Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
71 - 123
اقول ۷۸:قدعرف مذھب زفرفی الھدایۃ وغیرھا النقض بمجرد الظھور فقولہ علا ای من الباطن وقولہ ظھر بمعنی التبیین دون الصعود کیف و زفرلا یشترط الانتفاخ والصعود بعد الوصول الی رأس الجرح فلیعلم ذلک۔
اقول : ہدایہ وغیرہا سے معلوم ہو چکا ہے کہ امام زفر کا مذہب یہ ہے کہ محض ظاہر ہونے ہی سے وضو ٹوٹ جائے گا---- تو کلام بالا میں '' اوپر آیا '' کا معنی یہ ہو گا کہ اندر سے اوپر آیا اور'' ظاہر ہوا '' کا معنی چڑھنا نہیں بلکہ ''نمایاں ہونا'' ہو گا ----- وہ ہو گا بھی کیسے جب کہ امام زفر سرِ زخم تک پہنچ جانے کے بعد چڑھنے اور (دائرہ بنا کر ) پھول جانے کی شرط نہیں رکھتے -----یہ بات معلوم رہنی چاہئے ۔
ورأیت فی خلاصۃ الامام طاھر بن عبدالرشید والبخاری مانصہ فی بعض نسخ الجامع الصغیر الدم اذالم ینحدر عن رأس الجرح لکن علا فصارا اکبر عن رأس الجرح لا ینتقض وضوؤہ ۱؎
اور میں نے امام طاہر بن عبدالرشید بخاری کی کتاب خلاصہ میں یہ عبارت دیکھی : جامع صغیر کے بعض نسخوں میں ہے کہ :خون جب سرِ زخم سے ڈھلکے نہیں لیکن چڑھ کر سرِ زخم سے بڑا ہو جائے تو وہ ناقض وضو نہیں۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی     کتاب الطہارۃ    الفصل الثالث ،المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ،۱ /۱۷)
ثم رأیت فی وجیز الکردری جزم بعزوہ للجامع الصغیر کما سیاتی فاذن اطلاقہ القول یفید ظاھرا انہ مذھب علمائنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ثم ھوالذی صححہ عامۃ ائمۃ الفتوٰی کقاضی خاں وغیرہ ممن قصصنا اولم نقص علیک ۔
پھر میں نے وجیز کردری میں دیکھا کہ عبارتِ بالا سے متعلق بالجزم جامع صغیر کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ اس کی عادت آ رہی ہے تو یہاں جامع صغیر میں کلام مطلق رکھنے ( کسی ایک کا امام کا قول نہ بتانے ) سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالٰی عنہم کا مذہب ہے----- پھر عامہ ائمہ فتوی نے اسی کو صحیح کہا ہے جیسے امام قاضی خان اور ان کے علاوہ ائمہ جن کے نام ہم نے لئے اور جن کے نام نہ لئے۔
ووقع فــــــ ھھنا زلۃ قلم من المحقق البحر تبعہ علیہا العلامہ ط حیث قال فی البحر الرائق فی الدرایۃ جعل قول محمد اصح واختار السرخی وفی فتح القدیر انہ الاولٰی ۲؎ اھ
یہاں محقق صاحبِ بحر سے ایک لغزشِ قلم واقع ہوئی ہے جس پر طحطاوی نے بھی ان کا اتباع کر لیا ہے وہ یہ کہ البحر الرائق میں لکھتے ہیں : ''درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ، اسی کو امام سرخسی نے بھی اختیار کیا ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ وہی اولٰی ہے ا ھ'' ۔
 (۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی     ۱ /۳۲)
فـــ: تنبیہ علی سہو وقع فی البحر وتبعہ ط۔
وھو کما تری سہوظاھر وانما اختار السرخسی قول ابی یوسف وایاہ جعل فی الفتح اولی کما نقلنا لک نصہ رحمھم اللّٰہ تعالٰی جمیعا ورحمنا بھم اٰمین نبہ علیہ العلامۃ ش قائلا فاجتنبہ ۱؎ اھ
یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، کھلا ہوا سہو ہے ، امام سرخسی نے تو امام ابو یوسف کا قول اختیار کیا ہے اور اسی کو فتح القدیر میں بھی اولٰی قرار دیا ہے جیسا کہ فتح کی عبارت ہم نقل کر آئے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کے صدقے میں ہم پر بھی رحم فرمائے ۔ الٰہی ! قبول فرما ۔ اس سہو پر علامہ شامی نے متنبہ کیا اور فرمایا : فاجتنبہ (تو اس سے بچنا) ا ھ ۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ ،مطلب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۹۱)
قلت۷۹: ونسبۃ تصحیح قول محمد للدرایۃ منصوص علیہا فی الفتح وتبعہ فـ۱علیہ من بعدہ حتی العلامۃ ش اذا نقل کلامہ ھذا فی ردالمحتار واقرہ علیہ لکنہ زعم فی منحۃ الخالق فــــــ۲ حاشیۃ البحر الرائق انہ ذکر فی الدرایۃ قول ابی یوسف ثم ذکر قول محمد ثانیا ثم قال والصحیح الاول فلیر اجع ۲؎ اھ۔
قلت اب بحر کی ایک بات رہ گئی کہ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ہے ۔ اس کی صراحت پہلے فتح القدیر میں ہوئی اور بعد کے علماء نے اسی کااتباع کیا یہاں تک کہ علامہ شامی نے بھی یہی بات رد المحتار میں نقل کی اور برقرار رکھی --- لیکن انہوں نے البحرالرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں یہ بتایا کہ:درایہ میں پہلے امام ابویوسف کاقول ذکر کیا پھر امام محمد کاقول بیان کیا پھرکہا کہ :صحیح اول ہے ۔''تواس کی مراجعت کرنا چاہئے اھ۔
