احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ولو منیا اومذیا لزم لان الغالب انہ منی رق بمضی الزمان وعن ھذا قالوا ان الاعمی اومن بہ رمد اذا سال الدمع یتوضؤ لوقت کل صلاۃ لاحتمال کونہ قیحا اوصدیدا ۲؎۔
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع غسل نہیں اور اگر منی یا مذی دیکھی تو لازم ہے، اس لئے کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہو گئی ، اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ نابینا اور آشوب والے کا جب آنسو برابر بہے تو وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرے اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ آنسو در اصل پیپ یا زخم کا پانی (صدید) ہو ۔ (ت)
(۲؎الفتاوی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۰و۱۱)
بالجملہ مجرد رطوبت کہ مرض سے سائل ہو مطلقاً فی نفسہا ہرگز ناقض نہیں بلکہ احتمال خون و ریم کے سبب ولہٰذاامام ابن الہمام کی رائے اس طرف گئی کہ مسائل مذکورہ میں امام محمد کا حکم وضو استحبابی ہے اسلئے کہ خون وغیرہ ہونا محتمل ہے اور احتمال سے وضو نہیں جاتا مگر یہ کہ خبر اطباء یا علامات سے ظنِ غالب ہوکہ یہ خون یا ریم ہے تو ضرور وجوب ہوگا۔
فتح میں قبیل فصل فی النفاس فرمایا: فی عینہ رمد یسیل دمعھا یؤمر بالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا واقول ھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب فان الشک والاحتمال فی کونہ ناقضا لا یوجب الحکم بالنقض اذا لیقین لایزول بالشک واللّٰہ اعلم نعم اذا علم من طریق غلبۃ الظن باخبار الاطباء اوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب ۱؎۔
ایسا آشوب چشم ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہو تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ صدید(زخم کا پانی) ہونے کا احتمال ہے ، میں کہتا ہوں اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو اس لئے کہ اس کے ناقض ہونے میں شک و احتمال حکم نقض کا موجب نہیں اس لئے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا واللہ تعالٰی اعلم ہاں وجوب اس وقت ہو گا جب غلبہ ظن کے طور پر علم ہو جائے اطبا ء کے بتانے یا ایسی علامات کے ذریعہ جن سے مبتلا کو غلبہ ظن حاصل ہو ۔ (ت)
(۱؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۱۶۴)
اسی طرف ان کے تلمیذ ارشد امام ابن امیر الحاج نے میل کیا اور اس کی تائید میں فرمایا :
یشھد لھذا مافی شرح الزاھدی عقب ھذہ المسئلۃ وعن ھشام فی جامعہ انکان قیحا فکالمستحاضۃ والافکا لصحیح ۲؎۔
اس پر شاہد وہ ہے جو شرح زاہدی میں ا س مسئلہ کے بعد ہے اور ہشام سے ان کی جامع میں روایت ہے کہ اگر پیپ ہو تو مستحاضہ کی طرح ورنہ تندرست کی طرح ہے ۔ (ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
یونہی محققِ بحر نے بحر الرائق میں کلامِ فتح باب وضو میں بلا عزو ذکر کیا اور مقرر رکھا اور
باب الحیض میں ھو حسن ۳؎
فرمایا اور تحقیق ف یہی ہے کہ حکم استحبابی نہیں بلکہ احتیا ط ایجابی ہے ، مشائخ مذہب سے تصریح ِ وجوب منقول ہے ۔
ف:مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ درد یا علت سے جو رطوبت بہے اس میں صرف احتمال خون و ریم ہونا ہی وجوب وضو کو کافی ہے اگرچہ فتح وحلیہ میں استحباب مانا۔
(البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۱۶)
خود فتح القدیر فصل نواقض الوضوء میں فرمایا :
ثم الجرح والنفطۃ وماء الثدی والسرۃ والاذن اذا کان لعلۃ سواء علی الاصح و علٰی ھذا قالوا من رمدت عینہ وسال الماء منھا وجب علیہ الوضوء فان استمر فلوقت کل صلاۃ وفی التجنیس الغرب فی العین اذا سال منہ ماء نقض لانہ کالجرح ولیس بدمع ۱؎ الخ۔
پھر زخم و آبلہ اور پستان ، ناف اور کا ن کا پانی جب کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو بر قول اصح سب برابر ہیں ، اسی بنیاد پر علماء نے فرمایا : جسے آشوبِ چشم ہو اور آنکھ سے پانی بہے تو اس پر وضو واجب ہے اگر برابر بہے تو ہر نماز کے وقت کے لئے واجب ہے اور تجنیس میں ہے : آنکھ کی پھنسی سے جب پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ زخم کی طرح ہے آنسو نہیں ہے ۔ الخ(ت)
