Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
68 - 123
سوم : بہنا کہ اُبھر کر ڈھلک بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہٖ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلک جاتا جس کی صُورتیں اُوپر گزریں یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقضِ وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ہاں وہ بہنا کہ صرف باطنِ بدن میں ہو ناقض نہیں کہ باطن انسان میں تو خون ہر وقت دورہ کرتاہے آنکھوں کے ڈھیلے بھی شرعاً باطنِ بدن میں داخل ہیں۔ ولہٰذا وضو وغسل کسی میں یہاں تک کہ حقیقی نجاست ف ۲سے بھی اُن کے دھونے کا حکم نہ ہوا تو اگر آنکھ کے ف ۳ بالائی حصّے میں کوئی دانہ پھوٹا اور خون وریم اُس کے زیریں حصّے تک بہہ کر آیا مگر آنکھ سے باہر نہ ہوا وضو نہ جائیگا اور حسبِ قاعدہ معلومہ جب وہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں۔ پس اگر کپڑے سے اُسے پُونچھ لیا اور وہ کپڑا پانی میں گرا پانی ناپاک نہ ہوگا اور ناک کے ف ۴ سخت بانسے میں اختلاف ہے کہ اگر خون دماغ سے اتر کر اُس میں بہا اور نرم بانسے تک نہ پہنچا تو ناقض وضو ہوگا یا نہیں۔ مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا کہ ناک کا سخت حصہ بھی اندر سے یقینا باطنِ بدن میں داخل ہے ولہٰذا وضو وغسل کسی میں اُس کا دھونا واجب نہیں، اور انسب یہ ہے کہ وضو کرلے کہ اس موضع کا دھونا اگرچہ واجب نہیں وضو وغسل دونوں میں سنّت تو ہے۔
ف۱: مسئلہ ایک جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون ابھرا یہ جمع ہو کر بہہ جاتا یا نہیں اس کا مدار اندازے پر ہے ۔

ف۲:مسئلہ ناپاک سر مہ لگایا اور کوئی نجاست آنکھ کے ڈھیلے کو پہنچی اس کا دھونا معاف ہے ۔

ف۳: مسئلہ خون یاپیپ آنکھ میں بہا مگر آنکھ سے باہر نہ گیا تو وضو نہ جائے گا اسے کپڑے سے پونچھ کر پانی میں ڈال دیں توناپاک نہ ہوگا ۔