فـــ۱:معروضۃ علی ش۔ فــ۲:تنبیہ علی سہو وقع فی الفتح علی ما زعم العلامۃ ش۔
 (۲؎منحۃ الخالق علی البحرا لر ائق     کتاب الطہارۃ    مطلب نواقض الوضوء    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۹۱)
وھذا یقتضی انہ انقلب الامر علی الفتح ایضاکما انقلب علی البحر واذا صح ھذا بقیت التصحیحات کلہا راجعۃ الی قول ابی وسف وھو اسکن للقلب وامکن فلیراجع۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ فتح القدیر نے بھی بر عکس بتا دیا جیسا کہ بحر نے الٹا بیان کیا ----- اگر علامہ شامی کا بیان صحیح ہے تو تمام تصحیحات قولِ امام ابو یوسف کی طرف راجع ہو گئیں اور اس میں دل کے لئے زیادہ سکون و قرار زیادہ ہے----- تو اس کی طرف مراجعت ہونا چاہئے ۔
والعبد الضعیف لم یرھھنا تصریح احد بتصحیح قول محمد بل ولا ترجیحا مالہ واختیارہ۔
اور بندہ ضعیف نے یہاں قول امام محمد کی تصحیح سے متعلق کسی کی تصریح نہ دیکھی بلکہ اس سے متعلق کسی طرح کی کوئی ترجیح اور کسی کا اسے اختیار کرنا نہ پایا ۔
اللھم الامافی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ عن الفقیہ ابن جعفر عن محمد بن عبداللّٰہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ کان یمیل فی ھذا الی انہ ینتقض وضوؤہ و راٰہ سائلا (قال اعنی صاحب الذخیرۃ) وفی فتاوٰی النسفی ھکذا اھ ۱؎
  ہاں مگر (۱)جو فوائد مخصصہ میں ذخیرہ سے ، اس میں بروایتِ فقیہ ابو جعفر محمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے کہ اس بارے میں وہ اس جانب مائل تھے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے انہوں نے بہنے والا سمجھا ، صاحبِ ذخیرہ نے فرمایا :اور فتاوٰی نسفی میں بھی اسی طرح ہے ا ھ ۔
 (۱؎الفوائد المخصصہ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ ،سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ /۶۰)
والا مارأیت فی جواھر الفتاوی من الباب الرابع المعقود لفتاوی الامام الاجل نجم الدین النسفی مانصہ رجل توضأ فعض الذباب بعض اعضائہ فظھر منہ دم لاینتقض الوضوء لقلتہ ولو غرزفی عضوہ شوکا اوابرۃ فظھر الدم ولم یسل ظاھرا ینتقض وضوؤہ لان الظاھر انہ سال عن راس الجرح ۲؎ اھ وھذا ماکان اشار الیہ فی الذخیرۃ ان ھکذا فی الفتاوٰی النسفی۔
 (۲)اور وہ جو جواہر الفتاوی کے باب چہارم میں دیکھا---- یہ باب امام نجم الدین نسفی کے فتاوٰی کے لئے باندھا گیا ہے، اس کی عبارت یہ ہے : ایک شخص باوضو ہے اس کے کسی عضو پر مکھی نے کاٹ لیا جس سے کچھ خون ظاہر ہو گیا تو اس کا وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ یہ خون کم ہی ہو گا ------اور اگر اس نے اپنے عضو میں کانٹا یا سوئی چبھولی جس سے خون ظاہر ہوا اور کھل کر بہا نہیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ سرِ زخم سے بہہ گیا ا ھ۔ یہی وہ ہے جس کی طرف ذخیرہ میں اشارہ کیا کہ فتاوٰی نسفی میں بھی اسی طرح ہے.
 (۲؎جواہر الفتاوٰی)
والامشیا علیہ فی مجموع النوازل نقلہ عنہ فی الخلاصۃ ثم عقب بما فی نسخۃ الجامع الصغیر ثم قال فعلی ھذا ینبغی ان لاینتقض اھ ۱؎
(۳) اور اس قول پر مجموع النوازل میں مشی ہے جسے خلاصہ میں اس سے نقل کیا ہے  پھر نسخہ جامع صغیر کی مذکورہ بالاعبارت لکھی ہے پھر فرمایا ہے :تو اس بنیاد پر اسے ناقض نہیں ہونا چاہئے۔
 (۱؎خلاصۃ الفتاوٰی ،کتاب الطہارۃ     الفصل الثالث فی نواقض الوضوء    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۱۷)
والا ماوقع فی الکفایۃ من قولہ بعض مشائخنا رحمھم اللّٰہ تعالٰی اخذوا بقول محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی احتیاطا وبعضھم اخذوا بقول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی وھو اختیار المصنف ای (صاحب الہدایۃ ) رحمہ اللّٰہ تعالٰی رفقا بالناس خصوصا فی حق اصحاب القروح ۲؎ اھ
(۴) اورجو کفایہ میں درج ہے کہ :ہمارے بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالٰی نے احتیاطاً امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کا قول لیا ہے اور بعض نے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا قول لیا ہے اور اسی کو لوگوں کی آسانی کے لئے خصوصاً پھوڑے پھنسی والوں کے حق میں نرمی کی خاطر مصنّف یعنی صاحبِ ہدایہ نے بھی اختیار فرمایا ہے ا ھ ۔
 (۲؎الکفایہ مع فتح القدیر     کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۴۰و۴۱)
Flag Counter