Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
70 - 123
ش: وکذا لوخلل اسنانہ فرأی الدم راس الخلال لاوضوء علیہ لانہ لیس بدم سائل ذکرہ قاضی خان وغیرہ ۳؎
ش : اسی طرح اگر دانتوں میں خلال کیا پھر سرِ خلال پر خون نظر آیا تو اس پر وضو نہیں کیونکہ یہ بہنے والا خون نہیں ، یہ امام قاضی خان وغیرہ نے ذکر کیا ۔
 (۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )
م :وقال بعض المشائخ ینبغی ان یضع کمہ اواصبعہ فی ذلک الموضع ان وجد الدم فیہ نقض والا فلا ۱؎
م : اور مشائخ میں سے ایک بزرگ نے فرمایا کہ اس جگہ آستین یا انگلی رکھ کر دیکھنا چاہئے اگر اس میں خون پائے تو اس جسے وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔
 (۱؎ منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰)
ش: ھذا ھو الشیخ الامام علاء الدین کما فی الذخیرۃ وغیرھا والا حسن لا ینقض مالم یعرف السیلان کما فی الفتاوی الظہیریۃ والظاھر انہ مرادا لکل ومن ثم قال فی خزانۃ الفتاوٰی عض علی شیئ واصابہ دم من بین اسنانہ او اصاب الخلال ان کان بحیث لوترک لایسیل لاینقض ۲؎ اھ
ش: یہ بزرگ شیخ امام علاء الدین ہیں جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ میں بتایا ہے اور احسن جیسا کہ فتاوٰی ظہیریہ میں کہا یہی ہے کہ جب تک سائل ہونے کا علم نہ ہو ناقض نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مقصود سب کا یہی ہے اسی لئے خزانۃ المفتین میں کہا : کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر دانتوں کے درمیان سے خون لگ گیا یا خلال پر خون لگ گیا اگر وہ اس قابل تھا کہ چھوڑ دیا جاتا تو نہ بہتا تب وہ ناقض نہیں ا ھ ۔
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )
فالحمد للّٰہ علی کشف الغمۃ ثم راجعت الغنیۃ فرأیت ان الترجی الاٰخر الذی ترجیت بقولی ولعل ظانا یظن قدوقع فانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال بعد قول بعض المشائخ ''وھذا ھو الاحوط لانہ اذرأی الاثر یجب علیہ ان یتعرف ھل ذلک عن شیئ سائل بنفسہ ام لا فاذا ظھر ثانیا علی کمہ او اصبعہ غلب علی الظن کونہ سائلا والا فلاوفی الحاوی سئل ابراھیم عن الدم اذا خرج من بین الاسنان فقال انکان موضعہ معلوما وسال نقض وھو نجس وان لم یعلم وخرج مع البزاق فانہ ینظر الی الغالب ۱؎ اھ
تو اس مشکل دور ہونے پر خدا کا شکر ہے پھر میں نے غنیہ کی مراجعت کی تو دیکھا کہ وہ بعد والی توقع جس کا اظہار میں نے ''شاید کسی کو خیال ہو '' سے کیا تھا واقع ہو چکی ہے کیونکہ صاحبِ غنیہ نے اس میں بعض مشائخ کا قول ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے اور یہی احوط ہے یعنی اس میں زیادہ احتیاط ہے کیونکہ جب اس نے خون کا اثر دیکھ لیا تو اس پر یہ دریافت واجب ہے کہ وہ از خود بہنے والے خون کا اثر ہے یا ایسا نہیں پھر جب اس کی آستین یا انگلی پر دوسری بار بھی وہ اثر نظر آیا تو غلبہ ظن حاصل ہو گیا کہ وہ بہنے والا ہے ، ورنہ نہیں ۔اور حاوی میں لکھا ہے کہ شیخ ابراہیم سے اس خون کے متعلق سوال ہوا جو دانتوں کے درمیان سے نکلے ، انہوں نے جواب دیا کہ اگر معلوم ہے کہ کس جگہ سے نکلا ہے اور بہنے والا ہے تو ناقض وضو اور نجس ہے، اور اگر اس کی جگہ معلوم نہیں تھوک کے ساتھ نکل آیا ہے تو دیکھا جائے گا کہ تھوک اور خون میں زیادہ کون ہے (جو زائد ہو اسی کا حکم ہو گا ) ا ھ ۔
 (۱؎ غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضو سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۲۔۱۳۳)
وقد اصاب رحمہ اللّٰہ تعالٰی اولا ان الواجب تعرف سیلانہ بنفسہ واٰخرا حیث عقبہ بقول ابرھیم المدیر للحکم علی السیلان وانما الزلۃ فـــــــــ فی زعمہ ان بظہورہ علی الاصبع ثانیا یغلب علی الظن سیلانہ وقد قدمت مایکفی ویشفی ۔
