صرح فی غایۃ البیان بان الروایۃ مسطورۃ فی کتب اصحابنا انہ اذا وصل الی قصبۃ الانف ینتقض وان لم یصل الی مالان خلافالزفر وان قول الھدایۃ ینتقض اذا وصل الٰی مالان بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا ای لتکون المسألۃ علی قول زفر ایضا لان عندہ لاینتقض مالم یصل الی مالان فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد ۱؎۔
غایۃ البیان میں تصریح ہے کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے کہ جب خون ناک کے بانسے تک پہنچ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ نرم حصہ تک نہ پہنچے بخلاف امام زفر کے اور ہدایہ کی عبارت ''وضو ٹوٹ جائے گا جب نرم حصہ تک پہنچ جائے '' یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسئلہ امام زفر کے قول پر بھی ہو جائے اس لئے کہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جب تک نرم حصہ تک نہ پہنچے ناقض نہیں تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسہ سے مراد اس کا سخت حصہ ہے۔(ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۱)
بحرالرائق میں ہے:
ولیس ذلک الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ۲؎۔
اور وہ اسی لئے ہے کہ غسل وغیرہ میں اس کی تطہیر مندوب ہے ۔ (ت)
قالوا لاینقض ماظھر من موضعہ ولم یرتق کالنفطۃ اذا قشرت ولا ماارتقی عن موضعہ ولم یسل کالدم المرتقی من مغرز الابرۃ والحاصل فی الخلال من الاسنان وفی الخبر من العض وفی الاصبع من ادخالہ فی الانف۔ ۳؎۔
علماء نے فرمایا : وہ خون ناقض نہیں جو اپنی جگہ سے ظاہر ہوا اور اوپر نہ چڑھا جیسے آبلہ ، جب اس کا پوست ہٹا دیا جائے اور وہ بھی ناقض نہیں جو اوپر چڑھ گیا اور بہا نہیں جیسے سُوئی چبھونے کی جگہ سے چڑھنے والا خون اور وہ بھی نہیں جو خلال میں دانتوں سے اور روٹی میں دانت لگانے سے اور انگلی میں اسے ناک کے اندر ڈالنے سے لگ جاتا ہے ۔ (ت)
اسی طرح جامع الرموز میں محیط سے ہے ۔عالمگیری میں ہے :
المتوضیئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم اواستاک بسواک فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان کذا فی الظھیرۃ ۱؎ اھ
باوضو نے کسی چیز کو دانت سے کاٹا تو اس چیز میں خون کا نشان لگ گیا یا کسی مسواک سے دانت صاف کیا تو اس میں خون کا اثر دیکھا تو یہ ناقض نہیں جب تک کہ بہنے کا علم نہ ہو ، ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ ا ھ (ت)
(۱؎الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور۱ /۱۱ )
تنبیہات عدیدۃ جلیلۃ مفیدۃ
الاوّل: یقول ف العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف لقد احسن المحقق البحر صاحب البحر فیما نقلنا عنہ انفا فی مسئلۃ الخلال والخبزاذ جزم بھذا المصرح بہ المنصوص علیہ من غیر واحد من المشائخ العظام ولم یرکن الی مایوھمہ ظاھر مافی التبیین حیث قال ذکر الامام علاء الدین ان من اکل خبز ا و رأی اثر الدم فیہ من اصول اسنانہ ینبغی ان یضع اصبعہ اوطرف کمہ علی ذلک الموضع فان وجد فیہ اثر الدم انتقض وضؤوہ والافلا ۱؎ اھ
متعدد تنبیہاتِ جلیلہ و مفیدہ
تنبیہ اوّل: بندہ ضعیف ، مولائے لطیف ا س پر لطف فرمائے ، کہتا ہے : صاحبِ بحر سے خلال اور روٹی کا مسئلہ جو ابھی ہم نے نقل کیا اس میں انہوں نے بہت خوب کیا کہ اس تصریح شدہ حکم پر جزم کیا جس پر متعدد مشائخ عظام سے نص موجود ہے اور اس وہم کی طرف مائل نہ ہوئے جو تبیین الحقائق کی ظاہر عبارت سے پیدا ہوتا ہے ، تبیین میں لکھا ہے : امام علاء الدین نے ذکر کیا کہ جو روٹی کھا رہا تھا اور اس میں خون کا اثر دیکھا جو اس کے دانتوں کی جڑ سے اس میں لگ آیا تو اسے چاہئے کہ اپنی انگلی یا آستین کا کنارہ اس جگہ رکھ کر دیکھے اگر اس میں بھی خون کا اثر ہے تو اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ، ورنہ نہیں ا ھ (ت)