(۱؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۴)
اور تقریر محقق علی الاطلاق ف۱ کا جواب ان عباراتِ جلیلہ سے واضح جو ابھی خلاصہ و بزازیہ سے منقول ہوئیں کہ جس طرح احتلام یاد ہو نے کی حالت میں صریح مذی کے دیکھنے سے بھی غسل بالاجماع واجب ہے حالانکہ مذی سے بالاجماع غسل واجب نہیں مگر احتیاطاً حکمِ وجوب ہوا ۔
ف۱ : تطفل ۴۶ علی الفتح ۔
خود محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں نقل فرمایا:
النوم مظنۃ الاحتلام فیحال بہ علیہ ثم یحتمل انہ کان منیا فرق بواسطۃ الھواء ۲؎۔
نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اس تری کو اس کے حوالہ کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا کی وجہ سے رقیق ہو گئی۔(ت)
(۲؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۵۴)
اسی طرح یہاں وجود مرض مظنہ خروج خون و ریم ہے تو امر عبادات میں احتیاطاً حکم وجوب ہوا ۔
منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ وھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب الخ ردہ فی النھر بان الامر للو جوب حقیقۃ وھذا الاحتمال راجح وبان فی فتح القدیر صرح بالوجوب وکذا فی المجتبی قال یجب علیہ الوضوء والناس عنہ غافلون ۳؎ اھ مافی المنحۃ۔
قول محقق ''اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو '' اسے نہر میں یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ امر حقیقۃً وجوب کے لئے ہے اور یہ احتمال راجح ہے اور یہ کہ خود فتح القدیر میں وجوب کی تصریح ہے اسی طرح مجتبٰی میں ہے کہ اس پر وضو واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ا ھ منحہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
(۳؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۳۔۳۲)
اقول۷۱: والاولی ف۲ ان یقول ان الوجوب منصوص علیہ کما نقلہ فی فتح القدیر وذلک لما علمت ان المحقق انما نقلہ فی النواقض بلفظۃ قالوا وبحث بنفسہ فی الحیض ان لاوجوب مالم یغلب علی الظن بامارۃ او اخبار طبیب۔
اقول: اولٰی یہ کہنا ہے کہ وجوب پر نص موجود ہے جیسا کہ اسے فتح القدیر میں نقل کیا ہے اس لئے کہ ناظر کو معلوم ہے کہ حضرت محقق نے تصریح وجوب بلفظ قالوا ( مشائخ نے فرمایا ) نقل کی ہے اور باب حیض میں خود بحث کی ہے کہ جب تک کسی علامت یا طبیب کے بتانے سے غلبہ ظن نہ حاصل ہو ، وجوب نہیں ۔ (ت)
ف۲ : تطفل علی النہر۔
اخیر میں صاحبِ بحر نے بھی کلامِ فتح پر استدراک فرما کر مان لیا کہ یہ حکم وجوب کے لئے ہے ۔ باب الحیض میں فرمایا
: وھو حسن لکن صرح فی السراج الوھاج بانہ صاحب عذر فکان الامر للایجاب ۱؎۔
یہ بحث اچھی ہے لیکن سراج وہاج میں تصریح ہے کہ وہ صاحبِ عذر ہے تو امر برائے ایجاب ہے ۔ (ت)
(۱؎البحرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۲۱۶)
غرض فریقین تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ مدار اس رطوبت کے خون و ریم ہونے پر ہے قول تحقیق میں احتیاطاً احتمال دم پر ایجاب کیا اور خیال محقق و تلمیذ محقق میں جب تک دم کا غلبہ ظن نہ ہو استحباب رہا ۔
ولہذا اشکِ رمد میں محقق ابن امیر الحاج نے بحثاً یہ قید بڑھائی کہ اس کا رنگ متغیر ہو جس سے احتمال خون ظاہر ہو ۔
حلیہ میں فرمایا :
وعلی ھذا فما فیہ (ای فی المجتبی) ان من رمدت عینہ فسال منھا ماء بسبب رمد ینتقض وضوئہ انتھی ینبغی ان یحمل علی مااذا کان الماء الخارج من العین متغیر بسبب ذلک ۲؎ اھ مختصرا۔
اس بنیاد پر کلامِ مجتبیٰ ''جس کی آنکھ میں آشوب ہو اور اس کی وجہ سے آنکھ سے پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا '' انتہی۔ اس صورت پر محمول ہونا چاہئے جب آنکھ سے نکلنے والا پانی اس کی وجہ سے بدلا ہوا ہو ۔ ا ھ مختصراً(ت)