Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱-۱(کتاب الطہارۃ)
63 - 123
درمختار میں ہے:
ماء فم المیت ف۲ نجس کقیئ عین خمر او بول وان لم ینقض لقلتہ لنجاسۃ بالاصالۃ لابالمجاورۃ ۱؎۔
دہنِ میّت کا پانی نجس ہے جیسے عین شراب یا پیشاب کی قے نجس ہے اگرچہ قلیل ہونے کی وجہ سے ناقض نہیں کہ اس کی نجاست اصالۃً ہے کسی نجاست سے اتصال کی وجہ سے نہیں ہے ۔ (ت)
ف۲ : :مسئلہ میت کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے ناپاک ہے ۔
 ( ۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۶)
اور اگر رطوبات کی بھی قید بڑھا لیں تو اب نجس عام مطلقاً ہو جائے گا کہ مسئلہ ریح داخل نہ رہے گا اور مسئلہ خمر باقی ہو گا اب کہ نجس بالخروج کی قید لگائی مسئلہ خمر بھی خارج ہو گیا اور تساوی رہی۔
فان قلت ترد حینئذ مسألۃ الخمر علی الکلیۃ الثانیۃ القائلۃ ان کل حدث نجس بالخروج فانہ ان قاء الخمر ملاء الفم کان حدثا قطعا ولم یکن نجسا بالخروج فانھا نجسۃ العین۔
اگر یہ کہو کہ اس صورت میں مسئلہ شراب سے کلیہ دوم ----- ہر حدث ، نجس بالخروج ہے ----- پر اعتراض وارد ہو گا اس لئے کہ اگر منہ بھر کر شراب کی قے کی تو وہ مطلقاً محدث ہے اور نجس بالخروج نہیں کیوں کہ شراب تو نجس العین ہے ۔
قلت۶۶ :لا ف۳غرو ان یکتسب النجس بنجاسۃ اخری من خارج کخمر وقعت فی بول حتی لو تخللت لم تطھر وان ابیت فلیکن النجس اعم مطلقا وانتفاء العام یوجب انتفاء الخاص فبطھارۃ المخاط یثبت انہ لیس بحدث وفیہ المقصود واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہوں گا)اس میں کوئی عجب نہیں کہ ایک نجس چیز اپنے باہر سے کوئی اور نجاست حاصل کر لے جیسے شراب جو پیشاب میں پڑ گئی ہو ، کہ اگر وہ سرکہ ہو جائے تو بھی پاک نہ ہو گی -----اور اگر اسے نہ مانو تو نجس عام مطلق ہی رہے۔ اور عام کے انتفا سے خاص کا انتفا بھی ضروری ہے تو رینٹھ کے پاک ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدث نہیں ۔اور اسی میں مقصود ہے --- واللہ تعالٰی اعلم (ت)
ف ۳ : نجس چیز دوبارہ نجس ہوسکتی ہے ولہذا اگر شراب پیشاب میں پڑ جائے  پھر سرکہ ہو جائے پاک نہ ہو گی ۔
ثم اقول ف۱ حقیقتِ امر ف۲ یہ ہے کہ درد و مرض سے جو کچھ بہے اسے ناقض ماننا اس بناء پر ہے کہ اس میں آمیزشِ خون وغیرہ نجاسات کا ظن ہے خود محرر مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کے کلام مبارک میں اس کی تصریح ہے اور وہی ان فروع کا ماخذ صریح ہے تو زکام اس کے تحت میں آ ہی نہیں سکتا ۔
ف۱ :معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ط۔

ف۲مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ دردو مرض سے جوکچھ بہے اس وقت ناقض ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجا سات کا احتمال ہو۔
منیہ میں ہے :
عن محمد اذا کان فی عینہ رمد ویسیل الدموع منھا اٰمرہ بالوضوء لانی اخاف ان یکون ما یسیل عنہ صدید ۱؎۔
امام محمد سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں : جب آنکھ میں آشوب ہو اور اس سے آنسو بہتاہو تو میں وضو کا حکم دوں گا اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے بہنے والا آنسو صدید (زخم کا پانی ) ہو ۔ (ت)
 (۱؎منیۃ المصلی بیان نواقض وضو مکتبہ قادریہ لاہور ص۹۱)
حلیہ میں ہے:
کذا ذکرہ بنحوہ عنہ ھشام ۲؎
 (اسی کے ہم معنی امام محمد سے روایت کرتے ہوئے ہشام نے نوادر میں ذکر کیا ہے ۔ت)
 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
غنیہ میں ہے:
لافرق فی ذلک بین العین وغیرھا بل کل مایخرج من علۃ من ای موضع کان کالاذن والثدی والسرۃ ونحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید ۱؎۔
