اقول۷۲: اور تحقیق ف وہی ہے کہ وجود مرض مظنہ دم ہے اس کے ساتھ شہادت صورت کی حاجت نہیں جس طرح مسئلہ مذی میں معلوم ہوا ۔
ف: تطفل علی الحلیۃ
ولہذا امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں ناف سے جو پانی نکلے اس کے زرد رنگ ہونے کی شرط لگائی کہ احتمال دمویت ظاہر ہو کما قدمنا نقلہ ( جیسا کہ ہم اس کی عبارت پہلے نقل کر چکے۔ ت)
اقول ۷۳: اور یہ منافی تحقیق نہیں کہ امام ممدوح کا یہاں کلام صورت وجودِ مرض میں نہیں اور بلا مرض بلاشبہ حکمِ دمویت کے لئے شہادت صورت کی حاجت۔
ولہٰذا امام حسن بن زیادف نے فرمایا اور وہ ایک روایت نادرہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی ہے اور جوہرہ و ینا بیع وغیرہما بعض کتب میں اُس پر جزم کیا اور امام حلوانی نے خارش اور آبلے والوں کیلئے اُسی میں وسعت بتائی کہ دانوں سے جو صاف نتھرا پانی نکلے نہ ناپاک ہے نہ ناقضِ وضو کہ رنگت کی صفائی احتمالِ خون و ریم کو ضعیف کرتی ہے۔
ف:مسئلہ دانے سے جو صاف ستھرا پانی نکلے متعدد روایات میں پاک ہے اور اُس سے وضو نہیں جاتا۔کھجلی والوں کو اس میں بہت وسعت ہے بحال ضرورت اس پر عمل کرسکتے ہیں اگر چہ قول صحیح اس کے خلاف ہے۔
کما تقدم نقلہ وذکر الطحطاوی نفسہ فی حاشیتہ علی مراقی الفلاح مانصہ عن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ وسعۃ لمن بہ جرب اوجدری اومجل وفی الجوھرۃ عن الینا بیع الماء الصافی اذا خرج من النفطۃ لاینقض (الی قولہ) قال العارف باللّٰہ سیدی عبدالغنی النابلسی وینبغی ان یحکم بروایۃ عدم النقض بالصافی الذی یخرج من النفطۃ فی کی الحمصۃ وان ما یخرج منھا لاینقض اذاکان ماء صافیا ۱؎۔
جیسا کہ اس کی نقل گزر چکی اور خود سید طحطاوی نے اپنے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ لکھا ہے : حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقضِ وضو نہیں ، امام حلوانی نے فرمایا : خارش ، چیچک اور آبلے والوں کے لئے اس میں وسعت ہے اور جوہرہ میں ینابیع سے نقل ہے کہ جب آبلے سے صاف پانی نکلے تو ناقض نہیں ( الی قولہ) عارف باللہ سیّدی عبدالغنی نابلسی نے فرمایا : کیّ الحمصہ میں آبلے سے نکلنے والے صاف پانی کی وجہ سے عدمِ نقض کی روایت پر حکم ہونا چاہئے اور یہ کہ اس سے جو نکلتا ہے وہ ناقض نہیں جب کہ صاف پانی ہو۔(ت)
( ۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فی نواقض الوضوء دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۸۷ و ۸۸)
جوہرہ نیرہ کی عبارت یہ ہے:
العرق المدمی ف۱ اذا خرج من البدن لاینقض لانہ خیط لامائع واما الذی ف۲یسیل منہ ان کان صافیا لاینقض قال فی الینابیع الماء الصافی الخ ۲؎
عرق مدمی (ناروکا ڈورا) بدن سے نکلے تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ وہ کوئی سیال چیز نہیں بلکہ ایک دھاگا ہے اور بدن سے جو بہتا ہو اگر صاف ہے تو ناقض نہیں ۔ ینابیع میں کہا : صاف پانی الخ۔ (ت)
(۲؎ الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۸)
ف۱:مسئلہ بدن سے ناروکا ڈورا نکلنے سے وضو نہ جائے گا۔
ف۲:مسئلہ نارو سے رطوبت بہے تو وضو جاتارہے اگرچہ صاف سفید پانی ہو۔
یہاں بھی اگرچہ صحیح وہی ہے کہ صاف پانی بھی ناقض مگر نہ اس لئے کہ مطلقًا جو رطوبت مرض سے نکلے ناقض ہے بلکہ اُسی وجہ سے کہ دانوں آبلوں کے پانی میں ظن راجح یہی ہے کہ خون و ریم رقیق ہوکر پانی ہوگئے
کما اسلفنا عن الامام فقیہ النفس قاضی خاں
(جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضی خان سے نقل گزری ۔ ت)
بالجملہ اُن کے کلمات قاطبۃً ناطق ہیں کہ حکمِ نقض احتمال وظنِ خون وریم کے ساتھ دائر ہے نہ کہ زکام سے ناک بہی اور وضو گیا بحران ف۳ میں پسینہ آیا اور وضو گیا پستان کی قوت ماسکہ ضعیف ہونے سے دودھ بہا اور وضو گیا ہرگز نہ اسکا کوئی قائل نہ قواعد مذہب اس پر مائل۔
ف۳:مسئلہ بحران کے پسینہ سے وضو نہیں جاتا۔
اقول: ۷۴: ان تمام ف۴دلائل قاہرہ و حل بازغ کے بعد اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ استظہار آپ ہی واجب الردتھا
ف۴:معروضۃ۴۹ رابعۃ علی العلامۃ ط۔
زکام ایک عام چیز ہے غالباً جیسے دنیا بنی کوئی فرد بشر جس نے چند سال عمر پائی ہو اُسے کبھی نہ کبھی اگرچہ جاڑوں ہی کی فصل میں زکام ضرور ہوا ہوگا یقین عادی کی رُو سے کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام وتابعین اعلام وائمہ عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو خود بھی عارض ہوا ہو ایسی عموم بلوی کی چیز میں اگر نقض وضو کا حکم ہوتا تو ایک جہان اُس سے مطلع ہوتا مشہور ومستفیض حدیثوں میں اس کی تصریح آئی ہوتی، کتب ظاہر الروایۃ سے لے کر متون وشروح وفتاوٰی سب اُس کے حکم سے مملو ہوتے نہ کہ بارہ سو برس کے بعد ایک مصری فاضل سید علامہ طحطاوی بعض عبارات سے اُسے بطور احتمال نکالیں اور خود بھی اُس کے اصل موضع بیان یعنی نواقض وضو کے ذکر تک اُس کی طرف اُن کا ذہن نہ جائے حالانکہ آبِ رمد وغیرہ کا مسئلہ درمختار میں وہاں بھی مذکور تھا، باب الحیض میں جاکر خیال تازہ پیدا ہو ایسا خیال زنہار قابل قبول نہیں ہوسکتا تمام اصول حدیث واصول فقہ اس پر شاہد ہیں ہاں جسے رُعاف ف یعنی ناک سے خون جانے کا مرض ہے اور اسی حالت میں اُسے زکام ہوا اور خون نکلنے کے غیر اوقات میں جو ریزش زکام کی آتی ہے سرخی لیے متغیر اللون آتی ہے جس سے آمیزش خون مظنون ہے تو اس صورت میں نقضِ وضو کا حکم ظاہر ہے۔
ف:مسئلہ جسے ناک سے خون جاتاہو اسی حالت میں اُسے زکام ہو اور ریزش سرخی لئے نکلے اگرچہ اس وقت خون بہنا معلوم نہ ہو اس کی یہ ریزش بھی ناقض وضو ہے۔
وانما شرطنا ھھنا تغیر اللون المذکور لان العلۃ وان کانت موجودۃ فالمخاط لایحدث منھا اعنی من الرعاف فاذا کان صافیا کان من محض الزکام ، واذا تغیر استند تغیرہ الی الرعاف بناء علی الظاھر وان امکن استنادہ الی اسباب اخر، ھذا ماعندی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ورأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الغنیۃ عند قولہ ناقض علی الاصح لانہ صدید مانصہ۔
یہاں ہم نے رنگ مذکور کے بدل جانے کی شرط رکھی اس لیے کہ بیماری اگرچہ موجود ہے مگر اس سے یعنی نکسیر سے رینٹھ نہیں آتی تو اگر وہ صاف ہے تو خالص زکام سے ہے اور رنگ بدلا ہوا ہے تو ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کے تغیر کی نسبت نکسیر کی جانب ہو گی، اگرچہ دوسرے اسباب کی جانب بھی استناد ممکن ہے،یہ وہ ہے جو میرے نزدیک ہے اور امید رکھتا ہوں کہ درست ہوگا اگر اللہ نے چاہا۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنے نسخہ غنیہ کے حاشیہ پر اس کی عبارت
''ناقض علی الاصح لانہ صدید''
(برقول اصح وہ ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے ) کے تحت میں نے یہ لکھا ہے :