دوم : عوارض ف۱ مکلف میں ادھر سے کلیہ ہے کہ جو حدث ف۲ نہیں نجس نہیں اور اس کا عکس کلی نہیں کہ جو نجس نہ ہو حدث بھی نہ ہو، نیند جنون بیہوشی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور ناقض وضو ہیں ،اور سب سے بہتر مثال ریح
ف ۳ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب پر طاہر ہے اور بالاجماع حدث ہے تو آپ دہان نائم کی طہارت سے استدلال جائے مجال مقال ہوگا۔
ف۱ معروضۃ اخرٰی علیہ
ف ۲: مسئلہ بدن مکلف سے جو چیز نکلے اوروضو نہ جائے وہ نا پاک نہیں مگر یہ ضرور نہیں کہ جو ناپاک نہ ہو اس سے وضو نہ جائے۔
ف۳: مسئلہ صحیح یہ ہے کہ ریح جوانسان سے خارج ہوتی ہے پاک ہے۔
درمختار میں ہے :
کل مالیس بحدث لیس بنجس وھو الصحیح۔۱؎
ہر وہ جو حدث نہیں، نجس بھی نہیں ، یہی صحیح ہے ۔ (ت)
(۱؎الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱/ ۲۶)
ردالمحتار میں درایہ سے ہے:
انھا لا تنعکس فلا یقال مالا یکون نجسا لایکون حدثا لان النوم والجنون والاغماء وغیرھا حدث ولیست بنجسۃ۔ ۲؎۔
اس کلیہ کا عکس نہ ہو گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا ۔ اس لئے کہ نیند ، جنون ، بیہوشی وغیرہ حدث ہیں اور نجس نہیں ۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۵)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
فیلزم من انتفاء کونہ حدثاانتفا ء کونہ نجسا ولا ینعکس فلا یقال مالایکون نجسا لایکون حدثا فان النوم والاغماء والریح لیست بنجسۃ وھی احداث ۳؎ اھ۔
حدث نہ ہونے کو، نجس نہ ہونا لازم ہے اور اسکے برعکس نہیں ۔تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا اس لئے کہ نیند ، بیہوشی اور ریح نجس نہیں اوریہ سب حدث ہیں ۔ ا ھ
(۳؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۸۱)
اقول: وھھنا وھم عرض فی فھم القضیۃ وفھم العکس العلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھت علیہ فیما علقت علیہ ولعل لنا فی اٰخر الکلام عودا الیہ۔
اقول اور یہاں قضیہ اور اس کے عکس کو سمجھنے میں علامہ شامی کو رد المحتار میں ایک وہم در پیش ہوا ہے جس پر میں نے حاشیہ رد المحتار میں تنبیہ کی ہے۔ اور امید ہے کہ آخر کلام میں ہم اس طرف لوٹیں گے ۔ (ت)
اور اگر ثابت کر لیں کہ جو ظاہر رطوبت بدن سے نکلے اگرچہ سائل ہو ناقض نہیں تو اب اس تجشم کی حاجت نہ رہے گی کہ آب دہانِ نائم سے استدلال کیجئے خود آب بینی ف کی طہارت مصرح و منصوص ہے ۔
ف: مسئلہ صحیح یہ ہے کہ آب بینی پاک ہے ۔
در مختار مسائل قے میں ہے:
المخاط کالبزاق۱؎
(ناک کی رینٹھ تھوک کی طرح ہے۔ ت)
(۱؎الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۶)
خود علامہ طحطاوی پھر شامی فرماتے ہیں :
وما نقل عن الثانی من نجاسۃ المخاط فضعیف ۲؎
اور امام ابو یوسف سے جو منقول ہے کہ رینٹھ نجس ہے وہ ضعیف ہے (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۴)
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۸۰)
تو مسئلہ قے بلغم سے استدلال جس طرح فقیر نے کیا اسلم واحکم ہے جس میں خود علامہ طحطاوی کو اقرار ہے کہ رطوبات بلغمیہ جب دماغ سے اتری ہوں بالاجماع ناقض وضو نہیں۔
ثم اقول۶۷: اب یہ نظر کرنی رہی کہ آیا کلیہ مذکورہ ثابت ہے کہ اگر ثابت ہوتو یہاں تک استظہار علامہ طحطاوی کے خلاف دو دلیلیں ہوجائیں گی۔ مسئلہ قے ومسئلہ آب بینی کہ فقیر نے عرض کئے اور علامہ شامی کے طور پر تین ، تیسری مسئلہ آبِ دہان نائم کہ وہ مثل بزاق یعنی لعابِ دہن ہے اور لعابِ دہن وبلغم جنس واحد ہیں اور انھیں کی جنس سے آبِ بینی ہے وہی رطوبات ہیں کہ قدرے غلیظ وبستہ ہوں تو بلغم کہلائیں رقیق ہو کہ منہ سے آئیں تو آبِ دہن غلیظ یا رقیق ہو کر ناک سے آئیں تو آبِ بینی۔
حلیہ میں ہے:
فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں ان قاء بزاقا لاینقض الوضوء بالاجماع والبزاق مالا یکون متجمدا منعقدا و البلغم مایکون متجمدا منعقدا ۱؎۔
امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے : اگر تھوک کی قے کی تو یہ بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ---- تھوک وہ ہے جو جماہوا اور بستہ نہ ہو ، اور بلغم وہ ہے جو جامد اور بندھا ہوا ہو ۔ (ت)