اس بارے میں آنکھ اور آنکھ کے علاوہ میں کوئی فرق نہیں بلکہ جو بھی کسی بیماری کی وجہ سے خارج ہو ، کان ، پستان ، ناف وغیرہ جس جگہ سے بھی ہو وہ اصح قول پر ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور     ص۱۳۳)
اسی میں مثل فتح القدیر ف ۱ تجنیس امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ سے ہے :
لوخرج من سرتہ ماء اصفر وسال نقض لانہ دم قد نضج فاصفر وصار رقیقا ۲؎۔
اگر ناف سے زرد پانی نکل کر بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ خون ہے جو پک کر زرد اور رقیق ہو گیا ۔ (ت)
 ( ۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء  سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۳)
ف۱ :مسئلہ ناف سے زرد پانی بہہ کر نکلے وضو جاتا رہے۔
کافی میں ہے:
عن ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذاخرج ف۲ (ای من النفطۃ) ماء صاف لاینقض فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع فلا یکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطھارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء واذا کان دما کان نجسا ناقضا للوضوء ۱؎۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اگر آبلہ سے صاف پانی نکلے تو وہ ناقض نہیں۔ اور قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں ہے کہ حسن بن زیاد نے کہا : یہ پانی پسینہ اور آنسو کی طرح ہے تو وہ نجس نہ ہو گا اور اس کے نکلنے سے طہارت نہ جائے گی۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا پکا نہیں تو وہ پانی کے رنگ کا ہو جاتا ہے اور جب وہ خون ہے تو نجس اور ناقضِ وضو ہو گا ۔ (ت)
 ( ۱؎ الکافی شرح الوافی)
ف۲ : مسئلہ دانے کا پانی اگر چہ صاف نتھرا ہو صحیح یہ ہے کہ وہ بھی ناپاک و ناقض وضو ہے ۔
بحر میں ہے :
لوکان فی عینیہ رمد یسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال ان یکون صدیدا۲؎
اگرآنکھوں میں آشوب ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہے تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ ہوسکتا ہے وہ زخم کا پانی ہو ۔(ت)
 (۲؎البحرالرائق   کتاب الطہارۃ   ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی   ۱ /۳۲)
تبیین الحقائق میں ہے:
لو کان بعینیہ رمد او عمش یسیل منھما الدموع قالوا یؤمر بالوضوء لوقت کل صلٰوۃ لاحتمال ان یکون صدیدا او قیحا۔۳؎
اگر آنکھوں میں آشوب یا عمش (چندھا پن) ہو کہ آنسو بہتے رہتے ہوں تو علماء نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے وقت اسے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ زخم کا پانی یا پیپ ہو ۔ (ت)
 (تبیین الحقائق     کتاب الطہارۃ       دارالمعرفۃ بیروت      ۱ /۴۹)
خلاصہ میں ہے:
تذکر الاحتلام و رأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان منیا او مذیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی وعلی ھذا ف الاعمی ومن بعینیہ رمد سال الدمع ینبغی ان یتوضأ لوقت کل صلاۃ لاحتمال خروج القیح والصدید ۱؎۔
احتلام یاد ہے اور تری دیکھی اگر ودی ہو تو بلا اختلاف غسل واجب نہیں اور اگر منی یا مذی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کہتے لیکن منی دیر ہو جانے سے رقیق ہو جاتی ہے تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہو ، حقیقت مذی مراد نہیں اور اسی بنیاد پر نابینا اور آشوب چشم والے کی آنکھ سے جب آنسو بہتا ہو تو اسے ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرنا چاہئے اس لئے کہ پیپ اور زخم کا پانی نکلنے کا احتمال ہے ۔ (ت)
ف مسئلہ :اندھے کی آنکھ سے جو پانی بہے وہ ناپاک اور ناقض وضو ہے ۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات  الفصل الثانی    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۳)
Flag Counter