| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
اقول: یہ سب سے زیادہ غریب ہے کیونکہ اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ دونوں ترجیحیں بالکل ایک دوسرے کے برابر ہیں ۔
فـــ:تطفل ۵۳علی الکفایۃ۔
الاماوقع فی وجیز الامام الکردری حیث قال نوازل (ای قال فی مجموع النوازل) شاکہ شوکۃ او ابرۃ فاخرجہا وظھردم ولم یسل نقض وفی الجامع الصغیر لم ینحدر الدم عن راسہ لکنہ علاوصار اکثر من رأس الجرح لاینقض وھذا خلاف مافی النوازل والاول عن الامام الثانی والثانی عن محمد رحمہما اللّٰہ تعالٰی والنقض اقیس لان مزایلتہ عن مخرجہ سیلان اھ ۱؎
(۵)اور وہ جو وجیز امام کردری میں واقع ہے وہ لکھتے ہیں : مجموع النوازل میں ہے :کوئی کانٹا یا سوئی چبھو کر نکالا خون ظاہر ہوا اور بہا نہیں ، تو یہ ناقض ہے--- اور جامع صغیر میں ہے : سرِ زخم سے خون ڈھلکا نہیں لیکن اوپر چڑھا اور سرِزخم سے زیادہ ہو گیا تو ناقض نہیں --- یہ اس کے برخلاف ہے جو مجموع النوازل میں ہے اور اوّل امام ثانی سے مروی ہے اور دوم امام محمد سے روایت ہے--- رحمہمااللہ تعالٰی اور ناقض ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے اس لئے کہ خون کا اپنے مخرج سے جدا ہونا سیلان ہے ا ھ ۔
(۱؎ الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الھندیہ کتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲)
قلت ۸۱: و انت تعلم ان قد انقلب علیہ الامر فی نسبۃ المذھبین الی حضرۃ الامامین۔
قلت ناظر پر عیاں ہے کہ وجیز میں دونوں مذہب ،دونوں اماموں کی جانب منسوب کرنے میں معاملہ اُلٹ گیا ہے ۔
اقول ۸۲ : وعجبافــــ منہ ان عزاما عزاللجامع الصغیر جاز ماثم قال والثانی ای عدم النقض عن محمد فان مافی الجامع الصغیر مطلقا ان لم یکن ظاھرہ انہ قول ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فلا اقل من ان یکون قول محمد فکیف ینسبہ الیہ بعن۔ ثم لانظر الی قولہ اقیس مع مامر من تصحیحات عامۃ الائمۃ قول عدم النقض بلفظ ھو الصحیح والاصح والمختار وغیرھا ویقطع النزاع مارأیت فی جواھر الاخلاطی وفی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ والتتارخانیۃ،ثلثتھم عن فتاوٰی خوارزم وفی الھندیۃ عن المحیط واللفظ للاولی اذالم ینحدر عن رأس الجرح ولکن علافصار اکبر من رأس الجرح لاینتقض وضوؤہ والفتوی علی عدم النقض فی جنس ھذہ المسائل ۱؎ اھ واللّٰہ الموفق۔
اقول: اور صاحبِ وجیز پر یہ بھی تعجب ہے کہ جامع صغیر کا حوالہ تو جزم کے ساتھ پیش کیا پھر بھی یہ لکھ دیا کہ ''والثانی عن محمد '' یعنی ناقض نہ ہونا امام محمد سے ایک روایت ہے حالانکہ جامع صغیر میں جو حکم مطلقاً بیان ہوا ہے ظاہر یہ ہے کہ وہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا قول اور مذہب ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی کم از کم وہ امام محمد کا قول ضرور ہے پھر امام محمد کی طرف اس کی نسبت بلفظ '' عن '' کیسے کر رہے ہیں ( جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا قول اور مذہب نہیں بلکہ ان سے ایک روایت ہے ۱۲م ) پھر وجیز نے ناقض ہونے کو جو '' اقیس'' (زیادہ قرینِ قیاس ) کہا قابلِ التفات نہیں کیونکہ اس کے مقابلہ میں ناقض نہ ہونے کے قول کے متعلق ، صحیح ---- اصح ---- مختار وغیرہ الفاظ سے عامّہ ائمہ کی تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ گزرا -----اور قاطع نزاع وہ ہے جو میں نے جواہر الاخلاطی۱ میں اور فوائد مخصصہ میں ذخیرہ ۲و تاتارخانیہ۳ کے حوالے سے دیکھا ، ان تینوں میں فتاوی خوارزم سے نقل ہے اور ہندیہ میں بھی دیکھا کہ محیط سے منقول ہے ، الفاظ اول کے ہیں : جب خون سرِزخم سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو ناقضِ وضو نہیں اور''اس جنس کے مسائل میں فتوی عدمِ نقض پر ہی ہے ا ھ '' واللہ الموفّق۔