صاحبِ غنیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے شروع میں صحیح لکھا کہ اس کے سائل ہونے کی دریافت واجب ہے اور آخر میں بھی ٹھیک کیا کہ شیخ ابراہیم کا کلام لائے جس میں سائل ہونے پر حکم کا مدار رکھا ہے لغزش صرف ان کے اس خیال میں ہے کہ دوسری بار انگلی پر اثر ظاہر ہونے سے سائل ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے گا ۔ اس خیال کے رد میں کافی و شافی گفتگو ابھی ہو چکی ہے۔
فـــــ:تطفل۵۱ علی الغنیۃ۔
وقول الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی لقول الاکثرین انہ الاحسن مع ظھور وجہہ ومع انہ علیہ الاکثر وانہ جزم بہ الاکابر کقاضی خان وصاحب المحیط وغیرھما لایقاومہ قول الغنیۃ لخلافہ احوط مع عدم ظھور وجہہ بل ظہور وجہ عدمہ وانما الاحتیاط فـــ العمل باقوی الدلیلین کما فی الفتح والبحر وغیرھما لاجرم لم یعرج علیہ المحقق الشارح نفسہ فی شرحہ الصغیر الملخص من ھذا الکبیر انما اقتصر علی نقل قول ابرھیم وللّٰہ الحمد علی تواتر الاٰنہ علی عبدہ الاثیم۔
اب رہا یہ کہ غنیہ نے اسے احوط کہا تو امام جلیل ظہیر الدین مرغینانی نے قولِ جمہور کو احسن ۱کہا ، اس کی۲ وجہ بھی ظاہر ہے ، وہی اکثر مشائخ۳ کا مذہب بھی ہے ، اسی۴ پر امام قاضی خاں اور صاحبِ محیط وغیرہما جیسے اکابر نے جزم کیا تو اس کے خلاف قول کو صاحبِ غنیہ کا '' احوط '' کہنا کیا حیثیت رکھتا ہے۱ جب ۲کہ اس کی وجہ بھی ظاہر نہیں بلکہ اس ۳کے عدم کی وجہ ظاہر ہے رہا احتیاط تو احتیاط ۴اسی میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جوزیادہ قوی ہو اسی پر عمل کیا جائے جیسا کہ فتح القدیر ، البحر الرائق وغیرہما میں ہے--- آخر کار خود شارح محقق نے اس شرح کبیر کی تلخیص کر کے جو شرح صغیر لکھی ہے اس میں اس قول پر نہ ٹھہرے بس شیخ ابراہیم کا کلام نقل کرنے پر اکتفا کی--- خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے بندہ گنہگار کو متواتر احسانات سے نوازا ۔
فـــ:الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔
الثانی:  عامۃ الرواۃ فی ماذکرنا من الخلاف فی حد السیلان انہ العلو والانحداد معا ام مجرد العلو علی نسبۃ الاول الی الامام الثانی والثانی الی الامام الشیبانی وقال فی الحلیۃ ظاھر البدائع انہ ای الاول قول علمائنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۱؎
تنبیہ دوم: سیلان کی تعریف میں ہم نے اختلاف ذکر کیا ، پہلا قول یہ کہ سیلان اوپر چڑھنے پھر نیچے ڈھلکنے کے مجموعے کا نام ہے دوسرا یہ کہ صرف اوپر چڑھنا ہی سیلان ہے،عامہ رواۃ نے قول اول امام ثانی (قاضی ابو یوسف ) کی طرف منسوب کیا اور قول دوم امام شیبانی کی طرف منسوب کیا ---- حلیہ میں یہ لکھا کہ : بدائع کے ظاہر کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے ا ھ ۔
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
وفی الفوائد المخصصۃ لسیدی العلامۃ ابن عابدین ''اشتراط السیلان فی نقض الطہارۃ فیہ خلاف وان الصحیح اشتراطہ وان اخذ اکثر من راس الجرح خلافا لمحمد وجعلھا فی الظھیریۃ روایۃ شاذۃ عن محمد وفی التتارخانیۃ عن المحیط شرط السیلان مذھب علمائنا الثلثۃ وانہ استحسان وقال زفر رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا علا فظھر علی رأس الجرح ینتقض وضوؤہ وھو القیاس ۱؎ انتھی۔
سیدی علامہ ابن عابدین کے '' فوائد مخصصہ میں ہے : ناقض طہارت ہونے میں خون کا بہہ جانا شرط ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ بہہ جانا شرط ہے اگرچہ خون چڑھ کر سرِ زخم سے زیادہ جگہ لے لے بخلاف مذہب امام محمد کے--- اور اسے ظہیریہ میں امام محمد سے منقول ایک شاذ روایت قرار دیا-- اور تاتارخانیہ میں محیط سے نقل ہے کہ : بہہ جانے کی شرط ہمارے تینوں علماء کے مذہب پر ہے---- یہ استحسان ہے--- اور امام زفر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خون جب اوپر آیا پھر سرِزخم پر ظاہر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا---- یہ قیاس ہے انتہی۔
 (۱؎ الفوائد المخصّصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین     الفائدۃ الثانیۃ     سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۵۷)
Flag Counter