ف۴:مسئلہ ناک کے سخت بانسے میں خون بہا اور نرم حصے میں نہ آیا تو مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا ۔
فتح القدیر میں ہے:
الخروج فی غیر السبیلین ھو تجاوز النجاسۃ الٰی موضع التطھیر فلو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاخر منھا لاینقض لانہ لایلحقہ حکم ھو وجوب التطھیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض۔
غیر سبیلین میں خروج یہ ہے کہ نجاست تطہیر کی جگہ تک تجاوز کر جائے تو اگر آنکھ کے اندر کوئی زخم ہے جس سے خون نکل کر آنکھ ہی میں دوسری جانب کو بہہ گیا تو وہ ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا استحباب کا کوئی حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس کے جو سر سے اتر کر ناک کے نرم بانسے تک آ گیا ہو اس لئے کہ غسل جنابت میں اور نجاست لگنے سے اس حصہ کو دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ خون ناقضِ وضو ہو گا۔
ولو ف ربط الجرح فنفذت البلۃ الی طاق لاالٰی الخارج نقض ویجب ان یکون معناہ اذا کان بحیث لولا الربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلک لانہ لیس بحدث ولو اخذہ من راس الجرح قبل ان یسیل مرۃ فمرۃ ان کان بحال لوترکہ سال نقض والا لاوفی المحیط حدالسیلان ان یعلم وینحدر عن ابی یوسف وعن محمداذا انتفخ علی راس الجرح وسار اکبر من راسہ نقض والصحیح لاینقض وفی الدرایۃ جعل قول محمد اصح ومختار السرخسی الاول وھو اولی وفی مبسوط شیخ الاسلام تورم راس الجرح فظھربہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوزا لورم لانہ لایحب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ۱؎۔
اور اگر زخم پر پٹی باندھ دی تو تری پٹی کی تہہ تک نفوذ کر آئی باہر نہ نکلی تو بھی وضو جاتا رہا ضروری ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ایسی صورت رہی ہو کہ اگر بندش نہ ہوتی تو خون بہہ جاتا اس لئے کہ کُرتا اگر زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب تک بہنے کے قابل نہ رہا ہو کیونکہ وہ حدث نہیں اور اگر بہنے سے پہلے اسے سر زخم سے بار بار لے لیا ، اگر ایسی حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں اور محیط میں ہے کہ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر نیچے ڈھلکے اور امام محمد سے روایت ہے کہ جب سرِ زخم پر پھول جائے اور سر زخم سے بڑا ہوجائے تووضو جاتا رہے گا اور صحیح یہ ہے کہ نہ جائے گا ، درایہ میں امام محمد کا قول اصح قرار دیا اور سرخسی کا مختار اول ہے اور وہی اولٰی ہے ، مبسوط شیخ الاسلام میں ہے : سرِ زخم ورم کر آیا اور اس میں پیپ وغیرہ نمودار ہوا تو وضو نہ ٹوٹے گا جب تک ورم سے تجاوز نہ کر جائے اس لئے کہ جائے ورم کو دھونا واجب نہیں ہوتا تو ایسی جگہ تجاوز نہ ہو اجسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ۔(ت)
ف:مسئلہ زخم پر پٹی بندھی ہے ا س میں خون وغیرہ لگ گیا اگر اس قابل تھا کہ بندش نہ ہوتی تو بہ جاتا تو وضو گیا ورنہ نہیں ،نہ پٹی ناپاک ۔
 (۱؎فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۴ )
درمختار میں ہے:
لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان اکتحل بکحل نجس ۲؎۔
جس میں حرج ہے اسے دھونا واجب نہیں ہے جیسے آنکھ ، اگرچہ اس میں نجس سرمہ لگا لیا ہو ۔(ت)
 (۲؎الدرالمختار ،کتاب الطہارۃ،مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۸)
اُسی میں ہے:
المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظھور وفی غیرھما عین السیلان ولوبا لقوۃ لما قالوا لومسح الدم کلما خرج ولو ترکہ لسال نقض والا لاکما لو سال فی باطن عین او جرح او ذکر ولم یخرج ف ۳؎۔
سبیلین سے نکلنے سے مراد محض ظاہر ہونا ہے اور غیر سبیلین میں خود بہنا اگرچہ بالقوۃ ہو اس لئے کہ علماء نے فرمایا ہے جب بھی خون نکلا پونچھ دیا اگر ایسا ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں جیسے اس صورت میں جب کہ آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندر بہے اور باہر نہ آئے (ت)
ف مسئلہ: قطرہ اترآ یا خون وغیرہ ذکر کے اندر بہا جب تک اس کے سوراخ سے باہر نہ آئے وضونہ جائے گا اورپیشاب کا صرف سوراخ کے منہ پر چمکنا کافی ہے۔
(۳؎الدرالمختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۵)
ردالمحتار میں ہے:
اذا وضع علیہ قطنۃ اوشیئا اٰخر حتی ینشف ثم وضعہ ثانیا وثالثا فانہ یجمع جمیع مانشف فان کان بحیث لو ترکہ سال نقض وانما یعرف ھذا بالاجتھاد وغالب الظن وکذا لو القی علیہ رمادا اوترابا ثم ظھر ثانیا فتربہ ثم وثم فانہ یجمع قالوا وانما یجمع اذا کان فی مجلس واحد مرۃ بعد اخری فلو فی مجالس فلا تاترخانیۃ ومثلہ فی البحر اقول وعلیہ فما یخرج من الجرح الذی ینزّ  دائما ولیس فیہ قوۃ السیلان ولکنہ اذا ترک یتقوی باجتماعہ ویسیل عن محلہ فاذ انشفہ او ربطہ بخرقۃ وصار کلما خرج منہ شیئ تشربتہ الخرقۃ ینظران کان ماتشربتہ الخرقۃ فی ذلک المجلس شیئا فشیئا بحیث لوترک واجتمع لسال بنفسہ نقض والا لاولا یجمع ما فی مجلس الی مجلس اٰخر ۱؎۔
زخم پر روئی یا اور کوئی چیز رکھ دی تاکہ خون جذب کرے پھر دوسری ، تیسری بار بھی رکھی تو جتنا جذب ہوا ہے سب جمع کیا جائے گا اگر یہ صورت ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقضِ وضو ہے ۔ اس کی معرفت اجتہاد اور غالب ظن سے ہوتی ہے یوں ہی اگر اس پر راکھ یا مٹی ڈال دی پھر دوسری بار ظاہر ہوا تو اس پر بھی مٹی ڈال دی ایسا ہی متعدد بار ہوا تو وہ سب جمع کیا جائے گا ---- علماء نے فرمایا : جمع اسی وقت کیا جائے گا جب ایک مجلس میں بار بار ایسا ہوا ہو۔ اگر چند مجلسوں میں ہوا تو جمع نہ کیا جائے گا ، تاتارخانیہ اوراسی کے مثل بحر میں بھی ہے ، میں کہتا ہوں : اس کے پیشِ نظر جو برابر رِسنے والے زخم سے نکلتا رہتا ہے اور اس میں بہنے کی قوت نہیں لیکن ایسا ہے کہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یکجا ہو کر بہنے کی قوت پا جائے اور اپنی جگہ سے بہہ جائے تو جب اسے جذب کر لے یا کسی پٹی سے باندھ دے اور ایسا ہو کہ جب بھی اس سے کچھ نکلے تو اسے پٹی چوس لے دیکھا جائے گا اس مجلس میں جس قدر پٹی نے بار بار چوس لیا ہے اگر ایساہے کہ چھوڑ دیا جاتا اور یکجا ہوتا تو خودبہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں اور ایک مجلس سے دوسری مجلس میں جو نکلا ہو وہ جمع نہ کیا جائے۔(ت)
 (۱؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۱۔۹۲ )
Flag Counter