فــ:تطفل۵۴ علی البزازیۃ
(۱؎جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی) ص۷) (الفوائدالمخصصۃ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۶۰) (الفتاوی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰)
الثالث ابو یوسف یجمع القیئ اذا اتحد المجلس ولا یعتبر السبب وعکس فـــ محمد وقولہ الاصح وتطابقت النقول ھھنا علی اعتبار المجلس قال فی الحلیۃ'' فعلی ھذا یحتاج محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی الفرق واللّٰہ تعالٰی اعلم بذلک ۱؎ اھ
تنبیہ سوم (قے اگر منہ بھر ہو تو ناقضِ وضو ہے لیکن تھوڑی تھوڑی قے چند بار کر کے اتنی مقدار میں آئی کہ اگر سب یکجا ہو تو منہ بھر ہو جائے اسے یکجا مان کر نقضِ وضو کا حکم ہو گا یا نہیں ؟) امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ ایک نشست کے اندر چند بار میں جتنی قے آئی ہے سب یکجا مانی جائے گی خواہ ایک سبب یعنی ایک متلی سے آئی ہو یا چند سے اور امام محمد کے نزدیک اس کے بر عکس ہے ( ایک متلی سے چند بار میں جتنی آئی ہے یکجا نہ مانیں گے اگرچہ کئی مجلس اور کئی نشست میں ہو ) ----اصح امام محمد کا قول ہے لیکن یہاں (یعنی چند بار آئے ہوئے خون سے متعلق ) ساری روایات اس پر متفق ہیں کہ ایک مجلس کا اعتبار ہو گا (سبب ایک ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر و اعتبار نہیں )----- حلیہ میں فرمایا : اس بنیاد پر امام محمد کو دونوں مقام میں وجہ فرق بیان کرنے کی ضرورت ہو گی واللہ تعالٰی اعلم بذلک ا ھ ، فــ:مسئلہ قے اگر منہ بھر کر ہو ناقض وضوہے ،پھر اگر چند بار تھوڑی تھوڑی آئے کہ سب ملانے سے منہ بھر کرہوجائے تواگر ایک ہی متلی سے آئی ہے وضو جاتارہے گااگرچہ مختلف جلسوں میں آئی ہو، اوراگر متلی تھم گئی تھی پھر دوسری متلی سے اور آئی تو ملائی نہ جائے گی اگرچہ ایک ہی مجلس میں آئی ہو۔
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
واشار فی ردالمحتار الی مایحذ و حذو جوابہ فقال کانھم قاسوھا علی القیئ ولما لم یکن ھنا اختلاف سبب تعین اعتبار المجلس فتنبہ ۲؎ اھ(
اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس اعتراض کے جواب کے طور پر جاری ہے وہ کہتے ہیں : ''گویا ان حضرات نے اسے قے پر قیاس کیا اور چونکہ یہاں اختلاف سبب کا وجود ہی نہیں اس لئے مجلس ہی کا اعتبار متعین ہے---- تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے ا ھ ۔
۲؎ردالمحتار ،کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۲)
اقول۸۳: ھذا عجیب فــــ فان من یعتبر السبب وھو الامام الربانی اذا وجد ماھو علۃ حکم الجمع عندہ لم لایحکم بہ ویعدل عنہ الی ماقد سقط اعتبارہ عندہ لاجل ان العلۃ دائمۃ ھھنا وان دوام العلۃ انما یقتضی دوام الحکم لاالغائھا واسنادہ الی غیرھا۔
اقول؛ یہ عجیب ہے ۔اس لئے کہ قے میں سبب کا اعتبار کرنے والے---- امام ربانی محمد بن شیبانی کو جب وہاں ایک ایسی چیز (یعنی مجلس و نشست ) مل رہی ہے جو ان کے نزدیک (ایک جگہ کے مسئلہ میں ) یکجائی کا حکم کرنے کی علّت ہے تو اسی پر حکم کیوں نہیں رکھتے اور اسے چھوڑ کر ایک ایسی چیز ( سبب اور متلی ) کو کیوں لیتے ہیں جس کا اعتبار ان کے نزدیک ساقط ہو چکا ہے (یعنی مسئلہ خون میں ۱۲ م )-- ( انہیں تو قے میں بھی مجلس کا اعتبار کرنا چاہئے ) اس لئے کہ علت یہاں دائمی ہے اور علت کا دائمی ہونا اسی کا مقتضی ہے کہ حکم بھی دائمی ہو ، نہ اس کا کہ اسے لغو اور بے اثر ٹھہرا کر حکم کو کسی اور علت سے وابستہ کر دیا جائے ۔
فـــــ :معروضۃ ۵۵علی ش۔