(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
ہاں یہ کلیہ ف۱ مذکورہ ضرور ثابت ف۲ ہے و لہذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں ۔
ف۱: :مسئلہ یہ کلیہ ہے کہ جو رطوبت بدن سے بہے اگر نجس نہیں توناقض وضو بھی نہیں۔
ف۲:معروضۃ اخرٰی علی لعلامۃ
حلیہ میں ہے :
ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع وغیرہ ۲؎ اھ ملتقطا
اگر بلغم کی قے ہو تو ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاک ہے ، اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا ا ھ ملتقطا۔ (ت)
( ۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اُسی میں ہے:
ثم فی البدائع وذکر الشیخ ابو منصور ان جوابھما فی الصاعد من حواشی الحلق واطراف الرئۃ وانہ لیس بحدث بالاجماع لانہ طاھر فینظران لم یصعد من المعدۃ لایکون نجسا ولا یکون حدثا۳؎ ۔
پھر بدائع میں ہے اور شیخ ابو منصور نے ذکر کیا ہے کہ طرفین کا جواب حلق کے اطراف اور پھیپھڑے کے کناروں سے چڑھنے والے بلغم کے بارے میں ہے اور یہ کہ وہ بالاجماع حدث نہیں ، اس لئے کہ وہ پاک ہے، تو دیکھا جائیگا کہ اگر وہ معدہ سے نہیں اٹھا ہے تو نجس نہ ہوگا تو حدث بھی نہ ہو گا ۔ (ت)
( ۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اور اس کے نظائر کلامِ علماء میں کثیر ہیں کلیہ کی صریح تصریح لیجئے ،
خزانۃ المفتین میں ہے :
الخارج من البدن علی ضربین طاھر ونجس فبخروج الطاھر لاینتقض الطہارۃ کالدمع والعرق والبزاق والمخاط ولبن بنی اٰدم ۱؎ الخ
بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے: پاک اور ناپاک ، پاک کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی ۔جیسے آنسو ، پسینہ ، تھوک ، رینٹھ ،انسان کا دودھ الخ (ت)
الحمد للہ ف ۱ اس تقریر فقیر سے ایک تحقیق منیر ہاتھ آئی کہ قابل حفظ ہے۔
ف۱: :حدث ونجس کی نسبتوں میں مصنف کی تحقیق منیر ۔
فاقول: حدث ونجس کو اگر مطلق رکھیں تو اُن میں نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے ، نوم حدث ہے اور نجس نہیں، خمر نجس ہے اور حدث نہیں، دم فصد حدث ونجس دونوں ہے اور خارج ازبدن مکلف کی قید لگائیں لامن بدن الانسان فینتقض طرد او عکسا بخارج الجن والصبی (خارج از بدن انسان نہ کہیں کہ جن اور بچہ سے خارج ہونے والی ہر چیز کی وجہ سے کلیہ نہ جامع رہ جائے نہ مانع ، یعنی یہ لازم آئے کہ خارج از جن کا یہ حکم نہیں اور خارج از طفل کا بھی یہ حکم ہے حالاں کہ حکم میں جن شامل ہے اور بچہ شامل نہیں۔ ت)اور اس کے ساتھ نجس سے نجس بالخروج لیں یعنی وہ چیز کہ بوجہ خروج اسے حکمِ نجاست دیا جائے اگرچہ اس سے پہلے اسے نجس نہ کہا جاتا (جیسے خون ف۲ وغیرہ فضلات کا یہی حال ہے،
ف۲ :خو ن پیشاب وغیرہ فضلات جب تک ہاہر نہ نکلیں ناپاک نہیں ۔
پیشاب اگر پیش از خروج ناپاک ہو تو اس کی حاجت میں نماز باطل ہو۔اور خون تو ہر وقت رگوں میں ساری ہے پھر نماز کیونکر ہوسکے) تو ان دو قیدوں کے ساتھ حدث عام مطلقا ہے یعنی بدنِ مکلف سے باہر آنے والا نجس بالخروج حدث ہے اور ہر حدث نجس بالخروج نہیں جیسے ریح
فان عینھا طاھرۃ علی الصحیح
(اس لئے کہ خود ریح ، بر قولِ صحیح ، پاک ہے ۔ ت) قضیہ مذکورہ میں علمائے کرام نے یہی صورت مرادلی ہے ولہٰذا عکس کلی نہ مانا، اور اگر قیود مذکورہ کے ساتھ رطوبات کی تخصیص کرلیں تو نسبت تساوی ہے ہر رطوبت کہ بدن مکلف سے باہر آئے اگر نجس بالخروج ہے ضرور حدث ہے اور اگر حدث ہے ضرور نجس ہے تو یہاں ہر ایک کے انتفاء سے دوسرے کے انتفاء پر استدلال صحیح ہے، لہٰذا آبِ بینی کہ نجس نہیں ہرگز ناقضِ وضو نہیں ہوسکتا وباللّٰہ التوفیق اور نجس میں نجس بالخروج کی قید ہم نے اس لئے زائد کی کہ اگر یہ نہ ہو اور صرف خروج از بدن مکلف کی قید رکھیں تو اب بھی نسبت عموم من وجہ ہوگی کہ ریح حدث ہے اور نجس نہیں، اور معاذ اللہ (ف ۱) اگر کسی نے شراب پی اور وہ قے ہوئی مگر تھوڑی کہ منہ بھر کر نہ تھی تو نجس ہے اور حدث نہیں یعنی وضو نہ جائے گا کہ قلیل ہے لیکن یہ اُس کی نجاست اپنی ذات میں تھی خروج کے سبب عارض نہ ہوئی۔
ف۱ :مسئلہ شراب کی قے بھی اگر منہ بھر نہ ہو ناقض وضو نہیں۔