(۱؎تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۸۔۴۹)
ف:مسئلہ فقط اتنی بات کہ مثلاناک یا دانت سے انگلی پر خون لگ آیا دوبارہ دیکھا پھر اثر پایا وضو جانے کو کافی نہیں جب تک اس میں خود بہنے کی قوت مظنون نہ ہو۔
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ۔
اقول ۷۶: ف لوکان ظھور اثر الدم علی شیئ بالاتصال ناقضا مطلقا فلم لم ینقض حین رأی الدم علی الخبز اولا بل الواجب ان تکون فی نفسہ قوۃ التجاوز من محلہ لاان یمسہ شیئ فلیتصق بہ وھذا اظھر من ان یظھر ولعلہ ھو المقصود ای یجرب ھل ھو سائل ام کان بادیا وانتقل الی الخبز بالمساس۔
میں نے دیکھا کہ تبیین کے اس مقام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : اگر کسی چیز کے مس ہونے کی وجہ سے اس پر خون کا اثر دکھائی دینا مطلقاً ناقضِ وضو ہے تو پہلی بار روٹی پر خون کا اثر دیکھنے ہی کے وقت وضو کیوں نہ ٹوٹا---- در اصل یہ بات نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ خون میں بذاتِ خود اپنی جگہ سے تجاوز کرنے کی قوت ہو ، نہ یہ کہ کوئی چیز مس ہونے سے خون اس پر چپک جائے ۔ یہ اتنا زیادہ ظاہر کہ اظہار سے بے نیاز ہے---- شاید قول مذکور کا مقصود بھی یہی ہے یعنی یہ کہ جانچ کرے کہ وہ لگنے والا خون بہنے والا ہے یا صرف بادی (دکھائی دینے والا) تھا اور مس ہونے کی وجہ سے روٹی پر لگ آیا۔
ف:تطفل۵۰علی الامام الزیلعی۔
ولعل ظانا یظن ان البادی لقلتہ وعدم مددہ ینتشف بالمساس الاول فاذا وضع الاصبع اوالکم وظھر فیہ ظھر ان لہ مددا فلا یکون بادیا بل خارجا۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ محض دکھائی دینے والا خون ، کم ہونے اور اندر سے اضافہ نہ ملنے کے باعث پہلی بار مس ونے سے ہی خشک ہو جائے گا پھر جب اُنگلی یا آستین رکھی اور اس میں بھی ظاہر ہوا تو پتہ چل گیا کہ اس میں اندر سے اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لئے وہ بادی نہیں بلکہ خارج ہے ۔
اقول: ولیس بشیئ وکفٰی بالمشاھدۃ ردا علیہ وقد تقدم عن الفتح ان القمیص لو تردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن بحیث لوترک سال لانہ لیس بحدث ۱؎ اھ ماکتبت۔
اقول: یہ خیال کچھ بھی نہیں ، مشاہدہ اس کی تردید کے لئے کافی ہے، اور فتح القدیر کے حوالے سے یہ صراحت بھی گزر چکی ہے کہ : اگر کُرتا زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب کہ خون اس قابل نہ رہا ہو کہ اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ نکلتا کیونکہ وہ ( صرف لگ جانیوالا خون حدث نہیں ا ھ ، میرا حاشیہ ختم۔
(۱؎حواشی لامام احمد رضا علی تبیین الحقائق)
ثم رأیت وللّٰہ الحمد ان جنح فی الحلیۃ الی تأویلہ بما ذکرت وھذا لفظہ الشریف م ولو عض شیئا فرأی علیہ اثر الدم فلاوضو علیہ ۲؎
پھر میں نے دیکھا کہ صاحبِ حلیہ بھی اسی تاویل کی جانب مائل ہیں جو میں نے ذکر کی وللہ الحمد ، ان کے الفاظ کریمہ یہ ہیں (م کے بعد متن منیہ کی عبارت ہے اور ش کے بعد شرح حلیہ کی عبارت ۱۲م) م: اگر کوئی چیز دانت سے کاٹی پھر اس پر خون کا اثر دیکھا تو اس پر وضو نہیں ۔
(۲؎منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰)