| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
رســـالـــــــہ الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم (نشان زدہ نقش اس بیان میں کہ خون کس حال میں ناقضِ وضو ہے )
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۸ ف دوم ذی القعدۃ الحرام ۱۳۲۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر خون چھنکا اور باہر نہ آیا تو وضو جائیگا یا نہیں، اور اگر کپڑا اُس خون پر بار بار مختلف جگہ سے لگ کر آلودہ ہوا کہ قدر درم سے زائد ہوگیا تو ناپاک ہوگا یا نہیں اور اگر خارش وغیرہ کے دانوں پر جو چپک پیدا ہوتی ہے اُس سے کپڑا اُسی طرح بھرا تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔( بیان فرمائیے اجر پائیے ، ت)
(ف:مسئلہ خون چھنکنے،اُبھرنے،بہنے کے فرق واحکام)
الجواب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم الحمد للّٰہ وحدہ شھد بھا لحمی ودمی والصلاۃ والسلام علی الطیب الطاھر النبی الامی واٰلہ وصحبہ وسائر حزبہ ومن فی سبیلہ اَدمٰی اودمی۔
تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے میرے گوشت و خون نے اس کی شہادت دی اور درود و سلام ہو طیّب و طاہر نبی اُمّی پر اور ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ساری جماعت اور ہر اس شخص پر جس نے ان کی راہ میں خون بہایا یا خود اس کا خون بہا ۔ (ت)
یہاں تین صورتیں ۳ ہیں:
اوّل: چھنکنا یعنی خون و ریم وغیرہ نے اپنی جگہ سے اصلاً تجاوز نہ کیا بلکہ اُس پر جو کھال کا پردہ تھا وہ ہٹ گیا، جس کے سبب وہ شے اپنی جگہ نظر آنے لگی پھر اگر وہ کسی چیز ف۱سے مس ہوکر اس میں لگ آئی مثلاً خون چھنکا اُسے انگلی سے چھُوا انگلی پر اس کا داغ آگیا یا خلال کیا یا مسواک کی یا انگلی سے دانت مانجے یادانت سے کوئی چیز کاٹی ان اشیاء پر خون کی رنگت محسوس ہوئی یا ناک انگلی سے صاف کی اُس پر سُرخی لگ آئی اور ان سب صورتوں میں اُس ملنے والی شے پر اثر آجانے سے زیادہ خود اُس خون کو حرکت نہ ہوئی تو یہ بھی جگہ سے تجاوز نہ کرنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس میں آپ تجاوز کی صلاحیت نہ تھی اور اسی حکم ف۲میں داخل ہے یہ کہ دانہ آبلہ بدن کی سطح سے اُبھار رکھتا ہو۔ خون وریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے منہ سے اصلاً تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تک دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں یہ صورت بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ،نہ اس خون وریم کیلئے حکمِ ناپاکی ہے کہ مذہب صحیح ومعتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں، ولہٰذا اگر خارش ف۳کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیک پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اُس چپک سے سارا کپڑا بھر گیا ناپاک نہ ہوگا ف۱:مسائل خون چھنکا انگلی سے چھوا اس پر داغ آگیا یاخلال یامسواک یادانت مانجھتے وقت انگلی میں لگ آیا یا کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر خون کااثر پایا یاناک انگلی سے صاف کی اس پر سرخی آگئی مگر وہ خون آپ جگہ سے ہٹنے کے قابل نہ تھا وضو نہ جائے گا اور وہ خون بھی پاک ہے۔
