الحجامۃ احب من الفصد لان الفصد یشق العرق فیثج الدم ثجافمع شدۃ تحفظ الطبیعۃ علی الدم الصالح تعجز عن امساکہ کلیا لانہ بانفتاح مجراہ یسیل بطبعہ سیلانا قویا،فمع حجز الطبیعۃ یخرج شیئ من الصالح قہرا علیھا بخلاف الحجامۃ فان الخروج فیھا ضعیف فتتقوی الطبیعۃ علی احراز الصالح کما ینبغی واذا کان الامر کذلک لاتنبعث للطبیعۃ داعیۃ دفع الدم المنتقل الی ھنا مع الروح الا اذا عملت فیہ الحرارۃ الملتھبۃ من اجتماع الثلاث الحارات فینسفد بنضج یحصل لہ بعد بلوغہ کمال صلاحہ وح تترک الطبیعۃ الظن بہ ویزداد التأذی فتحب دفعہ فتنفجر القرحۃ فیجعل الدم یخرج علی شاکلتہ فی الحجامۃ دون الفصد لان الانفتاح ھھنا ایضا فی الجلدلافی العرق فیکون خروجہ بضعف لابدفق شدید غیران القدر المتھیئ منہ للخروج وھو الذی تحول مزاجہ من الصلاح وعدل قوامہ للخروج اذا خرج خرج اعنی تتعاقب اجزاؤہ ولا ینبغی لبعضہ القعود خلف بعض حتی یحصل بین خروج ابعاضہ طفرات وتخللات انقطاع لان المقتضی موجود والمانع مفقود فلا یزال یخرج حتی ینتھی ثم اذا کان الاذی باقیا بعدلا تزال الروح تتوجہ الیہ فیعقب الخارج دم اٰخر صالح ویمکث حتی یعرض لہ ماعرض لسالفہ فیخرج کما خرج وھکذا۔
وہ یہ کہ ہم یہاں (مسئلہ خون میں ) اتحادِ سبب نہیں مانتے ۔۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روح جب کسی تکلیف کا احساس کرتی ہے تو اس کے دفعیہ پر متوجہ ہوتی ہے۔ اس میں ہوا اور خون بھی ان کے تابع ہو جاتے ہیں تو ان سب کے مجتمع ہونے کی وجہ سے ورم پیدا ہو جاتا ہے اور حرارت بڑھتی ہے تو اس جگہ خون کا اجتماع ثقیل ہو جاتا ہے مگر یہ ہے کہ طبیعت صالح خون کو بچانا چاہتی ہے اور اسے دفع کرنا نہیں چاہتی----یہی وجہ ہے کہ جب مریض کو فصد لگائی جاتی ہے ( اس کی رگ کھول دی جاتی ہے ) تو پہلے فاسد خون باہر آتا ہے اسی لئے سنگی لگانا فصد لگانے سے بہتر ہوتاہے کیوں کہ فصد رگ کو پھاڑ دیتی ہے جس سے خون تیزی سے اُبل پڑتا ہے اور زور سے بہنے لگتا ہے اس وقت طبیعت صالح خون کے شدید تحفظ کے باوجود اسے کلّی طور پر روکنے سے بے بس ہو جاتی ہے کیوں کہ بہنے کی راہ کھل جانے کی وجہ سے خون طبعاً پوری قوت سے بہنے لگتا ہے اور طبیعت کے روکنے کے باوجود کچھ صالح خون اسے مغلوب کر کے باہر آ جاتاہے اور سنگی لگانے میں ایسا نہیں ہوتا ۔کیوں کہ خروج اس میں کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت صالح خون کو مناسب طور پر بچا لینے کی قوت پا جاتی ہے۔۔ جب معاملہ ایسا ہے تو طبیعت کے لئے یہاں روح کے ساتھ منتقل ہونے والے خون کو دفع کرنے کا کوئی داعیہ نہ پیدا ہو گا مگر جب اس خون میں تینوں حار چیزوں کے مجتمع ہونے سے بھڑک اٹھنے والی حرارت اثر انداز ہو گی تو وہ کچھ پک جانے کی وجہ سے خراب ہو جائے گا یہ پکنا خون کے کمال عمدگی و صلاح کی حد کو پہنچ جانے کے بعد ہو گا ۔ اب طبیعت اس کا تحفظ چھوڑ دے گی اور تکلیف بڑھے گی تو اسے دفع کرنا چاہے گی ، پھوڑا اس وقت پھٹ جائے گا جس کی وجہ سے خون باہر آنے لگا اسی انداز میں جو سِنگی لگانے کے وقت ہوتا ہے ۔ اس تیز روانی کے طور پر نہیں جو فصد لگانے میں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ یہاں بھی جلد ہی کھلی ہے رگ نہیں کھلی ہے تو خروج آہستگی اور ضعف کے لئے ہو گا ---- شدت سے نہ ہو گا ---- ہاں یہ ہے کہ جس خون کا مزاج فاسد ہو چکا ہے اور اس کا قوام باہر آنے پر مائل اور اسی کے لائق ہو گیا ہے ، یہ اتنا خون جب نکلے گا تو نکلتا جائے گا یعنی اس کے سارے اجزاء پے در پے باہر نکلتے جائیں گے۔ اور طبعاً یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک حصہ نکلنے کے بعد دوسرا حصہ اتنی دیر تھم رہے کہ ان اجزاء کے باہر آنے کی مدت میں متعدد بار انقطاع پیدا ہو اور درمیان میں خاصا توقف ہو جائے ، اس لئے کہ (فاسد خون کے سارے اجزاء میں خروج کا ) مقتضی موجود ہے اور مانع مفقود ہے تو یہ خون نکلتا ہی رہے گا یہاں تک کہ ختم ہو جائے ۔ پھر اگر تکلیف اب بھی باقی رہ گئی تو روح اس طرف متوجہ ہوتی رہے گی جس کے باعث دوسرا صالح خون اس نکلے ہوئے خون کے بعد مجتمع ہو کر ٹھہرے گا اس پر بھی وہ ساری حالتیں طاری ہوں گی جو اس کے پیش رو پر طاری ہوئی تھیں تو یہ بھی ایک وقت باہر نکلے گا جیسے وہ نکلا تھااور یوں ہی معاملہ رہے گا۔
فــ:تحقیق المصنف فی اعتبار محمد المجلس لجمع الدم والسبب لجمع القیئ۔
فظھران کل خروج بعد انقطاع من دون منع انما ینشؤ من سبب جدید فیجب ان لایجمع الا ماتلا حق شیئا فشیئا کما ذکرنا وھو المعنی ان شاء اللّٰہ تعالٰی باتحاد المجلس لان المجلس معتبر حتی اذا بدأ الدم فانتقل الانسان من فورہ لایجمع ماخرج ھنامع ماخرج اٰنفاً وان بقی جالساکما ھو طول النھار و خرج دم اول الصبح وانقطع ثم خرج شیئ عندالغروب یجمع ھذا مع الاول فان ھذا بعید من الفقہ کل البعد۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ انقطاع کے بعد بغیر رکاوٹ کے پایا جانے والا ہر خروج کسی سبب جدید ہی سے پیدا ہوتا ہے تو لازم ہے کہ صرف وہ خون جمع کیا جائے جو مسلسل تھوڑا تھوڑا باہر آیا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ---اور اتحاد مجلس سے یہی مقصود و مراد ہے--- ان شاء اللہ تعالٰی --- یہ نہیں کہ بذاتِ خود مجلس کا اعتبار ہے یہاں تک کہ جب خون نکلنا شروع ہو اور آدمی فوراً جگہ بدل دے تو دوسری جگہ جو نکلے وہ پہلی جگہ نکلنے والے خون کے ساتھ جمع نہ کیا جائے    ( اور یہ کہا جائے کہ مجلس ایک نہ رہی ) ----اوراگر جہاں ہے وہیں دن بھر بیٹھا رہے اور کچھ خون صبح کے اول وقت نکل کر بند ہو جائے ۔پھر کچھ غروب کے وقت نکلے تو اس کو پہلے کے ساتھ جمع کیا جائے ( اور کہا جائے کہ مجلس تو ایک ہی رہی لہذا دونوں یکجا ہوں گے ) یہ تو فقاہت سے بالکل بعید ہے ۔
وبالجملۃ علامۃ اتحاد السبب ھھنا ھو التلا حق واختلافہ ھو تخلل الانقطاع طبعا لاقسرا بخلاف القیئ فان الطبیعۃ تحتاج فیہ الی دفع الثقیل الذی میلہ الطبع الی الاسفل علی خلاف طبعہ الی جہۃ الاعلی فربما لاتقدر علیہ الاتدریجا کما ھو مرئی مشاھد فمادام الطبیعۃ فی الھیجان فھو سبب واحد وان تخلل الانقطاع فاذا سکنت ثم ھاجت فھو سبب جدید ھذا ماظھر لفھمی القاصر فتأمل وتبصر فلعل بعضہ یعرف وینکر۔
مختصر یہ کہ یہاں اتحاد سبب کی علامت یکے بعد دیگرے مسلسل نکلنا ہے----- اور اختلاف سبب کی علامت نہ طبعاً -----نہ جبراً ---- انقطاع کے درمیان میں حائل ہوتا اور بیچ بیچ میں خون کا خود اپنی طبیعت سے بند ہو جانا ہے----- اور قے میں ایسا نہیں----- کیوں کہ اس میں وہ ثقیل جس کا طبعی میلان نیچے آنے کی طرف ہوتا ہے برخلافِ طبع طبیعت اسے اوپر کی جانب دفع کرنے کی حاجت مند ہوتی ہے طبیعت زیادہ تر اس پر تدریجاً ہی قدرت پاتی ہے جیسا کہ یہ دیکھا اور مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ تو جب تک طبیعت ہیجان میں ہو یہ ایک سبب ہے اور اگر بیچ میں انقطاع ہو گیا تو طبیعت میں جب سکون ہو جائے تو یہ سبب جدید ہے----- یہ وہ ہے جو میرے فہم قاصر پر منکشف ہوا تو اس میں تامّل اور نگاہِ غور کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ معروف ہو اور کچھ نا معروف ۔
Flag Counter