| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ) |
قلت تعلیلہ النقض بانہ صدید یبعد استظہار الطحطاوی النقض بالزکام لکونہ ماء سال من علۃ وتعقبہ الشامی بما صرحوا بان ماء فم النائم طاھر وان کان منتنا۔
قلت صدید (زخم کا پانی) ہونے سے نقض کی تعلیل علامہ طحطاوی کے اس استظہار کو بعید قرار دیتی ہے جو زکام کے ناقض وضو ہونے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ وہ ایک بیماری سے بہنے والا پانی ہے اور علامہ شامی نے اس پر علماء کی اس تصریح سے تعاقب کیا ہے کہ سونے والے کے منہ کا پانی پاک ہے اگرچہ بدبو دار ہو ۔
اقول: لکن فیہ ان النوم یرخی والمکث ینتن فلم یلزم کونہ من علۃ وانما الناقض مامنھا فافھم ۔
اقول :لیکن اس پر یہ کلام ہے کہ نیند کی وجہ سے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں (اس لئے منہ کا پانی باہر آ جاتا ہے) اور دیر گزرنے سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لازم نہ آیا کہ وہ پانی کسی بیماری کی وجہ سے نکلا ہے اور ناقض وہی ہے جو کسی بیماری سے ہو---- تو اسے سمجھو ۔
لکنی اقول الزکام امر عام ولعلہ لم یکن انسان الاابتلی بہ فی عمرہ مرارا ومتیقن انہ وقع فی کل قرن وکل طبقۃ بل کل عام وفی عھد الرسالۃ و زمن الصحابۃ وایام الائمۃ بل لعلھم زکموا بانفسھم ایضا فلوکان ناقضا لوجب ان یشتھر حکمہ ویملأ الاسماع ویعم البقاع، ویتدفق منہ بحار الاسفار قدیما وحدیثا لاان لایذکر فی شیئ من الکتب ویبقی موقوفا الی ان یستخرجہ العلامۃ الطحطاوی علی وجہ الاستظہار فی القرن الثالث عشر،و قد علمت ف۱ان ماکان ھذا شانہ لایقبل فیہ حدیث روی اٰحادا لان الاٰحادیۃ مع توفر الدواعی امارۃ الغلط ۔
لکنی اقول (لیکن میں کہتا ہوں) زکام ایک عام سی چیز ہے،شاید کوئی انسان ایسا نہ گزرا ہو جسے اپنی عمر میں چند بار زکام نہ ہوا ہو اور یقین ہے کہ ہر قرن ہر طبقہ بلکہ ہر سال واقع ہوا ہے اور عہدِ رسالت، زمانہ صحابہ اور دورِ ائمہ میں بھی ہوا ہے بلکہ خود ان حضرات کو بھی زکام ہوا ہو گا،اگر یہ ناقضِ وضو ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کا حکم مشہور ہو ، لوگوں کے کان اس سے خوب خوب آشنا ہوں کہ سارے علاقوں میں پھیل جائے اور فقہ و حدیث کی قدیم و جدید کتابیں اس کے ذکر سے لبریز ہوں----نہ یہ کہ کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو اور تمام سابقہ صدیاں یوں ہی گزر جائیں یہاں تک کہ تیرھویں صدی میں علامہ طحطاوی بطورِ استظہار اس کا استخراج کریں،جب کہ معلوم ہے کہ جو ایسا عام معاملہ ہو اس میں بطریق آحاد روایت کی جانے والی حدیث بھی قبول نہیں کی جاتی اس لئے کہ کثرتِ اسباب و دواعی کے باوجود آحاد سے مروی ہونا غلطی کی علامت ہے ۔
ف۱: لایقبل حدیث الاٰ حاد فی موضع عموم البلوٰی فکیف برأی عالم متأخر۔
والذی۷۵ یظنہ ف ۲ العبد الضعیف ان ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لاینقض ایضا اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لاینقض فاذا فحش جداکما فی بحران المحموم اوبعض الامراض لم ینقض ایضا وکذلک الدمع واللبن والریق فکذا المخاط ومن ادل دلیل علیہ ما اجمعوا علیہ ان من قاء بلغما فان نازلا لاینقض وان ملأ الفم ومعلوم انہ لا اختلاف فی البلغم وماء الزکام فی الحقیقۃ وما یملؤ الفم کثیر فوجب عدم النقض بالزکام ھذا ماظھرلی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱؎اھ ماکتبت علیہ ونقلتہ کما اشتمل علی بعض فوائد واللّٰہ سبحانہ ولی التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق والحمد للّٰہ علی ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وسلم سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔
اور بندہ ضعیف کا خیال یہ ہے کہ جو چیز عادۃً نکلتی ہے اور ناقض نہیں ہوتی وہ بہت زیادہ نکلے تو بھی ناقض نہ ہو گی اگرچہ ایسی صورت میں اسے کسی بیماری کے دائرے میں شمار کیا جائے ۔ دیکھئے پسینہ ناقضِ وضو نہیں اگر یہ بہت زیادہ آئے جیسے بخار کے بحران یا بعض امراض میں ہوتا ہے تو بھی ناقض نہیں۔ اسی طرح آنسو ، دودھ ، تھوک ، اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے جس پر اجماع ہے کہ بلغم اگر سر سے آنے والا ہے تو اس کی قے منہ بھر کر ہو جب بھی ناقض وضو نہیں ۔اور معلوم ہے کہ در حقیقت بلغم اور آب زکام میں کوئی اختلاف نہیں اور اتنی مقدار جس سے منہ بھر جائے ، کثیر ہے، تو ضروری ہے کہ زکام سے بھی وضو نہ جائے ۔یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ، واللہ تعالٰی اعلم ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا ----- اسے اس وجہ سے میں نے نقل کر دیا کہ بعض فوائد پر مشتمل ہے------ اور خدائے پاک ہی مالکِ توفیق ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندی تک رسائی ہے اور خدا ہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا -----اور ہمارے آقا اور ان کی آل پر خدائے برتر کا درود و سلام ہو۔واللہ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
ف۲:مسئلہ مصنف کی تحقیق کہ جو چیز عادۃً بدن سے بہا کرتی ہو اور اس سے وضو نہ جاتاہو جیسے آنسو ،پسینہ ، ودھ،بلغم،ناک کی ریزش وہ اگرچہ کتنی ہی کثرت سے نکلے ناقض وضو نہیں اگرچہ اس کی کثرت بجائے خود ایک مرض گنی جاتی ہو۔
(۱؎ حواشی امام احمد رضا علٰی غنیۃ المستملی قلمی ص ۱۴۰و۱۴۱)