ف۲: مسئلہ خون یا ریم آبلے کے اندر سے بہہ کر آبلے کے منہ تک آکر رہ جائے تو وضو نہ جائے گا۔ ف۳:خارش وغیرہ کے دانوں پر خالی چپک ہے کپڑا اس سے بار بار لگ کر بہت جگہ میں بھر گیا ناپاک نہ ہوا نہ وضو گیا۔
یہی حالت ف۱خو ن کی ہے جبکہ اُس میں قوتِ سیلان نہ ہو یعنی ظنِ غالب سے معلوم ہوا کہ اگر کپڑا نہ لگتا اور اُس کا راستہ کھُلا رہتا جب بھی وہ باہر نہ آتا اپنی جگہ ہی پر رہتا ہاں اگرحالت یہ ہوف ۲ کہ خون بہنا چاہتا ہے اور کپڑا لگ لگ کر اُسے اپنے میں لے لیتا ہے تجاوز نہیں کرنے دیتا یہاں تک کہ جتنا خون قاصدِ سیلان تھا وہ اس کپڑے ہی میں لگ لگ کرپچھ گیا اور بہنے نہ پایا تو ضرور وضو جاتا رہے گا اور قدر درم سے زائد ہوا تو کپڑا بھی ناپاک ہوجائیگا کہ یہ صورت واقع میں بہنے کی تھی کپڑے کے لگنے نے اُسے ظاہر نہ ہونے دیا۔
ف۱:مسئلہ یہی حکم چھنکے ہوئے خون کا ہے کہ نہ اس سے کپڑا نجس ہو نہ وضو ساقط ۔ ف۲:مسئلہ خون یا ریم بہنے کے قابل ہو مگر کپڑے میں لگ لگ کر بہنے نہ پائے وضو جاتارہے گا اور درم بھر سے زائد ہو توکپڑا بھی نجس ہو جائے گا ۔
دوم: ابھرنا ف ۳ کہ خون و ریم اپنی جگہ سے بڑھ کر جسم کی سطح یا دانے کے منہ سے اوپر ایک ببولے کی صورت ہو کر رہ گیا کہ اس کا جرم سطح جسم وآبلہ سے اُوپر ہے مگر نہ وہاں سے ڈھلکا نہ ڈھلکنے کی قوت رکھتا تھا جیسے سُوئی چبھونے میں ہوتا ہے کہ خون کی خفیف بوند نکلی اور نقطے یا دانے کی شکل پر ہو کر رہ گئی آگے نہ ڈھلکی اور اسی قسم کی اور صُورتیں، ان میں بھی ہمارے علماء کے مذہب اصح میں وضو نہیں جاتا ،یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی اور اسی حکم ف ۴ میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم اُبھرا اور فی الحال اس میں قوتِ سیلان نہیں اُسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر اُبھرا اور صاف کردیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایک بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاک ہو کہ ہر بار اُتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایک بار کا نکلا ہوا ہے۔ یوں ہی اگر خون ف ۵ اُبھرا اور اُس پر مٹی وغیرہ ڈال دی پھر اُبھرا پھر ڈالی اسی طرح کیا تو وضو نہ ر ہے گا ۔ جب کہ ایک جلسے میں بقدر سیلان جمع ہوجاتا کہ یہ بہنے ہی کی صورت ہے اگرچہ عارض کے سبب صرف اُبھرنا ظاہر ہوا اور ایک جلسے ف۱ میں اتنا ہوتا یا نہ ہوتا اس کا مدار ٹھیک اندازے اور غلبہ ظن پر ہے۔
ف۳:مسئلہ سوئی چبھ کر خواہ کسی طرح خون کی بوند اُبھری اور ببولا سا ہوکررہ گئی ڈھلکی نہیں تو فتوی اس پر ہے کہ وہ پاک ہے وضو نہ جائے گا۔ ف۴:خون یا ریم اُبھرا اور ڈھلکنے کے قابل نہ تھا اُسے کپڑے سے پونچھ لیا ،دیر دیر کے بعد باربار ایسا ہی ہوا وضو نہ جائے گا اور کپڑا پاک رہا،ہاں اگر ایک ہی جلسے میں بار بار اُبھرا اور پونچھ لیا اور چھوڑ دیتے تو سب مل کر ڈھلک جاتا تو وضو نہ رہا اور وہ ناپاک ہے۔ ف۵:خون ابھرا اس پر مٹی ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی وضو نہ رہا جبکہ ایک جلسے میں اتنا اُبھرا کہ مل کر بہہ جاتا۔ ف۱:مسئلہ ایک جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون اُبھرا یہ جمع ہوکر بہہ جاتا یانہیں اس کا مدار اندازے پر ہے۔